کیا غریب بھی انسان ہوتے ہیں؟

سبط حسن

11836685_10152933181971426_1718449981900993731_n

معاشرے میں جنگل کے قانون کی کہانی
جب کوئی مر جائے تو پرسہ دینے والے دل ہی دل میں اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ وہ نہیں مرے اور کوئی اور مر گیا۔ اس اطمینان کا اظہار تعزیت کی صورت میں کیا جا تا ہے اور مرنے والے کی باتیں کی جا تی ہیں۔ ان تمام باتوں کے پیچھے کارفرما مقصد مرنے والے کی تعریف کرنے سے زیادہ یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ مر گیا اور ہم زندہ ہیں۔تعزیت کا معاملہ رسمیت سے بھی ادنیٰ محسوس ہوتا ہے بلکہ اسے خیرات کا درجہ دیا جائے تو بات کھل سکتی ہے۔

روپے پیسے یا چیزوں کی خیرات دینے کے عمل میں دوسرے کی مشکل کشائی کرنے سے زیادہ یہ احساس اہم ہوتا کہ ’میں اس قابل ہوں کہ میں دوسرے کو کچھ دے سکتا ہو‘۔یہ گھٹیا سماجی تفاخر  کے خیالات سے منسلک رویہ ہے یا یہ کہ آپ چھن جانے کے خوف کے تحت دوسروں کو کچھ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس نیکی سے آپ کی دولت بچ جائیگی۔گھٹیا اس لیے کہ دوسروں بالخصوص غریبوں کو اگر وسیع تر انسانی برادری کا حصہ مان لیا جائے تو آپ ضرورت مند کو جو کچھ دے رہے ہیں وہ خیرات نہیں، اس کا حق اور آپ کا فرض ہے۔

میت پر تعزیت کی خیرات کا مقصد پس ماندگان کو طاقت دینے سے قطع نظر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ زندہ ہیں۔ دوسری طرف میت کی موجودگی میں موت کا آسیب زندہ بچ جانے والوں کو پریشان رکھتا ہے اور اس آسیب سے چھٹکارا پانے کے لیے میت کو دفنانے کا کام جلد از جلد کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اپنے آپ کو امیر سمجھنے والے غریبوں کو بالکل اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح زندہ رہ جانے والا مرے ہوئے کے بارے میں سوچتا ہے۔ امیر، غریب کو خیرات دیتا ہے تو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ’دینے کی اہلیت‘ رکھتا ہے۔چونکہ خیرات میں ترس کھانے کا عنصر ہوتا ہے اس لیے اس سے غریب کی مفلسی چنداں واضح ہو جاتی ہے ۔ جس طرح زندہ رہ جانے والے میت اور موت کے آسیب سے ڈرتے ہیں اسی طرح غریب کی موجودگی بھی امیروں کی کھلتی ہے اور وہ اپنے رکھ رکھاؤ میں نہ صرف اس سے دور رہتے ہیں بلکہ اس سے جلد از جلد چھٹکارا پانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں قدیم معاشرے سے ہی غریبوں کو الگ ذاتیں سمجھا جاتا رہا ہے اور ان کے ساتھ نفرت آمیز سلوک روا رکھا گیا جو شاید ناپاک سمجھے جانے والے جانوروں(حالانکہ جانور تو معصوم ہوتے ہیں) سے کیا جاتا تھا۔ یہ قدیم معاشرے کی بات ہی نہیں، یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے، صرف سلوک کی شکلیں اور طریقے بدل گئے ہیں۔

II

اب تک سنور نے والی تہذیب کی بنیاد اور اظہار لازمی طور پر مادی اشیا پر ہے۔ انسانی تعلقات اور رویے بدستور تحکم اور طاقت کے استعمال پر مبنی ہیں۔ انسانی رویے تجریدی ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا اظہار ہوا میں ہوتا ہے۔انسانی رویوں اور تعلقات کا اظہار مختلف رویوں، کام، زبان ، حرکات وسکنات اور چیزوں کے تبادلے کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ تحکمانہ نظام معاشرت میں رویے، کام، زبان اور حرکات و سکنات میں دوسروں کو چھوٹاثابت کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اسی طرح چیزیں بھی ادنیٰ یا اعلیٰ ہونے کا بنیادی معیار بن جاتی ہیں۔

ایک امیر شخص کے روپیہ پیسہ کمانے کی ہوس کے پیچھے اس میں موجزن’چھن جانے‘ کا خوف ہوتا ہے۔ اسی خوف کے باعث اس میں کثرت کی خواہش جنم لیتی ہے اور وہ اس خواہش کا غلام ہو کر اپنی آزادی اور زندگی کے لطف سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ چیزیں آسانی کی بجائے آزاربن جاتی ہیں۔چیزوں کی اسیری میں وہ دوسرے انسانوں کو بھی ان کے انسانی مقام سے قطع نظر ان کی افادیت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

اس طرح اس کے اردگرد انسان تو ہوتے ہیں مگر ان سے تعلق میں انسانی جذبے اور گرمی نہیں ہو تی۔ یہ سب مصنوعی اور غیر فطری ماحول ہوتا ہے اور جب وہ ذرا سا بھی کمزور پڑ جائے تو یہی صورتحال اسے کھا جاتی ہے۔ اس طرح کثرت کی خواہش دراصل اس کی بے لذت زندگی اور آخرکار خودکشی کا باعث بنتی ہے۔

دوسری طرف اسی نظام میں غریبوں کو خام مال کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر غریبوں کو انسان تسلیم کر لیا جائے تو انھیں اپنی قابلیتوں کی نشو و نما کے لیے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے غریبوں کو انسان تسلیم کر لینے کے واضح اظہار کے باعث غریبوں میں ازخود احساس اور طاقت آجائے اور وہ اپنی قابلیتوں کو بڑھانے کے لیے ضروری مراعات کا تقاضا کرنے لگیں۔ مگر آج تک ان دونوں صورتوں کا واضح اظہار نہیں ہو سکا۔ امیر لوگ، انفرادی سطح پر اور حکومت اجتماعی سطح پر غریبوں کے لیے جو کچھ بھی کرے، اس میں خیرات کا لہجہ واضح ہو تا ہے۔

خیرات دینے کے عمل میں یہ باتیں ثابت کی جاتی ہیں کہ غریبوں کو جو کچھ دیا جا رہا ہے وہ ان کا حق نہیں۔ دینے والا اپنا معاشی تحکم اور احساس تفاخر غریبوں پر تھوپتا ہے بلکہ غریبوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس کے سامنے فر ما نبرداری اور نیازمندی ظاہر کرتے رہیں۔ تیسری اور سب سے خطرناک بات جو غریبوں کو نسل در غریب رکھتی ہے ،وہ ان میں محتاجی کا شعور پیدا کرنا ہے۔ یہ محتاجی محض مادی ہی نہیں ہوتی۔ یہ ایک مزاج پیدا کرتی ہے اور اس کے آتے ہی انسان ہونے کا جوہر یعنی اپنی زندگی خود اپنے فیصلوں کے مطابق گزارنے کی اہلیت غائب ہو جاتی ہے۔ خیرات پر پلنے والے لوگ کبھی نہیں سوچتے کہ وہ خود محنت کر کے اپنے زندگیاں بدل سکتے ہیں۔ یہ طرز زندگی انھیں جانوروں کی سطح پر کھڑا کر دیتا ہے۔

کسی بھی ریاست میں غربت کے ہونے کی بنیادی وجہ وہاں بسنے والوں کے لیے اقتصادی،تعلیمی اور معاشرتی مواقعوں کی غیر منصفانہ فراہمی ہے۔ جب مواقع میسر ہوں تو کوئی بھی فرد اپنی صلاحیوں کو بہتر سے بہترین بنا سکتا ہے۔ وہ محض معاشی طور پر خود مختار ہی نہیں ہوتا وہ اپنے آپ کو دریافت کرتا ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناطے اس کی ذہنی، نفسیاتی، جذباتی اور فکری نمو ہو تی ہے ، داخلی نمو   اور اس کا احساس دنیا میں کیے جانے والے کسی بھی بڑے کارنامے، دریافت، انکشاف اور الہام سے بڑا ہوتا ہے۔ کسی بھی بڑے سائنس دان، شاعر، موسیقار، روحانی پیشوا یا انقلابی کے بننے میں سب سے بڑا اور بنیادی کردار داخلی نمو کا یہی احساس ہوتا ہے۔

غربت، محتاجی، ذلت ہی نہیں لاتی، یہ انسان سے اس کا انسا ن ہونے کا بنیادی حق بھی چھین لیتی ہے۔ بنیادی اور اعلیٰ ترین حق یہ نہیں کہ روپیہ پیسہ جمع کر لیا جائے بلکہ یہ ہے کہ کسی کی بھی ذات کی داخلی نمو ہو۔ اس کی لذت، دنیا کی کسی بھی لذت سے زیادہ نشہ آور ہے۔

III

انسانی تاریخ میں پیار کرنے والوں، ذہنی مریضوں، مجرموں، سماجی و فکری انقلاب پسندوں اور غریبوں کو کبھی بھی قبول نہیں کیا گیا۔ یہ سب یا تومعاشرے کی اجتماعی غلطیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا خاموش اظہار ہوتے ہیں یا پھر ان بیماریوں اور ان کے خاتمے کا کھلے عام اعلان کرتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں ان کا ہونا ، سکون پسندی کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔ پیار کرنے والے اپنے جذباتی فشار کے باعث بے لگام ہو جاتے ہیں او رمرد عورت کے مروجہ تعلق و اداروں کو جنجھوڑتے ہیں۔

ذہنی مریض اور مجرم ، معاشرے میں موجود سماجی گھٹن، بے انصافی اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی منافقت کا پردہ فاش کرتے ہیں۔ مگر اس عمل میں وہ اپنی جان پر گزر جاتے ہیں۔ سماجی اور فکری انقلابی، کام تو ذہنی مریضوں اور مجرموں والا کرتے ہیں مگر وہ اپنی جان پر کھیلنے کے ساتھ ساتھ ریاست اور معاشرے کے گرز ماروں سے بھی ٹکر لیتے ہیں۔ ذہنی مریضوں اور مجرموں کو معاشرتی نفرت اور عدم قبولیت کے لبادے میں چپ چاپ مرنے دیا جاتا ہے جبکہ انقلابی اس درد کو سب کا درد بنانے کا جتن کرتے ہیں۔ غریب بھی معاشرے میں موجود اقتصادی نا ہمواری، یکساں مواقع کی عدم د ستیابی اور غیر انسانی رویوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

ذہنی مریضوں ، مجرموں ، سماجی اور فکری انقلابیوں کی الگ دنیا ہوتی ہے اور وہ بالترتیب پاگل خانوں، جیلوں اور زیر زمین گوشوں میں رہتے ہیں۔ اسی طرح غریبوں کی بھی الگ دنیا ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ غریب، جیسے بھی ہوں، انسان ہی ہوتے ہیں، وہ اپنی الگ دنیا میں بھی ایک معاشرت سنوارتے ہیں۔ اس معاشرت کا رہن سہن اور طرز فکر اگرچہ عام وسیع تر معاشرت کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے مگر یہ اس سے قطعی طور پر مختلف ہوتی ہے۔ اس کے اہم پہلوؤں میں نمایاں ذلت کو برداشت کرنے کی خصوصی اہلیت ہے۔

ہوتا یوں ہے کہ غریبوں کے بچے، بچپن سے ہی اس ذلت کا تجربہ کرتے ہیں بلکہ ان کے سامنے ان کے والدین کی ذلت اور ان کا خاموش رہنا ان کے لیے نمونہ بن جاتا ہے ۔ وہ آہستہ آہستہ اس کو معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی طرح جس طرح امیروں کے بچے، اپنے والدین کو کمزوروں پر اونچا بولتے سنتے ہیں اور وہ کم عمری سے ہی گھر کے بزر گ نوکروں پر حکم چلانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ غریبوں کو ان کی محرومیوں کا احساس نہیں ہوتا۔ اکثر ضرورتوں کے پورا نہ ہونے اور ا نھیں ترجیحات میں ترتیب دیتے ان کی عمر گزر جاتی ہے۔

مگر واضح رہے کہ ترجیحات کی ادنیٰ سے اعلیٰ ترتیب میں وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ادنیٰ ضرورتوں سے اوپر لے جا ہی نہیں پاتے۔ ایسے میں وہ ایک یقین پر اپنا دل ٹھنڈ اکر لیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ان کی قسمت ہی ایسی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی قسمت کے لکھے سے لڑ پڑے تو وہ ذہنی مریض ہو جاتا ہے یا پھر مجرم۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ بے انصاف معاشروں میں ڈاکوؤں کو ہمیشہ انقلابی کے طور پر پوجا گیا ہے۔ غریب انھیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔

پنجاب اور سندھ میں صدیوں سے ایسے ڈاکوؤں کی داستانیں ذوق و شوق سے لکھی اور سنائی گئیں اور اس سے غریبوں کے دل کا بوجھ کم تو ہوا،حالات نہیں بدلے۔ قسمت پر یقین سے دکھوں کی تکلیف کا احساس کم ہو جاتا ہے اور ان کا چہرہ دھندلا سا ہو جاتا ہے۔ تکلیف اپنی جگہ پر بر قرار رہتی ہے۔ غیر منصفانہ معاشروں میں قسمت پر یقین اور غربت میں صبر کرنے کو نیکی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اپنی ضرور ت سے زیادہ پر تصرف کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاتا۔

غربیوں کے پاس مال اور دولت ہوتی ہے اور نہ ہی سماجی اثر کہ وہ مشکل اوقات میں ان کو استعمال کر کے گلو خلاصی کر لیں۔ سماجی تعلق اور برادری سے قریبی بندھن، مال و دولت اور سماجی اثر کے متبادل کا کام کرتے ہیں ۔ برادریوں میں خواہ جتنی بھی رسہ کشی ہو، دکھ سکھ میں سب ایک ہو اجاتے ہیں۔ شادی اور غم ہر دومواقع پر کسی کی بھی غیر حاضری برداشت نہیں کی جاتی۔ اگر کوئی ناراض ہو تو اسے منایا جاتا ہے۔ معاشی بدحالی دور کرنے کے لیے، کوئی بھی غریب برادری میں فوتیدگی، بیماری اور شادی پر حسب توفیق دوسروں کو روپے یا مال ڈنگر دیتا ہے۔ یہ ایک طرح سے روپیہ یا مال ڈنگر محفوظ کرنے کا ایک طریقہ ہے جو اس کی ضرورت کے وقت برادری کے لوگ اسے لوٹا دیتے ہیں۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ قسمت پر یقین، برادریوں پر بھروسے کا نظام اور بیماریوں میں روپے پیسے کی کمی کے باعث حکیموں یا ٹوٹکوں سے علاج بظاہر کسی قدر دقیا نوسی اور پسماندہ لگتا ہے، یہ روایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک غربت رہے گی۔ انسانوں کی حالت بدلے تو ان سے منسلک فکری اور معاشرتی نظام خود بخود بدل جاتے ہیں۔

IV

انسانوں کی اقتصادی تذلیل اس وقت سے شروع ہو گئی جب طاقتوروں نے زمینوں پر باڑیں لگا کر انھیں اپنی ملکیت قرار دے دیا ۔ مرد اور عورتوں کے جسمانی و نفسیاتی حبس کی ابتدا کنبے کے وجود میں آتے ہی ہو گئی۔ ریاست کے بنتے ہی اقلیت نے اپنی طاقت اور چالاکی کی بنا پر اکثریت کو اپنا غلام بنا لیا۔غلامی کی یہ روایت ہزاروں برس سے جاری ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سکھ دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ اکثریت میں اپنا حق مانگے کی ہمت ہی نہ آئی اورا قلیت اپنی کو تاہ نظری اور وقتی مفادات کے تحت اس نظام کو آگے بڑھاتی گئی۔

مگر معروضی حقیقت یہ ہے کہ غلامی کی اس کہانی میں غریب تو برباد ہوئے، ساتھ ہی امیروں کا ٹولہ بھی غیر انسانی سلوک روا رکھنے کی وجہ سے نفسیاتی طور پر غیر انسانی سطح پر آگیا۔ واضح رہے کہ ظلم یا زیادتی کی صورتحال میں مظلوم تو خارجی اعتبار سے غیر انسانی سلوک کا شکار ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی ظالم بھی تو غیر انسانی سلوک روا رکھنے کے باعث ، اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔ مظلوم خارجی اعتبار سے غیر انسانی سلوک کا شکار تو ہوتا ہے مگر داخلی طور پر خالصتاً انسانی رویے اور احساس ہی اسے دلاسہ دیتے ہیں اور زخموں کی رفو گری کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دکھ اور نفسیاتی زخموں کا علاج صرف اور صرف انسانی ہمدردی کے رویوں سے ممکن ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے مظلوم اپنی انسانیت کسی نہ کسی طور بچا لیتا ہے۔ دوسری طرف ظالم انسانوں کو دکھ دے کر اپنے آپ کو ایک غیر انسانی صورتحال کے سپرد کر دیتا ہے۔

ظالم کے مظالم اور اس کے نتیجے میں اس کے غیر انسانی سطح پر آنے کے ’دکھ‘ کے مراولے کے لیے انسانی دلاسے سے اور ہمدردی نہیں کی جا سکتی۔ ظالم کی ذات کی شناخت اس کے رویے بن جاتے ہیں۔ آخر ذات رویوں کا ہی دوسرا نام ہے ۔ یہی رویے اس کی معاشرتی شناخت بنتے ہیں۔ یعنی یہ کہ وہ جو کچھ کر رہا ہوتا ہے اسے وہ درست مانتا ہے ۔خواہ اجتماعی سطح پر یہ رویے اچھے نہ بھی ہوں ، دوسرے لوگ کم از کم اس کی ذات کے حوالے سے ان منفی رویوں کو درست تسلیم کر لیتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص الیکشن جیتنے کے لیے اپنے حریف کو مروا دے تو بالفاظ دیگر وہ یہ مان لیتا ہے کہ کوئی دوسرا بھی اسی صورتحال میں الیکشن جیتنے کے لیے اسے قتل کروا سکتا ہے۔ یعنی یہ کہ ایک غلط قدم یکطرفہ نہیں ہوتا، اسے آخرکار لوٹ کر آنا ہی ہوتا ہے۔ اس کی ایک اور مثال سے وضاحت کر تے ہیں۔ شمالی علاقوں میں ایندھن کی کمی ہوتی ہے۔ صدیوں سے ایندھن کے لیے لکڑی وہاں کے جنگلات سے حاصل کی جاتی رہی مگر جنگلات کو کچھ نہ ہوا۔

پندرہ ، بیس برس پہلے وہاں کے بااثر لوگوں نے درخت کاٹ کر بیچنا شروع کیے اور انھی پیسوں سے وہاں بڑے بڑے ہوٹل بنا لیے۔ سرکاری ملازموں سے مل جل کر ایسی تباہی آئی کہ اب اکثر پہاڑ بالکل ننگے ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اب اوسط درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ بارش اوربرف باری کم ہو گئی۔ قدرتی حسن میں کمی اور موسمی تبدیلی کے باعث اب ان علاقوں میں سیا ح بہت کم آتے ہیں۔ اب ہوٹلوں کے چلنے کا معاملہ تو ٹھپ ہو گیا اور لاکھوں کی سر مایہ کاری دھری کی دھری رہ گئی۔ اب خان اور ملک ، کیا اینٹوں کو چاٹیں۔

امیر یا غریب ہونے کا تعین اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی فرد کس کے گھر پیدا ہوا۔ اگر امیر کے گھر پیدا ہو گئے تو وارے نیارے ورنہ ٹھوکریں ہی ٹھوکریں۔ ذرا ہمدردی سے غور کریں تو یہ سب جنگل کا قانون لگتا ہے۔ آخر معاشرے اور ریاست کا کام کیا ہے؟ کیا جنگل کے قانون کو طاقت کے ساتھ تحفظ دینا ۔ کیا زندگی کے ڈرامے اور اقتصادی صورتحال میں غریبوں کا کردار محض ایندھن کے برابر ہے؟

کچھ بھی ہو، یہ طے ہے کہ معاشرے کے تمام طبقوں کی کوششوں سے نظام زندگی چلتا ہے۔ جب آپ کی کل آبادی میں 80فیصد سے زیادہ لوگ مفلسی اور عدم مساوات کا شکار ہوں تو کیا اس سے نظام موثر رہے گا۔ کیا حکومتی طبقے کے لیے یہ صورتحال قابل قبول وہ گی۔ واضح رہے کہ حکومتی طبقے کے سب لوگ بھاگ کر دوسرے ملکوں میں پنا ہیں حاصل نہیں کر سکتے۔ صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ اپنے ملکوں کی منڈیوں پر انحصار کو اپنی بنیاد بنائیں۔

دور اندیشی اسی میں ہے کہ کوتا ہ نظری پر مبنی خود غرضی کو چھوڑ کر غریبوں کو زندگی کے عمل میں شامل ہونے دیں، انھیں مواقع دیں۔ اچھے انسان پیدا ہونگے، تو اچھا معاشرہ پیدا ہو گا۔ سب خوشحال ہوں گے تو انسانیت پھلے گی۔

سبط حسن، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں ماہر مضمون تاریخ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *