ایان ہمیں معاف کردو

عثمان غازی

LHC-to-take-up-Ayyan-bail-plea-today-6182015

ایان تم پہلے ہی مختصر کپڑے پہنتی ہومگر تمہارے جسم پر جتنے کپڑے ہیں، ہم انہیں بھی نوچ لینا چاہتے ہیں کیونکہ عدالتی فیصلے سے پہلے ہی ہم نے طے کرلیا ہے کہ تم ایک مجرمہ ہو تمہاراجرم یہ نہیں ہے کہ تم نے منی لانڈرنگ کی کوشش کی، تمہارا جرم یہ ہے کہ تم اس معاشرے میں ایک عورت ہوورنہ جتنے پیسوں کی تم نے منی لانڈرنگ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اس سے دس گنا زیادہ کی کامیاب منی لانڈرنگ کرنے والے مرد ملزمان کی ضمانت دودن میں ہوجاتی ہے۔

Ayyan-Ali-5-months-pregnant-Mubashir-Lucman

اب دیکھونا!! تمہیں ناجائز بچے کی ماں ہم نے بنایا۔۔زرداری کی داشتہ ہم نے بنایا۔۔کیا ہوا اگر کچھ ثابت نہیں ہوسکا ۔۔تم ہماری وحشی نگاہوں کا سرور ہو۔۔ہم تمہیں قہقہے لگالگا کر اپنے لفظوں سے نوچیں گے،تم جیسا حسین سراپا ہماری دسترس میں نہیں ہے تو کیا ہوا، تمہاری بے بسی کے تذکرے ہماری مردانہ انا کی تسکین کرتے ہیں۔

سنو ایان !! تم جس جرم میں پانچ ماہ جیل میں رہی ہو، اس جرم کی فرد جرم تمہاری گرفتاری کے نو ماہ بعد عائد ہوئی، تم شاید اس ناانصافی پر برہم ہو مگراے قومی کھلونے ۔۔تم منی لانڈرنگ کے مقدمے میں انصاف ڈھونڈرہی ہو، تم پر اصل مقدمہ تو مردوں کے معاشرے میں ایک حسین عورت ہونا ہے ۔

تم نے عدالت کو گلستان بناکر رکھاہے، کمرخمیدہ اور عمر رسیدہ بڈھے بھی تمہیں کہنی مارنے پہنچ جاتے ہیں، جس طرح فلم میں ایک آئٹم سانگ ہوتا ہے، اس طرح تم نیوز چینل کی آئٹم رپورٹ ہو میری جان ۔۔ تم سرسے پیر تک چلتی پھرتی ریٹنگ ہو ۔

ایان تمہیں پاسپورٹ سپرداری کیس میں جس طرح رسوا کیا گیا ہے کہ تم مچلکے لے کر گھوم رہی ہو، عدالتی فیصلے کے باوجودکوئی تمہاری بات سننے کاروادار نہیں، اگر تمہارے گورے بدن اورہونٹوں کی لالی کو دیکھنے کی لذت سے فرصت ملی تو ضرور سوچیں گے کہ انصا ف کس چڑیا کا نام ہے ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ پاکستان میں ایان نام کا بس ایک ہی قومی کھلونا ہے مگراپنے اطراف دیکھ کر میں چپ ہوگیا۔۔

پاکستان کی ہر عورت کسی نہ کسی درجے میں ایان ہے جب شوہر صرف مردانہ انا کی تسکین کے لیے بیوی پر گرجتاہے تو وہ ایان ہوتی ہے جب باس اپنی ملازمہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے دباتا ہے اور بے بسی کا احساس اس لڑکی کا جگر کاٹ دیتا ہے تو بس وہ ایان ہوتی ہے۔ جب ضرورت کسی عورت کو مرد کے آگے جھکاتی ہے اور وہ اسے بے بس کرتاچلا جاتا ہے تو بس عورت کا یہی روپ ایان ہے۔

ماڈل ایان تو پاکستانی عورت کی بے بسی کا انتہاپسندانہ روپ ہے ۔۔ایان تمہارے ساتھ جوہورہا ہے، وہ ہماری قومی روایت ہے، ہمیں معاف کردو، پاکستانی عورت کا کسی نہ کسی درجے میں یہی مقدر ہے۔

4 Comments

  1. zulfiqar rajpar says:

    really very nice..i m agree with u,there is i want to share that media particulary electronic media is being violated ethics of media and liberty and personal rigths of ayan..but v r with Ayan.

  2. زبردست اور عالمانہ تجزیہ،اس سے آگے کہنے کی گنجائش نہیں۔

  3. Fair trial is a lawful right every suspect should claim it. Authorities are responsible for the practice.

  4. Mohdsultanyousazai@yahoo.com says:

    In male domain chauvinist society you can find mere cruelty,injustice,criminal mentality and barbaric religiosity.once there was female domain society,that time every body equal in their all rights.really we the all men are responsible for the hardships and all sorts of cruelty and criminality against like ayan.sorry for us.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *