مسلم مردوں سے جنسی رابطے قائم نہ کریں

486313706

مشرقی جرمن صوبے سیکسنی انہالٹ کے اساتذہ کی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں نوجوان لڑکیوں کو مسلم مردوں سے خبردار رہنے کا کہا ہے۔ اس بیان نے ملک بھر مہاجرین کی آمد سے متعلق ایک نئے تنازعے کو ہوا دی ہے۔

ٹریڈ نامی جریدے کے مطابق اساتذہ کی اس تنظیم کے ایک اداریے کی شروعات ان الفاظ سے ہوتی ہے، ’جرمنی میں تارکین وطن کی یلغار‘۔ اس اداریے کے نیچے اس تنظیم کے صدر یرگن مانکے سمیت دیگر اعلی عہدیداروں کے دستخط بھی ثبت ہیں۔ جریدے ٹریڈ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے اس اداریے میں لڑکیوں کو خبردار بھی کیا ہے کہ وہ مسلم مردوں کے ساتھ جنسی روابط قائم کرنے سے بھی گریز کریں کیونکہ ایسے ممکنہ جنسی تعلقات کی بنیاد ہمیشہ ایماندارانہ رابطے نہیں ہوتے بلکہ بعد ازاں اس بارے میں جاننے والوں سے باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں چند معاملات میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے بھی آئے ہیں۔

ماہرین تعلیم کی ملکی تنظیم نے اس متنازعہ بیان سے دوری اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے صدر ہائنز پیٹر مائڈنگر نے کہا ہے کہ اس طرح کا بیان نہ تو دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ قابل قبول ہے،’’ آج کل کی کشیدہ صورتحال میں یقینی طور پر یہ کوئی مناسب بیان نہیں ہے۔‘‘

صوبائی وزیر ثقافت اسٹیفن دورگر لوخ نے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان افراد پر افواہیں اور غیر تصدیق شدہ مواد پھیلانےکے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکسنی انہالٹ کے اساتذہ کی یہ تنظیم جرمن اقدار کا غلط استعمال کرتے ہوئے نسلی امتیاز اور تعصب کو فروغ دے رہی ہے۔ بائیں بازو کی جماعت لیفٹ پارٹی کی صوبائی صدر برکے بل نے کہا کہ یہ ایک نفرت انگیز بیان کی انتہائی قریب ہے۔

یرگن مانکے نے اس تمام تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کی جانب سے جاری کیا جانے والا یہ بیان کسی صورت بھی متعصب نہیں ہے، ’’میں اس اداریے میں موجود تمام باتوں سے متفق ہوں اور میری نظر میں یہ تمام باتیں سچ ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ1989ء سے قبل بھی وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے تھے اور اب بھی کوئی ان کی زبان کو بند نہیں کر سکتا۔ 1989ء سے ان کی مراد دیوار برلن کے انہدام سے قبل کا دور ہے۔

مہاجرين کے بحران سے نمٹنے کے معاملے ميں جرمنی کی مخلوط حکومت ميں شامل اتحادی جماعتوں کے مابين اختلافات کے تناظر ميں تارکين وطن کی مخالف ’آلٹرنيٹيو فار ڈوئچ لانڈ‘ نامی سياسی جماعت کی مقبوليت ميں اضافہ ہو رہا ہے۔

نيوز ايجنسی روئٹرز کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق رائے عامہ کے تازہ جائزوں ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ جرمنی ميں داخلی سطح پر تارکين وطن کی مخالف سياسی جماعت , آلٹرنيٹيو فار ڈوئچ لانڈ‘, کی عوامی سطح پر حمايت بڑھی ہے۔ جرمن اخبار بلڈ ام زونٹاگ ميں اتوار کو جاری کردہ جائزے کے نتائج کے مطابق پارٹی کی حمايت کی شرح اب نو فيصد ہے، جو گزشتہ ہفتے آٹھ فيصد تھی۔

مشرقی جرمنی ميں AfD کی مقبوليت کی شرح اور بھی زيادہ چودہ فيصد رہی جبکہ اس علاقے کے مردوں ميں يہ شرح اٹھارہ فيصد ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ پچھلے دنوں مشرقی جرمنی ميں مہاجرين کے خلاف پرتشدد مظاہرے منعقد ہوتے رہے ہيں۔

آلٹرنيٹيو فار ڈوئچ لانڈ‘ کی جانب سے ہجرت کے معاملے پر سخت گير موقف سامنے آيا ہے اور يہ جماعت جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کی پناہ گزينوں کے ليے ’کھلے دل، کھلے دروازے‘ کی پاليسی کے نتيجے ميں رونما ہونے والے مسائل کی صورتحال سے بھی مستفيد ہو رہی ہے۔

سياسی تجزيہ نگار اولرچ فان آليمن نے بلڈ ام زونٹاگ سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’AfD جرمنی کی ايسی واحد سياسی جماعت ہے، جو بغير کسی شرم و حيا کے آبادی کے ايک حصے ميں غير ملکيوں کے خلاف تعصب کو ہوا دے رہی ہے۔‘‘

دوسری جانب پناہ گزينوں کے حوالے سے برلن حکومت کی پاليسی پر کڑی تنقيد کرتی آئی ہے اور پاليسی کا ’افراتفری‘ سے موازنہ کيا ہے۔ اس جماعت کے نائب سربراہ نے ہنگری ميں پھنسے ہوئے پناہ گزينوں کو جرمنی آنے کی اجازت دينے پر چانسلر ميرکل پر ’انسانوں کی اسمگلنگ‘ کا الزام عائد کيا ہے۔ آلٹرنيٹيو فار ڈوئچ لانڈ‘ کے قريب پانچ ہزار حاميوں نے گزشتہ روز دارالحکومت ميں ايک مظاہرہ بھی کيا، جس کا عنوان ’سياسی پناہ کی حد ہوتی ہے، ميرکل کے ليے ريڈ کارڈ‘ تھا۔

جرمنی کی مخلوط حکومت ميں شامل ايک اتحادی جماعت سوشل ڈيموکريٹس کے نائب چيئرمين رالف سٹيگنر نے اس بارے ميں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مخلوط حکومت ميں شامل جماعتيں اپنے اختلافات دور کرنے ميں ناکام رہيں اور اس بحران سے نمٹنے کے ليے موبوط اقدامات نہ کيے، تو مستقبل ميں آلٹرنيٹيو فار ڈوئچ لانڈ‘ کی مقبوليت ميں مزيد اضافہ ممکن ہے۔

اتوار کو جاری کردہ جائزے کے ليے انتيس اکتوبر اور چار نومبر کے درميان قريب ڈھائی ہزار افراد سے سوالات کيے گئے تھے۔ نتائج کے مطابق جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کی جماعت کرسچن ڈيموکريٹک يونين کی مقبوليت چھتيس فيصد پر برقرار رہی جبکہ اتحادی جماعت سوشل ڈيموکريٹس کی مقبوليت ميں ايک فيصد کا اضافہ ريکارڈ کيا گيا اور وہ چھبيس فيصد ہو گئی۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *