سعودی افواج کی یمن کے سکولوں پر بمباری

0,,18897564_303,00

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اس کی اتحادی افواج نے یمن میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے اسکولوں کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اس کی اتحادی فورسز واضح طور پر یمن میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔ اس تنظیم کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’امریکا اور برطانیہ سمیت وہ تمام ممالک، جو سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں کو ہتھیار فراہم کرتے ہیں، کو اُن ہتھیاروں کی فراہمی منقطع کر دینی چاہیے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘‘

اس تنظیم کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادی عام شہریوں کو بھی ہلاک کر رہے ہیں، جو کہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب سعودی حکومت ان رپورٹوں کو مسترد کرتی ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ کا عنوان ’’ہمارے بچوں پر بم برسائے جا رہے ہیں‘‘ رکھا گیا ہے۔ تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ اگست اور اکتوبر کے درمیان اسکولوں پر پانچ فضائی حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں پانچ شہری ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے جبکہ زخمیوں میں چار بچے بھی شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے، ’’بعض مرتبہ ایک ہی اسکول کو ایک سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا، جس سے واضع ہوتا ہے کہ ایسے حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔‘‘ رپورٹ کے مطابق جس وقت ان اسکولوں کا نشانہ بنایا گیا، وہاں بچے تو موجود نہیں تھے لیکن ان اسکولوں کی تباہی کی وجہ سے صنعاء الحدیدیہ اور حجہ صوبوں میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہو گئے ہیں۔ پانچ واقعات میں سے ایک مرتبہ بھی کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا، جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ ان اسکولوں کو عسکری یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

ابھی حال ہی میں واشنگٹن اور سعودی عرب کے مابین ایک نیا معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت ریاض حکومت کو 1.29 بلین ڈالر کے فضائی ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کو چھ ہزار سے زائد لیزر گائٹیڈ میزائل، عام مقاصد کے لیے بارہ ہزار بم جبکہ پندرہ سو بنکر تباہ کرنے والے بم فراہم کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یمن میں اب تک پانچ ہزار سات سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے نصف سے زائد عام شہری تھے۔ زخمیوں کی تعداد پچیس ہزار سے بھی زائد بتائی گئی ہے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *