جرمن حکومت کا افغانیوں کو واپس بھجوانے کا فیصلہ

مکتوب جرمنی :عرفان احمد خان

Germany-Refugees-Continue-Hunger-Strike-Refuse-Water-Getty-640x480
قندوز افغانستان کے شمال میں تین لاکھ آبادی کا اہم شہر ہے ۔ اتحادی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے وقت قندوز میں جرمن آرمی کا ہیڈ کوارٹر بنا یہاں چار ہزار جرمن فوجی سیکیورٹی کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کاموں اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔ جن کے تمام تر اخراجات جرمن حکومت نے برداشت کیے تھے۔

قندوز میں جرمن آرمی نے پولیس ٹریننگ کیمپ قائم کیاجہاں افغانستان کی پولیس سروس کوازسر نو دوبارہ منظم کیا گیا ۔ سڑکوں اور اور تعلیمی اداروں کی تعمیر کے حوالے سے قندوز میں باقی افغانستان کی نسبت منفرد علاقہ بن گیا تھا۔ لیکن چند ہفتے قبل اس پر طالبان کے قبضے نے ترقی کے خواب کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا۔ گوطالبان قندوز سے نکال دیا گیا ہے لیکن عوام کے دلوں میں ایک خوف بیٹھ گیا ہے کہ وہ دوبارہ بھی آ سکتے ہیں۔

قندوز میں طالبان کی کاروائی کے بعد مغربی میڈیا ایک بار پھر افغانستان پر متوجہ ہوا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان کے 385 اضلاع میں سے 37 اضلاع پر ابھی بھی طالبان کا قبضہ ہے۔ مزید 35 پر قبضہ کے لیے طالبان کی طرف سے کوششیں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکیورٹی افسران کے مطابق افغانستان کے نصف کے قریب اضلاع ابھی تک غیر محفوظ ہیں ۔ اقوام متحدہ کا امدادی دفاتر میں سے چار صوبائی دفاتر بند کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق طالبان اب صرف پختون آبادی پر مشتمل نہیں بلکہ ان میں ازبک، تاجک، ترکمان اور ہزارہ قبائل کے لوگ بھی شامل ہو چکے ہیں۔

افغانستان سے ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ پاسپورٹ آفس کے سامنے رات کو دوبجے قطاریں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ نوجوان والدین کی اجازت کے بغیر افغانستان چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ایک بوڑھے حاجی قاسم کے بیان کے مطابق اس کے گھر میں زندگی کی ہر آسائش موجود ہے لیکن اس کے باوجود ا س کے تینو ں بیٹے گھر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ایک چھٹی گذارنے ایران گیا اور واپس نہیں آیا۔ سولہ سالہ دوسرے بیٹے نے افغانستان چھوڑنے کی اجازت مانگی ۔ نہیں ملی تو ایک صبح وہ اپنے بستر پر موجود نہیں تھا۔ والدین کی راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے اور وہ نہیں جانتے کہ ان کے بچے کہاں اور کس حال میں ہیں۔

جرمن چانسلر نے ایک سال میں آٹھ لاکھ مہاجرین قبول کرنے کا اعلان کیا لیکن انسانی سمگلروں نے افغانستان میں یہ افواہ پھیلا دی کہ جرمن حکومت آٹھ لاکھ افغانوں کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ دس ہزار یورو کے عوض سمگلر افغان نوجوانوں ایران کے راستے ترکی پہنچا رہے ہیں۔ جس کے بعد جرمنی تک کے سفر کا احوال کس قدر تکلیف دہ ہے یہ سمگلر لوگوں سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔ ترکی سے جرمنی تک سفر میں اقوام متحدہ کے مطابق تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ۔ محب اللہ رضائی جو اپنی بیگم اور صاحبزادی کے ہمراہ کابل سے جرمنی کے لیے نکلا تھا۔ گھر کے دو افراد کی جان کی قربانی کے اکیلا جرمنی پہنچا ہے اوراب دو پیاروں کا دکھ لے کر جرمنی میں اکیلے زندگی بسر کرے گا۔

کابل میں جرمنی کے سفارت خانہ میں ایک انفرمیشن سنٹر قائم کیا ہے جس میں سیاسی پناہ کے قانون کی پوری وضاحت کی گئی ہے۔ لوگوں کے جرمنی میں آسائلم رہائش گاہوں کا احوال بتایا جارہا ہے ۔ سفارت خانہ جرمنی لوگوں کو انسانی سمگلروں کی کہانیوں کے برعکس اصل صورتحال سے آگاہ کرے گا۔ سفارت خانہ آئندہ چند روز میں پورے افغانستان میں پوسٹر لگائے گا تاکہ لوگوں کو درست معلومات دی جا سکیں۔ جرمنی کو اکنامک ریفیوجی کی بجائے نوجوان پروفیشنل کی ضرورت ہے جن کو جرمنی میں مزید تربیت دے کر جرمن انڈسٹری کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے ۔

افغانستان میں جرمن آرمی کے قیام کے دوران جن افغان شہریوں نے جرمن آرمی کی ملازمت اختیار کی تھی طالبان کے خطرہ کے پیش نظر ان سویلین کو انسانی ہمدردی کے ویزہ پر جرمنی میں آباد ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے جن میں سے بہت سے نوجوانوں نے جرمنی آ کر سلسلہ تعلیم جاری رکھا ہوا ہے۔ چند ایک ترجمان کا کام کر رہے ہیں۔

جرمنی میں شامی مہاجرین کے بعد دوسری بڑی تعداد افغان مہاجرین کی ہے۔ لیکن اب جرمن حکومت کی پالیسی ہے کہ جن افغان کے آسائلم کیس منظور نہیں ہوں گے ان کو فوراً واپس افغانستان بھجوا دیا جائے گا۔ افغانستان سمیت جن ممالک کے لوگ ازخود جرمنی چھوڑنے پر تیارہو ں گے ان کو جرمن حکومت امدادی رقم کے ساتھ ساتھ ان کے آبائی ممالک روانہ کرے گی۔ اب تک سترہ ہزار بلقانی اس سکیم میں نام لکھوا چکے ہیں۔ جن کو بتدریج واپس بھیجا جارہا ہے۔ لیکن افغانی اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کو تیار نہیں۔ ان کی رائے میں افغانیوں کو شامیوں کے ساتھ ملانا درست نہیں ۔ افغانستان کے لوگ 35 سال سے جنگ کا سامنا کر رہے ہیں اور اگر اس جنگ کا خاتمہ بھی ہو جائے تو ملک طالبان کے قبضے میں چلا جائے گا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے حال ہی میں وسط ایشیائی ممالک کے سربراہان سے مشترکہ ملاقات کی ہے جس میں پانچوں ممالک نے جان کیری پر واضح کر دیا ہے کہ طالبان کی موجودگی میں ہمارے ممالک میں دہشت گردی کے خطرات بڑھتے رہیں گے۔ انہوں نے جان کیری کو افغانستان اور پاکستان کے انتہا پسندوں کی وسط ایشیائی ممالک میں کاروائیوں کی تفصیل بھی بتائی ۔ جرمنی میں رہنے والے افغانیوں کی یقینی رائے ہے کہ افغانستان میں برائے نام حکومت قائم ہے ۔ طالبان ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں اور ان کے اقدام کے آگے حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے۔خود حکومت کی قائم کردہ علماء کونسل شرعی سزاؤں کی حمایت کرتی چلی آرہی ہے۔

جن دنوں قندوز دوبارہ طالبان کے قبضے میں گیا تھا وہاں ایک گاؤں میں28 سالہ مرد اور 23سالہ عورت کو سنگسار کر دیا گیا ۔ مغربی صوبہ بڈگیر میں ایک حاملہ خاتون کو پتھر مار مار کر موت کی نیند سلادیا گیا۔صوبہ غور میں ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں ایک 21 سالہ لڑکی رخسانہ کو گڑھے میں کھڑا کرکے پتھر مارے گئے ہیں ۔ عورت بلند آواز میں کلمہ شہادت پڑھ رہی ہے جس کو ویڈیو میں باآسانی سنا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی انجمنوں نے گورنر سیما جو خود بھی ایک خاتون ہیں سے اس واقعے کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ خواتین پورے افغانستان میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

لیکن صوبہ غور کے حالات زیادہ تشویشناک ہیں ۔ اس لڑکی کی شادی زبردستی کسی عمر رسیدہ شخص سے کی جارہی تھی اس کے انکار کی جرات پر جرگہ جو طالبان پر مشتمل تھا نے مرد کو کوڑوں اور عورت کو سنگسار کرنے کا فیصلہ دیا۔ صوبے کے پولیس چیف نے تسلیم کیا کہ ایریا ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے بلکہ طالبان کی بات عملداری ہے۔ اسی علاقے میں قرآن کو جلانے کے الزام میں ایک خاتون کو کوڑے مارے گئے ہیں جس کی ویڈیو موجود ہے۔

ایسے حالات میں جرمن حکومت کا افغانیوں کو واپس بھجوانے کا فیصلہ درست اقدام نہیں سمجھا جائے گا۔ حکومت کو شامیوں کے ساتھ ساتھ افغانیوں کو بھی جرمنی میں آباد ہونے کو موقع فراہم کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *