دیہات:انفرادی اوراجتماعی بے وقوفی

qaziفرحت قاضی

ایک دلچسپ حکایت ہے
ایک فقیر نے بادشاہ سے کہا
’’
کل ایک ایسی ہوا چلنے والی ہے جس کے چھونے سے انسان مادر زاد برہنہ ہوجائے گا یہ سن کربادشاہ کو انتہائی فکر لاحق ہوگئی اس نے اپنے وزراء سے مشورہ کیا جنہوں نے مزدوروں کو زمین دوز کمرے تعمیر کرنے پر لگادیا مکان بن گیا تو بادشاہ سلامت اس میں بیٹھ کر ہوا کے گزرنے کا انتظار کرنے لگا ہوا گزر گئی باہر قدم رکھے تو دیکھا کہ کیا بچہ،کیا جوان،کیا بوڑھا،کیا عورت، کیا مرد،کیا مزدور کیا وزیر سب محمود و ایاز کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔

رعایا اپنے بادشاہ کو شاہانہ لباس میں ملبوس دیکھ کر اس کا مذاق اڑانے لگی اور ایک دوسرے کو ہاتھوں سے اشارہ کرکے کہنے لگی:۔
’’
بادشاہ دیوانہ ہوگیا ہے‘‘

اس مختصر سی کہانی میں ایک دل چسپ اور سبق آموز نصیحت اور مشورہ دیا گیا ہے یہ بتاتی ہے کہ ایک آبادی کے باسی جو کرتے ہیں تم بھی وہی کچھ کرو وہ جو حلیہ بناتے ہیں جن اشیاء اور قدروں کو دل و جان سے عزیز رکھتے ہیں جسے وہ پوجتے ہیں جہاں جاتے ہیں جو کھاتے پیتے اور روزگار کرتے ہیں القصہ تم ان کے رنگ میں رنگ جاؤ یہی بچاؤاور سلامتی کا راستہ ہے۔

سچ یہ ہے کہ کہانی کار کے اس مشورے سے ہزاروں برس پہلے جانور یہ جانتے تھے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے طوطا درخت پر سبز پتوں میں بیٹھا ہوتا ہے تو شکاری کو تلاش کرنے میں گھنٹے لگ جاتے ہیں اور گرگٹ کے بارے میں تو مشہور ہے کہ وہ موقع و محل کے مطابق اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے حاکم اور سیاست دان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں چنانچہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں تو پہلے اس علاقے ،اس کے مکینوں اور مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کرلیتے ہیں۔

ایک آبادی کے باسیوں کو اپنے طرز رہائش،ادب و آداب،قدروں،روایات، رواجات، رسومات،تہذیب و ثقافت، لباس اور بات چیت میں کبھی کسی کمی،کجی ، کم زوری اور عیب کا احساس نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایک بچہ اس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے تو اسی سے سیکھتا اور اپناتا بھی جاتا ہے کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک علاقے کے باسی رفتہ رفتہ ایک نئی چیز،واقعہ اور حالات کے عادی ہوجاتے ہیں۔

پختونخوا اورقبائلی علاقہ جات میں دہشت گردانہ واقعات کا تسلسل ایک عرصہ سے جاری ہے کوئی بم بلاسٹ میں مرتا ہے ٹارگٹ بن جاتا ہے خودکش حملے میں لاشیں ادھر ادھر بکھر جاتی ہیں ایمبولینس آتے ہیں لاشوں اور زخمیوں کو اٹھایا جاتا ہے دفنایا جاتا ہے دعا ہوتی ہے عزائم کا اظہار کیا جاتا ہے ورثاء کو رقوم دینے کے اعلانات ہوتے ہیں اب یہ سب کچھ ان کی روزمرہ کا ایک حصہ بن چکا ہے اس لئے انہیں اس پر کوئی حیرت اور تعجب بھی نہیں ہوتا ہے۔

شہر ی اور دیہی زندگی میںیہ وہ بنیادی فرق اور امتیاز پایا جاتا ہے جو ایک کو سیدھا سادا اور کم فہم تو دوسرے کو عقل مند،چالاک اور عیار بنادیتا ہے۔

دیہہ میں کھیت ،فصلیں،درخت، ناپختہ سڑکیں اور کچے مکانات،پالتو جانور، حجرہ اور اس سے منسلک مسجد ہوتی ہے ایک آدھ سکول بھی ہوتا ہے ہر چار اور کھیت ہوتے ہیں اور زیادہ تر افراد کاشتکاری کے شعبہ سے وابستہ ہوتے ہیں گھروں میں مویشی پالتے ہیں یہ سب کچھ سیدھا سادا ہوتا ہے ان کے علاوہ اسی دیہہ میں نائی، دھوبی، درزی، چمار، لوہار، جولاہا، ڈرائیور، تانگے بان اور ریڑھی بان ہوتے ہیں۔ کاشتکاری سمیت یہ تمام پیشے خاندانی اور موروثی ہوتے ہیں بیٹی ماں اوربیٹا باپ کو دیکھ دیکھ کر ان کے اسرار و رموز جان لیتا ہے۔

دیہاتیوں کے نہ صرف کمائی کے ذرائع یکساں ہوتے ہیں بلکہ ان کے رہن سہن،خوراک،روایات اور عقائد میں بھی یکسانیت اور یک رنگی پائی جاتی ہے اگر ایک ادھیڑ عمر یا سفید ریش پگڑی پہنتا ہے تو تمام کے سروں پر یہ چیزنظر آتی ہے بڑوں کے سر پر ٹوپی اور کندھوں پر چادر رکھی ہوتی ہے تو کم سن، لڑکے اور جوان بھی اسی شباہت میں دکھائی دیتے ہیں۔

ایک دیہہ میں بیوی، بیٹی اور بہن کے چاردیواری اور گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھنے کو براتصور کیا جاتا ہے اور سخت پابندی ہے تو ہر ایک اس کلیہ قاعدہ کا پابند ہوتا ہے علاوہ ازیں وہ آبا واجداد کی رسومات، روایات،رواجات،ثقافت اورتہذیب کی بھی پابندی کرتا ہے اس دیہہ کے اچھے اور برے کا یہی معیار ہوتا ہے چونکہ ان کی کل کائنات، گھر، کھیت، حجرے اور مسجد تک محدود ہوتی ہے یکساں ماحول اور حالات ہوتے ہیں لہٰذا ایک دیہی باشندے کی جو ذہنی سطح ہوتی ہے وہی قریب قریب دیگر دیہاتیوں کی بھی ہوتی ہے ان کو اگر کوئی چیز ایک دوسرے سے تھوڑا بہت مختلف بناتی اور رکھتی ہے تو یہ ان کا پیشہ ہوتا ہے گوالا جانتا ہے کہ دودھ کو کیسے گاڑھا بناکر بیچاجا سکتا ہے جبکہ فقیر، نجومی اور پیر ان کی کم زوریوں سے واقف ہوتے ہیں۔

کام کی نوعیت،حالات اور ماحول کی یکسانیت کی جھلک ان کے روزمرہ موضوعات اور بات چیت میں بھی دکھائی دیتی ہے چونکہ بچے ماں باپ،بہن، بھائی اور دیہی باشندوں کو انہی موضوعات اور اسی بات چیت میں مصروف دیکھتے ہوئے جوان ہوجاتے ہیں تو یہ بھی پیشوں کی مانند بچوں اور جوانوں کو منتقل ہوجاتے ہیں چنانچہ دیہات کی اجتماعی صورت حال ان کے انفرادی رویوں کا تعین کرتی ہے۔

چونکہ دیہہ میں بچوں، نوجوانوں ،بوڑھوں ، لڑکیوں اور عورتوں کے اپنے اپنے کام ،لباس اور حلیے ہوتے ہیں چنانچہ جب ایک نوجوان کوٹ پتلون پہنے داخل ہوتا ہے تو وہ ان کو ننگا بادشاہ لگتا ہے اور اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں گو کہ شہروں میں بھی کام، حالات اور ماحول قریب قریب یکساں ہوتے ہیں تاہم وہاں فقط ذرائع معاش ہی زیادہ اور بکثرت نہیں ہوتے ہیں بلکہ نئے نئے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں یہاں سیکھنے اور ترقی کے مواقع کی بھی فراوانی ہوتی ہے نئی اختراعات سے آگہی،مسابقت،سیاسی، معاشی اور ادبی بحث و مباحثے اور علم اور معلومات کے ایک سے زائد وسیلے ان کو دیہی باشندوں سے نسبتاً ترقی یافتہ بنادیتے ہیں۔

انسان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں تعلیم ، معلومات ،آلات پیداوار، مواصلات، ذرائع ابلاغ، معاش، کتب خانوں، اختراعات، ایجادات اور بھانت بھانت کا پس منظر رکھنے کے حامل افراد کا میل ملاپ کا بنیادی کردار ہوتا ہے ایک ترقی یافتہ ماحول ہی انسان کو ترقی یافتہ بناتا ہے دیہی باشندوں کو چونکہ ایسے حالات، مواقع اور ماحول دستیاب نہیں ہوتے ہیں اس لئے ان کی خفتہ ذہنی صلاحیتوں کو بھی پنپنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔

بہر کیف، اب دیہات اور شہر کے مابین فاصلے سمٹتے جارہے ہیں دیہات میں بے روزگاری کے باعث شہروں کی جانب نقل مکانی بھی جاری ہے جو دیہاتی کی سوچ و فکر کے زاویوں میں تبدیلی کا سبب بن رہی ہے دانشوروں نے بجا طور پر کہا ہے:۔
’’
سفر وسیلہ ظفر‘‘

جب دیہاتی کا یہ سفر عارضی سے مستقل ہوجاتا ہے یہ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی شہر ساتھ لے آتا ہے اس کے بچے نئے تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتے ہیں تو ان کی ذہنی سطح بلند ہونے لگتی ہے ان کے خیالات، انداز گفتگو،طرز معاشرت ، عادات و اطوار میں ازخود تبدیلیاں آنے لگتی ہیں القصہ دیہہ اور دیہات کا بے وقوف نہ صرف شہری بلکہ ہوشیار،معاملہ فہم اور چالاک بھی ہوجاتا ہے اس کے لباس اور حلیہ میں دیہاتی اناڑی پن،سادگی اور حماقت نہیں رہتی ہے اس میں رکھ رکھاؤ آجاتا ہے ناپ تول کر بات اور پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے۔

پاکستان کا بڑا حصہ دیہات پر مشتمل ہے اور زیادہ تر دیہات اور گاؤں پس ماندہ ہیں ان میں وہی صدیوں پرانی اور فرسودہ روایات،رسومات اوررواجات ہیں جنہوں نے ان کو جوں کا توں رکھا ہوا ہے اور یہ ان علاقوں کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی ترقی اور خوشحالی میں بھی بڑی رکاؤٹ ہیں۔

یہاں پر دیہاتی مرد نے نصف آبادی کو ہر قسم کی سرگرمیوں سے دور رکھا ہوتا ہے علاوہ ازیں معاشی،سیاسی، سماجی اور ادبی سرگرمیاں بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں اور تعلیمی، سماجی،معاشی،سیاسی اور ادبی سہولیات کا بھی فقدان ہوتا ہے اور یہ تمام عوامل دیہات ہی کی نہیں بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں بھی حائل ہیں۔

لہٰذا حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ ان پس ماندہ دیہات پر نسبتاًزیادہ توجہ دے تاکہ اس کے مرد وعورت اورجوان اور بوڑھے کو مجموعی قومی دھارے میں شامل کرکے ترقی کی رفتار کو تیز تر کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *