کام کرنے اور نہ کرنے والا انسان

qaziفرحت قاضی

شام کو تھکا تھکا

محنت خان جب دولت خان کے بنگلے کے سامنے سے گزرتا ہے تو اس کا قسمت پر یقین مزید پختہ ہوجاتا ہے

دولت خان ایک نیم خواندہ ٹھیکیدار ہے

مگر ایک محنت خان ہی ایسا نہیں سوچتا ہے بلکہ خان لالہ کا اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹا بھی یہی سمجھتا ہے کہ دولت خان کانصیب اچھا ہے مگر اس کی تقدیر خراب ہے اس صورت حال کو دیکھ کر پشتو کے مشہور صوفی شاعر عبدالرحمٰن نے عوام کودعا مانگنے کا مشورہ دیا تھا

عقل مہ غواڑہ بخت غواڑہ رحمانہ

عقل من دبختورو غلامان وی

محنت کرنے اور نہ کرنے والے کی یہ معاشی تفریق دیکھ کر اگر کسی کا نصیب پر اعتبار بڑھتا ہے تو یہ یقیناً کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ حالات
’’
محنت جسم کو تندرست،دماغ کو ترو تازہ اور بٹوے کو بھرا رکھتا ہے‘‘
کے مشہور قول کو بھی جھٹلاتے ہیں

محنت سے بلا شبہ محنت خان کی صحت قابل رشک ہے مگر دماغ ترو تازہ نہیں بلکہ تفکرات سے بوجھل رہتا ہے اس کے پاس بٹوے میں قائداعظم نہیں واپڈا اور گیس کے بلز ہوتے ہیں
اب ذرا دیہہ اور شہر میں صورت حال ملا حظہ کرتے ہیں

درزی،دھوبی، نائی،جولاہا،معمار،لوہار،بڑھئی
درزی لباس بناتا ہے
دھوبی اسے دھوتا ہے
نائی بال سنوارتا ہے
جولاہا کپڑا بنتا ہے
معمار مکان تعمیر کرتا ہے
لوہار کھڑکیاں،دروازے اور الماریاں بناتا ہے
بڑھئی فرنیچر بناتا ہے اور دھقان کھیت میں ہل چلاتا ہے
مگر اس کے باوجود ان کے سر جائیداد خان کے سامنے جھکے اور ہاتھ دراز رہتے ہیں

ایک انگریز مخصوص راستے سے روز گزر کر اپنی رہائش گاہ جاتا تھا اس نے دیکھا کہ مزدور سات مہینوں سے ایک مکان بنانے میں جتے ہوئے ہیں آٹھویں مہینے اس کو رنگ روغن کردیا جاتا ہے اور ایک شخص اہل خانہ سمیت اس میں رہنے لگتا ہے تو اس نے نتیجہ نکالا
’’
بے وقوف مکان بناتے اور عقل مند اس میں رہائش اختیار کرتے ہیں‘‘

گھر،خاندان، محلے،گاؤں،شہر یا پھر دفتر میں ہمارا کام چوراورکاہل بچے اور ملازم سے واسطہ پڑتا رہتا ہے اس کو کسی کام کا حکم دو تو بہانے تراشنے لگتا ہے یہ وقت پر دفتر نہیں آتا ہے چھٹیاں بھی زیادہ کرتا ہے ان کرتوت کی وجہ سے اس کا مرتبہ اور رتبہ کم ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہوتا ہے

وڈیرے کے پاس وسیع و عریض کھیت،شاندار بنگلہ،لمبی کار،بینک بیلنس اور نوکر چاکر ہوتے ہیں درجن سے زائد کھیت مزدور کھیتوں اور باغات میں شب وروز خدمات انجام دیتے ہیں مگر وہ خود نہ کھیت میں ہل چلاتا ہے اور نہ ہی پانی دیتا ہے اس کے باوجود اس کی جائیداد اور پیسہ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے

جاگیردار کے علاوہ اس گاؤں میں ایسے افراد بھی ملتے ہیں جو کہیں کام کرتے ہوئے نظر نہیں آتے ہیں مگر ان کے پاس پیسہ ہوتا ہے اور ان کی معاشرے میں ساکھ بھی ہوتی ہے کیا اس کو قسمت کے کھاتے میں ڈالنا مناسب ہوگا

قدرت کا قانون اور قاعدہ یہ ہے کہ آپ دو پودے لگانے کے بعد ایک کو وقتاً فوقتاً پانی دیتے رہو اور ایک کو بالکل نظر انداز کردو تو اولالذکر تناور درخت کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور موخر الذکر مرجھا جاتا ہے اس قانون کی رو سے ایک کام کرنے والے کو صاحب جائیداد اور صاحب حیثیت اور دوسرے کو غریب اور خوار ہونا چاہئے تھا

بالآخر معاشرے میں یہ الٹی گنگا کیوں بہہ رہی ہے؟

ایک تجربہ کار مزدور اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو اپنے گھر سے نکلتے وقت کام ملنے کی توقع ہوتی ہے کیونکہ ایک کے پاس مہارت اور دوسرے کے پاس ڈگری ہوتی ہے مالک مزدور کی مہارت اور ڈگری ہولڈر کی تعلیمی قابلیت کا قائل ہوجاتا ہے دیگر لوگ بھی مزدور کو اپنے کام کا استاد مان لیتے ہیں کام لگ جاتا ہے مگر سالہا سال گزرنے پر بھی یہ دونوں معاشی خود کفالت کی منزل نہیں پاتے ہیں کیونکہ
مزدور ہو یا ڈگری ہولڈر نوجوان ہو

معمار، جولاہا، لوہار،درزی،دھوبی،چمار اور بڑھئی یہ سب محنت، مہارت اور تعلیم کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور اسی پر انحصار بھی کرتے ہیں
اس کے برعکس جاگیردار سمیت دیگر صاحب جائیداد کی نظریں دوسروں کی محنت اور جیب پر لگی رہتی ہیں وہ ان افراد کی محنت ہتھیانے،ہڑپ کرنے اور جیبیں خالی کرنے کے بارے میں سوچتے سوچتے اپنے کام یعنی کام لینے اور نکالنے میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں

کہاوت ہے :۔
’’
خالی دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے‘‘

یہ یوں ہی نہیں کہا گیا ہے یہ خالی دماغ نہیں بلکہ فارغ انسان ہوتا ہے دماغ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہمہ وقت مصروف رہتا ہے البتہ ایک شخص کام نہیں کرتا ہے یا اس کے پاس کام نہیں ہوتا ہے تو وہ منصوبے بناتا ہے یہ مثبت اور منفی دونوں ہوسکتے ہیں چنانچہ جب وہ بیٹھ کر ایسے منصوبے بناتا ہے

’’کمائے گی دنیااور کھائیں گے ہم‘‘
تو دماغ شیطان کا کارخانہ بن جاتا ہے

اسی طرح ارسطو کا کہنا ہے

’’دولت مند چور یا چور کا بیٹا ہوتا ہے‘‘


چور بھی محنت اور کام نہیں کرتا ہے چوری ہی اس کا کام ہوتا ہے چھوٹے پیمانے پر کرتا ہے تو باربار پکڑا جاتا ہے قدرے ہوشیار اور بڑے پیمانے پر کرتا ہے تو زیادہ سے زیادہ دولت ہاتھ آتی ہے اسی سوجھ بوجھ سے کام لیتا ہے تو تمام پیسہ اور دولت اپنی جیب میں نہیں ڈالتا ہے وہ پولیس کے ایک عام اہلکار سے لے کر سب سے بڑے آفیسر تک تمام کی مٹھی گرم کرتا ہے بیورو کریسی اور پارلیمنٹ القصہ اعلیٰ عہدوں پر فائز اور بااختیار شخصیات اس کے دوست اور بہی خواہ ہوتے ہیں اسی پیسے سے وہ عوام میں اپنا نام کمانے کے لئے بیواؤں ، یتیموں اور معذور افراد کی مدد کرتا ہے انتخابات میں کامیاب بھی ہوتا ہے ترقیاتی منصوبوں کے لئے رقم ملتی ہے تو ٹھیکیدار سے ملی بھگت ہوتی ہے کچھ لگتا ہے اور کچھ بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوتا رہتا ہے

چنانچہ مزدوراورڈگری ہولڈر نوجوان اگر محنت کرتے ہیں تو جیب کترا، چور، راہزن اور ڈاکو بھی یہی کرتے ہیں
مزدور اور ڈگری ہولڈر محنت کرتے ہیں تو ٹھیکیدار بھی محنت کرتا ہے یہ سب محنت اور تگ ودو کرتے ہیں البتہ ان کے کام کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے
مزدور جسمانی محنت کرتاہے
تعلیم یافتہ نوجوان ذہنی محنت کرتا ہے
جیب کترا،راہزن،چور اور ڈاکو منصوبہ بناتا ہے اور پیسہ نکال لیتا ہے
جاگیردار اور ٹھیکیدار بھی یہی کرتے ہیں

مگر ایک خوار اور دوسرا مال دار ہوتا ہے کیونکہ مزدور اور ڈگری ہولڈر محنت اور مہارت پر سر کھپاتے ہیں چور، ٹھیکیدار اور جاگیردار ان کی محنت اور مہارت سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں یہی وہ سوچ و فکر کا تفاوت ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان انگوٹھا چھاپ ٹھیکیدار کا منشی ہوتا ہے

اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ تانگے کو گھوڑا چلاتا ہے مگر پیسہ تانگے بان جیب میں ڈال لیتا ہے

جس ملک میں محنت و مشقت کرنے والے مزدور اور تعلیم یافتہ نوجوان کے ہاتھ اور جیب خالی ہوتے ہیں اور محنت نہ کرنے والے کے پاس کار، بنگلہ اور پیسہ ہوتا ہے تو اس کے اس ریاست کی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں پاکستان میں ناخواندہ، نیم خواندہ اور کام نہ کرنے والوں کے پاس اختیارات اور باگ ڈور ہے جنہوں نے عوام کو تانگے کے آگے باندھ رکھا ہے 

کبھی گھوڑے کو شاباش اور کبھی کوڑے مارتے ہیں اور تمام رقم اپنی جیبوں میں ڈال لیتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *