پارا چنار حملہ شام کی جنگ میں ایران کی شمولیت کا انتقام

0,,18914706_403,00

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں اتوار بازار میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی ہے۔ لشکر جھنگوی نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

کؑرم ایجنسی کے مرکزی علاقے پارا چنار کے عید گاہ میدان میں لگنے والے اتوار بازار میں ہونے والے اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری سُنی عسکریت پسند گروپ لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کو تحریری طور پر پیغام میں خود کو لشکر جھنگوی کا ترجمان ظاہر کرنے والے ایک شخص علی بن سفیان نے لکھا ہے، ’’ یہ ہماری طرف سے ایران کی شام کی جنگ میں شمولیت کا انتقام ہے‘‘۔

لشکر جھنگوی کا کہنا ہے کہ پارا چنار میں بم حملے کا مقصد وہاں کی شیعہ کمیونٹی سے بدلا لینا ہے جو شام میں جاری جنگ میں اپنے اراکین کو شامی صدر بشار الاسد کی حامی فورسز کی صفوں میں شامل ہو کر آئی ایس کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کے لیے بھیج رہی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطایق اتوار بازار کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 20 تک پہنچ چُکی ہے

دریں اثناء کؑرم قبائلی ڈسٹرکٹ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ پارا چنار کے اتوار بازار میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اتوار کی صُبح یہ دھماکہ عین اُس وقت ہوا جب وہاں خریداروں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ پارا چنار کا علاقہ اس شمالی قبائلی علاقے میں شیعہ برادری کا گڑھ مانا جاتا ہے۔

ابتدائی طور پر کُرم ایجنسی کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک بیان میں بتایا کہ پارا چنار کے اتوار بازار میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس خبر کی تصدیق کُرم ایجنسی کی سیاسی انتظامیہ کے ایک منتظم امجد علی خان نے بھی کر دی ہے۔

سیاسی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کا کام جاری ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق عینی شاہدین نے کہا ہے کہ جائے وقوعہ سے دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

لشکر جھنگوی گروپ ماضی میں بھی پاکستان کے شیعہ آبادی والے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ حملے کر چُکا ہے

شہر کے داخلی مقام پر واقع عید گاہ میدان جہاں یہ اتوار بازار لگا کرتا ہے وہاں دھماکے کے وقت خواتین اور بچے بھی موجود تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

یہ علاقہ ایک عرصے سے عسکریت پسندوں کی بپا کی ہوئی شورش اور فرقہ ورانہ فسادات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستانی فوج نے اس علاقے سے دہشت گردوں اور فرقہ ورانہ فساد پھیلانے والے باغیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک عرصے سے آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *