یونیورسٹیوں پر جنات کا قبضہ

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی

19373-pervezhoodhboy-1383124321-371-640x480

پچھلے ہفتے کومسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی جو کہ پاکستان کی بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے کہ اسلام آباد کیمپس کے شعبہ ہومینیٹیز کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ ’’ جنات اور کالا جادو‘‘ کے نام سے منعقدہوئی۔ مہمان سپیکر راجہ ضیاء الحق تھے جن کے متعلق بتایا گیا کہ وہ روحانی کارڈیالوجسٹ، کالی بلاؤں اور دوسرے عملیات کے ماہر ہیں۔ وہ اتنے مقبول ہیں کہ اخبار میں چھپی تصویر کے مطابق ہال طالب علموں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

انہوں نے جنات اور کالے جادو کے جواز میں ایک دلچسپ دلیل دی۔ راجہ صاحب نے ان دیکھی مخلوق کو تین اقسام میں تقسیم کیا۔ ایک جو اڑتی ہیں، دوسری وہ جو حالات کے مطابق اپنی شکل و صور ت تبدیل کرتی ہیں اور تیسری وہ جن کا مسکن تاریک جگہیں یا کوڑے کے ڈھیر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا اگر ان کا وجود نہیں ہے تو پھر ہر سال ہالی ووڈ بھاری سرمائے سے ڈراؤنی فلمیں کیوں تیار کرتا ہے ۔

ذرا ٹھہریے کیا یہ دلیل آپ کو مجبورکرتی ہے کہ ہالی وڈ کی مقبول چڑیلیں ، بدروحیں اور عجیب الخلقت جانور، خیالی کی بجائے حقیقت میں وجود رکھتے ہیں۔ یقیناًاس طرح کا بچگانہ دعوے کو ہال میں موجود کوئی بھی آسانی سے چیلنج کر سکتا ہے۔ لیکن ایسے مواقع پر منتظمین کی کوشش ہوتی ہے کہ مبلغ کی تین گھنٹے کی تقریر میں کوئی خلل نہ پڑے اور وہ اپنی بات بغیر کسی مداخلت کے مکمل کرے۔

اب آگے کیا ہونا چاہیے؟ شاید کومسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ، جنات پر مشتمل ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک تشکیل دے سکتی ہے یا پھر ایسے جناتی میزائل تیار کر سکتی ہے جو راڈار میں نظر نہ آئیں۔ جنات پر مشتمل کیمسٹری کے ذریعے بہت سے کام کیے جا سکتے ہیں۔ جنرل ضیاء کے دور میں جنات سے بجلی پیدا کرنے کا مشور ہ بھی دیا گیا تھا۔ یہ مشورہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سینئر ڈائریکٹر نے دیا تھا کہ جنات کی مدد سے ایٹمی اور کوڑا کرکٹ سے ایندھن تیار کیا جا سکتا ہے۔

اس طرح کی ورکشاپ کا انعقاد کوئی نئی بات نہیں۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس طرح کے روحانی سپیکرز بلائے جاتے ہیں۔ جو موجودہ سائنسی علم سے ماورا علم بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کراچی کی ایک میٹنگ کا موضوع تھا ’’ آدمی کے آخری لمحات‘‘۔ پوسٹر میں دکھایا گیا کہ ادھیڑ عمر کا شخص پرانی کشتی میں قبرستان سے گذرتا دکھایا گیا ہے ۔ حسب معمول ہال طالب علموں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا(جیسا کہ مجھے بتایا گیا تھا)۔اس لیکچر میں مرنے کے بعد کی زندگی کوکچھ خاکوں کی مدد سے سمجھایا گیاتھا۔ اس اطلاع کا ذریعہ شاید وہ خفیہ ایس ایم ایس تھے جو سپیکر کو قبر کے اندر سے بھیجے گئے تھے۔

کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ پاکستان کی مہنگی ترین یونیورسٹی ایسی خرافات سے پاک ہو گی۔ لمز یعنی لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ملک کی مہنگی ترین یونیورسٹی ہے اس کا سکول آف سائنس اینڈ انجینئرنگ امریکی ڈالرز کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہاں کوئی سنجیدہ کام ہو گالیکن لمزکے کئی پروفیسر سائنسی سوچ کا مذاق اڑاتے ہیں۔

اتفاق سے اس سال کے شروع میں مجھے یہاں ہومینیٹیز کے ایک پروفیسر صاحب کا لیکچر سننے کا موقع ملا ۔ اس لیکچر کی خاص بات سائنس پر لعنت ملامت کرنا تھی۔انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ فزکس نہیں جانتے ۔ انہوں نے پیشہ ور ناقد کے طور پر سائنس کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور پھر دعویٰ کیا کہ 1923 میں فزکس کا نوبل پرائز جو رابرٹ میلیکان کو دیا گیا تھا وہ اس کا حقد ار نہیں تھا کیونکہ یہ انعام منظور نظر افراد کو دیا جاتا ہے۔

ابھی میں حیران پریشان یہ لیکچر سن رہا تھا کہ اتنے میں پروفیسر صاحب نے آئن سٹائن کی مشہور مساوات

E= mc2

کو غلط ثابت کرنا شروع کیا تو میری پلکیں جھپکنا بند ہو گئیں اور ایسا لگا کہ دل کی دھڑکن رک گئی ہے۔ ایٹم بم پھٹے گا یا نیو کلیئر ری ایکٹر کتنی بجلی پیدا کرے گا تو کیا ہو گا؟یقیناًیہ کام جنات کا ہوگا۔ لیکن وہ ایسے دعوے کرنے میں اکیلے نہیں ہیں۔

لمز کے بیالوجی کے شعبہ صدر نے تمام فیکلٹی کو ایک ای میل بھیجی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ قرآنی آیات کی تلاوت کرنے یا سننے سے ’’ جینز اور میٹابولائیٹ‘‘ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور تجویز دی کہ ہسپتالوں میں آڈیو وژول کمرے بنائے جائیں تاکہ اس مرض کے مریضوں کا علاج کیا جا سکے۔

مغربی سائنس سے توجہ ہٹانے کے لیے پچھلے ماہ لمز نے پاکستان کے ایک اعلیٰ اور قابل ترین میتھ میٹیکل فزسسٹ کو اس کی مدت ملازمت پورے ہونے سے پہلے ہی فارغ کر دیا ۔خوش قسمتی سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ اسے جلد ہی ہارورڈ، پریسٹن یا ایم آئی ٹی( جہاں سے اس نے پی ایچ ڈی کی تھی) میں جاب ملنے والی ہے۔

مافوق الفطرت اور سازشی نظریات کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بات حیران کن نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کی سب سے بڑی پبلک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ نائن الیون کا واقعہ امریکہ نے خود کروایا تھا۔ اپنے اخبار ی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ دنیا کا تمام معاشی نظام ، مانٹی کارلو میں مقیم یہودی کنٹرول کر رہے ہیں۔

آپ کو بہت جلد اس طرح کی مزید سازشی تھیوریاں سننے کا موقع ملے گا۔ کیونکہ مشہور زمانہ زید حامد، سعودی عرب کی جیل میں کئی سال کی قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سے بچ کر پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں اور جلد ہی یہ شعلہ بیان مقرر پہلے کی طرح پاکستان کے تعلیمی اداروں کا دورہ کرتے نظر آئیں گے۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں بغیر دلیل اور سائنس مخالف رویوں کی بھر مار ہے۔ہوسکتا ہے آپ کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو۔ نہیں بالکل نہیں۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں ۔ سائنس کو غلط ثابت کرنا بہت آسان ہے ۔ سائنس کو رد کرنے کا مطلب ہے آپ بہت بڑی ذہنی مشقت اور مشکل کام سے بچ جاتے ہیں یعنی فزکس اور میتھ سے جان چھوٹ جاتی ہے۔ سائنس کو برا بھلا کہنا آسان ہے بہ نسبت اس کو سمجھنا۔

اس کے بہت سے فائدے ہیں ۔ ذہنی معذوری جیسے کہ ہسٹریا ، نیورو سرجن یا کلینکل سائیکالوجسٹ کے بغیر آپ جنات کی مدد سے اس کا علاج کر سکتے ہیں۔ ایک مقامی پیر بھی یہ علاج کر سکتا ہے۔ آپ کو میٹرولوجی سائنس پڑھنے کی بجائے جنات کے ذریعے ہوا کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور زلزلوں کی تحقیق کرنے کی تو کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تو ہمارے غلط اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

جہاں تک عام سے کھلونوں یا اوزار جیسے کہ کمپیوٹر اور سیل فون کا معاملہ ہے، تو یہ ہم اپنے سعودی بھائیوں کی طرح، ہمیشہ ایپل، سام سنگ اور نوکیا کے خریدیں گے۔ کوئی پیسے کی بھوکی زنگ زینگ زونگ کمپنی سیل فون چلانے کے لیے پاکستان میں اپنانیٹ ورک قائم کر لے گی۔ ٹیکنالوجی یا کوئی چیز ایجاد کرنے جیسا گندہ کام ہم نے چینیوں، امریکیوں اور یورپین کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ ان کے جنات کو معلوم ہے کہ اپنا کام کیسے کرنا ہے۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں کو روشن خیالی کا منبع ہونا چاہیے۔کھلے ذہن کے ساتھ نئی سوچ کو جگہ دینی چاہیے۔ نہیں تو یہ جانوروں کا باڑہ بن کر رہ جائیں گے۔ ذہنی طور پر سست اور نالائق پروفیسروں کی فوج کو ایسے طالب علموں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی ہر بات پر سوال اٹھانے یا چیلنج کرنے کی بجائے اس پر سر تسلیم خم کریں ۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ مافوق الفطرت اور خیالی واقعات سنا کر 20 سے 25 سال کے نوجوانوں کو موت کا خوف دلا کرڈرایا جا سکتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں اس طرح کے لیکچرز کے انعقاد کا مطلب ہے کہ پاکستان کی ثقافتی اور سماجی دانش مندی کا زوال تیز تر ہورہا ہے۔

ڈیلی ڈان، لاہور

33 Comments

  1. Muhammad Ilyas says:

    Awesome! Like always!
    Your are a great asset of this country for those who understand you.
    Most of the so called professors of this country are like the hord of jahil mullahs.
    Their vision, mentality and their approach to the objective investigation of knowledge or the application of the methodology of science is not less than the jahil mullah of our society.
    you are absolutely right sir that it is very easy for them to out rightly reject the scientific method as that needs very hard work and continuous engagement with the world of science and knowledge.
    All they need is a job and perks and privileges.
    It is very much suitable for them, as most of them do, to join the Tableghe Jamaat. That is the best group for them.
    May you live long sir!

  2. naseer akhter says:

    We are living in stone age! 😢

  3. That’s great sir you are absolutely right you are doing very well in real field of life.
    Sir wish you a happy and healthy life ahead for people like us to guide us. I am a very big fan of you please do write for well being of people. GOD bless you sir

  4. shahzad Irfan says:

    Awesome Sir. great lines.

  5. well said.

  6. mr pervaiz hood there is always some ground reality which need to be accepted,but analyst like you just see an one sided view.jinnat etc also part of this land inwhich we’r living, infact the person who engage with religious and having appreciate knowledge too so, he/she abviously have better point of view comparatively rather than who just study Einstein, schneider so on. you are right that may scholars deliever fake or fictitious theories but dont apply thia to all.

  7. بہت افسوس کہ پڑھ لکھ کر بھی جاہل ہی رہے اس طرح کے لوگ آپ کو ہسپتالوں میں بھی ملتے ہیں جو یہ بھی کہتے ہیں کہ ساتھ دم دُرود بھی کراو ایک بچہ سافٹ وہر انجیئرنگ کر رہا ہے اور اس کو ساتھ اسلامیات بھی پڑھائی جا رہی ہے ماتم کرنے کو دل کرتا ہے یہ قوم کبھی بھی اس چُنگل سے نہیں نکل سکتی

  8. Abdullah Baloch says:

    ڈاکٹر پرویز ہود بھائی آپ سے اتفاق کرتا ہوں. انسانی زہن کو اپائج کرکہ چلانا آسان ہوتا ہے.. یہ اسل میں آپ کے ملک کے تیھنک ٹینکس کا کام ہے. ان کے خیال میں اس طرح کا سوچ مسلط کئیے بغیر یہ ملک مستحکم نہیں ہوسکتا. اس ملک کا عوام اور حکمران دولے شاہ کے چوہے بن چکے ہیں. مثال کے طور پر امت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھ سکتا تھا کہ خدا کیا ہے؟ .. آج کے ملائوں سے پوچھے تو واجب الاقتل ہوگا

  9. We dr hood sb
    Jahalit ki intaha he

  10. Not very exciting article for following reasons:

    (1) Nobody can deny existence of paraphysical or metaphysical events and elements.
    (2) Science has its limitations and they should be appreciated by someone who claims to be a scientist. Knowing what you know not is a virtue!
    (3) If the author is about to get a job at MIT or Princeton or Yale or whatever, that has got nothing to do with this article. Flaunting it unnecessarily is a concealed attempt to settle own scores while also ridiculing LUMS.

    Having said that, it can be lamented that irrational discourses are happening in our universities. If there are any contentions in mind of professors or scholars, they should be rationalized seriously before presenting them to young minds.

  11. Adnan Tahir Qureshi says:

    Dr. Pervaiz sb, Rightly said. Thank you for taking up such issues. When we cannot study science, we find excuses and the so called spiritual and religious scholars provide us a good way to hide our ignorance by rejecting the scientific thinking at all. I am surprised that we are using everything the western scientists have invented but instead of being grateful to them we degrade them. This is what we are doing with everyone who wants to show the light and way forward.

  12. عبداللہ says:

    پروفیسر صاحب اگر آپ مذہب میں گھس کر اپنا چورن بیچنےکے بجائے اگر کو قابل فخر کارنامہ انجام دیتے تو شائد کومسیٹ یہ لیکچر کا انعقاد ہی نہیں کرواتا۔ مگر آپ تو اپنے کو “سائینسی مفتی” ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

    کچھ کام وام نہیں ہے آپکے پاس یا لمس سے نکالے جانے کے بعد کوئ لے نہیں رہا۔

    نوٹ: امید کہ “روشن خیال” ایڈمن تبصرہ کو صٖفحہ ہستی سے نہیں مٹائیں گے۔

  13. Muhammad Bilal says:

    گریٹ سر۔ میں اس دن سے آپ کے خلاف ہوں جب سے آپ نے پاکستان کو ایٹمی دھماکے نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود آپ کی تقریبا ہر تحریر نگاہ سے گزرتی ہے۔آپ کی تنقیدی لیکن تعمیری سوچ ہمیشہ سے اعلی ہے۔ لیکن آج آپ کی ہر سطر پر خوب انجوائے کیا۔شکریہ

  14. just an attention seeking strategy dr. hood. i have attended the lecture. everything was according to Quran and Sunnah (JINN lec.) and i am sure you wont deny what is in Quran. first get the knowledge of Deen and Quran and then challange the scholars. Marna to hy na ek din ya emc2 se amar ho jana hy ap ne america k sath.

  15. ju kuch in sahib ne kaha hy blkul drust hy yanj jinnat ka wajud brhaq hy or quran se sabit hy ma ne apni aankho se jinnat dekhe hain

  16. mehmood hussain says:

    dear sir
    sb kuch parh k dukh huwa ,k qom ki simt sedhy na ho saki ,tarikh mn lakh koshishin hui jb ham ustadon ka ye hal hy to awam ka kia ho ga
    sir ap ny zehno ko janjorny ki koshish ki ,v good keep it up
    may have long lify
    good by

  17. sir you are really well.

  18. سب سے پہلے اساتذہ کی سلیکشن کے لئے بنائے جانے والے بورڈز کو منتخب کرنے والےتعلیم کی اہمیت اور افادیت کو دور_جدید کے تقاضوں پر ڈھالنے کے لئے متفق ہوں گے تو اساتذہ بھی ایسے سلیکٹ کریں جن کا ک تعلیم سے متعلق کوئی اپنا ذاتی ایجنڈا نہ ہو تب جا کر بہتر تعلیمی نصاب_تعلیم رائج کیا جا سکتا ہے. ورنہ اسی طرح کی شعبدگی ہوتی رہے گی.

  19. Spiritual being says:

    Any believer of Islam has to believe in Jinnat and angles. either science approves these two creatures or not. Science has its own limitations and has long way to reach all Allah’s creatures. Or perhaps will not be able to reach to everything.
    Also Islam doesn’t stop us to conduct researches and inventions. Its only our politicians and educational programs don’t allocate enough funds to do that. Muslim scientists had played great role in all fields of sciences. I felt proud when my University going son in Canada told that his professors talk in their lectures about Muslim scientists’ contribution primarily in all scientific fields.

  20. ہمارے پیارے ڈاکٹر صاحب کو لمز سے نکالے جانے پر ابھی تک مرچیں لگی ہوئی ہیں
    کوئی ڈھنگ کا کام نہیں آتا موصوف کو تو اسی طرح کے اخباری کالم لکھ کر اپنی قابلیت کا رعب ڈالتے رہتے ہیں ۔۔ ان کا صحیح مقام ٹی وی ٹاک شوز میں انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے لوگوں سے گالم گلوچ کرنا ہے یا پھر آغا وقار سے منہ ماری

  21. Believing in such illusions is a symptom of a consciousness which hinders an informed way of life. Understanding ourselves and our world itself is a joyful process. These people are unfortunate living under the baggage of history. They feel comfortable under protected supervision of someone or some ideas without fully understanding them. This kind of belief also indicates that such people have struck in an age which was surely a reality some thousands years ago because of the available limited knowledge. As Just before the invention of microscope, people were compelled to invent evil beings, the cause of diseases to satisfy their curiosity. Or before the invention of telescope, people believed that earth was the centre of universe. The cruel fact is that our (public & private) educational system is dangerously harmful and irrelevant. Furthermore, after commercialization of education, glorified primary schools like LUMS or LSE etc. have further promoting dogmatism as they don’t want to lose their customers by challenging their belief system. So, centuries old mind set is being perpetuated and Freire has called this narrative sickness —– narrative set and told by our controllers over centuries.
    sibte Hasan ( Lahore)

  22. The Quranic concept of jinn has been briefly discussed before in Life in the Perspective of Quranic Revelations. Arabic lexicon mentions the following as the possible meanings of the word jinn. It literally means anything which has the connotation of concealment, invisibility, seclusion and remoteness. It also has the connotation of thick shades and dark shadows. That is why the word ‘jannah’ (from the same root word) is employed by the Quran to denote paradise, which would be full of thick, heavily shaded gardens. The word jinn is also applicable to snakes which habitually remain hidden from common view and live a life secluded from other animals in rock crevices and earthen holes. It is also applied to women who observe segregation and to such chieftains as keep their distance from the common people. The inhabitants of remote, inaccessible mountains are likewise referred to as jinn. Hence, anything which lies beyond the reach of common sight or is invisible to the unaided naked eye, could well be described by this word.

    This proposition is fully endorsed by a tradition of the Holy Prophetsa in which he strongly admonishes people not to use dried up lumps of dung or bones of dead animals for cleaning themselves after attending to the call of nature because they are food for the jinn. As we use toilet paper now, at that time people used lumps of earth, stones or any dry article close at hand to clean themselves. We can safely infer therefore, that what he referred to as jinn was nothing other than some invisible organisms, which feed on rotting bones, dung etc. Remember that the concept of bacteria and viruses was not till then born. No man had even the vaguest idea about the existence of such invisible tiny creatures. Amazingly it is to these that the Holy Prophetsa referred. The Arabic language could offer him no better, more appropriate expression than the word jinn.

    Another important observation made by the Quran is in relation to the creation of the jinn. They are described as having been born out of blasts of fire (from the cosmos).

    And the Jinn We created before that (the creation of man) from blasts of fire (naris-samum). 1

    Here the adjective used to describe the nature of the particular fire from which the jinn were created is Samum, which means a blazing fire or a blast that has no smoke. 2 We find a similar statement in another Quranic verse:

    And the Jinn He created from the flame of fire. 3

    Having established that the word jinn applies here to some type of bacterial organisms, let us again turn our attention to the verses quoted above that speak of the jinn as having been created out of fire. The prime candidates for the application of these verses seem to be such minute organisms as drew the energy for their existence directly from hot blazes of lightning—Samum—and cosmic radiation.

    Dickerson inadvertently agrees with the Quranic view when he observes that the most ancient organisms:—

    ‘… would have lived on the energy of lightning and ultraviolet radiation …’ 4

    This scenario of cosmic radiation is not specifically mentioned in the work of other scientists in their search for the pre-biotic organisms. But they too have corroborated the idea that whatever organisms existed before biotic evolution must have drawn their energy directly from heat. Of all the categories of bacteria classified as the most ancient only ‘prokaryotes’ and ‘eukaryotes’ were mentioned by previous generations of scientists. However, that conclusion proved to be a hastily drawn one, according to Karl R. Woese and his colleagues. They observed:

    ‘Simply because there are two types of cells at the microscopic level it does not follow that there must be only two types at the molecular level.’ 5

    For the benefit of the lay reader the difference between the two bacteria, known as the prokaryotes and eukaryotes, is explained in terms as simple as possible. It relates to the presence or absence of a nucleus in them. The prokaryote type of bacteria, despite having a well-defined cell membrane, have no distinct nucleus. The eukaryotes on the other hand, possess well-defined and well-developed nuclei occupying the centre of each cell.

    It was considered that these were the only two ancient forms of bacteria which gave birth to others and evolved into organisms which could be referred to as the ancestors of life. However, Woese published the findings of his pioneer research in Scientific American, June 1981, claiming that archaebacteria, could be rightly considered as the earliest form of organisms. He and his colleagues informed the scientific community that they were a third distinct line which preceded all others. Thus it is they who should be entitled as the most ancient ancestors of life. Woese and his collaborators continued to pour strong evidence into this discovery and as the ice began to thaw, according to Woese:

    ‘Although a few biologists still dispute our interpretation, the idea that archaebacteria represent a separate grouping at the highest level is becoming generally accepted.’ 6

    Again he writes:

    ‘This implies that the methanogens are as old as or older than any other bacterial group.’ 6

    According to The Hutchinson Dictionary of Science:

    ‘… the archaebacteria are related to the earliest life forms, which appeared about 4 billion years ago, when there was little oxygen in the Earth’s atmosphere.’ 7

    But the author of Genetics a Molecular Approach states:

    ‘Since 1977 more and more differences between archaebacteria and other prokaryotes have been found, so much so that microbiologists now favour the term archaea, to emphasize that these organisms are distinct from bacteria.’ 8

    THE ORGANISMS REFERRED TO AS JINN in the Quran seem to fit the above description. But, though scientists unanimously describe these bacteria as possessing the potential of drawing their energy from heat, they are not mentioned as having been originally created directly by the cosmic rays and blasts of lightning by any scientist other than Dickerson. The rest however, continue to throw more light on their various modes of dependence on heat for their survival:

    ‘… in undersea vents, hot springs, the Dead Sea, and salt pans, and have even adapted to refuse tips.’ 9

    On the issue of antiquity though, Woese and his colleagues have no doubt that the archaebacteria are the prime claimants. According to some scientists they may have evolved from some unknown parenthood simultaneously.

    But these are issues which fall outside the domain of this exercise. Whether the other bacteria evolved out of them or not is irrelevant to the discussion. The relevant point is that all forms of most ancient bacteria draw their energy directly from heat. This is a tribute of no small magnitude to the Quranic declaration made over fourteen hundred years ago:

    And the Jinn We created before that from blasts of fire (naris-samum). 10

    According to the accepted scientific studies, direct heat from fire had to play a vital role in the creation and maintenance of pre-biotic organisms. This, in fact was the only mode of transfer of energy for the consumption of organized forms of existence during this era. As they multiplied during their uninterrupted proliferation lasting over billions of years, their death must have polluted the oceans while they decayed and fermented turning the oceans into the primordial soup. This will be discussed at greater length in the following chapter.

    REFERENCES

    Translation of 15:28 by the author.
    LANE, E.W. (1984) Arabic-English Lexicon. Islamic Text Society, William & Norgate. Cambridge.
    Translation of 55:16 by Maulawi Sher Ali.
    DICKERSON, R.E. (September 1978) Chemical Evolution and the Origin of Life. Scientific American, p.80
    WOESE, C.R. (June, 1981) Archaebacteria. Scientific American, p.104
    WOESE, C.R. (June, 1981) Archaebacteria. Scientific American, p.114
    The Hutchinson Dictionary of Science (1993) Helicon Publishing Ltd. Oxford. p.37
    BROWN, T.A. (1992) Genetics A Molecular Approach. Chapman & Hall. London, p.245
    The Hutchinson Dictionary of Science (1993) Helicon Publishing Ltd. Oxford. p.37
    Translation of 15:28 by the author.

  23. بھائی ان صاحب میں اور مولوی عبد العزیز کے بیانات میں کیا فرق ہے؟
    زیادہ سے زیادہ یہ کہ انہیں سائنسی کٹھ ملا کہہ دیجئے
    ارے، یہ صاحب فیزکس پڑھ کے کیسے حق رکھتے ہیں کہ معاشرتی علوم پہ بحث کریں، کیا یہ ویسا ہی عبث نہیں جیسا کسی دین پڑھے ہوئے عالم کا کیمسٹری میں مداخلت کرنا۔
    اور جنات کو تو چھوڑئیے اصل فکر تو یہ کھائے جا رہی ہے کہ المائیٹی امریکہ پہ 11-9 حملوں کا الزام کیوں لگایا گیا، ارے صاحب ٹھیک کہا آپ نے کہاں امریکہ عز و جل اور کہاں یہ سائینس کے منکر مسلمان، امریکہ تو انہیں جانتا ہی نہیں، اسامہ بن لادن یا اس کے غنڈوں کا امریکہ سے کیا تعلق۔۔۔
    ارے واہ صاحب، کم سے کم ان مقدس سائنسی حوالوں کا تو ذکر کر دیا ہوتا جو مغربی جنت کے معزز سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کے ضمن میں دیئے ہیں۔ لیکن اگر یہ ایسا کرتے تو میں ہر گز انہیں ملا عمر یا ملا فضل اللہ کے جیسا نہ سمجھتا۔
    اور صاحب دین کا مذاق اڑائے بغیر تو تنخواہ ہی حلال نہیں ہوتی، ارے قرآن کا اعتبار نہیں انبیاء کی تعلیمات اور معجزات تو خیر ہیں ہی گھڑی ہوئی باتیں لیکن، دو بار نوبیل انعام یافتہ الکسس کارل جیسے سائنسدانوں کی رائے کا تو احترام کیجئے، جو دعا کی اہمیت اور اس کے اثرات پہ کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ آخر ان کی تنقید کی زد پہ آنے والوں اور خود ان کے اس مقالے میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔
    یہ صاحب تو دین کو نہ مانیں مگر وہ لوگ جو انکو داد و تحسین دے رہے ہیں، ان کے لئے یہ ضرور کہ حیات بعد الموت کا احوال اسلامی تعلیمات کے حصوں میں سے ایک ہے، جس کے لئے مرنے کے بعد کسی ایس ایم ایس کی ضرورت نہیں ہے

  24. i wonder this man was ever a researcher or a scientist(the word scholar would be a too great word for his caliber )???????????? negating something which u can’t understand or u consider wrong according to ur belief,,,never means that the thing/theory/concept is wrong or not existing…………….he declares people with other approach as narrow minded…………what he himself doing?????????com on hood bhai,,,for me,,u are an idiot……….if some one believes in ghosts,,,or their existence and tries to prove it,,,then be a man and come up with strong evidence to dis-prove it if u are a researcher,,,,,,mocking and gossiping and taunting,,,,my hair dresser can do that better ,,,son!!!!!!!!

  25. Dr. Fayyaz Hussain says:

    یہ صاحب ھمیشہ مکس مٹھای بیچتے ہیں

    جنات مذھب اور اس طرح بھت سی دوسرے موضوعات کو سائنس کےسھارے مذاق بنانا تو ان صاحب کا محبوب مشغلہ ھے لیکن اپنے سپانسرز کی بےجا حمایت اور شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننا بھی ان کو خوب آتا ھے مثلا اس مکس مٹھای کے بعد 911 کا چورن بھی بیچا ھے

    حضرت جی اگر یہ امریکائ حکومت کا اپنا کارنامہ نہیں تو بلڈنگ7 جس کو کچھ بھی نہیں لگا وہ کیسے کنٹرولڈ ڈیمولیشن کی طرح کیسے زمین پہ آگئی

  26. میر خیال ہے کہ یہ ایک یونیورسٹی کا حال نہیں پاکستان میں پورا تعلیمی سسٹم ہی ایسے چل رہا ہے۔ خاص طور پر یونیورسٹی آف گجرات کا اب اللہ ہی حافظ ہے۔ یہاں تعلیم کے نام پر بچوں کا ستیا ناس کیا جا رہاہے۔ ٹیچر تعلیم پر توجہ دینے کی بجائے اپنی پسند نا پسند کو مدنظر رکھتا ہے۔ ایک محدود سوچ اور تنگ نظری کا عالم ہے۔

  27. کوئی شک نہیں ڈاکٹر صاحب بہت بڑے سائنسدان ہیں لیکن آرٹیکل کی صرف ایک بات سے اختلاف ہے کہ اگر یورپ میں موسیقی سے علاج میں مدد لی جاسکتی ہے تو یہاں تلاوت قرآن سے کیوں نہیں….؟

  28. یقینناً یونیورسٹیوں اگر انسانوں کی دنیا میں بنتی ہیں تو ان میں انسانوں کو درپیش آنے والے غیر نصابی مسائل و موضوعات بھی گاہے بگاہے زیر بحث آتے ہی رہیں گے لیکن انکا تناسب بہت کم ہی رہنا چاہیئے اور 90 فیصد فوکس اسی خاص علمی موضوع پہ رہنا چاہیئے کہ جسکی وہاں تعلیم دی جانی مقصود ہے ،،، لیکن مسئلہ یہ نہیں کہ پرویز ہود بھائی ایک عمومی غلط رویئے کی نشاندہی کررہے ہیں ، اکثرو بیشتر انکا منشاء اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانا ہوتا ہے ،،، جنات کا وجود قرآن سے ثابت ہے لیکن یہ حضرت تو لگتا ہے کہ انکے وجود سے انکار پہ ہی تلے ہوئے ہیں تو انکی یہ نیت قابل افسوس ہے اور لائق مذمت ہے ،،،

  29. چلیں ڈاکٹر صاحب یہ ماننے پر مجبور تو ہوئے کہ ہماری یونیورسٹیاں بھی کوئی علم کے جھنڈے گاڑ نے میں کامیاب نہیں ہوئ کیونکہ اب تک تو وہ صرف مدارس اور مذہب کو ہر بات کا دوش دیتے پھرتے تھے

  30. Mr Hoodbhoy mocks these people and criticises them for lack of scientific knowledge. However he himself say similar things without adequate knowledge, when he calls Hysteria as mental handicap and implies this needs treatment by neurosurgeon. Both of these statements are completely wrong. As a teacher, quoting research & science on everything and very keen to criticise everybody, he should have done his research before writing such comments or refrain from commenting on things, he doesn’t know anything about.

  31. Pervez Hoodbhoy seems to be very strange personality , he put all the blames on muslim or islam , if you really true scientist you have to understand all humam are made in same nature they react same but blame to muslim b/c their Mushade convience them that there is another life that’s whats wrong —if you look muslim Christian hindu etc all have bad story and good story –good work bad work

    please don’t single them out if

  32. I saw Mr Pervez the way he was pointing Imam Ghazali statement in ill manner way , The diffrences have no problem as a human being we do have always difference but Imam ghazali intellectually is proven in WEST , Europe , Asia , muslim and non muslim world has been proven

    Mr Pervez knowledge & information is very limited he has a degree in physics that is very common in usa where I live & can see but may be very valuable in Pakistan who is champion of corruption in third world countries so this Mr Pervez has to think before speak

    he has to understand that he you are not talking about any ordinary person , Ghazali is proven intellectual & influncental person to billion of people , if you angry to muslim just keep in yourself don’t spread hates people would not change your way

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *