پٹھانکوٹ ائیر بیس پر حملہ

4212_109624585991_3851843_nبیرسٹر حمید باشانی۔ ٹورنٹو


میرا خیال تھا کہ میں یہ کالم پٹھان کوٹ کے واقعے پر لکھوں گا۔یہ کرنٹ ایشوبھی ہے۔اور اہم بھی۔کچھ دوستوں کا بھی یہی خیال تھا کہ یہ واقعہ بہت اہم ہے ۔اس پر کالم آنا چاہیے۔لیکن جب میں نے لکھنا شروع کیا تو مجھ ایسا لگا کہ میرے پاس اس موضوع پر کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔میری انگلیاں کی بورڈ پر ٹھہر گئیں۔ میرے خیالات منجمد ہو گئے۔جس طرح ایک پڑھنے والے کے لیے ایک ہی بات بار بار پڑھنا اکتاہٹ کا باعث ہوتی ہے۔

اسی طرح ایک لکھاری کے لیے کسی بات کو بار بار لکھنا بہت ہی تکلیف دہ عمل ہے۔ یہ ایک طرح کا ذہنی تشدد ہے۔پٹھان کوٹ ائیر بیس پر ہونے والے دہشت گردی کے واقع پر جب میں نے لکھنا شروع کیا تو مجھے لگا کہ میں درحقیقت وہی کچھ لکھ رہا ہے جو میں گزشتہ دس بارہ سالوں کے دوران کئی دفعہ لکھ چکا ہوں۔اور پڑھ چکا ہوں۔مجھے ایسا لگا کہ ہمارے سامنے ایک سٹیج ڈرامہ دہرایا جا رہا ہے۔

جن دنوں ہم پنجاب یونیورسٹی کے لاء سکول میں ہوتے تھے، ان دنوں لاہور کے الحمرا ارٹ سنٹر کے ڈرامے بڑے مقبول تھے۔ بعض ڈرامے کئی کئی مہینوں تک چلتے تھے۔کئی دفعہ ہمیں باہر سے آنے والے کسی مہمان کے ساتھ ایک ہی ڈرامہ دو تین بار دیکھنا پڑتا۔ظاہر ہے ہر دفعہ یہ ڈرامہ ہو بہو ویسا ہی ہوتا جیسا پہلے تھا۔اس کے ڈائریکٹرز، ایکٹرز، صدا کار سب وہی ہوتے۔یہ لوگ لکھے ہوئے سکرپٹ کے مطابق اپنی حرکات و سکنات سے لیکر ڈائیلاگ تک حرف بحرف عمل کرتے۔

بر صغیر کے وسیع و عریض سٹیج پر بھی ہمارے سامنے کئی سالوں سے ایک ہی ڈرامہ دہرایاجا رہا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ڈرامے کے ہدایت کار اور اداکار تو بدلتے رہتے ہیں لیکن سکرپٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔باڈی لینگویج نہیں بدلتی۔اور مکالمے بھی وہی رہتے ہیں۔بھارتی پارلیمنٹ سے لیکر ممبئی حملوں تک اگرچہ حملوں میں حصہ لینے والے کردار بدلتے رہے، لیکن ان سب حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں کتنی حیرت انگیز قسم کی مماثلت ہے۔

سین ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اچانک بھاری ہتھیاروں سے مسلح کچھ لوگ کہیں سے نمودار ہوتے ہیں۔وہ بے رحمی سے اپنا اور دوسروں کا خون بہاتے ہیں۔ان میں سے اکثر مر جاتے ہیں۔ کوئی ایک آدھ زندہ بھی پکڑا جاتا ہے۔پھر رد عمل کا سٹیج سجتا ہے۔سب سے پہلے بھارت کی طرف سے ردعمل آتا ہے۔اس وقت تک پاک بھارت تعلقات کے باب میں جو بھی کوئی پیش رفت ہوئی ہوتی ہے اسے روک دیا جاتا ہے۔ مستقبل میں ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کو منسوخ کر دیا جاتا ہے۔اور انتہائی واضح اور دو ٹوک انداز میں پاکستان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کاراوئی کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی ہے۔اس کے ماسٹر مائنڈ پاکستان میں بیٹھے ہیں۔

حملے کے دوران ہونے والی گفتگوہ کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔حملے میں ملوث تنظیم اور اس کے رہنماوں کے نام بھی بتائے جاتے ہیں۔اور پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو گرفتار کر کے بھارت کے حوالے کیا جائے۔اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ بھارت اپنی سر زمین پر آئندہ کوئی ایسا واقعہ برداشت نہیں کرے گا۔اگر ایسا ہوا تو بھارت پاکستان کی سر زمین پر سرجیکل سٹرا ئیک کرے گا یا پھر یہ کہ اس سے جنگ بھی چھڑسکتی ہے۔

دوسری طرف سے پاکستان کا ردعمل بھی واضح ہوتا ہے۔حکمران طبقات اور وزارت خارجہ انتہائی شدید الفاظ میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔ اور یہ بات دہراتے ہیں کہ دہشت گردی پورے خطے کا مشترکہ مسئلہ ہے اور پاکستان بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے بعد تحقیقاتی رپورٹس کا دور شروع ہوتا ہے۔بھارت کی طرف سے ایک رپورٹ سامنے آتی ہے جس میں دہشت گردوں کے نام ، پتے اور ان کے ہینڈلرز کے بارے میں تفصیل پیش کی جاتی ہے۔ پاکستان اس رپورٹ سے عموماًاتفاق نہیں کرتا۔

اس کے بعد ایک طویل عدالتی اور سفارتی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلتا۔یہ تو ہے سرکاری رد عمل۔ غیر سرکاری ردعمل دو طرح کا ہوتا ہے۔ایک ان لوگوں کا جو امن پسند ہیں۔برصغیر میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے وہ ایسے واقعات کی غیر مشروط اور دوٹوک مذمت کرتے ہیں۔دوسرے وہ ہیں جو ایسے واقعات کو بھارت کی اپنی کارستانی قرار دیتے ہیں۔وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ دہشت گرد بھارت کے اپنے لوگ تھے۔ اور بھارت خود ایسے واقعات کروا کر پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کی کوشش کرہا ہے۔

پٹھان کوٹ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر بھی شروع سے لیکر آخر تک یہی ہوگااور مستقبل میں ہونے والے کسی نئے واقعے تک حالات و واقعات کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔اب یہ چھوٹی سی بات جاننے کے لیے کوئی بہت زیادہ عقلمند ہونا ضروری نہیں کہ اس واقعے میں صرف وہی قوتیں ملوث ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان امن اور دوستی کے خلاف ہیں۔اور یہ بھی اب کوئی راز نہیں ہے کہ امن و دوستی کس کو پسند نہیں۔

میرے خیال میں اب اس موضوع پر کوئی نیا کالم لکھنے سے بہتر ہے کہ کسی پرانے کالم کو ہی اشاعت مکرر کے لیے بھیج دیا جائے کم ازکم قارئین تو نئے کالم کے نام پر وہی پرانی گھسی پٹی باتوں کو بار بار پڑھنے کی کوفت سے تو بچ سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *