سیکولرازم کو گالیا ں مت دیجیے

sattar

عبدالستارتھہیم


اوریا جان مقبول پاکستان کی سول بیورو کرسی کا متروک ورثہ ہیں۔انکے خیالات اخباری کالموں میں سیکولرازم کے خلاف تواتر سے آگ کے شعلوں کی طرح ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔انھیں اپنے خیالات ونظریات کے اظہار کا پورا حق ہے اور جمہوریت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ آزادی اظہار رائے حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔

جمہوریت ہی آزادی اظہار و خیالات کی مکمل ضمانت دیتی ہے۔بلکہ یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ وہ انسان کو اظہار رائے کے پورے موقع فراہم کرتی ہے جبکہ مذہب میں اختلاف رائے کوبلاسفیمی قرار دیا جاتا ہے۔

اوریا جان مقبول اپنے کالموں میں دھواں دارطریقے سے سیکولرازم کی برائیاں گنواتے چلے جا رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے ان کا روز نامہ ایکسپریس میں شائع ہونے والا مضمون سیکولرازم کے منہ پر طمانچہ پڑھنے کو ملا ، اسی طرح دوسرے مضامین میں بھی سیکولر ازم کو خوب لتاڑا گیا ہے۔ ان مضامین میں حقیقت پسندی کی بجائے جذباتیت زیادہ حاوی تھی۔

اپنے مضامین میں انہوں نے سیکولر حکمرانوں کے انسانیت خوش اقدامات کو بھرپور طریقے سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سیکولر حکمرانوں نے عوام پر ظلموں ستم کے پہاڑ ڈھائے ہیں۔مثلاً صدام حسین، کرنل قدافی اور جمال عبدالناصر سرفہرست ہیں۔اسکے علاوہ اٹلی کے مسو لینی اور جرمنی کے ایڈولف ہٹلر تک کے انسانی جرائم سیکولرازم کے کھاتے میں ڈال دئیے۔موصوف نظری فکری اور جمہوری حوالے سے بات کرنے کی بجائے شخصی آمرانہ اقدامات کو سامنے لا کر سیکولرازم پرخوب طعن و تشنیع کی ۔

سیکولراز م کیا ہے؟

سیکولرازم کوئی نظام حکومت نہیں بلکہ یہ انسان دوستی کا نام ہے۔ریاست اپنے شہریوں کو مذہبی ،فرقہ ورانہ، تعصبات سے بالا تر ہو کر خالصتًاانسانی بنیادوں پر حسن سلوک یعنی سماجی انصاف ،قوانین کی برابری، تعمیرو ترقی اور برابر کا شہری سمجھتے ہوئے یکساں مواقع فراہم کرنے کا نام ہے۔

ہندوستان کی تقسیم کے مسئلے پر آل انڈیا کانگریس اسی لیے خلاف تھی کہ وہ مذہبی بنیادوں پر ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھے۔لیکن آل انڈیا مسلم لیگ ہندوستان کی قومی، جغرافیائی، ثقافتی ، تاریخی اصولوں کے برعکس مذہبی بنیادوں (ہندو مسلم قومیت)پر تقسیم کرنے پر بضدرہی۔دنیا میں اسرائیل اور پاکستان ا ن دو ممالک کا وجودمصنوعی طور پر مذہبی بنیادوں پر استوار کرنے کا تجربہ سولہ دسمبر 1971میں بنگلادیش کے قیام کی شکل میں ناکام ہوگیا ۔

جواہر لال نہرو نے انڈیا کے آئین کی بنیاد جلالدین اکبر کے سیاسی فلسفے کے تحت رکھتے ہوئے سیکولرازم کو بنیاد بنایا۔جناح صاحب کو11اگست 1947 میں یہ بات سمجھ آگئی کہ مذہبی بنیادوں پر ملک حاصل کرلیا لیکن اسے مذہبی بنیادوں پر چلانا ممکن نہیں ہے۔لہذا جناح صاحب نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کے اصول وضع کردیے کہ ریاست کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ہر شخص مسجد، مندراور چرچ جانے میں آزاد ہوگا۔

بدقسمتی سے جناح صاحب کے وضع کردہ اصول رد کردیے گئے۔بعد کے حکمران جناح صاحب کی مخا لفت میں قرار داد مقاصد لے آئے ۔ گزشتہ 68سالوں میں مذہبی طوائف الملوکی نے جو گل کھلائے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔

معروف امریکی دانش ور ، تاریخ دان اور فلاسفر ول ڈیورنٹ نے کہا ہے کہ 13ویں صدی عیسوی میں عیسائیت اور اسلام انسانی زندگیوں اور ریاستی قوانین کے طور پر بے اثر ہوگئے ہیں۔ ایک جمہوری اور سیکولر سماج اور ریاست کی ضرورت کو عوام نے محسوس کرتے ہوئے بنیاد پرستی سے پاک عوامی حاکمیت کی بنیاد رکھی ۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ جمہوریت ہمیشہ سیکولر ہوتی ہے جس کی بنیاد عوام کی رائے پر ہوتی ہے۔

اسلامی جمہوریت ، عیسائی جمہوریت اور ہندو جمہوریت جیسی مضحکہ خیز اصطلاحیں جو انسانیت کے سراسر خلاف ہیں اور مذہبی تعصبات کا باعث بنیں۔اگر ہم جمہوریت کے ارتقاء کا سفر دیکھیں تو ابتداء میں جمہوریت ، لبرل ازم ، سیکولر ازم اور اب جدید دور میں ایتھیزم پروان چڑھے ہیں جس کی بنیاد عقل دانش سائنس،فلسفہ انسانی آزادی و فکر پر مبنی ہے۔ اور مذہبی و لسانی تعصبات سے بالا تر ہیں۔

کسی بھی قوم کا پڑھالکھا طبقہ دانش ور ، فلاسفر اور ادیب اپنے عوام کو آزادی فکر کے راستے پر گامزن کرتے ہیں۔ مدبر سیاستدان جدیدتقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ریاستی امورکو عوامی فلاح و بہبود اور ان کی انفرادی آزادی کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اگرکوئی حکمران یا ریاست مذہب کی بنیاد پر اپنے عوام کا استحصال کرتے ہیں تو اس میں قصور عوام کا نہیں حکمرانوں کا ہوتا ہے۔میکاولی نے کہاتھا لوگوں پر حکمرانی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان پر خوف اور دبدبہ طاری کر دو وہ چاہے خوف خدا کا ہی کیوں نہ ہو۔

پاکستان کی 68سالہ سیاسی و سماجی تاریخ سامنے رکھتے ہوئے تاریخ بتاتی ہے کہ مذہبی فرقہ پرستی مذہبی دہشت گردی کا روپ دھار چکی ہے۔جس کے سبب معاشی و سماجی پسماندگی عروج پر ہے۔ذلت اور رسوائی نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ایک سیکولر وجمہوری پاکستان عالمی اور ملکی سطح پر عزت و وقار کا باعث بنے گا۔

4 Comments

  1. Excellent

  2. اچھا

  3. Muhammad Saeed says:

    This country needs secular setup otherwise we will be no more a live and free country and will remain hostage to world powers, mullas , generals etc.

  4. عبدالرحمن says:

    بہت اعلیٰ جناب مجھے سقراط کی بات یاد آگئ جب اس اس کے شاگرد کریٹو نے پو چھا کہ ہمارے لیے کوئی نصِیحت تو سقراط نے کے الفاظ کا استعمال درست کرو الفاظ کا جذباتی اور غلط استعمال بہت خطرناک ہوتا یہ ہی سیکولر کے ساتھ کیا گیا آزاد خیالی کا حشر ہمارے سامنے ہے اوریا صاحب پر صرف دعا کی جا سکتی اللہ ان کو ہدایت دے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *