اقبال اورمجدد الف ثانی۔۔حصہ دوم

سید نصیر شاہ

iqbal
شیح مجدد:
بال جبریل میں اقبال کی ایک نظم ہے’’پنجاب کے پیرزادے‘‘ اس کا پہلا شعر ہے۔

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحدپر، وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

یہاں ’’شیخ مجدد‘‘ سے مراد شیخ احمد سرہندی ہیں جو’’ مجدد الف ثانی‘‘ کے نام سے معروف ہیں علامہ اقبال کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔عقیدت کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ علامہ اقبال عمر کے ایک بڑے حصہ تک وحدت الوجود کے خلاف اور وحدت الشہود کے حق میں رہے تھے اور شیخ احمد سرہندی وحدت الشہود کے بانیوں میں سے تھے پہلے وہ بھی وحدت الوجود کے قائل تھے مگر پھر وحدت الشہود کے مبلغ اول بن گئے وہ اسے اپنے ذہنی ارتقاء کے معراج خیال کرتے ہیں چنانچہ اپنے ذہنی سفر کے مراحل بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔

’’عنفوان شباب سے بندہ وحدت الوجود کا قائل تھا جب حلقہ نقشبندیہ میں شامل ہوا تو تھوڑی مدت کے بعد ہی توحید وجود ی منکشف ہو گئی اور اس کشف میں غلو پیدا ہوا اور اس مقام کے علوم ومعارف بکثرت ظاہر فرمائے گئے اور اس مقام کی باریکیوں میں سے شاید ہی کوئی باریکی ہو گی جو منکشف نہ کی گئی ہو۔

شیخ محی الدین ابن عربی کے دقائق ومعارف پوری طرح ظاہر کئے گئے اور تجلی ذات جسے صاحب فصوص( ابن عربی) نے انتہائے عروج قرار دیتے ہوئے اس تجلی کی شان میں فرمایا کہ وما بعد ھذا الاالعدم المحض ( اور اس کے بعد تو صرف عدم محض ہی ہے) مجھے اس تجلی سے بھی مشرف فرمایا گیا‘‘ (مکتوبات امام ربانی مجددالف ثانی ج ۱ص۱۱۰)۔

یہ وحدت الو جود کی منزل تھی شیخ سرہندی کے مطابق اسی کو ابن عربی انتہائی معراج سمجھتے تھے مگر شیخ سر ہندی کا سفر آگے بھی جاری رہتا ہے کہتے ہیں’’اس کے کچھ عرصہ بعد اس درویش پر ایک اور نسبت غالب ہوئی اور اس کے غلبہ میں توحید وجودی میں توقف پیدا ہوا لیکن یہ توقف تو حید وجودی والوں کے ساتھ حسن ظن کی بناء پر پیدا ہوا۔ ایک مدت تک اس بارے میں متوقف رہا(یعنی متامل رہا کہ آگے جانا ہے یا نہیں )آخر الا مرمعاملہ توحیدوجودی کے انکار تک پہنچا لیکن یہ انکار ارادی نہیں ہے اختیار تھا خود تو بندہ نہیں چاہتا تھا کہ اس مقام سے باہر آئے اس لیے کہ بہت سے مشائخ عظام اسی مقام میں اقامت پذیر تھے۔

بہرحال مقام ظلیت تک پہنچا اور محسوس ہوا کہ عالم تو ظل (سایہ ) ہے یہاں بھی اس امر کی آرزوپیدا ہوئی کہ کاش یہیں قیام رہے کیونکہ یہ درویش کمال وحدت الوجود میں پاتا تھا اور یہاں مقام ظلیت اس سے کچھ مناسبت رکھتا ہے اچانک کمال نوازش وعنایت اور بندہ نوازی سے اس مقام سے بھی اوپر لے گئے اور مقام عبدیت تک پہنچا دیا اس وقت اس مقام کا عروج کمال ظاہر ہوا اور اس کی بلندی واضح ہوئی اور گزشتہ مقامات سے تائب ہوا اور استغفار کیا۔ اگر درویش کو اس انداز سے نہ لے جاتے اور بعض مقامات کی بعض مقامات پر فوقیت نہ دکھاتے تو اس مقام عبدیت میں اپنا تنزل جانتا۔کیونکہ اس درویش کے نزدیک توحید وجودی سے بلند تر کوئی مقام نہ تھا لیکن اللہ ہی حق کو ثابت کرتا ہے اور راہ راست کی طرف ہدایت بخشتا ہے‘‘( ایضاً ص 383)۔

اس وقت ہمارا موضوع وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے فلسفے نہیں ہم صرف یہ دکھاناچاہتے ہیں کہ اقبال کی شیخ سرہندی سے عقیدت اس دور میں اس وجہ سے تھی کہ دونوں فلسفہ وحدت الو جود کے خلاف تھے شیخ سرہندی بھی جب ’’عبدیت‘‘ تک پہنچتے ہیں تو وحدت الوجود سے توبہ و استغفار کرتے ہیں اور ذہنی ارتقاء کے ابتدائی دور میں علامہ اقبال تو ابن عربی اور ان کے فلسفہ وحدت الوجود سے اس درجہ متنفر ہیں کہ کہہ دیتے ہیں’’ جہاں تک مجھے علم ہے فصوص(یعنی فصوص الحکم ازابن عربی) میں سوائے الحادو زندقہ کے اور کچھ نہیں‘‘(مکتوب اقبال 1916)۔

سنہ1932ء تک کے شواہد ملتے ہیں کہ اقبال وحدت الشہود کے قائل تھے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے
لوئی ماسنیوں ایک فرانسیسی متشرق تھے1913ء میں منصور حلاج پر انہوں نے تحقیقی کام کیا تھا اور منصور حلاج کی کتاب الطواسین‘‘ کے عربی متن کو ایک مدلل مقدمہ اور افادیت سے معمور حواشی کے ساتھ شائع کیا تھا۔ علامہ اقبال نے اسی سے متاثر ہو کر حلاج کے متعلق نظریات بدل لئے تھے اور لوئی ماسنیون سے خط وکتابت شروع کر دی تھی۔ علامہ اقبال تیسری گول منیر کانفرنس میں شرکت کے لیے یورپ گئے تو یکم نومبر1932کو پیرس میں لوئی سے ملاقات کی اس ملاقات کے متعلق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لوئی ماسنیون نے لکھا تھا۔

’’ اقبال سے کئی صدیاں پیشتر ہندوستان کے کچھ مسلمان مفکرین نے وحدت الوجود صوفیہ(دبستان ابن عربی) کے خلاف اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ وحدت الوجود کا نظر یہ فنائے اخروی کے متعلق ہندو تفکرات کی تمام کائنات ہے دبستان شہودیہ علی ہمدانی سے شروع ہو کر سرہندی اور شاہ ولی اللہ دہلوی تک ہے۔ اقبال نے پیرس میں میرے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات کا اقرار کیا تھا کہ وہ وحدت الوجود ی نہیں وحدت الشہود ی ہیں‘‘(بحوالہ مقالہ’’حکیم الامت علامہ اقبال فرانسیسی مستشرق ماسنیون کی نظرمیں از محمد اکرم چغتائی مطبوعہ نوائے وقت لاہور 4نومبر1982)۔

شیخ احمد سرہندی کے مزار پر علامہ اقبال اپنے کم عمر بچے جاوید اقبال کو ساتھ لے کر1934ء میں گئے۔ جاوید اقبال مزار پر حاضر ی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’
چودھری محمد حسین ،حکیم طاہر الدین، علی بخش اور راقم ان کے ساتھ تھے ان کے پرانے دوست غلام بھیک نیرنگ انبالے سے سرہند پہنچے اور اقبال کے ساتھ مزار پر حاضری دی راقم کو خوب یاد ہے کہ وہ ان کی انگلی پکڑے ہوئے مزار میں داخل ہوا گنبد کے تیرہ وتارمگر پر وقار ماحول نے اس پر ایک ہیبت سی طاری کر دی تھی۔ اقبال تربت کے قریب فرش پر بیٹھ گئے اور راقم کو بھی پاس بٹھا لیا پھر انہوں نے قرآن مجید کا ایک پارہ کھولا اور دیر تک تلاوت کرتے رہے۔ خاموش اور تاریک فضامیں ان کی رندھی ہوئی مدھم آواز گونج رہی تھی۔

راقم نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو امڈکر رخساروں پر ڈھلک آئے ہیں حضرت مجددالف ثانی کے مزار پر حاضری دینے کی وجہ تو یہ تھی کہ راقم کی پیدائش پر اقبال نے عہد کیا تھا کہ وہ اسے ساتھ لے کر بارگاہ میں حاضر ہو نگے۔ دوسری وجہ کے متعلق انھوں نے نذیر نیازی کو اپنے خط مؤرخہ29جون1934ء میں تحریر کیا چند روز ہوئے صبح کی نماز کے بعد میری آنکھ لگ گئی خواب میں کسی نے مندرجہ ذیل پیغام دیا’’ ہم نے جو خواب تمہارے اور شکیب ارسلان(شام کے معروف دروزی رہنما اتحاد ممالک اسلامیہ اور احیائے اسلام کے بہت بڑے داعی)کے متعلق دیکھا تھا وہ سرہند بھیج دیا ہے ہمیں یقین ہے کہ خداتعالیٰ تم پر بہت بڑا فضل کرنے والا ہے۔ پیغام دینے والے کے متعلق معلوم نہیں ہو سکا کہ کون ہے، اس خواب کی بناء پر وہاں کی حاضری ضروری ہے‘‘ (بحوالہ زندہ رود، حیات اقبال کا اختتامی دور ج 3ص258)۔

ان تصریحات سے وضاحت ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال شیخ سرہندی کے عقید تمند تھے اس عقید تمندی کا ایک سبب تو وہی ہے کہ شیخ سرہندی فلسفہ وحدت الشہود کے بانی تھے اور علامہ اقبال بھی اسی فلسفہ سے متاثر تھے(یہ الگ بحث ہے کہ بعد میں اقبال فلسفہ وحدت اوجود کے بھی قائل ہو گئے تھے) دوسری ایک وجہ علامہ اقبال نے بال جبریل کی اس نظم میں بیان کی ہے جس کے ایک شعر سے ہم نے یہ ساری بحث اٹھائی ہے اب ذرامرکزی خیال کے تین اشعار ملاحظہ کیجئے ارشاد ہوتا ہے

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر، وہ خاک کہ ہے زہر فلک مطلع انوار
اس خاک کے ذروں سے میں شرمندہ ستارے، اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے، جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار

اس میں اقبال نے اپنے ممدوح کاوہ وصف خاص بھی بیان کر دیا ہے جس کے باعث اقبال کو اس سے عقیدت ہے اور وہ وصف خاص ہے’’عمر گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے‘‘ یعنی شیخ سرہندی نے بادشاہ وقت نور الدین محمد جہانگیر کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا اور اس کی حاکمیت کو للکار دیا۔ بلاشبہ یہ وصف خاص اگر اعلائے کلمہ حق کے لئے ہو تو عقیدت انگیز ہے اور اقبال نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے مگر افسوس ہے کہ تاریخ اقبال کی تصدیق وتائید نہیں کرتی۔

حضرت شیخ احمد سرہندی بڑے علم وفضل کے مالک تھے اور عبادات ومجاہدات میں بھی بے مثال تھے۔ تجدیدواحیائے شریعت میں کوشاں رہے دوسرے صوفیاء کی طرح انہوں نے بڑے بڑے دعوے بھی کئے ایک جگہ فرماتے ہیں۔

میں اللہ تعالیٰ کا مرید بھی ہوں اور اس کا مراد بھی ،میری ارادت کا سلسلہ بالو اسطہ اللہ تعالیٰ سے متصل ہے اور میرا ہاتھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا قائم مقام ہے‘‘ (مکتوبات امام ربانی ج3ص1500)یہ اور اس طرح کی کئی دعویٰ آمیز باتیں انہوں نے کیں لیکن سب سے زیادہ متنازعہ ان کا ایک روحانی تجربہ بن گیا جس میں انہوں نے اپنے مدارج کے بلند سے بلند تر ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ حضرت صدیق اکبر کے مقام سے بھی بلند ہو گئے۔

اس بیان کے آخری الفاظ یہ ہیں’’حضرت صدیق اکبر کے مقام کے بالکل مقابل ایک اور مقام ظاہر ہوا جو نہایت ہی نورانی تھا ایسا نورانی مقام کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا اور یہ مقام حضرت صدیق اکبر کے مقام سے کچھ بلند تھا جس طرح چبوترے کو زمین سے کچھ بلند بناتے ہیں معلوم ہوا کہ وہ مقام ، مقام محبوبیت ہے اور یہ مقام رنگین ومنقش تھا میں نے اس کے پرتو سے اپنے آپ کو بھی رنگین ومنقش پایا‘‘(مکتوبات امام ربانی ج اص63)۔

علماء کو شیخ سرہندی کی یہ تعلی بہت ناگوار گزری، ان کے اسی قسم کے دعوے تھے جن پر شیخ عبد الحق محدث دہلوی کو بھی شدید اختلاف تھا انہوں نے شیخ سرہندی کے دعووں کی تردید میں چند رسالے بھی لکھے(تذکرہ اولیائے کرام ص32) مشہور کتاب’’خز ینتہ الاصفیاء‘‘ میں ہے کہ بعض علماء نے ان کے قتل کا فتویٰ بھی صادر کر دیا۔خاص طور پر شیخ کے اُسی روحانی واردہ کو نشانہ تنقید بنایا گیا جس میں انہوں نے حضرت صدیق اکبر سے بلند مرتبہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کی مخالفت کا طوفان اس قدر زور پکڑ گیا کہ شہنشاہ جہانگیر کو مداخلت کرنا پڑی۔1619ء میں جب شیخ کی عمر 55سال تھی یہ طوفان اٹھا تو انہیں دربار شاہی میں طلب کیا گیا۔ یہ واقعہ خود جہانگیر نے اپنی تزک میں بیان کیا ہے وہ لکھتا ہے

’’ انہی ایام میں معلوم ہوا کہ سرہند میں ایک شخص احمد نے مکروفریب کا جال بچھا کر سادہ لوح انسانوں کو ورغلانا شروع کر رکھا ہے اس نے ہر شہر اور ہر علاقے میں ایک خلیفہ مقرر کیا ہوا ہے جو لوگوں کو طرح طرح کے فریب میں پھانس رہے ہیں اس نے اپنے مریدوں اور معتقدوں کو جو بیہودہ مکتوب لکھے ہیں انہیں ایک کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے ان وجوہات کی بناء پر میں نے اُسے دربار میں طلب کیا اور اس کی اصلاح کے لئے اسے رائے سنگھ ولن کے حوالے کر دیا کہ اُسے قلعہ گوالیار میں قید کر دے‘‘(تزک جہانگیری اردو ترجمہ ازاحمد علی رامپوری ص360)۔

شیخ سرہندی کے عقید تمندوں نے اس واقعہ کے بعد شیخ کی رہائی کے سلسلہ میں اپنی عقیدتوں کی خوب خوب رنگ آمیزی کی ہے اور یہ تک کہہ دیا ہے کہ جہانگیرنے معافی مانگی تھی اور خود بھی شیخ کا مرید ہو گیا اور اپنے فرزند شہزادہ خرم کو بھی مرید کرایا مگر یہ سب کچھ عقید تمندی کا شاخسانہ ہے واقعاتی تاریخ سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی ۔اگلے برس شیخ کی رہائی کا واقعہ بھی جہانگیر نے اپنی تزک میں لکھا ہے وہ کہتا ہے

’’ میں نے شیخ احمد سرہندی کو جسے بیہودہ گوئی کے سلسلہ میں کچھ عرصہ سے قید کر رکھا تھا طلب کر کے آزاد کر دیا اور خلعت اور ایک ہزار روپے عنایت کر کے اسے اجازت دے دی کہ خواہ وہ واپس سرہند چلا جائے یا میرے حضور میں رہے یعنی سرکاری ملازمت اختیار کر لے(تزک جہانگیری ص392)۔

آپ خود ہی دیکھ لیجئے کہ اس ساری تفصیل میں گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے‘‘ والی بات کہیں نہیں آتی اقبال نے اپنی محولہ نظم اس تناظر میں لکھی کی کہ پنجاب کے پیرزادے حکومت کی خدمت کو اعزاز سمجھتے ہیں اور فقر کی ٹوپی کی جگہ طرہ باندھتے ہیں مگر شیخ سرہندی ایسے نہیں تھے وہ شیخ سرہندی کی زبان سے کہلواتا ہے۔

عارف کا ٹھکانہ نہیں وہ خطہ کہ جس میں، پیدا کلہِ فقر سے ہو طرہ دستار، باقی کلہِ فقر سے تھا ولولہۂ حق، طروں نے چڑھا یا نشہ خدمت سرکار
مگر شاید اقبال کو معلوم نہ ہو سکا کہ جب جہانگیر نے شیخ سر ہندی کو واپس سرہند جانے یا ملازمت میں رہنے کے موقع دئیے تو وہ واپس نہ گئے دربار ہی میں رہے بعض مورخ کہتے ہیں جہانگیر نے خود انہیں آخری وقت تک دربار میں زیر نگرانی رکھا تھا
(حیات مجدداز پروفیسر محمد فرمان ص35)۔

خود اپنی مرضی سے رہے ہوں یا جہانگیر نے انہیں روک لیا ہو دونوں صورتوں میں حقیقت تو برقرار رہتی ہے کہ وہ خدمت سرکار میں رہے اور وہ جو اقبال نے کہا گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے‘‘ وہ بات کہیں نہیں آئی۔
**
(
جاری ہے)

2 Comments

  1. محمّد عثمان ابراہیم بٹ says:

    اس میں سوائے افسانہ نگاری کے حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں اور یہ بلکل من گھڑت کہانی اور جھوٹ کا پلندہ ہے

  2. شیخ سے اتنی نفرت کیوں ،طاقت قلم کے زور پر تاریخ کو مسخ نہ کیجئے ۔رہے آپ کے اشکالات سو ان کا جواب کئی بار دیا جاچکا ہے اگر حق کے متلاشی ہوں تو ان کا مطالعہ کرلیجے ۔بہتر ہے کہ بدگمانیوں سے بچا جائے اور اپنا جائزہ لیا جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *