حکایت پردہ فسوں

خورشید جاوید

evildead-624-1382719778
نامور روسی ادیب میکسم گورکی نے گزشتہ صدی کے اوائل میں امریکہ کا سفر کیا۔ گورکی نے اپنی یاداشتوں میں امریکی زندگی کے دلچسپ پہلوؤں سے نقاب اٹھایا۔ اس نے ایک میوزیم کا ذکر کیا جس میں شائقین خوشی اور تجسس سے داخل ہوتے تھے مگر چیختے چلاتے ہوئے نکلتے تھے۔ کیونکہ میوزیم کے اندر ایسا ماحول پیدا کیا گیا تھا جس سے انسان میں خوف کی جبلت بیدار ہوتی تھی۔

یہ تو بیسویں صدی کے آغاز کی بات ہے، مگر گزشتہ صدی نے دیکھا کہ امریکی سرمایہ دار نے محبت و مذہب سے لیکر جنس تک ہر جذبے کو قابل فروخت شے بنا دیا۔ اس کی پیروی ان تمام ملکوں کے سرمایہ داروں نے بھی کی جہاں پر امریکی اثرورسوخ پہنچا تھا۔ اس بارے میں لینن کا ایک مقولہ بہت اہم ہے، کہ اگر سرمایہ دار کو یہ علم ہو جائے کہ جس رسی سے اس کے گلے میں پھندا ڈالا جائے گا وہ اس سے کچھ منافع حاصل کر سکتا ہے تو وہ رسی کے اس ٹکڑے کو بھی سپلائی کرنے پر تیار ہوگا۔

لینن نے دراصل یہ حقیقت بیان کی تھی کہ منافع کے حصول کے آڑے کوئی جذبہ‘ کوئی اخلاقی قدر کوئی مذہبی اصول نہیں آسکتا ۔

گزشتہ صدی پاپولر کلچر‘ پاپ میوزک ‘ پاپولر ادب سے روشناس ہوئی۔ یوں حقیقی ثقافت۔ حقیقی موسیقی و ادب ایک مختلف صنف ٹھہری جو صرف تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے مختص ہو گی۔ پاپولر ادب و کلچر اور پاپ میوزک کا محرک امریکی سرمایہ دارانہ سوچ تھی جس کے تحت ایسی موسیقی‘فلم اور ادب تخلیق ہونا چاہیے جس کی بنیاد انسانی جبلتوں کی تسکین پر ہو۔ تہذیب و اخلاق کی حدود و قیود بے معنی ہوں۔ معاشرے کی بہتری اور انسان کی ذہنی و روحانی ترقی مطمع نظر نہ ہوں۔

پاپولر ادب اور فلم امریکی فلموں اور فکشن کے راستے ترقی پذیر ممالک میں گھس آیا۔ ترقی پذیر ممالک کی اکثریت ان فلموں اور ناولوں میں پیش کردہ زندگی کو ہی امریکی زندگی سمجھتی ہے۔ اور یوں عام امریکی اور امریکی زندگی کے بارے میں ایک مسخ شدہ تصور ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو چکا ہے۔ (حالانکہ نہ تو یہ اصل امریکی زندگی تھی اور نہ ہی امریکی ادب و آرٹ، جہاں ہالی وڈ میں پاپولر فلمیں ( مار دھاڑ، جنس اور جرم و سزا پر مبنی)بنتی رہیں وہاں جان فورڈ اور چارلی چپلن جیسے فنکاروں کی فلمیں بھی تخلیق ہوتی رہیں۔ جنہوں نے امریکی عوام کے حقیقی مسائل اور امریکی انسان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

اس طرح جان اسٹین ، جیک لنڈن اور کئی دوسرے ادیبوں کے ناول بھی شائع ہوتے رہے، لیکن بدقسمتی یہ تھی کہ ایسے ادیب اور فلموں کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ اگر عوام میں ایسے فن و ادب کو شرف قبولیت مل جاتا تو ایسے ادیبوں اور فنکاروں کو ملک دشمن قرار دے کر تادیبی کاروائی کا نشانہ بنایا جاتا۔ اگر عوام پھربھی حکومتی پراپیگنڈے سے متاثر نہ ہوتے اور ایسے ادیبوں اور فنکاروں کی عوام میں پذیرائی برقرار رہتی توانکے پیغام کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی۔

للین ہیلمین ایک مشہور ترقی پسند ڈرامہ نگار خواتین تھی۔ جنہیں امریکی ایسٹیبلشمنٹ اور اخبارات و رسائل نے ہمیشہ نظر انداز کیا۔1977ء میں اسکی ایک کہانی پر ’’جولیا‘‘ نامی فلم بنی جس میں جین فونڈا اور وینسا ریڈ گریو نے مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم میں دوسری جنگ عظیم سے قبل یونیورسٹیوں میں نازیوں کے حامی طلباء کے ریڈیکل طلباء و طالبات پر تشدد اور دوسری جنگ عظیم کے دوران محکوم عدالتوں میں نازی ازم کے مخالفوں کی جدوجہد کی عکاسی تھی۔ مگر جب نیوز ویک نے اس فلم کو کور سٹوری کا حصہ بنایا تو تبصرے کا موضوع دو سہیلیوں کے درمیان رومانی تعلقات کو بنایا گیا۔ اور ایک حقیقی پیغام کو نظر انداز کر دیا گیا۔

، مغربی میڈیا کی یہی کوشش رہی ہے کہ اپنے تبصروں میں انقلابی اور انسان دوستی پر مبنی موضوعات کو نظرانداز کر کے ایسے پہلوؤں کو اجاگر کرے جن کی تبلیغ وہ پاپولر ادب کے ذریعے کرتا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی فلموں کابینروہ فنکار ڈائیریکٹر اور سکرپٹ رائٹر نہیں ہیں جنہوں نے امریکی عوام کے جذبات اور امنگوں کی عکاسی کی۔ بلکہ امریکی فلموں کی پہچان مرد اور عورت کے اس تصور سے ہے جو انہوں نے تخلیق کیا۔ عورت کا سمبل اگر مارلن منرو‘ برجی بارودت یا بوڈریک تھیں تو مردوں کی نمائندگی جان ریمبو‘ جیمز بانڈ اور ٹرمینٹر کرتے تھے۔ امریکی مرد اور عورت کا ایسا امیج پیش کرنا امریکی ایسٹیبلشمنٹ کی ضرورت تھی۔

دوسری جنگ عظیم سے پیشتر امریکہ میں ترقی پسند اور انسان دوست ادب و فنکار اپنے سرمائے اور صلاحیتوں کے زور پر ادب اور فلم میں مقام پیدا کر چکے تھے اور انہیں عوام میں شرف قبولیت بھی حاصل تھا، دوسری جنگ عظیم کے بعد ادیبوں اور فنکاروں کو ذہنی اذیت دینے اور انڈسٹری سے باہر کرنے کے لئے سرکاری ادارے متحرک ہو گئے کیونکہ امریکی مرد اور عورت کا ایسا روپ پیش کیا جانا تھا جو ترقی پذیر ممالک پر امریکی طاقت و ترقی کی دھاک بٹھاسکے اور امریکی ثقافت کا غلبہ جما سکے۔ اس لیے جہاں نئے پاپولر ادب و فلم میں امریکی مرد طاقت اور قوت کی علامت دکھایا گیا ہے وہاں امریکی عورت خوبصورتی‘ ذہانت اور جنسی کشی کی علامت ٹھہری۔

دوسری جنگ عظیم پر مبنی فلمیں بنائی گئیں جس میں جرمن ہمیشہ ظالم‘ بے رحم‘ سنگدل اور دل و دماغ سے عاری کٹھ پتلی ہوتے تھے۔ اتحادی ہمیشہ بہادر‘ ہمدرد اور فرض کے پابند انسان تھے۔ جاسوسی فلموں میں امریکی ہیرو برطانیہ کی مدد سے سوویت یونین اور اس کے اتحادی جاسوسوں کا قلع قمع کرتے پھرتے تھے۔ سائنس فکشن فلم بنتی تھی تو اس میں بھی دور دراز پر اسرار انجانی دنیا میں اجتماعی قیادت کی حکمرانی ہوتی تھی۔ اجتماعی قیادت کا استعارہ سوشلسٹ ملکوں میں طرز حکومت کی مخالفت کیلئے استعمال ہوتا تھا۔

دوسری جنگ عظیم میں فتح و کامرانی کا سحر اور سرد جنگ کا شور شرابہ ختم ہوا تو پھر اندرون ملک موضوعات کی تلاش شروع ہوئی۔ لیکن تشدد‘ جنس‘ جرائم اور جنوں بھوتوں سے پرے نظر نہ گئی۔ اب شاید گیارہ ستمبر کے واقعہ اور عراق جنگ کے بعد امریکی میڈیا کے سرمایہ دار کو پھر نئے دشمن مل جائیں جنہیں وہ ولن بنا کر ادب اورفلم تخلیق کر سکے۔ مختصر اًامریکی میڈیا سرمایہ دار کی فطرت میں ہی نہیں کہ وہ انسانی دوستی کی بنیاد پر ادب یا فلم تخلیق کر سکے کیونکہ اس کا مقصد تو انسانی جبلتوں اور احساسات کا استحصال ہے۔

کیا پورے یورپ کا ادب اور فلم انہی موضوعات پر ہی انحصار کرتا ہے جس سے پاپولر امریکی فلمیں اور ادب بھرا پڑا ہے۔ نہیں ایسا نہیں۔ امریکہ میں بھی پاپولر ادب‘ پاپولر فلموں اور پاپ میوزک کے مقابل حقیقی ادب اور فلمیں تخلیق ہوتی ہیں۔ یورپ میں ایسی فلمیں اور ادب پروان چڑھتا رہاجو انسانی مسائل اور انسانی جذبات کی عکاسی کرتے تھے۔ مغربی یورپ نے امریکی کلچر کو کبھی پسند نہیں کیا۔وہ امریکی فلموں اور فکشن کے بھی خلاف تھا۔ لیکن امریکی سرمائے کے زور پر پیدا ہونے والی فلموں اور فکشن کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیونکہ بڑا سرمایہ نئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتاتھا جس میں ایک نیا پن اور کشش ہوتی تھی۔

چونکہ ایسا ادب اور فلمیں انسانی جبلتوں کے استحصال اور ہیجان خیز جذبات کو ابھارنے پر انحصار کرتا تھااس لیے یہ فطری تھا کہ نئی نسل اور غیر تعلیم یافتہ طبقے میں اسے مقبولیت حاصل ہو۔ پھرسب سے بڑی بات یہ تھی کہ برطانیہ کے سوا باقی مغربی ملکوں کو اجنبی زبان کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں رسائی نہیں ہوتی تھی۔ خود برطانیہ کے اچھے فنکار پذیرائی ملنے پر امریکہ کا رخ کر لیتے تھے۔ رچرڈ برٹن، الفریڈ ہچکاک، الزبتھ ٹیلر، ڈیوڈ لین اسکی صرف چند مثالیں ہیں۔ یوں امریکی فلموں اور فکشن کا تسلط مغربی ممالک اور ترقی پذیر ممالک پر ہو چکا ہے۔

عراق جنگ نے نصف صدی کے بعد جہاں عالمی دنیا میں ایک تغیر برپا کر دیا ہے وہاں میڈیا کی نام نہاد غیر جانبداری کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ خود اتحادیوں کے درمیان مفادات نے شکوک و شبہات پیدا کر دئیے ہیں۔ عراق جنگ کے بحران کے دور میں تو فرانسیسی حکومت کو اعلان کرنا پڑا کہ وہ اپنا انٹر نیشنل چینل سامنے لائے گی۔

جرمن حکومت نے پہلے ہی سے ڈوئچے ویلے( ڈی ڈبلیو) نامی ٹی وی چینل سامنے لا چکی ہے۔ لیکن یہ جنگ ابھی صرف خبروں کے محاذ پر جاری ہے۔توقع پیدا ہوتی ہے کہ شاید انسانی جبلتوں کے استحصال اور امریکی قبضے اور غلبے کی حمایت کرنے والے ادب اور فلموں کے مقابل کوئی دوسرا پہلو بھی سامنے آئے۔ شاید اس میں ہماری امیدوں جیسا معیار نہ ہو لیکن امریکی بزنس اپروچ جیسی بے رحمی نہ ہو۔

مگر سوال یہی ہے کیا یورپی حکومتیں اپنی فلم انڈسٹری اور ٹی وی کی اتنی مالی سپورٹ کر سکیں گی کہ وہ امریکی کلچر کے مقابلے میں حقیقی یورپی کلچر سامنے لا سکیں جس کی جڑیں یورپ کی عالی شان ثقافت اور تہذیب میں پیوستہ ہوں۔

One Comment

  1. Iftikhar Bhutta says:

    Good informative article on narrative of American corporate mind set of film industry .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *