ہم تُم کو روتے ہی نہ رہتے اے مرنے والو

منیر سامی

Aslam-Azhar-3
پر دیس میں رہنے والوں تک کبھی ایک ایسی خبر پہنچتی ہے کہ وہ اچانک سکتہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں، یا اُن کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو پھوٹ پڑتے ہیں۔ اس لمحہ ایک ایسا احساسِ بے بسی ہوتا ہے کہ انسان بے چارگی کے عالم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کرے ، کس ہم درد کس ہم نَفَس کو تلاش کرے اور ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈال کر آہ و زاریاں کرے۔

گزشتہ ہفتہ ہم پر ایسا ہی عالم گزرا جب ہم تک پاکستان کی معروف پبلشر، اور انسانی حقوق کی تحریک کی اہم شخصیت، محترمہ حوری نورانیؔ کا فیس بُک کا ایک پیغام پہنچا جس میں پاکستان میں ٹیلی ویژن قائم کرنے والے اور ابلاغِ عامہ کے نظام میں انقلاب برپا کرنے والے ’اسلم اظہرؔ ‘ کے انتقال کی خبر تھی۔ ہم اسلم اظہر سے کبھی ملے بھی نہیں تھے نہ ہی اُن سے ہمارا کوئی ذاتی تعلق تھا۔ ہاں ہم اُن کا نام اپنے لڑکپن سے جانتے تھے، جب پاکستان میں ٹیلی ویژن کی تجرباتی نشریات شروع ہوئی تھیں۔ ملک بھر میں مختلف عوامی مقامات پر کھمبوں پر بلیک اینڈ وہائٹ ٹیلی ویژن نسب کیے جاتے تھے، اور شام کو ایک معینہ مدت کے لیے ان پر پروگرا م نشر ہوتے تھے۔ ان کے ارد گرد عوام جمع ہو جاتے تھے، اور دو تین گھنٹے تک سحر کے عالم میں ٹکٹکی باندھے ٹیلی ویژن دیکھتے اور دوسرے دن پھر جمع ہوجاتے تھے۔

اس ہی دوران یہ معلوم ہونا شروع ہوا کہ ان تجرباتی نشریات کے ذمہ دار اسلم اظہر نامی ایک صاحب ہیں جو پاکستان کے معروف سرکاری افسر ’اللہ دتا اظہر، کے صاحبزادے ہیں۔ جس زمانہ میں پاکستان میں ٹیلی ویژن کاتجربہ کیا جارہا تھا اس وقت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ایسی کوئی بڑی کوشش شروع نہیں ہوئی تھی۔ ان تجربات کے فوراً بعد پاکستان میں ٹیلی ویژن نے دن دونی رات چوگنی ترقی کی، اور ہمارے سامنے پاکستان میں ادب ، ثقافت، سماجی معاملات، علوم و فنون،صحافت اور صنعت و حرفت کے معروف نام آئے جو اب زباں زدِ خاص و عام ہیں۔

اُسی زمانہ سے پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں کا ایک بلند معیار قائم ہوا جو سارے برِ صغیر کے لیے ایک مثال بن گیا۔ یہاں تک کہ یہ ہندوستان میں بھی ذوق و شوق سے دیکھے جانے لگے۔ اب ہم جو پاکستان میں بے تحاشا کیبل ٹیلی ویژن اور نئے نئے چینلوں کے عادی ہیں، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے پیچھے ایک ایسے شخص کا کردار تھا جو ادب و ثقافت کی خاطر ایک بڑی مراعات یافتہ ملازمت چھوڑ کر آیا تھا۔

اسلم اظہر اپنی نوجوانی میں برطانیہ کی معروف ’کیمبرج یونیورسٹی‘ سے قانون کی تعلیم حاصل کرکے پاکستان آئے تو انہیں تیل کی صنعت کی اہم کمپنی ’برما شیل ‘ میں ایک بڑی ملازمت مل گئی ۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ’’ ایک دن مجھے خیال آیا کہ اس ملازمت میں تو میری زندگی کے ساتھ ’پڑھیں فارسی بیچیں تیل ‘والا معاملہ ہو گیا ہے، اور میں نے وہ ملازمت ترک کر دی۔‘‘اس کے بعد وہ حکومت کے فلم اور نشریات کے شعبہ سے منسلک ہو گئے۔ اور اس دوران انہوں نے کئی اہم دستاویزی فلمیں بنایءں جن میں گندھارا تہذیب پر ایک اہم فلم بھی شامل ہے۔

ثقافتی معاملات میں ان کا اختصاص اور شوق تھیٹر اور ڈراموں کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے کراچی میں ’کراچی آرٹس انیڈ تھیٹر سوسائٹی ‘ کے نام سے اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ اسٹیج ڈرامہ پیش کرنا شروع کیے جو کراچی کے تھیو سوفیکل ہال میں پیش کیے جاتے تھے۔ یہیں ان کی ملاقات ‘نسرین جان ‘صاحبہ سے ملاقات پھر ان ہی کے ساتھ شادی بھی ہوئی۔

پھر انہیں پاکستان میں ٹیلی ویژن قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ یہیں انہوں نے اشفاق احمد، بانو قدسیہ، اور ڈاکٹر انور سجاد جیسے لوگوں کو ٹیلی ویژن سے منسلک کیا، اور اسی طرح فیض احمد فیض، اور پاکستانی ادب اور ثقافت کے معروف ترین نام اس اہم شعبہ کی رہنمائی کرنے لگے۔ اور پاکستانی ٹیلیویژن ڈرامہ اور صحافت برِ صغیر میں مثال بن گئے۔

ایک انٹرویو میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اب پاکستان ٹیلی ویژن ڈراموں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو انہیں نے کہا کہ، ہمارے پر وڈیوسر تو اب بھی بہت عمدہ ہیں لیکن عام خیال یہ ہے کہ شاید اب ڈرامے ویسے نہیں رہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ پہلے لوگ ڈرامہ بہت محنت اور دل جمعی سے لکھتے تھے، اور ڈرامہ نویس جو سال میں ایک ڈرامہ لکھتا تھا اب اسے دس ڈرامے لکھنے پڑتے ہیں۔ اب پاکستان ایک صارف معاشرہ بن گیا ہے اور ٹیلی ویژن ڈرامہ بھی صارفین کے لیئے اشیائے صرف کی حیثیت اختیا ر کر گیا ہے۔ جس طرح کی مانگ ہو گی ویسی ہی چیز مہیا کی جائے گی۔

یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ وہ سرکاری طور پر کسی نہ کسی طور ٹیلی ویژن اور برودکاسٹنگ سے بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت تک منسلک رہے۔ اس دوران ذوالفقار بھٹو کے دور میں انہیں کچھ عرصہ تک سرکار سے اختلاف کی بنا پر ٹیلی ویژن ٹریننگ اکیڈیمی میں بھیج دیا گیا، اور جنرل ضیاء کے تاریک دور میں انہیں اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے سینکڑوں ملازمین کے ساتھ برطرفیوں کی مشکل اٹھانا پڑی۔ بے نظیر حکومت کے بعد بھی انہیں اپنی آزاد خیالی کے لیے قربانی دینا پڑی۔

اسلم اظہر کا خصوصی تعلق ملک میں جمہوریت ، انسانی حقوق، اور مزدوروں کے حقوق کے ساتھ بہت گہرا تھا۔ وہ ملک میں ٹریڈ یونین تحریک کے اہم حمایتی تھے، اسی طرح انہوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر قومی زبان کے ساتھ علاقائی اور صوبائی زبانوں کے فروغ کے لیے بہت محنت کی۔ جنرل ضیا کے دور میں وہ کراچی آگئے تھے، اور یہاں ’دستک‘ کے ادارے کے تحت تھیٹر پیش کرتے رہے۔ جس کے ذریعہ مزدروں، خواتین، اور انسانی حقوق پر ڈرامے پیش کیے جاتے تھے، جنہیں ہزاروں افراد دیکھتے تھے۔ ان ہی ڈراموں کے ذریعہ جنرل ضیا کی آمریت کے خلف مزاحمتی خیالات کا پر چار بھی ہوا، اور آمریت کے خلاف جدو جہد جاری رکھی گئی۔

جو لوگ ان کے قریب کام کر چکے ہیں، وہ انہیں ایک ایماندار، شریف النفس انسان کے طور پر جانتے ہیں ، جو انسان ساز بھی تھا، اور انسانی ذہنی تربیت کو بہت اہمیت دیتا تھا۔ ان کی انسان دوستی اور سادہ مزاجی کی ایک مثال یہ بھی تھی کہ جب پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت کو ایئر کنڈیشن کیا جارہا تھا تو انہوں نے اپنے کمرہ میں اس وقت تک ایئر کنڈیشنر نہیں لگنے دیا جب تک کے سب لوگوں کے لیئے مناسب انتظام نہیں ہوا۔ مزدوروں، اور آزاد خیال لوگوں کے خلاف آمرانہ کاروایؤں کے ہر دور میں وہ ذاتی خطرے مول لے کر ان کی حفاظت کے لیے کو شاں رہے اور انہیں پناہ بھی فراہم کرتے رہے، جن میں وہ بھی شامل ہیں جن پر کمیونسٹ ہونے کے الزام لگتے تھے۔۔ مزدور تحریکوں اور انسانی حقوق سے وابستہ ہزاروں افراد ان کے لیے بڑی عزت رکھتے ہیں۔

انسانی ذہن کی نشو و نما کے لیے وہ کتابوں کے مطالعہ پر زور دیتے تھے۔ اس مطالعہ کی عادت ان کے والد اے ڈی اظہر نے انہیں بچپن سے ڈال دی تھی۔ پاکستا ن میں ’بابائے ٹیلی ویژن‘ کا لقب رکھنے کے باوجود وہ مطالعہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہتے تھے کہ کتاب کا مطالعہ ذہن کو وسیع کرتا ہے اور انسانی ذہن کو کتاب سمجھ کے لیئے محنت کرنا ہوتی ہے ، جب کہ ٹیلی ویژن پر ہر چیز آپ کے سامنے ہوتی ہے۔

جب ان سے ان کی زندگی میں کامیابی کا راز پوچھا گیا تو انہوں نے ’ایمان داری‘ پر زور دیا۔ اس کی وہ خود مثال تھے۔شاید کم لوگ جانتے ہوں کہ اسلم اظہر نے اپنی ایمانداری، حق پرستی کی قیمت وہ مراعات گنوا کر ادا کی ، جنہیں پانے کے لیئے موجودہ پاکستان کی کئی معروف شخصیتیں خود کو اونے پونے بیچ دیتی ہیں۔ مختلف دور میں تمام تر مراعات کے باجود ان کا اپنا گھر نہیں تھا، اور مرتے دم تک کرائے کے گھر میں رہتے رہے۔

یہی وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے انتقال کی خبر پردیس میں اہلِ وطن تک پہنچتی ہے تو دل کو دھچکا لگتا ہے ، اور آنکھ نم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ شاید جن کے لیے انور شعور نے لکھا تھا کہ:۔

’’ہم تُم کو روتے ہی نہ رہتے اے مرنے والو۔۔مر کے اگر پاسکتے تم کو، مر جاتے ہم بھی‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *