کیا یہ خدا کی مرضی ہے


saeed
سعید اختر ابراہیم

سوال تو بہت سے ہیں ۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ اسی کے نام پر بنائے جانے کے دعویٰ کے باوجود اس ملک کے عوام زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہیں، اگر بیمار ہوں تو انہیں منہ مانگی فیس مانگنے والے ڈاکٹروں اور مہنگی دواؤں کے خوف سے کمپاؤنڈروں، عطائیوں اور بہروپئے قسم کے پیروں کی طرف بھاگنا پڑے۔(شائد غریب لوگ اسی لئے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں کہ ان میں سے دوچار توحالات کی بے رحم مار کے باوجود بچ ہی جائیں گے)۔

کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ جہالت سے جان چھڑانے کیلئے انکا دھیان علم کی اہمیت کی طرف نہ جائے اور اگر کسی وجہ سے سے چلا بھی جائے تو ان کے بچوں کو ایسے سکول نصیب ہوں جہاں علم دینے والے خود علم کے مفہوم سے بے بہرہ ہوں اور بچوں کو سکولوں کی طرف بلانے کی بجائے بھگانے میں ماہر ہوں۔کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ اس ملک کے اسی فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی نصیب نہ ہو۔کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ کہ عدالتوں میں انصاف دینے کے ذمہ دار جج خدا کے نام کا حلف اٹھانے کے باوجود ہر کس و ناکس سے فیصلوں کی قیمت طلب کریں۔کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ جاگیرداروں کی ہر نئی نسل حکمرانوں کے پہلو میں بیٹھی ہو۔کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ اس ملک کے سرکاری ملازموں کو بائیس درجوں (گریڈز ) میں تقسیم کیا جائے۔

کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ اس ملک کے وزیروں، مشیروں اور سفیروں کو ہر ماہ لاکھوں کی مراعات اور کروڑوں کی کمائی کے مواقع نصیب ہوں۔ کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ اس ملک کے بینک صرف سرمایہ داروں کو کروڑوں کے قرضے دیں اور اگر وہ یہ قرضے واپس نہ کرنا چاہیں تو کوئی انکا کچھ نہ بگاڑ سکے۔کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والی شریف مگر غریب خواتین اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کیلئے اپنی عزت نیلام کرنے پر مجبور ہوجائیں۔کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ یہاں لوگوں کو نمبر دو دوائیں اور ملاوٹ شدہ اشیائے خوردنی اور وہ بھی کسی کنٹرول کے بغیر داموں پر خریدنی پڑیں۔

کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ جب طوفانی بارشیں ہوں تو صرف غریبوں کے کچے گھر تباہ ہوں اور امیروں کی کوٹھیاں انکے تمام گناہوں کے باوجود خدا کا تمسخر اڑاتی رہیں۔ کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ بھوک اور بیماری سے ایڑیاں رگڑتے غریبوں کی آہیں، کراہیں اور دعائیں بد دعائیں آسمان تک جانے کی بجائے بدروحوں کی طرح انکے گرد ہی منڈلاتی رہیں۔کیا یہ خدا کی مرضی ہے کہ جو شخص بھی فوج کا سربراہ ہو وہ اسلحہ کے زور پرجب چاہے اس ملک کا حکمران بن بیٹھے۔

سوال تو بے شمار ہیں اور ہر قاری اپنے اذیت ناک تجربات کے حوالے سے اس فہرست میں جس قدر چاہے اضافہ کرسکتا ہے مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ تنقیدی غوروفکر سے محروم ہماری روائتی قسم کی مذہبی سوچ ان سوالوں کے اصل جواب ڈھونڈنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ہمارا ایمان یہ ہے کہ خدا قادرِ مطلق اور عادل و منصف ہے تو کیا ان حالات میں ہم یہ کہیں کہ ہمارا معاشرہ ایک بے خدا معاشرہ ہے جہاں صرف اور صرف شیطان کی حکمرانی ہے مگر جب ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا کی مرضی کے بغیر پتا تک نہیں ہل سکتا تو پھر کیا اسکا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ شیطان کی حکمرانی بھی اصل میں خدا کی مرضی کا ہی شاخسانہ ہے۔

ہمارے بارے میں پوری مغربی دنیا کا یہ گمان ہے کہ ہم شدت پسند مذہبی لوگ ہیں جو پوری دنیا پر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق’ اپنے خدا‘ کے احکامات نافذ کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کس طرح کے خدا کے پیرو کار ہیں کہ جس کا ہمیں قطعاََ کوئی خوف نہیں ہے ۔ رمضان میں ہر کسی کی زبان پر اٹھتے بیٹھتے خدا کا نام ہوتا ہے مگر کسی سے رشوت یا بھتہ لیتے وقت، ملاوٹ کرتے وقت، کھانے پینے کی اشیاء مہنگے داموں بیچتے وقت اور اپنے چھوٹے سے چھوٹے اور گھٹیا سے گھٹیا مفاد کیلئے جھوٹ بولتے وقت کسی کے دل میں ایک لمحاتی لرزش بھی پیدا نہیں ہوتی۔ہم عجیب خدا کے ماننے والے ہیں کہ مسجد میں نماز پڑھتے وقت ہمارا دھیان خدا سے کہیں زیادہ اپنی جوتیوں میں اٹکا ہوتا ہے جن کا ہمیں اپنے ہی کسی بھائی بند کے ہاتھوں چوری کا خدشہ ہوتا ہے۔

ہمارے عوام کی اکثریت کا یہ ایمان ہے کہ رمضان المبارک میں شیطان کو قید کردیا جاتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس مہینے میں شیطان کھلے عام انسانی شکل میں دندناتا پھرتا ہے اور سرِعام فیکٹری مالکان اور دوکانداروں کا روپ دھار کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور خداپرستی کے دعویداروں کے اس ملک میں ایک بھی شخص شیطان کو لگام ڈالنے کی ہمت نہیں رکھتا۔

سوال یہ کہ ہم جسے شیطان مانتے ہیں وہ کہیں مولویوں کی بنائی ہوئی کوئی کہانی تو نہیں ہے تاکہ ہمارا دھیان معاشرے میں موجود انسان نما اصل شیطانوں کی طرف سے ہٹایا جائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لوٹنے اور لٹنے والے دونوں ہی اس زمین پر بستے ہیں مگر ہم انکی سزا کیلئے ہمہ وقت آسمان کی جانب دیکھتے رہتے ہیں اور آسمان کو ہمیشہ کیطرح خاموش۔ نہ وہاں سے غریبوں کیلئے من و سلویٰ اترتا ہے اور نہ ہی ظالموں کیلئے سزا۔

ہم نے اپنے تئیں مغرب کو بے خدا معاشرہ ڈکلیئر کردیا ہوا ہے مگر ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ وہاں قانون کی حکمرانی کیوں ہے؟ وہاں عام آدمی کو بھوک اور بیماری سے مرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ وہاں تاجر کرسمس پر اشیاء مہنگی بیچنے کی بجائے سستی کیوں کردیتے ہیں؟

ہمارے خیال میں تو نہ ہی انکے پاس مذہب ہے اور نہ ہی خدا (ہمارے ہاں سیکولر ہونے کا مطلب یہی لیا جاتا ہے) سوہمارے حساب سے تو وہاں سرے سے کوئی اخلاقیات ہونی ہی نہیں چاہئیں، لیکن ہمارے اکثر لال بجھکڑ اس کا جوجواب دیتے ہیں وہ ایک جھوٹی نفسیاتی تسلی سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب نے یہ تمام اچھے اصول مسلمانوں سے چرائے ہیں۔حالانکہ اصول سیکھنے کی چیز ہوتے ہیں نہ کہ چرانے کی۔

یہ بات صاف ہے کہ یورپ میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا تحفظ کوئی بہت پرانی بات نہیں ہے جبکہ مسلم معاشرہ معتزلہ کے زیرِ اثر پنپنے والے ایک مختصر سے عقلی وقفے کے سوا مسلسل زوال پذیر ہے۔ سو یہ دعویٰ سرے سے ہی لغو ہے کہ مغرب نے اخلاقی ضابطوں کی بنیاد ہمارے اصولوں پر رکھی۔ بفرضِ محال اگر ایسا ہے بھی تو پھر ہم مغرب سے الرجک کیوں ہیں۔ ہمیں تو الٹا مغرب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسکی قیادت کو قبول کرنا چاہئے۔ کیا مغرب کے خلاف ہمارا غصہ محض اس وجہ سے ہے کہ ان اصولوں پرہماری اجارہ داری کیوں نہیں ہے تو یہ بات بذات خود جاہلانہ، متعصبانہ اور غیر انسانی ہے۔

حقیقی بات تو یہ ہے کہ ہم مغرب کی ترقی کا راز جاننے کیلئے سنجیدہ ہی نہیں ہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم جاننے کے راستے پر چل پڑے تو جہالت کی گیس سے بھرا ہماری جھوٹی انا کا غبارہ کسی چیتھڑے کی صورت زمین پر پڑا ہوگا۔

اس وقت پوری دنیا میں دو نظام رائج ہیں ایک فیوڈل(بادشاہت یا مختلف انداز کی ڈکٹیٹر شپ فیوڈل ازم کی ہی مختلف شکلیں ہیں) اور دوسرا سرمایہ داری۔ دنیامیں جو جمہوریت اس وقت رائج ہے وہ اپنی اصل میں سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہے اور اسی جمہوریت نے ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے ایک روز حقیقی عوامی جمہوریت میں تبدیل ہونا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں رائج نظام کے حوالے سے سرمایہ دارانہ جمہوریت سے بھی ابھی کوسوں دور ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں جہاں صنعتی انقلاب آچکا ہے وہاں وہاں جمہوری نظامِ حکومت عمل پذیر ہے اور اس کی بدولت حکومتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ عوامی اہمیت کے فیصلے کرتے وقت عوام کی مرضی معلوم کریں اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو پھر اقتدار سے دستبردار ہوجائیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یورپی ملکوں میں یہ قدر اتنی پختہ ہوچکی ہے کہ وہاں کے حکمران اسکی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ان ممالک میں قومی مفاد کا تعین حکمران نہیں بلکہ عوام کرتے ہیں۔ یہ ہمارا ہی بدنصیب ملک ہے جہاں کے حکمران اپنے جس مرضی ذاتی مفاد کو چاہیں قومی مفاد کی فہرست میں شامل کرلیں اور انہیں اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں ہوتی کہ لوگ ان کی یہ بات سن کر ہنستے یا روتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر جمہوریت صنعتی ملکوں میں ہی کیوں آتی ہے اور اسے فیوڈل نظام سے کیوں بَیر ہے؟ ظاہر کہ فیوڈل دور میں ایسی بڑی صنعتوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا جہاں ہر شہر میں لوگ ہزاروں اور بعض صورتوں میں لاکھوں کی تعداد میں ٹیکنکل مزدوروں کی حیثیت سے روزگار کماتے ہوں۔ جب صنعتیں لگتی ہیں تو انسانی استعمال کیلئے مختلف اشیاء وجود میں آتی ہیں۔اشیاء وجود میں آتی ہیں تو ان کے حصول کی خواہش بھی پیدا ہوتی ہے۔

ظاہر ہے ان اشیاء کو خریدنے کیلئے پیسوں کی ضرورت پیش آتی ہے سو ایک مڈل کلاس گھرنے کے سربراہ کیلئے یہ ممکن نہیں ہوپاتا کہ وہ اکیلا ان نئی پیدا ہونے والی خواہشوں کو پورا کرسکے لہٰذا اب گھر کے باقی افراد حتیٰ کہ خواتین کو بھی مردوں کے کندھے سے کندھا ملاکر کام کے میدان میں اترنا پڑتا ہے جنہیں فیوڈل اخلاقیات نے مذہب اور روایات کے نام پر اب تک چار دیواری میں بند کررکھا تھا، یہی وہ مقام ہے جہاں اختیار اور فیصلے کا سوال جاگتا ہے۔ اب سربراہِ خاندان کو وہ سرداری اور فیصلوں کا اختیار حاصل نہیں رہتا جو اسے اکیلا کمانے والے کی حیثیت سے حاصل تھا۔

پراناتہذیب وتمدن اور اخلاقی اقدار کچھ عرصہ کیلئے کسی ناسٹیلجیا کے مارے ادیب کی کہانیوں اوریا پھر کچھ فلموں اور ٹی وی کے ڈراموں میں سسکتی ہیں اور آخر دھیرے دھیرے نئی اقدار کے سامنے بالکل ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ بازاروں میں اشیاء کی ورائٹی اور تعداد میں تیزی کیساتھ اضافہ ہونے لگتا ہے۔ پروڈکشن میں اضافے کیساتھ روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں ،لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے۔

جب اشیاء کی پروڈکشن ملک کی ضروریات سے بڑھ جاتی ہے تو پھر انکی کھپت کیلئے ہمارے جیسے ملکوں کی منڈیاں تلاش کی جاتی ہیں۔ ٹی وی پر اشتہار چلتے ہیں اورعام لوگوں کے دلوں میں انہیں خریدنے کی خواہش جاگتی ہے ۔یہ صورتحال ہمارے جیسے ملکوں کیلئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوتی ہے جہاں اپنی کوئی صنعت نہیں ہوتی بلکہ اکثر اشیائے صرف دوسرے ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں۔ صنعتوں کی عدم موجودگی بے روزگاری کا باعث بنتی ہے مگر میڈیا دن رات اشیاء کی بھوک میں اضافہ کرتا رہتا ہے ان حالات میں سرکاری ملازم رشوت اور کرپشن کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور بے روزگار ڈاکے کا۔

ایسا معاشرہ جہاں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پروڈکشن نہ ہونے کے برابر ہو، حکومت بیرونی ممالک سے ترقی کے نام پر قرضے حاصل کرکے اپنے بھائی بندوں میں تقسیم کردے اور پھر یہ قرضے تا عمر ان عوام کو چکانے پڑیں جن پر ان قرضوں کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہواہوتا،آخر وہاں کوئی اخلاقی اور انسانی قدر کیسے وجود پذیر ہوسکتی ہے۔ایسے معاشرے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہی لاگو ہوتا ہے اور یوں فوج جیسے طاقتور ادارے کو اقتدار میں آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

جمہوری معاشروں میں فوج کی حیثیت گھر کے باہر کھڑے گارڈ کی ہوتی ہے جس کاکام فقط یہ ہوتا کہ وہ اس گھر کے مکینوں کی حفاظت کرے اوربدلے میں اپنی خدمت کا معاوضہ وصول کرے۔ لیکن یہاں تو صورت یہ بنی کہ چوکیدار ہی گھر کے وسائل پر قابض ہوگیا اور گھر کے کمانے والوں نے اسکے اسلحے کے ڈرسے اسکی مکمل اطاعت قبول کرلی۔اس چوکیدار نے اپنے قبضے کو مستقل جواز عطا کرنے کیلئے عجیب وغریب نظریات کا تانا بانا بنا اور عوام الناس کو اس تانے بانے میں بری طرح سے الجھا دیا۔

اپنے اس ناجائز قبضے کو جواز عطا کرنے کیلئے ہندوستان کے ساتھ عوامی نفرت کو بھڑکایا اور اس نفرت کی آڑ میں فوج کے بجٹ میں بے تحاشہ اضافہ کیا۔ اب ایسے عوام جو کہ مسلسل پراپیگنڈے کے زور پر پاکستان کے بارے میں اس غلط فہمی کے اسیر ہوچکے ہوں کہ یہ ملک اسلام کا (عوام کا نہیں) قلعہ ہے ،جسکی حفاظت کیلئے بھوکا رہنا بھی عبادت ہے تو ان حالات میں یہ کیسے ممکن تھا کہ ان کو یہ گمان بھی ہوتا کہ فوجی بجٹ میں یہ اضافہ انکی خوشحالی کی قیمت پر کیا جارہا ہے اور اس اضافے سے جرنیلوں کو جاگیرداروں سے کہیں بڑھ کر مراعات مل رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو کام فوج کے کرنے کا تھا وہ اسے پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی اور جو نہیں کرنے کا تھا یعنی سیاست، اسے کرنے میں بھی ناکام ہے۔

حالات کی بے سمتی اور مسائل کے گرداب کی وجہ سے ہم مذہب کو ایک نفسیاتی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس کی بنا پر پر ہم اپنے معاملات کو سائنسی انداز میں دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ جب ہم بیمار پڑتے ہیں تو محض دعاؤں پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہماری عقل اور تجربہ ہمیں ڈاکٹر سے رجوع کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ دنیا میں خدا کو نہ ماننے والے بھی انہی دواؤں سے ٹھیک ہوتے ہیں جن سے خدا کے ماننے والے، سو دعائیں مانگنا ایک اضافی سا معاملہ ہے۔

جب انسان کے روزگار کا سارا دارومدار قدرت پر تھا تو تب دعائیں ، قربانیاں ، تعویذ گنڈے سبھی کچھ اسے کارگر محسوس ہوتا تھا مگر مشین نے ساری صورتحال بدل کے رکھ دی۔ اب ہر کسی کو معلوم ہے کہ ٹی وی یا مشین کی معمولی سے معمولی خرابی کسی دعا، قربانی، تعویذ یا جادو سے درست نہیں ہوگی بلکہ کوئی مکینک ہی اسے ٹھیک کرسکے گا۔

مسلمانوں کے اقتدار کے جس مختصر دور میں عقل ترقی پذیر تھی اور یونانی فلسفے کے زیرِ اثرسائنسی سوچ پروان چڑھ رہی تھی اسی دوران مسلمان معاشرے میں اعلیٰ درجہ کے فلسفی، دانشور اور سائنسدان پیدا ہوئے مگر خدا کو سمجھنے کے دعوے داروں نے انہیں اپنی ٹھیکیدارانہ سوچ کی وجہ سے نہ صرف کافر قرار دیا بلکہ انکی کتب جلانے کیساتھ ساتھ انہیں بے دردی سے قتل بھی کیا اور یوں اس عقل اور انسان دشمن رویے کے باوجود اپنے تئیں خدا کے ہاں سرخرو ٹھہرے۔

کیا ہم اندھے ہیں جو یہ نہیں دیکھ سکتے کہ اشیاء عمومی طور پر اسلئے مہنگی ہوتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ذخیرہ اندوزوں کا وجود ہے، ہم اچھے علاج سے اسلئے محروم رہتے ہیں کہ ڈاکٹر اور دواؤں کا ناجائز خرچ ادا نہیں کرسکتے، ہمارے حکمران اسلئے من مرضی کے قوانین بنانے میں آزاد ہیں کہ انکو اسلحہ اور بیرونی حکومتوں کی مدد حاصل ہے۔ ان سب باتوں میں بھلاخدا کا کیا عمل دخل ہے؟

یاد رکھئے اس ملک میں جمہوریت آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے جب تک یہاں صنعتی عمل تیز نہیں ہوتاجس کے نتیجے میں مڈل کلاس کی وسعت میں اضافہ ہوگا، یعنی پڑھے لکھے کام کرنے والوں کی تعداد میں قابلِ ذکر اضافہ ہوگا۔ مشین کے زندگی کا باقاعدہ جزو بننے کے نتیجے میں سائنسی سوچ پروان چڑھے گی اور یوں لوگ جاہل مُلا کی سوچ کی گرفت سے آزاد ہونے لگیں گے جیسے مغرب میں ہوا۔

لوگوں کو جوں جوں اپنے حقوق کا ادراک ہوگا تو انہیں اس بات کا احساس بھی ہوگا کہ اپنے اجتماعی انسانی حقوق کو کسطرح حاصل کرنا ہے اور پھر انہیں غصب ہونے سے کس طرح بچانا ہے۔ یہی وہ سیاسی عمل ہے جسے ہم عرصہ دراز سے چھوڑے بیٹھے ہیں اور سیاست کو ہم نے کسی غلیظ گالی کے مترادف مان لیا ہے۔لیکن اس ملک میں صنعتی عمل کے اجراء کیلئے ضروری ہے کہ جاگیرداری اور جاگیردارانہ کلچر کا خاتمہ کیا جائے جسے ہمارے غیر عوامی کمزور حکمران ابھی تک ہاتھ ڈالنے کو تیارنہیں ہیں۔


Tags:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *