ریاست اور موسیقی

احمد بشیر

catherine_potter_3-300

پاکستان کے مشہور گائیک استاد شیخ بدرالزماں نے جو اپنے بھائی قمرالزماں کی سنگت میں گاتے ہیں میاں نعمت خاں سدا رنگ پر ایک عمدہ کتاب لکھی ہے اور اس میں انہوں نے کم و بیش اسی (۸۰)ایسے خیال اور دھر پدلکھ دیئے ہیں جو یہاں سدا رنگ سے منسوب ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے ان کا برتاوا بھی لکھ دیا ہے جس میں گائیک اپنے موڈ اور ترنگ میں اضافے کر سکتے ہیں اور یہی خیال گائیکی کی خوبی ہے۔

شیخ صاحب نے راگوں کی بنیادیں فراہم کر دی ہیں۔ تال بھی لکھ دیئے ہیں ۔مگر نغمے کی طرح لے بھی دریا سمندر ہے اور اس کو بھی پابند نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سے خیال اور بعض راگ نایاب ہو چکے ہیں۔ شیخ صاحب نے موسیقی پر بڑا احسان کیا اور آنے والے سو سالوں کا نصاب لکھ کر محفوظ کر دیا۔

فقیر گانا بجانا نہیں جانتا۔ فقط سننے کا شوقین ہے اس لئے اسے یہ حق نہیں کہ جس حق پر عبور نہیں رکھتا اس کا جائزہ لے مگر یہ کہنا مناسب سمجھتا ہے کہ کتاب پڑھ کر اس کی تسلی نہیں ہوئی۔ اس کی یہ وجہ نہیں کہ شیخ صاحب کی تحقیق میں کچھ کلام ہے۔ مگر یہ شکوہ باقی رہا کہ قاری کو پتہ نہ چلا کہ گزشتہ ایک ہزار سال میں کلاسیکی راگداری کن مراحل میں سے گزری۔

انہوں نے بہت گہری تحقیق کی مگر وہ میاں سدا رنگ تک محدود رہے اور پیاسوں کی پیاس نہ بجھی۔انہوں نے اور بھی پڑھا ہو گا مگر لکھا نہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ راگ داری پر جو کتابیں میسر ہیں ان میں تحقیق کی کوئی سانئسی بنیاد ملتی نہیں۔ جن لوگوں نے تلاش کی ان میں زیادہ تر لکھنے والے انیسویں صدی یا اس سے کچھ آگے پیچھے پیدا ہوئے اور وہ اپنی خیال آرائی میں مستند نہیں‘ پھر کچھ نے روایات کا سہارا بھی لیا جو انہوں نے بزرگوں اور استادوں سے سنیں۔

مسلمان چونکہ راگ داری کو اسلامی فن لطیفہ نہیں سمجھتے اس لئے انہوں نے ہندو لکھنے والوں کی تائید میں راگوں کو دیوی دیوتاؤں سے منسوب کر دیا اور ان میں زیادہ تر شیوجی مہاراج اور سرسوتی دیوی کا ذکر آتا ہے۔ مگر ان دیوتاؤں اور دیویوں کا کوئی تاریخی وجود نہیں۔ اس لئے ان سے راگ داری کی تخلیق اور ترقی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا اور شیخ صاحب کو اس میدان میں ابھی بہت دوڑنا پڑے گا۔سوال یہ ہے کہ جب مسلمان جنوبی ایشیاء میں آئے تو ہندووؤں کے پاس راگ داری کی کون سی شکل تھی اور اس میں مسلمانوں نے کیا کیا ایجاد و تخلیق کیا۔

ہم مسلمان شرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فن شریف ہندوؤں کا ہے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے سیکھا۔ اسی طرح ہم پینٹنگ‘ رقص اور دیگر فنون لطیفہ سے منکر ہیں۔ تاریخ کو بھی نہیں مانتے۔ ٹیکسلا‘ موہنجوڈارو اور اشوک کو بھی غیر سمجھتے ہیں حالانکہ یہی پاکستانی تہذیب کی جڑیں ہیں۔

ہندو کہتے ہیں کہ راگ داری شاستروں سے اخذ ہوئی۔ مگر ہم نے کسی وید کی اپ نشد کی پران میں کسی راگ کا انترہ استھائی یا طبلے کے بول بندش نہیں دیکھی۔ رگ وید میں بعض بھجن ملتے ہیں مگر موسیقی کی کسی فارم کا ذکر نہیں ہے۔ جہاں تک سازوں کا تعلق ہے تو اکتارہ دو تارہ یا وین کی ابتدائی شکل مسلمانوں کے آنے سے پہلے ہندوستان میں موجود ہو گی مگر ستار پر چابیاں کس نے لگائیں ‘ کب لگائیں۔ طبلے کی ایجاد کا سہرا کس کے سر ہے۔ سارنگی جس کا ذکر شیخ صاحب نے میاں نعمت خاں سدا رنگ کے زمانے سے منسوب کیا ہے کب بنی ‘ کس نے اس کے تار کھینچے۔ اس کی شکل انگریزی ساز فڈل سے مشابہ ہے۔ کیا یہ انگلستان میں سے کسی ابتدائی شکل میں آئی اور ہندوستان نے اس کو ترقی دی؟

طبلے کی تلاش کے سلسلے میں اس عاجز نے ایک مرتبہ لاہور میوزیم کی ساری پرانی تصاویر دیکھیں۔ مگر ان میں اور ان کی پینٹنگز میں طبلہ موجود نہیں۔ ڈھولک یا مردنگ اور پکھاوج کی شکل کے ساز موجود ہیں مگر طبلہ کس نے بنایا‘ کب بنایا اور اس کے بول کب مرتب ہوئے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا۔ جتنا لٹریچر اس فقیرکی نظر سے گزرا اس میں ایسی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔

یہ بھی مشہور ہے کہ کتھک ناچ قدیم ہندوناچ ہے جو مندروں میں دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے دیو داسیاں ناچتی تھیں مگر اٹھارویں صدی کی کتابوں میں کتھک کا ذکر نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کتھک ناچ بنیادی طور پر ازبکستان سے شہنشاہ بابر اپنے ساتھ لایا اور اس زمانے میں یہ مرد سپاہیوں کا لوک ناچ تھا۔ بعد میں ترقی پا کر عورتوں کے لئے مخصوص ہوا حالانکہ اس کے استاد مرد ہی رہے اور اب بھی یہی کیفیت ہے۔ اب چونکہ اسلام میں عورت مرد کے تعلقات اور عشق و محبت پر گرفت ہوتی ہے اس لئے اس کی تھیمیں ہندو کلچر سے مستعار لی گئیں اور کرشن رادھا اور گوپیوں کی کہانیاں گھڑی گئیں۔ اگر ازبکستان کے موجودہ لوک ناچوں کو دیکھا جائے تو کتھک کے رنگ بھاؤ ان میں نظر آئیں گے۔

مگر ٹھہریئے۔ اجنتا اور ایلوراکے غاروں میں جو مجسمے ملے ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت نا ٹیم کے آسن تھے اور یہ مجسمے مسلمانوں کے آنے سے پہلے کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں نے جنسیات اور جمالیات کو دھرم کا حصہ بنایا تھا اور وہ حسین عورتوں کے مختلف آسنوں کے مجسمے تراشتے تھے۔ پنجاب میں بھی یونی لنگم مجسمے ملے جو لاہور کے عجائب گھر میں دیکھے جا سکتے ہیں مگر اجنتا اور ایلورا کے مجسمے بھارت ناٹیم ناچ نہیں بلکہ یوگا کے آسن ہیں جن کو دیکھ کر آدمی سحر جمال میں بے سدھ ہو جاتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ جب ہمارے پاس تحقیقی مواد نہیں تو پھر ہم کس طرح علم الاصنام کے چکر سے نکلیں اور راگ داری کی تعمیر کی سائنس سے آگاہ ہوں۔

اس سلسلے میں ہمیں چند بنیادی مفروضوں سے ابتدا کرنی ہو گی۔ ماننا پڑے گا کہ فنون لطیفہ بھی ریاستی ادارہ ہوتے ہیں اور ریاست کا تنظیمی ڈھانچے میں فنون لطیفہ کا راہنما ہوتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ فنون لطیفہ ریاست کے سطحی ڈھانچے کے اندر محدود رہتے ہیں۔ اس طرح تو کسی فن کی ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ فنون لطیفہ میں بھی دیگر فنون کی طرح بعض تخلیقی دل و دماغ بغاوت کرنے اور نئی جہتیں تلاش کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باغی لوگ پرانے ریاستی ڈھانچے کی بجائے ایک نئی قسم کی ریاستی تنظیم چاہتے ہیں اور بغاوت ہی ترقی کا زینہ ہے۔

اگر اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے اور دوسرا کوئی راستہ ہے بھی نہیں تو پھر راگ داری کی تعمیر و ترقی کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ جب مسلمان ہندوستان میں آئے تو ریاست کی تنظیم کے حوالے سے ہندوؤں کے پاس کیا تھا۔ مسلمان جب ہندوستان میں آئے تو مختلف ملکوں اورخطوں میں بٹا ہوا براعظم تھا جن پر چھوٹے چھوٹے جاگیردار اور راجے حاکم تھے۔ کوئی مرکزی ریاستی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ چنانچہ راگداری کے بارے میں ہندوؤں کے پاس زیادہ سے زیادہ لوک گیت یا بھجن تھے۔ کسی قسم کی شاستری موسیقی موجود نہ ہو سکتی تھی۔

مسلمان اپنے ساتھ نئے تغیرات لائے تھے۔ عربوں نے سندھ اور ملتان فتح کیا اور وہاں منظم حکومتیں قائم کیں تو ہندوستان کے تمام ادارے اور فنون ان سے اثر پذیر ہوئے۔ ہندوستانی موسیقی کو عربی موسیقی کے امتزاج سے ایک خاص سمت ملی۔ یہ امتزاج پہلے سندھ میں اور پھر پنجاب میں شروع ہوا۔ مگر عربوں کے جنوبی ہند سے تجارتی تعلقات پہلے سے چلے آتے تھے اس لئے کرناٹکی موسیقی میں اب بھی عربی موسیقی کے کومل سر اور تانیں ملتی ہیں۔ پنجاب میں عربی موسیقی کی جگہ ایرانی موسیقی نے لے لی اور ہندوستانی راگداری پر اس کا اثر گہرا ہوتا گیا۔

مشہور ہے کہ خیال گائیکی کے بانی امیر خسرو تھے۔ یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ امیر خسرو ایک بے مثل فنکار تھے اور قوالی اور دیگر اصناف کے علاوہ شاعری بھی کمال کی کرتے تھے۔ اگرچہ سات بادشاہوں کے درباری رہے مگر حضرت نظام الدین اولیا کے پیارے مریدوں میں سے تھے اور دربار داری کے باوجود ان کا عوام سے بڑا گہرا رابطہ تھا۔ انہوں نے ہندو لوک گیتوں کو ریاستی مرکزیت کے زیراثر منظم کرنا شروع کر دیا۔ مگر ان سے بہت پہلے ہندوستانی اور ایرانی موسیقی کا امتزاج اور تنظیم خواجہ معین الدین چشتی کی سرپرستی میں شروع ہو چکی تھی۔ انہوں نے تبلیغ و تصوف کے سلسلے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک وحدت میں پرونے کے لئے مروجہ موسیقی سے بہت کام لیا۔ بھجنوں کو حمد میں تبدیل کیا اور اس میں ایرانی موسیقی کو ملایا۔

یہ شیخ بدرالزماں نے ٹھیک کہا کہ خیال کی گائیکی کی ایجاد کا مسئلہ متنازعہ ہے کیونکہ فنون لطیفہ کی کوئی بھی ہئیت کسی ایک فرد کی ایجاد نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ اور سالوں میں شکل پذیر ہوتی ہے مگر جناب شیخ صاحب یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہاں نعمت خاں سدا رنگ نے خیال گائیکی کو کمال تک پہنچایا۔ یہ درست ہے مگر ان کا یہ خیال صحیح نہیں معلوم ہوتا کہ سدا رنگ نے دھرپدمیں سے سینچائی اور ابھوگ کو خارج کر کے استھائی اور انترے کو رواج دیا اور یوں خیال کی اٹھان اٹھی۔

ان کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دھرپد خیال سے بہت پہلے مروج تھا۔ مگر دھر پد کے معنی سے رکا ہوا پد، یعنی جس میں سے کچھ آہنگ خارج کر دیئے گئے ہوں۔ وہ آہنگ کیا تھے۔ دھرپد اس فقیر نے بہت کم سنا ہے مگر یہ ظاہر ہے کہ اس میں گائیک پر کچھ پابندیاں ہوتی ہیں۔ یعنی وہ اپنی طبیعت کے مطابق تان پلٹا نہیں کر سکتا۔ اسے ایک خاص راستے پر چلنا ہے۔ خیال گائیکی میں اس قسم کی کوئی شرط نہیں اور فقیر کی رائے میں ہندو لوک گیتوں کی اگلی منزل خیال ہی ہو سکتی ہے جو لوگ گیتوں کی طرح آزاد ہے مگر بعض قوانین کا پابند ہو جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ دھرپد گائیکی خیال کے بعد کی گائیکی ہے۔ اس سے پہلے کی نہیں اور اس کے لئے بھی ہندوستان کی ریاستی تنظیم کی طرف دیکھنا ہو گا۔

سلاطین کے زمانے میں ریاست منظم ہونا شروع ہو گئی تھی اور اس کے حوالے سے گائیکی اور دیگر فنون لطیفہ بھی قاعدے قانون کے پابند ہونے لگے تھے۔ افسوس کہ ہمارے پاس اس زمانے کی موسیقی کی کوئی مثال نہیں۔ مگر یقیناًوہ لوک گائیکی کی اگلی شکل ہو گی۔

دھرپد گائیکی کے سلسلے میں اکبر کا دور بہت اہم ہے۔ اب اکبر کی ریاستی تنظیم پر نظر ڈال لیجئے۔ وہ شمالی ہند وسطی ہند اور مشرقی ہند پر قدرت کامل رکھتا تھا۔ سلطنت کی تمام دولت اس کی دولت تھی۔ اس کے وزیرمال چونیاں کے راجہ ٹوڈرمل نے زمین کی پیمائش کر لی تھی اور بعد میں آنے والے انگریز اور پاکستانی بھی اسی کی پیمائش کو سند مانتے ہیں۔ اس کا خراج اور مالیہ وصول کرنے کا نظام بہت موثر تھا۔ نظم و نسق قائم کرکے اور خراج وصول کرنے کے سلسلے میں اکبر نے اپنی سلطنت اپنے معتمد منصب داروں میں تقسیم کر رکھی تھی۔ اس کے سیکرٹریٹ کا ئستھ ہندو اور بانیئے کلرک اور محاسب چلاتے تھے اور ہر حکم اور عمل کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ بے شمار شادیوں کے ذریعے اکبر نے چھوٹے راجاؤں سے رشتہ داریاں قائم کر رکھی تھیں۔ ملک میں سکھ چین تھا وہ خود ان پڑھ تھا مگر علم کا پیاسا تھا اور اس نے فتح پور سیکری کے محلات میں ایسے ہال بنوا رکھے تھے جن میں فلسفیانہ مباحث ہوتے تھے۔ راگ داری بھی ہوتی تھی اور اس کے نورتن اپنے اپنے کمالات دکھاتے تھے۔ ان میں ایک بڑا گائیک تان سین بھی شامل تھا۔جس نے دھر پد گائیکی میں کمال پایا تھا اور جسے موسیقی کی دنیا میں ایک افسانوی حیثیت حاصل ہے۔

فقیر کو سُر کا گیان نہیں مگر کراچی میں اس کے گھر میں ہفتے کی رات کو باقاعدہ گانے کی مجلس ہوتی تھی۔ ایک محفل میں ایک استاد نے کہا کہ تان سین سے جو دھرپد منسوب ہیں وہ اس ماترے کی لے پر پورے نہیں اترتے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ تان سین گویا نہ تھا بلکہ ایک سریلا نظم خواں تھا جو بادشاہ کی دربار میں آمدپر استقبالی اشعار پڑھتا تھا۔ اگر میری یادداشت دھوکا نہیں کرتی تو میاں عبدالرحیم خانخاں نے تان سین کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ کچھ ’’غوں غاں‘‘ کر لیتا تھا اور گویوں کے ذکر ہی میں اس نے اور گائیکوں اور نائیکوں کا بھی نام لیا ہے۔

مثلاً میاں میر منجھو مگر یہ لوگ دھرپد یعنی تخلیص شدہ موسیقی میں گاتے تھے۔ اکبر جیسے بادشاہ کے سامنے کسی کو شوخی یا انفرادی مزاج داری کی جرآت نہ تھی اور کوئی شخص موسیقی میں ذاتی ارادے سے کام نہیں لے سکتا تھا۔ اس کی ریاستی تنظیم اور اداروں کی مرکزیت کا فلسفہ ایسی گستاخی کی اجازت نہ دے سکتا تھا۔ مگر آگرہ فتح پور سیکری‘ دہلی اور لاہور (جہاں اکبر نے مختلف زمانوں میں قیام کیا) کے علاوہ چھوٹے منصب داروں اور راجوں کے درباروں میں گائیک اور نائیک ایسے مجبور نہ تھے اور لوک گیتوں کی قریب ترین صنف خیال کی ابتدائی شکل گاتے تھے۔

شیخ صاحب کی یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ دھرپدمیں سے خیال میاں نعمت خاں سدا رنگ نے اخذ کیا۔ دھرپد میں سے جو ’’کثافت‘‘ خارج کی گئی تھی وہ خیال کی تانیں اور انفرادی فنکاروں کے ارادے تھے۔

خواجہ معین الدین چشتی اور امیر خسرو نے ہندوستان کی ’’لوک‘‘ گائیکی پر جو اولیں تجربے کیے خیال گائیکی انہی کی ترقی یافتہ شکل ہو سکتی ہے۔ فقیر نے کوئی چالیس سال پہلے ابن بطوطہ کا سفرنامہ پڑھا تھا اب ٹھیک سے یاد نہیں مگر اس میں سلطان حسین مشرقی کا تذکرہ تھا جس نے موسیقی کے ذوق کی تکمیل میں تخت و تاج چھوڑا اور چمپا نامی ایک خوش گلو عورت کے لئے رام لیلا کے لئے دھنیں بنائیں۔ وہی خیال کی بنیاد ہیں۔ واللہ اعلم۔

رفیق غزنوی مرحو م نے اس فقیر سے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے آنے سے پہلے ہندو صرف چار سروں میں بھجنوں کی نظم خوانی کرتے تھے اور چار سروں میں کوئی راگ مرتب نہیں ہوتا۔ جنوبی ایشیاء کی موسیقی میں تخلیق و ایجاد کسی عرب‘ ایرانی یا ترک کا کمال نہیں۔ یہ کام ایرانی عرب اور ترک نسل کے مسلمانوں نے کیا جو ہندوستان کو وطن بنا چکے تھے اور اس کے کلچر میں رنگے جا چکے تھے۔

اس لئے عرب ایرانی اور ترکوں کا کوئی ملک ایسی مکمل اور جادو اثر موسیقی پیدا نہیں کر سکا جیسی ہندوستان اور پاکستان میں ہوئی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں انہیں مقامی موسموں ملکوں اور خطوں میں ایسے جاں گداز لوک گیت ملے جن کو پر لگ سکتے تھے اور خیال گائیکی جو آہستہ آہستہ اور صدیوں میں کمال تک پہنچی ان سروں کی ابتدائی شکل ہو سکتی ہے۔ دھرپد بعد میں بنا جب ریاست منظم ہوئی اور جب بادشاہ کی ہیبت نے آزادی اظہار چھین لی۔

فقیر کیونکہ محقق نہیں اور موسیقی کی تاریخ کسی نے نہیں لکھی اس لئے کہہ نہیں سکتا کہ سنچائی اورربھوگ کس زمانے میں دھرپد کی بنیاد بنے اور کن حالات میں شکل پذیر ہوئے۔ اکبر کے بعد جہانگیر کا دربار بھی موسیقاروں سے آراستہ رہا مگر اس کی بنیادی دلچسپی مصوری میں تھی اور وہ اپنے زمانے کا بہت بڑا ناقد تھا۔ شاہجہان نے دھیان تعمیرات اور باغات کی طرف رکھا مگر گوئیے بھی اس کے دربار سے منسلک رہے۔ اورنگ زیب نے موسیقی کو خلاف شریعت قرار دے دیا مگر اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ موسیقی کو حرام سمجھتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنے بڑے بھائی دارالشکوہ کو جو ویدانت کا طالب علم تھا اور ہندو تصوف کی بہت تحریم کرتا تھا قتل کیا اور مسلمان علماء سے اپنی حکومت کے جواز کی سند لینے کی خاطر اسے احکامات جاری کئے جن سے فقیہہ راضی رہیں۔ چاہے اس کے بارے میں قرآن شریف میں واضح احکام نہ ہوں ۔

مگر اکبر جیسی مرکزیت پھر کسی کو حاصل نہ ہوئی اس کے زمانے میں بڑے سے بڑا منصب دار پنچ ہزاری اور شہزادے ہفت ہزاری منصب دار ہوتے تھے۔ اورنگ زیب پچاس برس جنوبی ہند میں لڑتا رہا اور اخراجات کے لئے اس نے منصب داری سے زیادہ سے زیادہ رقم وصول کرنے کے خیال سے بعض کو سبقت ہزاری یعنی ساٹھ ہزاری مرتبے دیئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ادھر اس نے آنکھیں بند کیں ادھر جابجا شورشوں نے سر اٹھایا اور سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگی۔

یعنی مرکزیت بکھر گئی اور ادارے آزاد ہو گئے۔ فوجی اور سول اداروں میں افراتفری پھیلی اور نت نئے تجربے ہونے لگے جن کی نوبت محمد شاہ رنگیلے تک پہنچی۔ نعمت خاں سدا رنگ جس کے دربار کا انمول ہیراتھا۔ دھرپد کی گائیکی کی روایت تو باقی رہی اور اب بھی اس گانے والے موجود ہیں مگر اس کا رواج نہیں رہا۔

خیال جہاں سے ہندوستان کی موسیقی شروع ہوئی نت نئے روپ اختیار کرتا گیا جس میں لے کی لڑیاں بھی شامل ہیں۔ ان لڑیوں کی تخلیق میں کتھک ناچ کی ترقی کا بھی بڑا دخل ہے جس کے بڑے بڑے مراکز لکھنو‘ جے پور اور کسی حد تک لاڑکانہ رہے۔ اس مرکز کا ذکر رچرڈ بریٹن نے کیا ہے مگر سندھی محقق خود یہ بات نہیں کہتے۔

دھرپد تخت سے نیچے اترا تو خیال کی سنہری پگڑی نے اور رنگ بکھیرا اور اس میں مزید تخلیق ہونے لگی ۔ راگداری میں حسین اور طرحدار عورتوں نے رنگ ڈالا جو اکبر اور اس کے بعد کے درباروں میں ممکن نہ تھا۔ اورنگ زیب کے بعد جب ہر شخص اظہار کے معاملے میں آزاد ہو گیا تو راگداری کا مقصد حسن و عشق کی آگ بھڑکانا رہ گیا اور خیال کی اوگھٹ تانوں اور الاپ اور سروں کی بڑھت کے قوانین کے خلاف حسین اور شریر تانوں اور بوؤں کی بنیاد پر ٹھمری نے سر اٹھایا۔ اس کے لئے راگوں کی تخلیص بھی ہوئی‘ ٹھمری پر راگ ہی گایا جا سکتا ہے مگر رواج صرف چند ہی راگوں نے پایا جو زیادہ دلربا تھے۔ باقی دلارے سادرے کجریاں اور آگے چل کر تھیٹر کی موسیقی‘ ریڈیو کی موسیقی اور فلم کی موسیقی لوک گیت خیال کے ارادے ٹھمری کے چلتر بازی اور کسی حد تک مغربی موسیقی سے مشتق ہے۔

فقیر مغربی موسیقی کو قبول نہیں کر سکا اگرچہ انفرادی سروں کے باہمی رشتوں کو انہوں نے کمال تک پہنچایا۔ مگر راگ کی تھیموں اور موڑوں پر غور کیا جائے تو اسے بڑے بڑے موزارٹ اور بیتھوون گڈریئے لگتے ہیں۔ اور لے کے پھندوں کو مغربی موسیقار جانتے ہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ چار اور چھ ساترے کی سیدھی لے جس پر ہمارے سرگودھا کے گھوڑے اور بہاولنگر کے اونٹ بھی پورے آ جاتے ہیں۔ اس لے میں کبھی کبھار مو آڑ کر لیتے ہیں لیکن آڑ کو اڑ کر وہ نہیں جانتے۔ ہمارے بے کار سوچاہیں تو چار ماترے کی گنتی بھی بھلا دیں۔ ان کی تشکیل بھی نیچر نہیں‘ میکانکی ہے۔ ان کے پاس کلاسیکل موسیقی کا کوئی سرمایہ نہیں۔ فقط پرانے استادوں کی کچھ بندشیں ہیں جو راگداری کے شمار میں نہیں آتیں۔

یہ طرفہ تماشہ ہے کہ ہماری راگ داری صرف اس وقت کمال کو پہنچی جب ریاستی مرکزیت کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ شاعری بھی اسی زمانے میں بکھری۔ اور اس سلسلے میں محمد شاہ رنگیلے اور واجد علی شاہ کے زمانے کمال کے زمانے تھے۔ انہوں نے سیاسی طور پر اپنا بیڑا غرق کر لیا اور جب محمد شاہ رنگیلے کو شمال کے منصب دار رقعے بھیجتے کہ نادر شاہ چڑھا آ رہا ہے تو وہ ان رقعوں کو جام شراب میں ڈبو کر کہتا ہنوز دلی دور است۔

پھر نادر شاہ نے اسی دلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ تین روز تک دہلی میں قتل عام کیا۔ سارا سونا اور ہیرے اور کوہ تخت و طاؤس چھین کر لے گیا۔ مغل سلطنت میں پھر کوئی جواں مرد پیدا نہ ہوا۔ واجد علی شاہ خود کتھک کے استاد تھے اور حسین عورتوں کو ناچ خود سکھایا کرتے تھے مگر انگریزوں کے آگے انہوں نے گردن ڈال دی اور لکھنو کو چھڑا کر مٹیا برج کلکتے میں پنشن پر آباد ہو گئے۔ مگر کتھک اور طبلہ نوازی کو انہوں نے کمال تک پہنچایا۔

پنجاب نے دھرپد گائیکی میں نام پایا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اکبر نے یہاں سولہ برس قیام کیا تھا اور اس کے ساتھ اس کے دربار کی روایات بھی یہاں جڑیں پکڑ گئی تھیں مگر چونکہ لاہور کبھی اور پنجاب کبھی اپنے آپ پرراج نہیں کر سکے اس لئے یہاں کوئی مقامی فارم تخلیق نہیں ہوئی۔ اس کا کچھ بگڑا بھی نہیں۔ اس کی سینے کی گائیکی کے سارے ہندوستان کو متاثر کیا ہے۔ پٹیالہ اور شام چوراسی پنجاب کے بڑے خیال گھرانے تھے۔

اب میں یہ عرضداشت ختم کرتا ہوں اور استاد شج بدر الزماں سے توقع کرتا ہوں کہ وہ ان گرنتھوں کا نام لکھیں ان کے مصنفوں کا ذکر کریں اور ان کے زمانے بھی بتائیں جن سے انہوں نے یہ اخذ کیا کہ دھرپدخیال سے پہلے رائج تھا یا مسلمانوں کے آنے کے وقت ہندوؤں کے پاس کلاسیکی موسیقی کی کوئی صنف موجود تھی۔ شاستر اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں۔ فقیر کے خیال میں انہیں اس کے لئے ایک اور کتاب لکھنی پڑے گی۔

پاکستانی موسیقی کا اس وقت جو حال ہے اور جس قسم کی کھچڑی پک رہی ہے وہ پاکستان کی ریاستی تنظیم یا بدنظمی یا بے سمتی کی پیداوار ہے۔ ہم اپنے ثقافتی ورثے سے انکار کرتے ہیں۔ پاکستان کی بنیادیں تبدیل کرتے ہیں۔ تاریخ سے انکار کرتے ہیں تو پھر فنون لطیفہ بھی زوال پذیر ہوں گے۔ ہمارا میوزک ہمارے زوال کی آخری حد نہیں۔ آگے آگے دیکھئے۔(نیا زمانہ 2001)َ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *