احمدی دوست سے ایک مکالمہ

سلمان احمد

Abdus_Salam

پچھلے دنوں دوستوں کی ایک محفل میں مسلمانوں کے زوال پر گفتگو ہورہی تھی ۔ اسی دوران بھارت کے نامور اداکار شاہ رخ خان کا ذکر چھڑ گیا جو اپنی زندگی کے پچاس سال مکمل کر چکے ہیں اورپچھلے 25 سالوں سے بھارتی فلم انڈسٹری پر راج کررہے ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں ان کے فن وشخصیت پرمختلف پہلوؤں سے گفتگو ہو رہی ہے۔ شاہ رخ خان نہ صرف ایک اعلیٰ پائے کے اداکار ہیں بلکہ ان کی شخصیت بھی اتنی ہی شاندار ہے جس کا اندازہ ان کی گفتگو سے لگایا جا سکتا ہے۔پوری دنیا میں ان کے مداحوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

محفل میں موجود احمدی دوست کہنے لگے کہ اگر شاہ رخ کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہوتا تو آج دنیا کو پتہ چلتا کہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے شخص کے کروڑوں مداح ہیں ۔

ایک غیر احمدی دوست نے جواباً کہا کہ جماعت احمدیہ ایک کٹرمذہبی تنظیم ہے جہاں فلم وگلوکاری جیسے شعبے حرام ہیں۔ اگر جماعت احمدیہ کا کوئی رکن اداکاری ، گلوکاری یا موسیقی کو اپنائے گا تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے گا۔ پاکستان میں نصرت فتح علی خان ہوں یا راحت فتح علی خان جنہوں نے فن کی دنیا میں نام پیدا کیا ہے اور ان کے مداحوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے مگر کوئی مذہبی فرقہ یا تنظیم انہیں اپنانے کو تیار نہیں ہوگی ۔

ہاں اگر آپ چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کریں تو وہ اداکاری یا گلوکاری کی بجائے سائنس ، ٹیکنالوجی، معیشت، قانون میڈیسن وغیرہ کے شعبوں میں اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتے ہیں ۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے سائنس کی دنیا میں جو مقام بنایا وہ ان کی ذاتی محنت ، لگن اور شوق کی بدولت ممکن ہوا اور سائنس کی دنیا میں ان کا نام زندہ رہے گا۔

احمدی دوست کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تو اب یہ ممکن نہیں رہا کہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد زندگی کے کسی شعبے میںآگے بڑھ سکیں۔ وہ عالمی معیار کا تعلیمی ادارہ بنا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ہسپتال ۔ پاکستان میں تو احمدی کو ایک گالی بنا دیا گیا ہے۔ اگر کسی کو پتہ چلے کہ یہ احمدی ہے تو پھر اس کا سماجی بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اگر کسی کو بدنام کرنا ہے تو اس پر احمدی کا ٹھپہ لگادیں تو اس کی بقیہ عمر وضاحتیں دیتے گذر جاتی ہے۔ لوگ تو ڈر کے مارے احمدیوں پرہونے والی زیادتیوں تک کا ذکر نہیں کر سکتے کہیں توہین رسالت کا الزام نہ لگ جائے۔

ایک دہریے دوست نے کہا یہ درست ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کے لیے اب زندگی کے کسی بھی شعبے میں کام کرنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور ان کا سماجی بائیکاٹ ہے بلکہ ان پر زندگی بھی تنگ کی جارہی ہے۔ مگر احمدیوں کی ایک بڑی تعداد یورپ ، کینیڈا اور امریکہ میں بس چکی ہے جہاں انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ہیں لیکن یہاں بھی، دوسرے اسلامی فرقوں کی طرح ،جماعت احمدیہ کا زور مساجد اور مدرسوں کی تعمیر پر ہے اور تبلیغی جماعت کی طرح انہیں ایک اچھا اور نیک مسلمان بنانے میں مصروف ہے۔

کیونکہ بحثیت عقیدہ احمدی بھی اپنے رویوں میں اتنے ہی انتہا پسند اور متشدد ہیں جتنے کے مسلمانوں کے دوسرے فرقے۔تمام فرقے اپنے عقیدے کو درست سمجھتے ہیں اور دوسرے کے عقیدے کو غلط۔ احمدی بھی اپنے علاوہ باقی مسلمان فرقوں کو کافر یا غیر مسلم اور اپنے آپ کو اعلیٰ و برتر مسلمان سمجھتے ہیں۔

ا س کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے میں جماعت احمدیہ کا بھی اتنا ہی کردار ہے جتنا کہ دوسری مذہبی جماعتوں کا ۔مسلم لیگ اور قائداعظم کی سیاست ہی فرقہ وارانہ بنیاد پر تھی۔جب مسلمان(بشمول احمدی) اسلام کے نام پر سیاست کریں گے اور مسلم لیگ کا نعرہ ہوگا کہ’’ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘ تو پھر اس کا لازمی نتیجہ قراردادِ مقاصد کی صورت میں نکلنا تھا۔

قراردادِ مقاصد کی حمایت اور پھر اس کی منظور ی میں جماعت احمدیہ کے سرکردہ رہنما ممتاز قانون دان و وزیر خارجہ سرظفراللہ خان بھی پیش پیش تھے۔سر ظفر اللہ اور پاکستان ٹائمزکے مالک میاں افتخار الدین نے اسمبلی میں اس قراردادکے حق میں مدلل تقریر کی تھی جبکہ دو غیر مسلموں چٹوپادھیائے اور جوگندر ناتھ منڈل نے اس کے خلاف تقریر یں کی تھیں۔ اس سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ویثر ن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اور جب قرارد داد مقاصد منظور ہوگئی اور ملک کو اسلامی قراردے دیا گیا تو پھر ریاست کو ایک نہ ایک دن یہ فیصلہ کرنا ہی تھا کہ کون مسلمان ہے اور کون غیر مسلم ؟کیونکہ اسلامی ریاست میں کوئی غیر مسلم سربراہ مملکت نہیں ہوسکتا ۔لہذا جس فرقے کا زور چلا اس نے اپنے آپ کو مسلمان اور دوسرے کو غیر مسلم قرار دلوالیا۔

آج جماعت احمدیہ کے اراکین اور مبلغین صلح حدیبیہ کا بڑا ذکر کرتے ہیں ۔ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں اور قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کا حوالہ بھی دیتے ہیں مگر کیا جماعت احمدیہ کے کسی بھی خلیفہ کی طرف سے ایسا کوئی مطالبہ ہوا ہے کہ ریاست کو سیکولر ہونا چاہیے؟ بالکل نہیں۔ کیونکہ ہر مذہبی جماعت، اسلامی ریاست کے قیام اور اپنی خلافت کا خواب دیکھ رہی ہے۔

اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کاا لمیہ یہ ہے کہ وہ ابھی تک خلافت کے قیام کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ یہ جمہوریت اور سیکولر ازم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ کوئی بھی مسلمان فرقہ (بشمول احمدی) اپنے عقائد یا تعلیمات میں لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے نہ صرف حتمی سچائی آچکی ہے بلکہ وہ دنیا کی سب سے اعلیٰ قوم ہیں ۔لہذا جب تک یہ اپنے نظریات میں لچک پیدا نہیں کریں گے صورتحال میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔

’’اس سلسلے میں مسیحیوں سے رہنمائی لی جاسکتی ہے‘‘۔ ایک سر پھرے دوست نے لقمہ دیا۔

دنیا کی اعلیٰ ترین قوم مسلمان ، مسیحیوں سے رہنمائی حاصل کرے؟ کیا یہ اسلام کی توہین نہیں؟میں نے اپنے تئیں لقمہ دیا۔

قارئین اب گفتگو میں گر ما گرمی بڑھ رہی تھی ۔ اس سرپھرے دوست نے پوپ فرانسس کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھاکہ نوع انسانی کو درپیش مسائل سے نبٹنے کے لیے سائنس سے زیادہ بہتر اور کوئی آپشن نہیں ہے۔صرف سائنس ہی ان مسائل کو زیادہ بہتر طریقے سے حل کر سکتی ہے۔

قارئین کیا یہ قیامت کی نشانیاں نہیں ہیں کہ اکیسویں صدی میں ایک بنیاد پرست مذہب کے پیشوا نو ع انسانی کو درپیش مسائل سے نبٹنے کے لیے سائنس سے مدد حاصل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔وگرنہ مذہبی پیشوا تو دنیاوی مسائل کا حل اللہ کے حضور گڑ گڑا کر معافی مانگنے اور رو رو کر گناہوں سے توبہ کی صورت میں بتاتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانیت جن مسائل کا شکار ہے اس کی وجہ مذہب سے دوری اور مذہبی احکام پر عمل نہ کرنا ہیں۔

وہ کہنے لگا کہ مسلمان فرقوں کو کم ازکم ایک دوسرے کو کافر یا غیر مسلم کہنا بھی بند کرنا ہو گا۔ انہیں کم ازکم اتنی لچک پیدا کرنی ہوگی کہ اگر کوئی ان کے عقیدے کو تسلیم نہیں بھی کرتاتو اسے مرتد، کافر یا غیر مسلم نہ کہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو اعلیٰ ترین کہلوائیں۔ اس سلسلے میں ہمیں پھر پوپ فرانسس سے سیکھنا چاہیے جنہوں نے دہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تم خدا پر یقین نہیں بھی رکھتے تو پھر بھی تم جنت میں جاؤ گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی خدا پر یقین رکھے یا نہ رکھے اگر وہ اپنے ضمیر کے خلاف کام کرتا ہے تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

سرپھرا دوست مزید کہنے لگا کہ ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مخالفین کو دوزخ میں بھیجنے کی بجائے انہیں جنت میں جانے کی نویددینے کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں ایک دوسرے کے پیچھے جنازہ بھی پڑھ لینا چاہیے۔ دنیا میں امن سے رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے جو مغربی ممالک نے اختیار کیا ہے یعنی سیکولر ازم اور جمہوریت۔مذہب کا ریاست کے امور میں عمل دخل مکمل طور پر بندہوناچاہیے اور مذہب فرد کا ذاتی مسئلہ ہونا چاہیے۔ مسلمان بے شک تبلیغ کریں مگر کسی دوسرے کو گھٹیا یا غیر مسلم نہ قراردیں۔

میں نے پھر لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خان نے بھی کوشش کی تھیں کہ مسلمان مساجد اور مدرسوں کی تعمیر کی بجائے اعلیٰ تعلیمی ادارے بنائیں اور جدید علوم حاصل کریں۔ مگر ہم زمین جبند نہ جنبد گل محمد کے مصداق پچھلے سوا سو سال سے ایک انچ بھی ادھر ادھر نہیں ہوئے۔دنیا کی سو بہترین یونیورسٹیوں میں کسی مسلمان ملک کی یونیورسٹی کا نام نہیں ملتا۔ مسلمان بدستور عالی شان مساجد اور مدرسے ( اسلامک سنٹرز) تعمیر کر نے میں مصروف ہیں۔

گفتگو اب اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی ۔ دوستوں نے احمدی دوست کو ایک تجویز دی کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد نوبل انعام حاصل کریں تو اس کا طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ آپ کے خلیفہ یورپ میں مقیم اپنے لاکھوں اور افریقہ میں مقیم کروڑوں پیروکاروں کو کم ازکم یہ ہدایت جاری کردیں کہ ہرسال ایک ہزار افراد مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی کریں۔ معاشیات، قانون ، سائنس وٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے عالمی اداروں ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، یو این او، یونیسکو اور عالمی تحقیقی اداروں میں کام کرکے اپنے ملک اور کمیونٹی کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

قارئین! ایک اور دوست جو اس ساری گفتگو کو خاموشی سے سن رہے تھے اور شاید ہماری بونگیاں سن کر تنگ آ گئے تھے ، انتہا ئی بیزار ی سے بولے یہ ناممکن ہے۔۔۔

9 Comments

  1. اس گفتگو میں چند مغالطے ہیں جنھیں استعمال کر کے مجلس ختم نبوت کے کام میں آسانی لائی جاتی ہے۔
    پہلا مغالطہ، احمدی دوسرے مسلمانوں کو غیر مسلم اور کافر سمجھتے ہیں:
    بلکل غلط، احمدیوں کے نزدیک جو بھی کلمہ پڑھتا ہے یا خود کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے. سیاسی طور پر یا یوں کہ لیجیے دنیوی طور پر کسی کو غیر مسلم کہنے کا اختیار نہ تب کسی کے پاس تھا اور نہ ہی اب. اس ضمن میں جب ملحد حضرات کو کچھ اور نہیں ملتا تو ختم نبوت کی ویبسائٹس سے وہ چنیدہ حوالے نکل کے لے آتے ہیں جو کہ مولوی لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے عرصوں سے استعمال کر رہے ہیں. جبکہ جماعت کی طرف سے ان کا جواب اور خود جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی جانب سے اپنے 1935 کے خطبے اور بعد میں 1953 کے ہوئے فسادات میں تفصیل سے دے دیا گیا ہے. ہم بارہاں یہ کہ چکے ہیں کہ کسی کو کافر قرار دینا ریاست یا کسی گروہ کا کام نہیں.
    دوسرا مغالطہ، کسی احمدی خلیفہ نے ریاست اور مذہب کے جدا ہونے کو نہیں مانا
    غلط اور بلکل غلط احمدی خلفاء کی جانب سے ایسا بیان بار بار آیا ہے، اب جو سننا ہی نہ چاہے اس کو کیسے سنوائیں؟
    https://www.alislam.org/egazette/egazette/june-2014-egazette-separation-of-mosque-church-and-state/
    https://www.alislam.org/egazette/egazette/september-2011-egazette-separation-of-mosque-church-and-state/

    مزید براں یہ لیکچر جو کہ مرزا طاہر احمد نے دیا:
    https://www.alislam.org/books/shariah/
    اس میں آخری دو تین سوال اور ان کے جواب غور سے پڑھنے والے ہیں.
    چودری ظفراللہ کی جانب سے قرارداد مقاصد کی حمایت پر بھی آرٹیکل لکھے گئے ہیں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ چودھری صاحب جس مذہب کو مانتے تھے اس میں کسی قسم کے جبر کی گنجائش نہیں تھی.
    The Objectives Resolution and the Misunderstood Role of Sir Ch. Muhammad Zafarulla Khan http://pakteahouse.net/2015/08/26/the-objectives-resolution-and-the-misunderstood-role-of-sir-ch-muhammad-zafarulla-khan/

    دراصل اس معاشرے نے جس میں ملا بھی اور ملحد بھی سب ہی شامل ہیں انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ احمدیوں سے پوچھے بغیر ان کے عقائد پر رائے زنی کرنی. ہمارا کیا عقیدہ ہے یہ ہم سے زیادہ ساری دنیا کو پتہ ہے خصوصا دیسی ملا و ملحد کو.

  2. ایک اور مغالطہ بھی جس کا ذکر رہ گیا کہ جماعت میں صرف مذہبی تعلیم کا ہی چرچا ہوتا ہے اور دنیوی تعلیم یا سائنس وغیرہ میں یہ اسی لیے پیچھے ہیں کہ بس مسجدیں بنانے میں لگے ہوئے ہیں وغیرہ…
    دراصل چونکہ ان حضرت کو کبھی احمدی تقریبات وغیرہ دیکھنے کا کوئی موقع نہیں ملا نہ ہی احمدیوں سے پوچھنے کا تو ایسے خیالات کا اظہار ادھر ادھر سے لے کر کردیا۔
    نہ صرف یہ کہ احمدی باہر جا کر سائنس اور دوسرے علوم حاصل کر رہے ہیں بلکہ ترقی بھی کر رہے ہیں۔ معاشیات میں پچھلے سال جن حضرت کا نام آیا تھا احمدی ہی تھے، ڈاکٹر وغیرہ تو آپ جانتے ہی ہیں یہ ہگز بوسن کے تجربہ میں جو پاکستانی خاتون شامل تھیں پاکستانی ملا و ملحدیں کی شومئی قسمت کہ وہ بھی احمدی ہی تھیں… اس کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ہیں جو اپنی اپنی فیلڈ میں ترقی کر رہے ہیں.
    اس کے علاوہ ہر جلسہ سالانہ برطانیہ میں اختتامی تقریب کے موقع پر خلیفہ وقت کے ہاتھ سے ان لوگوں کو شیلڈ دی جاتی ہے جنہوں نے میٹرک تا پی ایچ ڈی نمایاں پوزیشن حاصل کیں ہوں اور ہر سال بیسیوں ایسے لڑکے اور لڑکیاں ہوتیں ہیں جو یہ سعادت حاصل کرتے ہیں. یہی حال دوسرے ممالک میں ہے.
    لہذا conventional knowledge جھاڑنے کی بجائے اگر بندہ تھوڑا تحقیق کر لے تو زیادہ بہتر ہوتا ہے.

  3. ایک اچھی ڈسکشن ہے پڑھ کر مزہ آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ احمدی پاکستان میں ایک مظلوم کمیونٹی ہیں ان کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ بھی اتنے ہی بنیاد پرست ہیں جتنے کے طالبان۔ طالبان جس طریقے سے مردوں اور خواتین کی مخلوط تعلیم کے مخالف ہیں اتنے ہی احمدی بھی ہیں۔ اسی طرح یہ نماز کی بھی اسی طرح پابندی کرواتے ہیں جیسے طالبان۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ احمد بھی اسلامی خلافت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

  4. یہ غلط ہے کہ احمدی بھی اتنے ہی بنیاد پرست ہیں جتنے کے طالبان۔جناب عالی کیا کہنے اس دلیل کے ، اپنے مذہب،دین،مسلک کوعقلی دلائل کی بنا پر سچ ماننا اور اس پر عمل کرنا نیز اس کی تبلیغ کرنا ایک بات ہے اور اس کے بر عکس ظالمان کی طرح دوسرے پر عقیدے کے اختلاف کے بنا پر چڑھ دوڑنا اور دہشت گردی پھیلانا ایک دوسر ا طرز عمل ہے جو ہر حال میں ناجائز ہے۔یہ فرمائیے کہ اپ نے کب دیکھا کہ کسی احمدی نے اپنے عقیدے کی ترویج کے لئے ہتھیار کو دلیل بنایا یا اس کی تلقین کی۔
    جہاں تک نماز کی بات ہے اس کی تلقین ضرور احمدیہ معاشرے میں کی جا تی ہے مگر ایک بھی مثال نہیں کہ کسی کو نماز نہ پڑھنے پر کسی قسم کا نقصان پہنچایا ہو یا جبر کیا گیا ہو۔کیونکہ عبادات کی تلقین کرنا اور بات ہے اور اس پر عمل کرانے کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرنا اور بات۔
    اسی طرح جہاں تک یہ بات کہ احمدی اپنی اسلامی خلافت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں در اصل احمدیوں کے عقائد سے لا علمی کی دلیل ہے کہ احمدی یہ ہر گز نہیں کہتے کہ خلافت کا تعلق لازماً اقتدار سے ہے بلکہ وہ خلافت کو ایک روحانی مقام سمجھتے ہیں جس کے لئے کسی اقتدار کی ضرورت نہیں ۔معلوم ہوتا ہے کہ چند نام نہاد علما کی کتابیں پڑھ کر آپ نے رائے قائم کر لی ہے کہ خلافت صرف اقتدار کا نام ہے ۔ایسا ہر گز نہیں۔کیونکہ جماعت احمدیہ میں خلافت کو ایک سو سال ہوگیا ہے اور کبھی کسی نے اقتدار کی بات نہیں کیا۔ہاں فتح کرنے کی بات کی غلط مت سمجھئے گا فتح سے مراد دل فتح کرنا ہے اور وہ بھی ہتھیار سے نہیں بلکہ اخلاق سے

  5. ایک اور بات جو شاید تشنہ رہ گئی اور یاد آئی کہ جماعت محض مساجد بناتی ہے، جناب عالی جماعت نے سینکڑوں اسکول پاکستان سے لے کر افریقہ اور ضرورت مند علاقوں میں بنوائے ہیں اور یہ آج سے نہیں بلکہ ایک صدی کا قصہ ہے اور ان اسکولوں میں صرف احمدی نہیں غیر احمدی، مسلمان و غیر مسلم سب ہی پڑھتے ہیں.
    شاید پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہو کہ جماعت کے موجودہ خلیفہ ایک عرصے تک گھانا میں احمدیہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر رہے ہیں. مرزا مسرور احمد جو خود تو ایم اے ایگریکلچر ہیں اور گھانا میں پہلی دفعہ گندم اگانے کا کامیاب تجربہ بھی انہی نے کیا تھا. اب مصنف موصوف کو تو یہ غیر اہم لگے گا مگر گھانا جیسے ملک میں جہاں گندم کی فراوانی نہیں ہے یہ کارنامہ عبد السلام کے کارنامے سے کم نہیں ہے.

  6. Good and enlightening discussion.

  7. میں ساری دنیا کے یہودیوں نے چندہ جمع کیا تھا تا کہ یروشلم میں ایک بہت بڑا سنگا گ قائم کیا جائے۔یہ رقم ایک بلین امریکی ڈالر پر مشتمل تھی۔یہ پوری رقم چیف ربائی کی خدمت میں پیش کی گئی۔لیکن چیف ربائی نے عبادت گاہ کی تجویز کو رد کرتے ہوۓ کہا :خدا ساری دنیا کا مالک ہے۔ساری شان وشوکت اسی کے لۓ ہے۔ہم کون ہوتے ہیں اس کے لۓ ایک بلین ڈالر کی رقم کا محل تعمیر کرنے والے۔اس کی بند گی تو ہر جگہ سوتے جاگتے کی جاسکتی ہے۔خدا کو جاننے کے لۓ علم ضروری ہے۔
    جاؤ اس رقم سے ایک تعلیمی ٹرسٹ بناؤتاکہ کوئی یھودی بے علم نہ رہے۔اس طرح دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی ٹرسٹ 1970 میں اسرائیل میں وجود میں آیا۔(مولانا وحید الدین خان)

  8. وہ چنیدہ حوالے نکل کے لے آتے ہیں جو کہ مولوی لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے عرصوں سے استعمال کر رہے ہیں. جبکہ جماعت کی طرف سے ان کا جواب اور خود جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی جانب سے اپنے 1935 کے خطبے اور بعد میں 1953 کے ہوئے فسادات میں تفصیل سے دے دیا گیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محترم یہ مستند حوالے ہیں ۔۔۔رہی 1953 میں مرزا محمود کے بیانات کی بات تو اظہر من الشمس ہے کہ یہ محض سیاسی بیان تھا اور تضادات سے بھرپور تھا ۔
    “خدا تعالى نے میرے پرظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذه ہے”
    (تذکرہ، صفحه 519 طبع چہارم)

    “ان الہامات میں میری نسبت یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جوکچھ کہتا ہے اس پرایمان لاؤ، اور اس کا دشمن جہنمی ہے”
    (رساله دعوت قوم ، مندرجه روحانى خزائن جلد 11 صفحه 62 حاشيه)

    “جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی، یہودی اور مشرک رکھا گیا”
    (نزول المسيح ، مندرجه روحانى خزائن جلد 18 صفحه 382)

    “کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی اسکے مطابق مرزا قادیانی- ناقل) کی بيعت میں شامل نہیں ہوے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں”
    (آئينه صداقت مصنفه مرزا بشير الدين محمود ، مندرجه انوار العلوم جلد 6 صفحه 110)

    یہی مرزا محمود دوسری جگہ لکھتا ہے:
    “ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں، کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا تعالى کے ایک نبی کے منکر ہیں”
    (انوار خلافت مصنفه مرزا بشيرالدين محمود ، مندرجه انور العلوم جلد 3 صفحه 148)

    وہ شخص جو آپ کو (مرزا صاحب) کافر کہتا ہے یا جو آپ کو کافر تو نہیں کہتا مگر آپ کے دعویٰ کو نہیں مانتا کافر قرار دیا گیا ہے ۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے ، کافر قرار دیا گیا ہے ۔(انوار العلوم جلد 6 صفحہ 151)

    جو لوگ مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتے خواہ آپ کو راست باز ہی منہ سے کیوں نہ کہتے ہوں وہ پکے کافر ہیں ۔(انوار العلوم جلد 6 صفحہ 151)

  9. Afzaal Malik says:

    سلمان صاحب پوری عبارت پڑھئیے
    انوار العلوم کلد ۶ ص ۱۵۱
    آخر میں قرآن کریم کی ایک آیت سے استدلال کیا کہجو لوگ مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتے خواہ آپ کو راست باز ہی منہ سے کیوں نہ کہتے ہوں وہ پکے کافر ہیں
    ۔
    حوالہ قرآن کریم کا دیا ھے من امن باللہ و ملائکتہ و کتبہ و رسلہ
    ہم جب ارکان ایمان پڑھتے ہیں تو دوسرا رکن یہ ھے کہ اللہ کے رسولوں پر ایمان ۔۔۔۔
    سر آپ مجھے خود بتا دیں کہ جب مسیح موعود نے آنا ھے اس کا انکار کرنے والا کیا کافر ھو گا یا نہیں ؟
    اور کافر کی تشریح مرزا محمود احمد صاحب نے ساتھ ہی کر دی تھی کہ آپ نے فرمایا کہ بیشک ہم ان کو کافر باللہ یعنی دہریہ تو نہیں کہتے مگر ان کے کافر بالمامور ھونے میں کیا شبہ ھے ؟
    آپ کے جواب کا منتظر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *