نرگس ۔۔۔بھارتی سکرین کی لازوال اداکارہ

سید محسن علی

Raj-Kapoor-and-Nargis

بھارت کی سلور اسکرین پر کئی گوہر نایاب فنکاروں نے حکمرانی کی۔ ان فنکاروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے مرتے دم تک اپنی شہرت کو قائم رکھا۔ ان میں ایک اداکارہ نرگس بھی ہے۔ جس نے اپنی پہلی فلم سے آخری فلم تک سلور اسکرین پر اپنی ہوشربا اداکاری سے بھارت کیا، جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں اپنے چاہنے والوں کا وسیع حلقہ بنایا۔

نرگس کا اصل نام فاطمہ اے رشید تھا اور والدہ کا نام جدن بائی جو اپنے عہد کی بڑی گلوکارہ بھی کہلاتیں تھیں۔ بے بی فاطمہ یکم جون 1929ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئی۔ سیئنر کیمبرج تک تعلیم حاصل کی۔ جدن بھائی کاچونکہ فلمی دنیا میں بڑا اثرورسوخ تھا اسی لئے انہیں اپنی بیٹی فاطمہ کو فلمی دنیا میں کام دلانے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بھارت کے مشہور ہدایت کار محبوب خان نے اس لڑکی کو اپنی فلم’’تلاش حق‘‘ میں بطور چائلڈ اسٹار کا کام دیا جبکہ نرگس کی زندگی کا پہلا بڑا کردار فلم ’’تقدیر میں تھا جو 1943ء میں تیار ہوئی۔ اس فلم سے فاطمہ فلمی دنیا میں نرگس کے نام سے کام کرنے لگی۔

راج کپور کی فلم ’’برسات‘‘ سے قبل نرگس نے کئی بھارتی فلموں میں کام کیا لیکن نامور ہیروئن کا اعزاز اسے فلم’’برسات‘‘ سے ہی حاصل ہوا اور یوں اس فلم سے راج کپور اور نرگس کی جوڑی بھی بن گئی۔ بعد ازاں نرگس نے اس دور کے کئی اور بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا ۔جن فلموں میں نرگس‘ راج کپور کے ساتھ دکھائی دیں ان میں اس کاکام عوام کو پسند آیا۔ نرگس نے دلیپ کمار کے ساتھ بھی کئی فلموں میں کام کیا جن میں میلہ‘بابل‘ جوگن‘ انداز اور دیدار کے نام قابل ذکر ہیں۔ فلم ’’انداز‘‘ میں راج کپور تھے، جس میں راج کپور اور دلیپ کمار میں جھگڑا بھی ہوا۔

یوں تو نرگس نے اپنے فلمی کیرئیر میں کئی بے مثال فلموں میں کاکام کیا لیکن ان کی زندگی کی بے مثال فلم’’مدر انڈیا‘‘ تھی جس میں نرگس نے ینگ ٹو اولڈ کردار ادا کیا۔ یہ اس دور کی کہانی ہے جب نرگس اپنے ابتدائی دور میں تھیں اور شادی شدہ بھی نہ تھیں ۔مدر انڈیا 1957میں ریلیز ہوئی اور اور اسی فلم کی تکمیل کے دوران نرگس نے اسی فلم کے ہیرو سنیل دت جو کہ اس فلم میں نرگس کا بیٹا بنا ، سے شادی کر لی۔ شادی کے حوالے سے یہ بتانا ضروری ہے کہ جس دور میں سنیل دت نے نرگس سے شادی کی اس زمانے میں سنیل دت سی گریڈ اداکار تھے اور نرگس نمبر ون اداکارہ کہلاتی تھیں۔ یہ فلم محبوب نے بنائی تھی، اس فلم میں سنیل دت کی جگہ دلیپ کمار کو کاسٹ کیا جانا تھا۔

ہدایت کار محبوب خان اس دور کے بڑے نامور ہدایتکار تھے اور ان کی بات کو کوئی رد نہیں کر سکتا تھا۔ ’’مدرانڈیا‘‘ کی شوٹنگ سے قبل دلیپ کمار نرگس کے ساتھ کئی فلموں میں بطور ہیرو کام کر چکے تھے۔ جب محبوب خان نے دلیپ کمار کو بتایا کہ آپ کو اس فلم میں نرگس کا بیٹا بننا ہے تو انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لئے انتہائی مشکل ہے جو لڑکی میری ہر فلم میں محبوبہ بنتی ہو، اسے فلم میں ماں کہہ کر کیسے پکار سکتا ہوں ۔ ویسے بھی فلمی دنیا میں صرف ایک ہی ادا کار دلیپ کمار کی مثال دی جاسکتی ہے کہ یہ اداکار جس لڑکی کے ساتھ ہیرو آیا وہ لڑکی کبھی اس کی بہن نہیں بنی اور جو بہن بنی یا بیٹی بنی اس کو اپنی ہیروئن نہیں بنایا۔ یاد رہے کہ فلم ’’جگنو‘‘ میں ششی کلا نے دلیپ کمار کی بہن کا کردار ادا کیا۔ششی کلا نے بعد ازاں انڈسٹری میں کئی فلموں میں بطور ہیروئن کام کیا، اسے دلیپ کمار کے ساتھ ہیروئن کی آفربھی ہوئی لیکن دلیپ کمار نے منع کردیا۔

فلم’’مدرانڈیا‘‘ میں دلیپ کمار کے انکار کے بعد سنیل دت کو کاسٹ کیا گیا جس نے ایک انتہائی ضدی بچے کا کردار ادا کیا تھا۔ نرگس کے ساتھ شادی کی کہانی کچھ یوں ہے کہ فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی منظر میں نرگس سوکھی ہوئی لکڑیوں میں گھری ہوئی ہے جہاں آگ لگائی جانا مقصود ہے۔سین کے مطابق آگ لگائی گئی تو نرگس کوشش کے باوجود باہر نہ نکل سکی۔ آگ اس کے بہت قریب پہنچ گئی حتیٰ کے اس کے کپڑے بھی جلنے لگے، سنیل دت نے جب دیکھا تو وہاں کود پڑا اور نرگس کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ سین ختم ہوا۔

نرگس کی طبیعت سنبھلی تو اس نے ایک روز اچانک پریس کانفرنس طلب کرلی اس پریس کانفرنس میں سنیل دت سے شادی کا اعلان کردیا۔ لوگ اتنے حیران ہوئے کہ اتنی بڑی اداکارہ اتنے چھوٹے سے اداکار کے ساتھ شادی کررہی ہے۔ نرگس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا فلمی دنیا جو کہ ایک مصنوعی دنیا ہے وہاں رہتے ہوئے ایک شخص نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میری جان بچائی تو وہ شخص حقیقی زندگی میں میرے لیے کیا کچھ نہیں کرسکتا۔ یوں نرگس کی شادی ہو گئی۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ نرگس مسلمان تھی۔ اور اس نے سنیل دت کی محبت میں ہندو ہونا منظور کرلیا۔ شادی ہندو طریقے سے ہوئی جوکہ بڑی کامیاب کہلائی۔ نرگس کا ایک بیٹا سنجے دت جوآج بالی وڈ کا سپرسٹار ہے۔ فلمی دنیا میں چمک دمک رہا ہے لیکن نرگس اپنے بیٹے کی خوشیاں نہ دیکھ سکی۔ اس کی زندگی ہی میں فلم’’راکی‘‘ شروع ہوئی لیکن فلم کی نمائش سے قبل ہی نرگس کینسر کے مرض میں مبتلا ہو ئی اور اس دنیا سے کوچ کرگئی۔

اداکارہ نرگس نے اپنے عہد میں ہربڑے اداکار کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے اور جوانی میں ہی ینگ ٹو اولڈ کردار ادا کئے۔کہا جاتا ہے کہ جب ہدایت کارمحبوب خان نے اپنی فلم ’’آن‘‘ شروع کی تواس فلم میں نرگس کا انتخاب ہی عمل میں آیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق نرگس پر ایک خواب کا گانا پکچرائز ہوا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب نرگس دل وجان سے راج کپور پر فریفتہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ نرگس نے اس گانے کے نیگٹیو چرا کر راج کپور کو دے دئیے اور وہی گانا بعد ازاں راج کپور نے چند ایک سین شامل کرنے کے بعد اپنی فلم ’’آوارہ‘‘میں شامل کر لیا۔ جب محبوب خان کو اطلاع ملی تو انہوں نے نرگس کو اس فلم سے کٹ کر کے ایک نئی لڑکی نادرہ کو فلم میں شامل کر لیا۔ نادرہ کی شمولیت کی وجہ نغمہ نگار نخشب جار چوی تھے۔ کہتے ہیں کہ اس دور میں نادرہ ہی ان کی منظور نظر تھی اور ایک بار نخشب کے ہمراہ پاکستان بھی آئی تھیں۔

نرگس نے جو گانا راج کپور کے حوالے کیا تھا اس کے بول تھے ’’گھر آیا میرا پردیسی‘‘، جس میں وہ ایک مہارانی کے روپ میں دکھائی دیتی ہے اور فلم ’’آوارہ‘‘ میں نرگس کا مہارانی کا گیٹ اپ، سمجھ سے باہر ہے۔

رواج کپور اور نرگس کے رومانس کے فسانے بھارت اور پاکستان میں عام ہوئے۔’’آوارہ‘‘ریلیز ہوئی تو بہت پسند کی گئی۔ یہ فلم بعد ازاں روس کے فلمی میلے میں بھیجی گئی جہاں ان دونوں نے شرکت کی۔ اسی فلمی میلے کے بعد نرگس کو ایک روس کے ساتھ بننے والی فلم’’پردیسی‘‘ میں کاسٹ کیا گیا۔ جس میں نرگس کے مقابلے میں بلراج ساہنی ہیرو تھے۔ یہ فلم کاروباری اعتبار سے ناکام رہی۔ البتہ اس فلم کے گانے خاصے مشہور ہوئے جن میں ایک گانا، نہ جا جا بلم دیرے نہ ‘‘ آج بھی سنا جاتا ہے۔

فلم برسات میں راج کپور کے ہمراہ کام کرنے والی نرگس نے راج کپور کے ساتھ آخری فلم’’جاگتے رہو‘‘ میں کام کیا۔ اس دور کے اخبارات اور رسائل میں راج کپور اور نرگس کے حوالے سے بہت سی داستانیں ہیں جس کے مطابق یہ تک لکھا گیا کہ آج کی ایک اداکارہ ڈمپل کپاڈیہ راج اور نرگس ہی کی نشانی ہے۔ کہتے ہیں کہ ڈمپل کو راج کپور نے ایک آشرم میں داخل کر دیا تھا۔

راج کپور نے جب اپنی علم’’بوبی‘‘ شروع کی تو اس میں ’’ڈمپل‘‘ کو اپنے بیٹے رشی کپور کے مقابل ہیروئن کاسٹ کر لیا۔ رشی کپور کو ڈمپل کپاڈیہ ایک ہی نظر میں بھا گئی اور ان دونوں کے رومانس کے چرچے عام ہونے لگے اور پھر نہ جانے راج کپور نے رشی کپور کے کان میں کچھ کہا اور رشی کپور نے چپ سادھ لی۔ راج کپور نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ڈمپل کباڈیہ کی شادی راجیش کھنہ سے کرا دی۔ ہندو مذہب کے مطابق جب کسی لڑکے یا لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو اس کا والد ان رسومات میں شامل ہوتا ہے جیسے عام لفظوں میں کنیادان کہتے ہیں۔ اب یہ بات کہ اگر ڈمپل کا راج کپور سے کوئی ناطہ نہ تھا تو پھر راجیش کھنہ اور ڈمپل کی شادی کے موقع پر راج کپور نے ڈمپل کا کنیا دان کیوں کیا۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کا شادی کے موقع پر خاصا چرچا رہا۔

ڈمپل کے حوالے سے بہت سی باتیں ریکارڈ پرموجود ہیں۔ راج کپور سے تمام تر تعلقات ختم ہونے کے بعد نرگس نے جب اپنا گھر بنایا تو اس کانام ڈمپل ہاؤس رکھا۔ راج کپور کی ایک بیٹی کانام نمترا ہے جبکہ سنیل دت کے ساتھ شادی کے بعد نرگس نے بھی اپنی بیٹی کا نام نمترا رکھا ۔ اسی طرح راجندر کمار کے بیٹے کمار گروکی کی منگنی راج کپور کی بیٹی نمترا سے طے ہوئی۔بعد ازاں یہ شادی میں تبدیل نہ ہو سکی۔ بیٹے کی ضد تھی کہ وہ نمترا ہی سے شادی کرے گا تو نرگس نے اپنی بیٹی نمترا کی شادی اس کے ساتھ کردی۔

نرگس نے جب ایک ہندو اداکار سنیل دت کے ساتھ شادی کی تو اس دور میں بھارت کے کئی بڑے اداکار،فلمساز اور ہدایت کار اس کے ساتھ شادی کے خواہش مند تھے لیکن نرگس نے صرف ایک ذرا سی بات پر سنیل دت سے شادی کرلی۔ حالانکہ اگر وہ سنیل دت کو مسلمان ہونے پر مجبور کرتی تو شاید وہ بخوشی مسلمان ہو جاتا۔ ہندو رسم کے مطابق اگنی کے گرد ساتھ پھیرے لئے،لیکن کمال حیرت کی بات کے نرگس نے انتقال سے قبل ایک وصیت کی کہ اسے جلانے کے بجائے اسے دفن کیا جائے۔ سنیل دت جو کہ نرگس کو بیحد چاہتے تھے انہوں نے نرگس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس کی تدفین کی۔ نرگس کو زندگی کے آخری ایام میں کینسر کا مرض لاحق ہوا اور اسی مرض میں دنیا سے کوچ کرگئیں۔ سنیل دت کو جب ڈاکٹر نے بتایا کہ نرگس چل بسی تو وہ زارو قطار رونے لگے۔ اخباری نمائندوں نے سنیل دت سے جب نرگس کے بارے پوچھا کہ نرگس کے بغیر آپ کیسا محسوس کررہے ہیں تو انہوں نے فلم ’’مدرانڈیا‘‘ کے گانے کے ایک بول پڑھے

دنیا میں ہم آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا
جیون ہے اگر تو زہر پینا ہی پڑے گا

سنیل دت نے اپنی فلمی کیرئر کے آغاز میں کوئی شاندار کامیابی حاصل نہیں کی البتہ کچھ عرصے بعد ان کا شمار بڑے اداکاروں میں ہونے لگا۔ وہ آج بھی انڈسٹری میں ہیں، لیکن اب وہ فلاہی کاموں میں زیادہ مصروف ہیں۔ ان کا بیٹا سنجے دت بھارت کی انڈسٹری کا سپر سٹار کہلاتا ہے جسے پیار سے لوگ سنجو بابا بھی کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایکشن فلموں کے لئے سنجے دت سے اچھا ایکٹر آج تک بھارت کی فلمی اسکرین پر نہیں آیا۔

سنجے دت کو ورثے میں ماں کا پیار ملا، نرگس کی شدید خواہش تھی کہ جس طرح وہ بھارت کی سلور اسکرین پر حکمرانی کرتی ہے وہ اس کی آنکھوں کے سامنے حکمرانی کرے لیکن نرگس کو زندگی نے مہلت نہ دی۔

نرگس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک مجبور ی میں ہندو ہونا قبول کیا تھا جبکہ وہ مندروں میں پوجا پاٹ کے لیے نہیں جایا کرتی تھی۔ شاید اسی لیے سنجے دت بم دھماکہ کیس میں گرفتار ہوئے تو لوگوں نے اسے جیل میں نمازیں پڑھتے دیکھا۔ ایک ہندو باپ کا بیٹا کیونکر نماز پڑھ سکتا ہے۔ شاید یہ سب کچھ اس نے اپنی مسلمان ماں سے حاصل کیا۔

نرگس نے اپنے فلمی کیرئر میں بے شمار ایوارڈز حاصل کیے اور حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کا بھی ایوارڈا نہیں دیا گیا۔ نرگس آج دنیا میں نہیں ہے لیکن آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ اس کا شمار ان میں ہوتا ہے جو برسوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

♣ 

One Comment

  1. فلم جوگن کی شوٹنگ کاواقعہ
    استاد جھنڈے خان فخر پنجاب اور امرتسر کاسیٹھ، اداکار اسمعیل منور حسین قاسم جو بعد میں روس چلا گیاتھا قابل ذکر افراد تھے۔ منور حسین ایک قابل اور دیانتدار شخص تھا۔اس کے والد چیف انجیئنر تھے اور ان کے گھر میں انسائکلیو پیڈیا بھی تھا۔ علامہ صاحب کی اس سے ملاقات رائے ونڈ میں ہوئی تھی۔ جہاں وہ اسٹیشن ماسٹر تھا۔ علامہ صاحب کی کمپنی کی اس ریلوے اسٹیشن پر ڈیوٹی لگی ہوئی تھی اور علامہ صاحب اس وقت 3/14 پنجاب میں سپاہی تھے۔ ایک فلم بن رہی تھی۔ جس کانام غالباََ جوگن تھا۔ اس کے گانے کے بول تھے ۔ : ’’ رہے خانہ بدوشوں کا جھنڈ ابلند۔‘‘ ۔ یہ فلم پنجابی میں خانہ بدوشوں پربنائی جارہی تھی۔ استاد جھنڈے خان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے گانے اس فلم میں شامل کرے گا کہ گلی گلی میں ٹانگے والا بھی گاتا پھرے گا۔ اس فلم میں ایک گانا مدھانی کاتھا۔ جس میں ’’گھم گھم گھم‘‘ کی آواز نکلتی تھی۔ علامہ صاحب کے ذمے اس فلم کے حوالے سے یہ کام تھا کہ وہ ایک سلیٹ جس پر سین کانمبر ہوتا تھا اسے منظر کے خاتمے پر سامنے کردیتے اور زبان سے باآواز بلند ’’ کٹ‘‘ کہہ دیتے تھے۔ اس زیر تکمیل فلم کے دوران جلد ہی اداکار اسمعیل اور منور حسین قاسم میں اختلاف ہو گیا اور منور کو نکالدیا گیاتھا۔ علامہ صاحب سے کہاگیا کہ وہ کام جاری رکھیں مگر علامہ صاحب نے اپنے دوست کے نکال دیئے جانے پروہاں رہنا مناسب نہ سمجھا ۔انہیںوہاں سے بیس روپے تنخواہ ملتی تھی۔ جو اس زمانے میں معقو ل رقم سمجھی جاتی تھی۔ اسمعیل اچھااداکار تھا ۔ اس کاقد چھ فٹ اور جسم بے حد مضبوط تھا۔ اس سے زیادہ شہرت خزانچی فلم میں ملی تھی۔ علامہ یوسف جبریل صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اگر آپ وہاں سے الگ نہ ہو جاتے تو دوسرے آغا حشر بنتے۔
    http://www.oqasa.org

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *