کھوئی ہوئی سلطنت ۔۔۔ایک یونانی کہانی

سبط حسن

img_1997-e1344958769703

بہت سال پہلے کی بات ہے ، ایک ملک میں ایک مضبوط اور طاقتورنوجوان رہتاتھا۔ اس کا نام سلیم تھا۔ سلیم کا باپ ، اسی ملک کابادشاہ تھا مگر سلیم کے ایک چچا نے اس سے بادشاہت چھین لی۔ سلیم اس وقت بالکل چھوٹا سابچہ تھا۔

سلیم کاچچابہت ظالم تھا۔ سلیم کے باپ کوسلیم کی زندگی کو لے کر ہر وقت دھڑکا لگا رہتاتھا۔ اسے ڈر تھا کہ اس کا بھائی، سلیم کو کہیں مار نہ ڈالے۔ اس نے سلیم کو اپنے ساتھ لیا اور پہاڑوں میں چلا گیا۔پہاڑوں میں اس کا ایک دوست چراغ رہتاتھا۔ چراغ آدھا انسان اور آدھا گھوڑاتھا۔ اس نے پہاڑوں میں ایک سکول کھول رکھا تھا۔وہ بڑی سمجھ داری سے بچوں کی تربیت کرتاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام دیوی او ردیوتا، اپنے بچوں کو اسی کے سکول میں بھیجتے تھے۔

چراغ بچوں کو جسمانی طورپر مضبوط بنانے کے لیے ان سے سخت جسمانی مشقیں کرواتا۔ پہاڑوں پر کبھی اوپر اور کبھی نیچے کی طرف انھیں دوڑاتا۔ تیر کمان بنانے اور انھیں صحیح نشانے پر چلانے کے ہنر سکھاتا۔جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کویہ بھی سکھاتا کہ کس طرح اپنے ذہن کو مطمئن اور خوش رکھناچاہیے۔ اس کاخیال تھا کہ اگر آپ ہر وقت ایمانداری سے کام کریں اور دوسروں کی خوشی کا خیال رکھیں تو آپ کاذہن ہمیشہ مطمئن رہے گا۔ چراغ اپنے سکول کے بچوں کو یہ سب باتیں سکھاتا مگر وہ کبھی ڈانٹتاتھااور نہ ہی بچوں کے ساتھ سختی سے پیش آتا۔ وہ سب بچوں کو اپنا دوست سمجھتاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ سکول سے چلے جانے کے بعد چراغ کی ان سے دوستی جاری رہتی۔

سلیم ، چراغ کے سکول میں پڑھتا رہا۔ جب وہ نوجوان ہو گیا تو وہ نہ صرف جسمانی طورپر مضبوط تھا بلکہ ذہنی طورپر بھی بہت سیانا ہوگیا۔ ایک دن چراغ نے اسے بتایا کہ اب اسے واپس گھر چلے جانا چاہیے۔ وہ اس کے ساتھ پہاڑوں سے اتر کر وادی میں چلاآیا۔ راستے میں اس نے سلیم کو اس کے باپ اور اس کے ظالم چچا کے بارے میں بتایا ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح اس کے چچا نے اس کے باپ کی سلطنت کو چھین لیا تھا ۔ سلیم خاموشی سے، چراغ کی یہ سب باتیں سنتا رہا۔ اس نے اسی وقت اپنے دل میں پکاارادہ کیا کہ وہ ایک دن اپنے باپ کی سلطنت اس کو ضرور لوٹائے گا۔

سلیم نے سلطنت کے پایۂ تخت کی طرف سفر شروع کردیا۔ راستے میں ایک وسیع اورگہرا دریاآتاتھا۔سلیم اس دریا تک پہنچا۔ وہ اس کے کنارے بیٹھ کر اندازہ لگا رہا تھا کہ اسے دریا کس جگہ سے پار کرناچاہیے۔ اتنے میں ایک ضعیف بڑھیا اسی جگہ آپہنچی۔ کہنے لگی
’’
بیٹا، مجھے بھی دریا کے اس پار جاناہے۔۔۔‘‘
’’
مگر ، اماں ، دریا تو بہت زور میں ہے اور لگتاہے کہ بہت گہرا بھی ہے۔۔۔‘‘

’’تم مجھے اپنے کندھے پر اٹھا لو، میں تمھیں وہ راستہ بتاؤں گی، جہاں دریاکم گہراہے۔۔۔‘‘
سلیم نے بڑھیا کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور دریا میں اتر گیا۔ بڑھیا اسے راستہ بتاتی گئی اور دونوں حفاظت سے دریا کے اُس پار جااترے ۔ دریا کے اس پار اترتے ہی سلیم نے بڑھیا کو ایک پتھر پر بٹھادیا اور خود دریاکی طرف دیکھنے لگا۔ جب اس نے مڑ کردیکھاتو وہاں پتھر پر بڑھیا کی بجائے ایک دیوی بیٹھی تھی۔ دیوی نے سلیم کوبتایا کہ وہ دراصل اس کا امتحان لینا چاہتی تھی۔ اس نے سلیم کا شکر یہ اداکیا اور وعدہ کیا کہ وہ جب چاہے گا، وہ اس کی مدد ضرور کرے گی۔

سلیم سلطنت کے دارالحکومت تک پہنچ گیا۔ وہ سیدھا محل میں گیا جہاں اس کا ظالم چچا بادشاہ بنا بیٹھا تھا۔ چچا، سلیم کو دیکھ کربالکل بھی خوش نہ ہوا۔ سلیم نے اپنے چچاکو بتایاکہ وہ ہر صورت اپنے باپ کی سلطنت واپس لے کر ہی دم لے گا۔ سلیم کا پکا ارادہ دیکھ کر اس کا چچا گھبراگیا۔ اسے اندازہ تھا کہ سلیم ایک بہادر جوان ہے اور وہ ایسا کرسکتاہے۔ اس نے فوراًایک منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کا مقصد سلیم کو سلطنت سے دور کسی مقام پر بھیجناتھا۔ ایسا مقام جہاں سے سلیم کی واپسی ممکن نہ رہے۔سلیم کے چچا نے اس سے بات شروع کی۔
’’
۔۔۔آج بڑے عرصے کے بعد تم کو دیکھاہے۔ دل بہت خوش ہواہے۔ ۔۔‘‘
اس نے اسی دن شام کو ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا۔ ضیافت میں سلطنت کے تمام امرانے شرکت کی۔ جب سب لوگ کھاناکھاچکے تو سلیم کے چچا نے بات شروع کی

’’بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ، ہمارے علاقے میں ایک سنہری بھیڑ ہو اکرتی تھی ۔ یہ بھیڑ ہوا میں اڑ سکتی تھی۔ یہ بھیڑایک دیوی نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے یہاں بھیجی تھی۔ کچھ لوگ اُس دیوی کے بچوں کو جان سے مارنے والے تھے کہ یہ بھیڑ ہوا سے نیچے اتری ۔ بچے بھیڑ پر سوار ہو ئے ۔ سب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے بھیڑ اُڑی اور سمندر کی طرف غائب ہوگئی۔ بچوں میں سے ایک بچی، کسی وجہ سے سمندر میں گر گئی مگر باقی بچے بچ گئے اور دیوی کے دیس جاپہنچے۔‘‘

دیوی کے دیس میں ایک بادشاہ بوبول کی حکومت تھی۔ اسے جب سنہری بھیڑ کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے اپنے آدمیوں کوحکم دیا کہ وہ اس بھیڑ کو پکڑ کر لائیں۔ ایک رات ان لوگوں نے بھیڑ کوپکڑ لیا اور اسے ذبح کرکے اس کی سنہری کھال اتارلی۔ بادشاہ بوبول نے کھال کو اپنے باغ میں ایک درخت کے تنے کے ساتھ میخوں سے چپکا دیا۔ اس سنہری کھال کی حفاظت کے لیے ایک اژدھے کی ذمے داری لگا دی ۔ یہ اژدھا چوبیس گھنٹے ، بغیر سوئے، اس سنہری کھال کی حفاظت کرتارہتاہے۔ اگر کوئی بھولے سے بھی، اس کھال کے قریب آجائے تو اژدھا اسے مارڈالتاہے۔‘‘
سلیم کے چچا نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا

’’اب دیکھو، سلیم ادھر ہمارے پاس آیاہے۔ کیساخوبصورت اور بہادر نوجوان ہے۔ یہ اس ملک کا بادشاہ بننا چاہتا ہے____میری خواہش ہے کہ بادشاہ بننے سے پہلے اسے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی بہادر اور سمجھدار ہے____اگر وہ سنہری کھال لے آئے تو میں اپنی سلطنت اس کے حوالے کردوں گا۔۔۔‘‘
سب لوگوں نے بادشاہ کی بات سنی اور شور مچادیا
’’
بادشاہ سلامت،آپ بالکل درست فرماتے ہیں۔۔۔ سلیم کو سنہری کھال لاناہی ہوگی۔۔۔!!‘‘
’’
ٹھیک ہے،میں یہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔ شرط یہ ہے کہ بادشاہ مجھے ایک مضبوط جہاز دے جو مجھے اور میرے ساتھیوں کوبڑے سمندر سے آگے بوبول بادشاہ کی سلطنت تک پہنچادے۔ ‘‘ سلیم نے جواب دیا۔

سلیم کا چچایہ بات سن کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔ وہ اس لیے خوش تھا کیونکہ اس کا سلیم کو سلطنت سے دور رکھنے کا منصوبہ کامیاب ہورہاتھا۔ اس نے فوراًایک مضبوط جہاز فراہم کرنے کی ہامی بھر لی۔
سلیم نے اپنے ان دوستوں کواپنے ساتھ جانے کی دعوت دی جو اس کے ساتھ چراغ کے سکول میں پڑھتے رہے تھے۔ وہ سب بڑے بہادر اورسیانے تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ مشکل کام کیسے کیے جاتے ہیں۔
جہاز تیار ہو گیا۔ یہ اس قدر بھاری تھا کہ اسے سمندر میں اتارنا مشکل ہو رہا تھا ۔ سلیم کا ایک دوست بہت طاقتور تھا۔ اس کی طاقت کے قصیّ ہر جگہ مشہور تھے۔ اس نے آکر بہت کوشش کی مگر جہاز اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلا۔ آخر سلیم نے اپنے ایک دوست کو بلوایا ۔ وہ بہت اچھاگاتاتھا ، بلکہ اس کے گانے میں ایک جادو تھا۔ وہ جہاز کے پاس آیا۔ اس نے ایک گیت گاناشروع کیا ۔ اس گیت میں یہ بات کہی گئی تھی کہ سمندر پر تیرنے میں کتنا مزہ آتاہے۔ جہاز نے یہ گیت سنا اور آہستہ آہستہ سمندر کی طرف سرکنا شروع کردیا۔

جہاز سمندر میں اتر گیا ۔ سلیم اور اس کے دوست جہازپر سوار ہو گئے۔ جہاز آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ وہ دیوی جس کو سلیم نے دریاپارکروایا تھا کو جب سلیم کے اس سفر کے بارے میں معلوم ہو ا تو اس نے ہواؤں کے دیوتا کو سفارش کی کہ وہ ہواؤں کو تیز کردے۔ اس زمانے میں جہاز بادبانوں سے چلتے تھے۔ ہوا کی رفتا ر کم ہوتی توجہازبھی سست رفتاری سے چلتے، جب ہوا تیز ہو جاتی تو جہاز بھی تیزچلنے لگتے۔
سلیم اور اس کے دوست ، راستے میں کئی شہروں میں رکے۔ ان کے ساتھ بہت سے عجیب وغریب واقعات ہوئے۔ آخر وہ بوبول بادشاہ کی سلطنت میں پہنچ گئے۔

جب جہاز بوبول کی سلطنت کے پاس پہنچا تو اس کے سپاہیوں نے جہاز کو دیکھتے ہی ، بادشاہ کو خبر کردی۔بوبول نے فوراًسپاہیوں کوساحل کی طرف جانے کا حکم دے دیا۔ اس کاخیال تھا کہ اتنابڑاجہاز ، ہونہ ہو اس پر سوار لوگ اس کی سلطنت پر حملے کی غرض سے آئے ہیں۔ سلیم نے فوراًجہاز کے اوپر سفید جھنڈا لہرادیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جہاز میں سوار لوگ حملہ نہیں کرنے آئے۔ وہ جہاز سے نیچے اترا اوربوبول بادشاہ کے پاس چلا آیا۔اسے بتایا کہ وہ لڑنے کے لیے نہیں، بلکہ سنہری کھال لینے کے لیے آیاہے۔ وہ اس کھال کی قیمت بھی دینے کوتیار ہے۔ اس نے بادشاہ کو ، اس کے دشمنوں کے خلاف لڑنے کی بھی پیش کش کی۔بوبول بادشاہ، کسی صورت بھی سنہری کھال سلیم کے حوالے نہیں کرناچاہتاتھا۔ اس نے سلیم سے کہا

’’تم مجھے ایک بہادر نوجوان معلوم ہوتے ہو۔۔۔ اسی لیے تواتنالمباسفرطے کرکے یہاں آئے ہو۔ میں بھی ایک بہادر آدمی ہوں او ربہادر لوگوں کی بڑی عزت کرتاہوں۔ اگر تم یہ ثابت کر دو کہ تم واقعی ایک بہادر اورطاقتورانسان ہو، تو میں سنہری کھال خود اپنے ہاتھوں سے تمھیں دے دُوں گا۔۔۔‘‘
بوبول نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا

’’میر ے پاس دو بیل ہیں۔ ان کے منہ سے آگ نکلتی ہے۔ میں اپنے آپ کوایک بہادر شخص مانتاہوں مگر مجھے بھی آج تک ان کے قریب جانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ تم اگر ان دونوں بیلوں کولگام ڈال کر ہل کے ساتھ جوت دو اور پھر زمین میں ان سے ہل چلا لو تو میں تمھیں مان جاؤں گا۔جب کھیت میں ہل چل جائے تو اس میں بھوتوں کے دانت کوبو دینا۔ ہردانت جب اُگ جائے گا وہ وہاں ایک سپاہی ہوگا۔ یہ سپاہی اتنی تیزی سے اگتے ہیں کہ ان کومیرے علاوہ کوئی شخص نہیں مار سکتا۔اگر تم یہ سب کام کردو تومیں تمھیں ایک بہادر اور مضبوط انسان مان لوں گا۔ پھر میں تمھیں سنہری کھال بھی دے دوں گا۔۔۔‘‘
بوبول بادشاہ کو پورایقین تھا کہ سلیم ، اس کے بتائے ہوئے کام ہرگزنہیں کرسکے گا۔ مگر سلیم کو اپنے آپ پر یقین تھا کہ وہ پورے دل کے ساتھ کوشش کرے گا تو ضرور کامیاب ہو جائے گا۔جب بوبول بادشاہ، سلیم سے بات کررہاتھا تو اس وقت اس کی بیٹی ہانیہ بھی وہاں کھڑی تھی ۔ اس نے جب سلیم کو دیکھا تو اسے اس کی خوبصورتی اوراپنے آپ پربھروسہ بہت اچھا لگا ۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ سلیم کو کسی قسم کا نقصان پہنچے۔ اس نے اپنے دل میں ارادہ کرلیا کہ جیسے بھی ممکن ہو ا،وہ سلیم کی مدد ضرور کرے گی۔

اسی رات ہانیہ جہاز پر آئی او ر سلیم سے ملی۔ اس نے سلیم کو جادوئی تیل دیا۔ سلیم نے اسے اپنے جسم پر ملا ۔ وہ اس قدر مضبوط ہو گیاکہ اس کے جسم پر کسی قسم کی چوٹ کا اثرنہیں ہوسکتاتھا۔
اگلی صبح سب لوگ اس باڑے کے ارد گردجمع ہوگئے جہاں آگ پھینکنے والے بیل رہاکرتے تھے۔بوبول بادشاہ بھی وہاں آگیا۔ سلیم کو باڑے کے اند ر داخل کردیا گیا۔ اس وقت دونوں بیل ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے جگالی کررہے تھے۔ انھوں نے جب سلیم کو باڑے کے اندر آتے دیکھا توغصے میں آگ پھینکتے ہوئے، اس کی طرف دوڑے۔ سلیم فوراًان کے راستے سے ہٹ گیا۔ وہ کچھ دیر اسی طرح بیلوں کو غصہ دلاکربھگاتارہا۔ بیل اس پر حملہ کرنے کے لیے آتے اور وہ انھیں چکمہ دے کر ایک طرف ہٹ جاتا۔ کافی دیر یہ سلسلہ چلتارہا۔ آخربیلوں کی رفتاراور ان کے منہ سے نکلنے والی آگ کم ہونے لگی۔ سلیم سمجھ گیا کہ اب بیل تھک رہے ہیں۔ بیل سانس لینے کے لیے رُکے توسلیم نے ایک بیل کو سینگوں سے پکڑ کر، اسے دوسرے بیل کے اوپر دے مارا۔ بیل اٹھے۔ وہ سخت طیش میں تھے۔ وہ سلیم کی طرف دوڑے۔ سلیم نے ایک طرف ہٹ کر ایک بیل کی پچھلی ٹانگ پر اپنی ٹانگ ماری۔ وہ بیل چکراتا ہوا گرا۔ وہ سخت تھک چکا تھا ۔ وہ زمین پر اپنے پاؤں سے مٹی کھود رہاتھامگر اس میں اٹھ کر حملہ کرنے کی ہمت ختم ہو چکی تھی۔ دوسرابیل بھاگنے لگا۔ سلیم اس کے پیچھے بھاگ رہاتھا ۔ آخر اس نے اسے بھی سینگوں سے پکڑ کرگرادیا۔ دونوں بیل اب تھک چکے تھے۔ سلیم نے دونوں کو ہل کی ایک پنجالی میں جوتا اورکھیت کی طرف ہانکنے لگا۔

بیل اب مکمل طورپر قابو میں آچکے تھے۔ سلیم نے پورے کھیت میں ہل چلایا ۔ جب زمین تیار ہوگئی تو اس میں بھوتوں کے دانتوں کو بونا شروع کردیا ۔ سلیم نے ابھی دانتوں کو بونے کاکام ختم کیاہی تھاکہ اس نے بہت سے وحشی سپاہیوں کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ وہ سلیم کو ماردینا چاہتے تھے۔

سلیم نے ایک بڑاپتھر اٹھایا اور اسے کھیت کے بیچ میں بھاگتے سپاہی کے اوپر دے مارا۔ پتھر لگتے ہی وہ سپاہی اپنی پشت کی طرف مڑااوراپنے پیچھے آتے ہوئے سپاہی پر حملہ کردیا۔ اس سپاہی نے سمجھا کہ شاید، اس کے پیچھے آنے والے سپاہی نے اسے پتھر مارا ہے۔سلیم نے ایک او رسپاہی کی پشت پر تلوار سے حملہ کیا اور خود ایک طرف ہٹ گیا۔ سپاہی مڑا اور اس نے اپنے پیچھے آنے والے سپاہی سے لڑائی شروع کردی۔ اس طرح سپاہیوں میں انتشار ساپھیل گیا۔ وہ سلیم کی طرف آنے کی بجائے آپس میں لڑنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سپاہی ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ سب سپاہی کھیت میں گر گئے ۔ صرف ایک سپاہی بچا۔ سلیم اس کی طرف بڑھا اور تلوار کے ایک وار سے اسے بھی کھیت میں گرادیا۔

جب سارے کام مکمل ہوگئے تو سلیم، بوبول بادشاہ کے پاس آیا اور کہنے لگا
’’
میں نے آپ کے کہنے کے مطابق سارے کام مکمل کردیے، اب آپ مجھے سنہری کھال دے دیں۔۔۔‘‘
’’
ٹھیک ہے ، تمھیں سنہری کھال مل جائے گی۔۔۔آج شام کو تم میرے مہمان رہو۔ تم اور تمھارے ساتھی میرے ساتھ کھاناکھاؤ، صبح سنہری کھال تمھیں دے دوں گا۔۔۔‘‘
جب سلیم اور اس کے ساتھی واپس جہاز پر چلے گئے تو بوبول بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو بلوایااور ان سے کہنے لگا
’’
تمھیں معلوم ہے کہ سنہری کھال کی حفاظت ایک اژدھا کے ذمے ہے۔ سلیم جب کھال لینے کے لیے اس کے پاس جائے تو اژدھااسے مار ڈالے گا۔ جب سلیم مرجائے تو تم اس کے ساتھیوں پر حملہ کرکے انھیں قتل کردینا۔۔۔‘‘

بوبول بادشاہ نے جوبات اپنے ساتھیوں سے کہی، اس کاکسی نہ کسی ذریعے سے ہانیہ کوپتاچل گیا۔ وہ اسی وقت سلیم کے پاس چلی آئی اور اسے ساری بات بتادی۔ سلیم نے فوراًسنہری کھال حاصل کرنے کے لیے اژدھا کے پاس جانے کا فیصلہ کرلیا۔

سلیم نے اپنے ساتھ اپنے اسی دوست کولے لیاجوبہت اچھا گیت گاسکتاتھا ۔ دونوں چھپتے چھپاتے اژدھے کے پاس جاپہنچے۔ دونوں کودیکھ کر اژدھے کی آنکھو ں سے شعلے نکلنے لگے۔ اس کے منہ سے نیلا دھواں نکل رہاتھا۔ اژدھاایک درخت کے پاس کنڈلی مارے بیٹھاتھا اور اس کے اوپر درخت کے تنے پر سنہری کھال بچھی ہوئی تھی۔ سورج کی کرنوں میں یہ کھال سونے کی طرح چمک رہی تھی۔

سلیم کے دوست نے ایک گیت گانا شروع کردیا۔ یہ گیت دراصل لوری تھا اور اس کوگانے کا مقصد یہ تھا کہ اژدھا سوجائے ۔ وہ بہت عرصے سے نہ سویا تھا اور سخت تھک چکاتھا۔ لوری اتنی میٹھی تھی کہ اس کا اثر فوری طورپر اژدھا پر ہونے لگا۔ اژدھا نے اپنی آنکھیں بند کیں مگر فوراًانھیں کھول دیا۔ وہ نہیں چاہتاتھا کہ سوجائے۔ لوری کا اثر اس قدر زیادہ تھا کہ وہ پھر آنکھیں بند کرتامگر کھول لیتا۔ آہستہ آہستہ اس پر نیند کا غلبہ ہونے لگا۔ اس نے ایک بار آنکھیں بند کیں اور گہری نیند سوگیا۔

سلیم نے ایک لمبی چھڑی سے اژدھا کے سر کو ہلایا ۔اژدھا بہت گہری نیند سویا ہواتھا۔ سلیم آہستہ آہستہ چلتاہوا اژدھے کے پاس آیا۔ اژدھے نے اپنے جسم کو پھیلایا۔سلیم ڈرکے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ مگر اژدھاجاگانہیں، وہ تواپنے جسم کو آرام پہنچانے کے لیے اسے پھیلارہاتھا۔ وہ بدستور سورہاتھا۔ سلیم ، اژدھے کے سرکے اوپر سے کود کر درخت پر چڑھا اور درخت پر لگی ہوئی سنہری کھال اتارکرنیچے اترآیا۔
سلیم کا دوست بدستور لوری گارہاتھا۔ و ہ لوری گاتارہا اور دونوں باغ سے باہر نکل آئے۔

دونوں جلدی سے جہازپر آئے ۔ جہاز چلنے کے لیے تیار کھڑاتھا۔ ہانیہ بھی جہاز پر موجود تھی۔ وہ سلیم کے ساتھ اس کے ملک جاناچاہتی تھی۔ اگر وہ وہیں رہ جاتی تو اس کا باپ بوبول، اسے مرواسکتاتھا کیونکہ اس نے سلیم کی مدد کی تھی۔ سلیم نے اسی وجہ سے ہانیہ کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔

جہاز چل پڑا۔ کچھ دنوں میں وہ اپنے ملک واپس آگئے۔ جب لوگوں کو سلیم کی واپسی کے بارے میں علم ہوا تو سب اس کے گرد جمع ہوگئے۔ انھوں نے سلیم کے چچاکوملک سے نکال دیا۔ سلیم کے باپ کوجیل سے باہر نکالااور اسے ملک کابادشاہ بنادیا۔ سلیم اور ہانیہ کی شادی کردی گئی اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *