نیا یورپ اور وقت کے تقاضے

خالد تھتھال

new europeجمیعت علما اسلام ہند کا پیرس حملوں کے خلاف احتجاج


ناروے میں موجود ایک سابقہ پاکستانی ہونے کے ناطے مجھے ہمیشہ گلہ رہا کہ ہمارے ساتھ ایسا امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان انفرادی طور کسی غلط کام میں ملوث پایا جائے تو نزلہ تمام مسلمانوں یا اسلام پر گرتا ہے۔ جبکہ کوئی نارویجن اگر غلط کام کرتا ہے تو وہ اس کا انفرادی فعل کہلاتا ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہو پایا کہ کسی بھی مسلمان کا ناپسندیدہ فعل اس کا انفرادی فعل سمجھا جائے، اور اسے تمام مسلمانوں یا ان کے عقیدے سے نہ جوڑا جائے، یا کسی بھی نارویجن کے فعل کا ذمہ دارپورے نارویجن معاشرے ٹھہرایا جائے۔

اس امتیازی سلوک کے علاوہ ایک فرق میں نے ضرور محسوس کیا ہے کہ جب بھی نارویجن معاشرے میں کوئی نارویجن کسی غلط کاروائی میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس واقعہ کے گھناونے پن کو کم کرنے یا دفاع کیلئے مختلف تاویلیں نہیں گھڑی جاتیں۔ اور نہ ہی یہ کہنے پر قناعت کی جاتی ہے، ہم بہت اچھے ہیں، ہم جیسا کوئی نہیں ہمارا معاشرہ تو بہت مثالی ہے وغیرہ، بلکہ لفظی اور عملی طور پر اس واقعے کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔

اگر کوئی نسل پرستی کا واقعہ پیش آتا ہے تو تمام معاشرہ اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ مجھے نسل پرستی کا ایک برسوں سال پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے، جب بنیامین نامی ایک گود لیے افریقی لڑکے کو ایک نسل پرست نارویجن نے قتل کیا۔ نارویجن معاشرے نے لفظی صفائی دینے کی بجائے ایک بہت بڑا مشعل بردارمظاہرہ کیا جس کے شرکا کی تعداد چالیس ہزار سے اوپر بتائی جاتی ہے۔

اس مظاہرے کی اہم بات یہ تھی کہ اس شام کو منفی بیس درجہ حرات تھی۔ جو لوگ کبھی کسی سرد علاقے میں رہے ہیں وہ منفی بیس درجہ حرارت کی ٹھنڈک کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ شرکا مظاہرے سے پہلے تقاریر سنتے اور مظاہرے کی مارچ کے خاتمے تک کسی سرد جہنم سے گزرے ہوں گا۔

بائیس جولائی 2011 کو آندرش بیرنگ برائیوک نامی ایک نسل پرست نے اپنے ملک کی تارکین وطن سے متعلقہ پالسی سے اختلاف کا اظہار اس متشدد طریقے سے کیا کہ اس وقت کی بر سر اقتدار جماعت لیبر پارٹی کے نوجوانوں کی تنظیم پر حملہ کیا، جس میں 77 مرد و خواتین مارے گئےاس قتل عام کے خلاف عوامی اور سرکاری سطح کیا رد عمل آیا، اس کی تصاویر آج بھی گوگل کر کے دیکھی جا سکتی ہیں

کسی بھی ناانصافی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا صرف ناروے تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس کی مثالیں ہر مہذب معاشرے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ عراق پر امریکی و برطانوی حملے کے وقت جہاں مسلمان مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک پر خاموشی چھائی ہوئی تھی، ان وقتوں میں اس جنگ کے خلاف برطانیہ میں ملین مارچ ہوئے جنہوں نے ثابت کیا کہ وہ جنگ برطانیہ کی نہیں بلکہ ٹونی بلیئر اوراس کے حواریوں کی تھی۔

مغربی ممالک کے مقامی باشندوں کے مظاہروں کے مقابلے میں ہمارے مظاہرے سلمان رشدی کی شیطانی آیات سے شروع ہوتے ہوئے، پیغمبر اسلام کی ذات اقدس سے متعلق فلم اور کارٹونز سے گزرتے ہوئے عید میلادالنبی اور عاشورہ کے ماتم پر ختم ہوتے ہیں۔ ہم نے کبھی ضروری نہیں سمجھا کہ اپنی بُکل کے چوروں کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ہم نے کبھی اس انداز سے آواز نہیں اٹھائی کہ مقامی آبادی کو یقین آ جائے کہ ہم سب مسلمان ایک جیسے نہیں ہیں، ہم میں صرف کچھ گندے انڈے ہیں جو سب کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور وہ ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔

کسی بھی گھناونے واققعہ پر مغربی ممالک میں موجود مسلمان کی اس پُراسرار خاموشی کی کیا وجہ ہے؟۔ کیا ہم اس امید پر بیٹھے ہوئے ہیں کہ لوگ ہماری ان باتوں کو سنجیدگی سے لیں گے کہ اسلام امن کا مذہب ہے، اسلام کے لفظی معنی سلامتی ہے۔ یہ چند دہشت گرد سرے سے مسلمان ہی نہیں، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا، یہ خوارج ہیں جو اسلام کو بدنام کر رہے ہیں، جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے تمام انسانیت کا قتل کیا وغیرہ۔ یا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہمیں اس کوش فہمی کا شکار ہیں کہ اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کواسلامو فوبیا کے لفظ کی ڈھال سے بچا پائیں گے؟۔

کیا ہم اس بات کا ادراک کر پائے ہیں کہ جیسے 11 ستمبر کے روز امریکہ بدل گیا، اسی طرح 13 نومبر کو یورپ بدل گیا ہے۔ اب یہ وہ یورپ نہیں رہا جہاں ہم من مانی کر پائیں گے، جہاں ہمارے صرف حقوق ہوں گے لیکن فرائض نہیں۔ جہاں ہم اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو اسلامو فوبیا کے الزام سے چپ کروا پائیں گے۔ کیا ہمیں اب پتہ نہیں چل جانا چاہیئے کہ ہنی مون ختم ہو چکا ہے۔ اب ہمیں زندگی کی سخت حقیقتوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ اگر ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہےاور ہم مسلمان بحیثیت مجموعی پرامن لوگ ہیں۔ اور ہماری صفوں میں موجود چند انتہاپسند ہماری نمائندگی نہیں کرتے تو پھر ہمیں اس کا عملی ثبوت دینا ہو گا۔

مجھے پھر ناروے کا حوالہ دینا ہو گا۔ چالی ہیبڈو کے حادثہ کے موقع پر ناروے میں موجود نوجوان مسلمانوں کے ایک گروہ نے اسلام دشمنی کی حرارت محسوس کی اور مذہبی تنظیموں سے بالا بالا ایک مظاہرہ منظم کیا، مذہبی تنظیمیں تب شامل ہوئیں جب انہیں پتہ چلا کہ یہ مظاہرہ تو ہو کر رہے گا، لہذا اس میں حصہ نہ لے کر وہ تنہائی کا شکار ہو جائیں گی۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ مظاہرہ کے وقت ان تنظیموں کے ”علما“ پگڑیاں پہنے سب سے اگلی قطار میں یوں کھڑے ہوئے جیسے کہ وہ اس مظاہر کے کرتا دھرتا ہیں۔ حالانکہ کون نہیں جانتا کہ یہ مسجدیں، یہ ”علما“ یہ اسلامی تنظیمیں ہی اصل مجرم ہیں جنہوں نے مغربی ممالک میں پیدا ہوئے، پروان چڑھے بچوں کی رگوں میں نفرت کا زہر بھرا۔ لیکن جو بھی ہو، وہ مظاہرہ خاصا پر اثر ثابت ہوا۔

اس کے بعد بین المذاہب یک جہتی کے اظہار کیلئے یہودیوں کے سیناگوگ کے سامنے ایک علامتی حفاظتی حصار بنایا گیا جس میں گو حصہ لینے والوں کی اکثریت مقامی باشندوں پر مشتمل تھی، مسلمانوں کی تعداد پندرہ بیس سے زیادہ نہ تھی، لیکن پھر بھی مسلمانوں نے اس حفاظتی حصار کے کریڈٹ پر بھی اپنا حق جتایا۔

آج کون نہیں جانتا کہ ہر مغربی ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جرمنی کی مسلمان مخالف تنظیم پیگیدا کی شاخیں ہر ملک میں کھل رہی ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ اور فرانس کے واقعہ کون سی بری خبریں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہم مسلمان جو پہلے ہی ملازمت رہائش اور دیگر مواقع کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور اکا دکاا تشدد کے واقعات بھی ہونا شروع ہر گئے ہیں۔ ان میں بہت اضافہ ہونے کو ہے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے اوریا مقبول جان اور زید حامد کی اندھی گمراہی کا زہر پینا ہے یا اپنے موجودہ حالات کا صیح ادراک کرتے ہوئے کچھ نئے فیصلے لینے ہیں۔

ہم جو مغربی ممالک میں یہ سوچ کر آئے تھے کہ یہاں ہمارا قیام وقتی ہے، ہم زیادہ سے زیادہ یہاں پانچ سال رہ کر بریف کیس پیسوں سے بھر کر اپنے ملک روانہ ہو جائیں گے، ہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ ہم جو ایک بار ملک چھوڑ چکے ہیں اب کبھی اپنے ملک واپس نہیں جائیں گے۔ ہم نے جیسے تیسے اپنا وقت گزار لیا لیکن اب یہی ہماری اگلی نسلوں کا وطن ہیں۔ ہم اپنی اگلی نسلوں کو کیسے حالات میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

ہمیں کسی فرضی امت کا حصہ ہونے کے خواب سے باہر نکلنا ہو گا۔ ہمیں مقامی معاشروں کا حصہ بننا ہو گا۔ ہمیں مقامی لوگوں کو احساس دلانا ہو گا کہ ہم پر امن لوگ ہیں۔ اور اس کا عملی اظہار کرنا ہو گا کہ چند انتہا پسند ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجود انتہا پسندوں کا اپنی صفوں سے باہر نکال پھینکنا ہو گا۔

آج انڈیا میں جمعیت علمائے ہند نے فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ حالانکہ انہیں اس کی اتنی ضرورت نہ تھی جتنی ہم مغربی ممالک میں موجود مسلمانوں کو ایسے مظاہرے کر کے ان لوگوں کو تنہا کرنے کی ضرورت پیدا ہو چکی ہے جو شریعہ فار برٹن، شریعہ فار فرانس اور شریعہ فار بلجیئم کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، جو ہمارے نوجوانوں کی رگوں میں انتہا پسندی اور نفرت کا زہر بھر کر انہیں شام بھیج رہے ہیں یا مغربی ممالک میں دہشت گردانہ کاروائیاں کروا رہے ہیں۔

میں امید کر رہا ہوں کہ ہر مغربی ملک میں تمام مسلمان اور سابقہ مسلمان ایسے مظاہرے نہ صرف منظم کریں گے بلکہ ان میں بھرپور حصہ لیں گے۔ یاد رکھیں کہ کسی کے ماتھے پر سابقہ مسلم یا ملحد کی مہر نہیں ہوتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *