تنازعات اور اس کا حل۔۔۔پہلی کڑی

kamraniڈاکٹر سنتوش کامرانی

آج ہم تنازعات کے حل، ان کے نظریاتی پس منظر ، تعریف اور وجوہات پر بات چیت” کریں گے، جبکہ اِسی سلسلے کی دوسری کڑی کے طور پر تنازعات کے حل کی طرف پیش رفت اور بعد ازتنازعات صورتحال پر بات ہوگی۔

اگر ہم تنازعات کے نظریاتی پس منظر پر ایک نظر دوڑائیں گے تو ہم جانیں گے کہ تنازعات بھی انسانی زندگی کا جزلاینفک ہیں۔ جبکہ زندگی ایک مسلسل عمل کا نام ہے اور اس عمل کے دو اہم حصے ہیں:

۔1۔ وہ حصہ جو جبری ہے یعنی کوئی بھی فرد کسی شعوری فیصلے کے تحت دنیا میں نہیں آتا اور زندگی کا یہ پہلو کسی انسانی منطق کے تحت نہیں چلتا۔ مثال کے طور پر زندگی کے ادوار پہلے سے طے شدہ ہیں یعنی شیرخواری، بچپنجوانی اور بڑھا پا۔

۔2۔ تاہم زندگی کا دوسرا پہلو اختیاری ہے۔ انسان کو ارادے کی طا قت سے نوازا گیا ہے اور وہ ارادے کی طاقت سے اپنے ماحول میں تبدیلیاں لا سکتا ہے وہ اس ارادے کو اچھائی کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے اور برائی کے لیے بھی۔ زندگی میں برائیاں اس لیے ہیں کہ ہم اچھا ئیوں کی اہمیت کو سمجھیں۔

جیسے کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تنازعات بھی انسانی زندگی کا جزلاینفک ہیں۔ یعنی زندگی میں تنازعات کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ یہ تنازعات دو افراد کے درمیان پیدا ہو سکتے ہیں۔ دو خاندانوں، گروہوں یا اداروں کے مابین جنم لے سکتے ہیں۔ یہ تنازعات عارضی نوعیت کے بھی ہو سکتے ہیں اور کئی تنازعات مہینوں یا سالوں پر بھی محیط ہوتے ہیں۔

یہاں جو نکتہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ان تنازعات کو انسان حل کر سکتا ہے۔ یعنی یہ بات انسانی اختیار میں ہے کہ وہ اپنے ارادے، علم، شعور اور طریقے کی مدد سے ان تنازعات کا حل ڈھونڈ سکتا ہے۔ بحیثیت ذی شعور مخلوق یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے تنازعات کے حل کے لیے عقل، تجربے، علم اور باہمی رواداری کا رویہ اپنائیں۔

تنازعہ کی تعریف و تفصیل پر اگر ایک نظر ڈالی جائے پتا چلتا ہے کہ تنازعہ انسانی زندگی میں ایسی صورت حال کا نام ہے جس کی دو متضاد شکلیں ہوتی ہیں یا کسی مسئلے کے حل کے لیے کئی ایک صورتیں ہوتی ہیں اور ایک فرد یا ادارہ کسی ایک صورت کو اپنانے کے لئے بضد ہوتا ہے۔ جس کے پس پشت عقل و شعور اور تجربے سے زیاد ہ جذبات کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ وہ فرد یا ادارہ عقل و شعور کے بجائے طاقت یا عددی قوت سے اپنا فیصلہ دوسرے افراد یا اداروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے تو تنازعہ پیدا ہوتا ہے۔ کسی تنازعے کو اگر تنازعے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو مسئلہ حل ہونے کی بجائے اس سے مزید تنازعات جنم لیتے ہیں۔

زندگی میں تنازعات پیدا ہونے کے کئی اسباب ہوتے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہیں:

۔1۔ نفسیاتی اسباب: ہر فرد میں ایک نفسیاتی اکائی ہوتی ہے جس کو انا کہا جاتا ہے۔ انا فطری طور پر خود پرستی کی طرف مائل ہوتی ہے۔۔ انا کی یہ خود پرستی مختلف صورتوں اور رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر تنازعات انسان کی انا پرستی کی بناء پروجود میں آتے ہیں تو یہاں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بے جا خاندانی اور معاشرتی عوامل بھی انا کی بالیدگی کو متاثر کرتے ہیں۔

۔2۔خاندانی اور معاشرتی اسباب: انسان کا بچپن اثرات سیکھنے کے لحاظ سے اہم ترین دور ہوتا ہے۔ والدین کا باہمی تعلق بچوں یا بچیوں پر دائمی نقوش مرتب کرتا ہے ۔ یہ اثرات ذہن کے مختلف خانوں میں جمع ہوتے رہتے ہیں اور موقع ملنے پر باہر آنے کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔ اگر کسی فرد کا بچپن صحت مند تجربات سے عاری ہوتو اس کے اندر منفی جذبات پرورش پاتے ہیں اور یہ منفی جذبات تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں۔ معاشرہ مختلف پیچیدگیوں کا نام ہے۔ یہ پیچیدگیاں ایسی جڑی ہوئی ہیں کہ سیاق میں انسان کے لئے ان کو مذہبی، اقتصادی اور سیاسی مو ضوعات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مذہب ایک غالب عنصر ہے جس کا اثر ہمارے رویوں پر انتہائی گہرا ہے پھر مذہب کے اندر مختلف مکاتب فکر والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان مکاتب کے درمیان اختلاف تنازعات کا سبب بنتے ہیں جو نظریاتی جنگ و جدل کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔

معاشرے میں مذہبی اختلافات بین الافرادی، بین الگروہی اور بین الادارتی تنازعات کا سبب بنتی ہیں اور یہ تنازعات دائمی دلیل بازی اور نفرت انگیز تقاریر اور تحاریر کی صورت میں پھیل جاتے ہیں۔ معاشرے میں پائی جانے والی اقتصادی ناہمواریاں بھی تنازعات کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو گروہ بندیوں کا روپ دھار کر افراد اور ادراوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

معاشرے میں ثقافتی تنوع پایا جاتا ہے۔ اس تنوع کو اگر انسانی روایات کا مضر جاں تسلیم نہ کیا جائے تو یہی تنوع تنازعات کا سبب بنتا ہے۔ ثقا فتی تنوع کے ساتھ لسانی تنوع انسانی معاشرے کا حسن ہوتا ہے ، تاہم ہمارے معاشرے میں لسانی تنوع کو سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہےجس کی وجہ سے افراد اور اداروں میں تنازعات جنم لیتے ہیں اور معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر سنتوش کمار، ڈویلپمنٹ ورکر ہیں ۔انسانی حقوق اور بین المذاہب مکالمے اورتعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں۔

One Comment

  1. muhammad yousif joyo says:

    بھتر ہے ادا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *