مسلم انتہا پسندی:کولون میں جرمن تہوار منسوخ

0,,18473766_303,00
جرمنی ميں نئے سال آمد کے موقع پر کولون ميں لڑکيوں کو جنسی طور پر ہراساں کيے جانے کے واقعات کے تناظر ميں رائن برگ ميں کارنيوال کے موقع پر ہر سال نکالی جانے والی پريڈ کو اس سال منسوخ کر ديا گيا ہے۔

لوئر رائن کے شہر رائن برگ کے پبلک سکيورٹی چيف جانی اسٹرے نے اس فيصلے کی وجوہات بيان کرتے ہوئے کہا کہ کولون کی طرح کے کسی اور ممکنہ واقعے کے خوف کے سبب يہ قدم اٹھايا گيا ہے۔ اسٹرے نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے بات چيت کرتے ہوئے يہ بھی کہا کہ کولون ميں ہونے والے واقعات ہی کے سبب يہ فيصلہ کيا گيا ہے۔

جرمنی ميں کارنيوال کے موقع پر ملک بھر اور بالخصوص دريائے رائن کے خطے ميں رنگا رنگ تقريبات کا انعقاد ہوتا ہے۔ کارنیوال تہوار کے سلسلے میں ايک اہم دن ’روزن مونٹاگ‘ یعنی گلابی پیر کہلاتا ہے، جسے آٹھ فروری کو منايا جائے گا اور اس دن لاکھوں جرمن شہری رنگا رنگ کوسٹيومز پہنے سڑکوں پر نکلتے ہيں۔

تاہم کولون ميں نئے سال کی تقريبات کے دوران تارکين وطن کے پس منظر والے افراد کے ہاتھوں لڑکيوں کو ہراساں کرنے اور لوٹ مار کے واقعات کے سبب حکام کو خدشہ ہے کہ کہيں ايسا ہی کوئی واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ حکام اس بارے ميں بھی فکر مند ہيں کہ جرمن معاشرے اور طور طريقوں سے ناواقف مہاجرين تہوار کے دوران کثرت سے الکوحل پينے جيسے عوامل کا غلط مطلب نہ نکاليں اور نتيجتاً موقع کا غلط فائدہ نہ اٹھائيں۔

رائن برگ کے حکام نے اس حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کيا ہے کہ مقامی پوليس اس نوعيت سے واقعات سے نمٹ پائے گی يا نہيں۔ قريبی شہر اورسوئے ميں ايک ہاسٹل ميں تقريباً پانچ سو تارکين وطن مقيم ہيں۔ رائن برگ کے پبلک سکيورٹی چيف جانی اسٹرے کے مطابق پناہ گزين پريڈ کی منسوخی کی واحد وجہ نہيں بلکہ ٹريفک کے نظام ميں ممکنہ خلل اور لوگوں کا قابو سے باہر ہو کر غلط افعال ميں ملوث ہونا بھی اس فيصلے کی وجوہات ميں شامل ہيں۔

مقامی پوليس نے پريڈ کے منتظمين سے ايک ايسا منصوبہ طلب کيا تھا، جس ميں تمام تر سکيورٹی خدشات کو مد نظر رکھا جائے تاہم منتظمين مقررہ مدت تک حکام کو يہ منصوبہ مہيا نہيں کر پائے۔

انہی واقعات کے پیش نظر جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم پیگیڈا کی مقبولیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو جرمنی سے نکالا جائے کیونکہ ان کی وجہ سے ہماری ثقافت سخت خطرے سے دوچار ہے۔

جرمنی اور سویڈن میں مسلمانوں کی مسجدوں پر حملے کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ دائیں بازوسے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان نے یورپ میں اسلام پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *