پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ عبدالحامد عبود کی خودکشی

123456
بلجیم کے جہادی عبدالحامد عبود نے جس پر پیرس حملوں کی سازش تیار کرنے کا شبہ ہے ، آج علی الصبح چھاپوں کے دوران خودکشی کرلی۔ فرانسیسی پولیس نے اس کی پیرس کے مضافات میں واقع رہائش گاہ پر دھاوا کیا تھا۔ فرانسیسی سفیر برائے ہند فرینکوئی لچیر نے این ڈی ٹی وی کو اس کی اطلاع دی۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے مضافات میں دھماکو مواد سے لدی ایک جیکٹ پہنی ہوئی خودکش خاتون اس وقت دھماکہ میں ہلاک ہوگئی جب انتہائی مسلح پولیس نے رات کے پچھلے پہر اس عمارت میں داخلہ کی کوشش کی، جس میں گذشتہ ہفتہ کے پیرس حملوں کا اصل مشتبہ سرغنہ روپوش تھا۔

پولیس نے طلوع آفتاب سے قبل یہ کارروائی شروع کی جو چار گھنٹوں تک جاری رہی، جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا اور دیگر پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا لیکن ایک شخص بدستور اس عمارت میں روپوش ہے جو سمجھا جاتا ہے، بلجیم سے تعلق رکھنے والا داعش کا عسکریت پسند عبدالحمید عبود ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ سینٹ ڈینس کے اس اپارٹمنٹ میں عبود دیگر انتہائی مسلح افراد کے ساتھ روپوش تھا۔ اس عہدیدار نے جنہیں پولیس قواعد کے مطابق اعلانیہ طور پر اپنا نام بتانے کی اجازت نہیں ہے، کہا کہ متعدد پولیس عہدیدار اس عمارت میں داخل ہوئے تھے جنہیں غیرمتوقع طور پر پرتشدد مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک دوسرے پولیس عہدیدار نے بھی اپنا نام ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کارروائی میں چار ملازمین پولیس زخمی ہوئے ہیں لیکن عسکریت پسندوں نے کسی کو بھی یرغمال نہیں بنایا۔

پیرس کے دفتر استغاثہ نے کہا کہ خصوصی ٹیم نے اس پارٹمنٹ سے تین افراد کو گرفتار کیا جن کی ہنوز شناخت نہیں کی جاسکی۔ اپارٹمنٹ کے قریب دیگر ایک مرد اور ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا۔ مقامی افراد نے بتایا کہ 4 بجے شب پڑوس میں ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے بعد دوسرا بڑا دھماکہ ہوا۔ بعدازاں مزید دو دھماکے ہوئے۔ مقا می صحافی بابسٹ میری نے کہا کہ ایک گھنٹے تک بندوق کی گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

ایک عینی شاہد امیائن گوئزانی نے کہا کہ دستی بم دھماکوں اور خودکار اسلحہ سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ دستی بم دھماکوں کے بعد کلاشینکوف سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ تحقیقات کنندگان نے مراقش نژاد بلجیئم شہری 27 سالہ عبود کی شناخت گذشتہ ہفتہ کے پیرس دہشت گردحملوں کے اصل سرغنہ کی حیثیت سے شناخت کی ہے۔

ان حملوں میں 129 افراد ہلاک اور دیگر 350 زخمی ہوگئے تھے۔ پیرس میں جمعہ کو بم اور بندوق کے خونی کھیل میں سات حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے اور دولت اسلامیہ شام و عراق (داعش) نے یہ حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

AFP, Daily Siasat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *