پیرس دہشت گردی کے اثرات

sibte hasanسبط حسن گیلانی۔ لندن

پیرس حملوں کے بعد برطانیہ، یورپ ،سکینڈے نیویا اور امریکہ و کینیڈا سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ریلہ ہے کہ مسلسل چڑھاؤ پر ہے۔فرانس نے اس پر بھرپور شدت کے ساتھ احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔قومی و بین الاقوامی سطح پر فرانس کا یہ احتجاج اپنے اثرات مرتب کر رہا ہے۔فرانس کے وزیر داخلہ نے واضح طور پر ایسی مساجد کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے جو انتہا پسندی پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ اور ایسے آئمہ مساجد کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے جو ملٹی کلچرل سوسائیٹی میں مذہبی منافرت کا زہر گھول رہے ہیں۔ فرانس ایسے ہی چالیس سے زیادہ آئمہ مساجد کو ملک بدر کر چکا ہے۔ جو زیادہ تر امسال ملک بدر ہوئے۔

فرانس کے صدر نے ایمر جنسی کی مدت میں مزید تین ماہ کا اٖاضافہ کر دیا ہے۔ اس طرح پولیس ،فوج اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔منصوبہ ساز عبدل حمید ابا عود پولیس چھاپے میں ہلاک ہو چکا جبکہ اس کی ساتھی جوان عورت نے خود کوبارود سے اُڑا لیا۔دوسرا مرکزی ملزم صالع عبدالسلام تا حال مفرور ہے۔پڑوسی ممالک بیلجیم اور جرمنی میں انتہا پسند حلیہ کے حامل مسلمانوں کو عام شہریوں کی اطلاع پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل بیلجیم پولیس نے ایک ایسے ہی پاکستانی کو جیل بھیج دیا تھا۔جو عام مز دور تھا دہشت گردی سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن انتہا پسند حلیہ دھار کر گھوما کرتا تھا۔ دراصل عام شہری اب اس حُلیے سے خوف کھانے لگے ہیں۔ مسلمان رہنماوں کو اب اس طرف توجہ دینی ہوگی۔سکنڈے نیویا کے اہم ملک ناروے نے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے لیے نئے اور سخت قانون نافذ کروائے ہیں۔جن کے تحت وہاں غیرقانونی مقیم لوگوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ تیزی اختیار کر چکا ہے۔اسلام آباد میں ناروے کے سفارت خانے کے مطابق حالیہ دنوں میں تیس سے زیادہ پاکستانی اس قانون کے تحت ملک بدر ہو چکے ہیں۔

فرانس اور امریکہ کے بحری بیڑے شام کی سمت بڑھ رہے ہیں۔داعش کے ٹھکانوں پر بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ جس سے داعش کے دہشت گرد کم اور عام شہری زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔ترکی میں ایک عالمی کانفرنس کے دوران روس کے صدر پٹن نے ترقی یافتہ یورپی ممالک کی جانب سے داعش کو فراہم کی جانے والی عسکری و مالی مدد کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے صرف دعویٰ نہیں کیا بلکہ دستاویزی ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔اس خطے کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق داعش کا وجود اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک اس کے مالی وسائل ختم نہیں ہوتے۔

پیرس حملوں کے بعد سب سے زیادی نفرت کا لاوا امریکہ میں پھوٹا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ایک سے بڑھ کر ایک ثابت ہو رہے ہیں۔ڈونلڈٹرمپ نے تو یہاں تک کہا کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گیا تو تمام مساجد کو بند کروا دے گا۔ لیکن بن کارسن جو خود سیاہ فام اور اقلیتی نمائندہ ہے ۔ زیادہ زہر اُگل رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے مسلمانوں کی الگ سے رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ان کے شناختی کاغذات پر ان کی مذہبی شناخت کا اندراج ہونا چاہیے۔ اور امریکہ کے قانون میں ایک ایسی ترمیم ہونی چاہیے کہ کوئی مسلمان یہاں کا صدر منتخب نہ ہو سکے۔لگتا ہے جب بھی کہیں بھی کیسے بھی مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہے۔اس کی مثال گھوم پھر کر ہم ہی بنتے ہیں۔

جیسا کہ بن کارسن کے حالیہ بیانات کو دیکھا جائے۔ اس کے تمام بیانات اور مطالبات بنیادی طور پر غیر جمہوری ہیں۔ اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم بھی۔ ساری دنیا یقیناًان کی مخالفت کرے گی ۔لیکن ہم پاکستانی اس کی مخالفت کس منہ سے کریں گے؟۔جبکہ ہم نے ایسے غیر جمہوری طور طریقوں کو اپنے قوانین کا حصہ بنا رکھا ہے۔کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم غیر جمہوری قوتوں کی ان باقیات پر نظر ثانی کریں؟۔

ان دنوں سوشل اور مین سٹریم میڈیا پر بہت سارے دانش ور اور تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پیرس حملوں کے بعد ساری دنیا میں جتنا احتجاج ہو رہا ہے اتنا مسلمان ممالک کے اندر دہشت کے خلاف کیوں نہیں ہوتا۔ایسا سوال اٹھاتے وقت وہ ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں۔ جب مسلم ممالک میں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہاں قومی سطح پر ایسا احتجاج کیوں نہیں ہوتا؟۔ جیسا امریکہ ،برطانیہ ، یورپ اور فرانس میں ہوتا ہے۔جب تک کوئی فرد کوئی قوم خود پر ہونے والے ظلم پر سب سے پہلے خود آواز بلند نہیں کرتی اس وقت تک دنیا اس کی آواز میں آواز نہیں ملاتی۔ایسے دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو ایسے سوالات ضرور اٹھانے چائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے اسباب وو جوہات بھی تلاش کرنی چائیں۔

اس وقت مغرب میں آباد ہونے والے مسلمانوں کے ہاتھ سے وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح سرک رہا ہے۔انہیں اپنے آبائی اور روایتی طور طریقے چھوڑ کر نوشتہ دیوار پڑھنا ہوگا۔مترشح صورتوں سے زیادہ کردار پر توجہ دینی ہو گی۔مذہبی شدت پسندی و انتہا پسندی کی ہر صورت سے انکار کرنا ہوگا۔یہاں کے جمہوری معاشروں میں مذہب پر کوئی پابندی نہیں ہے۔اس کو انسان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔لیکن مذہب کے نام پر تفریق و منافرت کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *