ناروے اور اسلامو فوبیا

خالد تھتھال

5813277395099640360no

ستر اور اسی کی دہائیاں انقلابی حوالے سے بہت اہم ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب ویتنام کی جنگ خاتمے کے جانب رواں دواں تھی، دنیا بھر میں آزادی اور انقلاب کی تحریکیں زور پر تھیں۔ بر اعظم ایشیا میں افغانستان کی حکومت پر نور محمد ترکئی کا قبضہ ہو چکا تھا، شاہ ایران کی جابرابہ حکومت کا تختہ الٹا جا چکا تھا، بر اعظم افریقہ میں انگولا اور موزمبیق آزاد ہو چکے تھے، ایتھوپیا کی ہیل سلاسی بادشاہت کا تختہ الٹا کر بائیں بازو کی حکومت قائم ہو چکی تھی، جنوبی رہوڈیشیا (زمبابوے) کے خلاف رابرٹ مگابے اور جوشو نکومو کی جماعتیں لڑ رہی تھیں،

جنوبی افریقہ کی سفید نسلی اقلیتی حکومت کے خلاف افریقن نیشنل کانگرس کی جدوجہد جاری تھی۔ بر آعظم جنوبی امریکی میں نکاراگوا میں ساندنیستا اقتدار پر قبضہ کر چکی تھی، لگ رہا تھا کہ ایل سالوادور بھی انقلابیوں کے ہاتھ آنے والا ہے، گریناڈا پر بھی بائیں بازو والوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ پیرو میں ہیوگو بلانکو کی قیادت میں کسانوں کی بغاوت جاری تھی، گوئٹے مالا میں بھی انقلابی جدوجہد کر رہے تھے۔ یہ انقلابی نقطہ نظر سے خوشخبریوں کا وقت تھا۔
ناروے میں اس وقت ماؤ نواز جماعت اے کے پی کا بہت زور تھا۔ لیکن وقت نے کروٹ بدلی اور انقلابیوں کو تارکین وطن کی شکل میں نیا پرولتایہ نصیب ہوا جس کی ہر مانگ کی حمایت کرنا انقلابیوں کی زندگی کا مقصد ٹھہرا۔ انہی وقتوں میں اینٹی ریسسٹ سنٹر کا قیام عمل میں آیا جس کو سرکاری طور پر بہت زیادہ امداد ملتی تھی اور آج بھی سرکاری امداد کے حوالے سے یہ سنٹر سب سے زیادہ امداد وصول کرتا ہے۔

حالات نے ایک کروٹ پھر لی اور تارکین وطن کی جگہ مسلمانوں نے سنبھال لی، اب مسلمانوں کی ہر مانگ کی حمایت انقلابیوں پر لازم ٹھہری۔ آج کے وقتوں میں ایسے انقلابیوں کو politically correct لوگ کہا جاتا ہے، جن کے نزدیک کسی کے صیح یا غلط ہونے کی بجائے اس کے فوائد و نقصانات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
حجاب سب سے اہم ایشو تھا اور اپنی مرضی کا کپڑا پہننے کی آزادی سے اس کا دفاع ہوا۔ مسلمانوں نے اسے اپنے مذہب کا حصہ بتایا۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ حجاب کی تاریخ کوئی اتنی پرانی نہیں ہے اور نہ ہی یہ کبھی اسلامی لباس تھا۔ اس کی خالقہ زینب الغزالی تھیں جن کے اخوان المسلمین کے حسن البنیٰ کے ساتھ قریبی رواسم تھے۔ شروع میں اخوان المسلمین کی رکن لڑکیاں اپنی جماعت کے تعلق کا اظہار کرنے کیلئے اسے استعمال کرتی تھیں، اور اب اس جماعت کے کام کے نتیجے میں یہ مسلمانوں کا لباس ٹھہراہے ۔

ایک وقت تھا کہ مختلف مسلمان ممالک کی خواتین سر پر اپنی ثقافتی اوڑھنی اوڑھا کرتی تھیں، جس سے پتہ چل جاتا تھا کہ خاتون کس ملک سے تعلق رکھتی ہیں، آج حجاب کی برکتوں سے یہ فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے، اب ہر خاتون مراکن،پاکستانی، ایرانی و افغانی کی بجائے صرف مسلمان نظر آتی ہیں، ہم آج حجاب کو مسلمان خواتین کے یونیفارم کا لازمی جز سمجھ سکتے ہیں۔ حجاب کے علاوہ مختلف قسم کے نقاب بھی استعمال ہو رہے ہیں، مقامی لوگوں میں کئی لوگ اس پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں لیکن قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

مسلمان اس حجاب کی مہم کو اس زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں، چھوٹی چھوٹی بچیوں کو حجاب اوڑھایا جا رہا ہے تاکہ وہ اس کی اس قدر عادی ہو جائیں کہ جب بڑی ہوں تو بڑے جوش سے اعلان کریں کہ حجاب میری مجبوری نہیں بلکہ انتخاب ہے۔ یہ بچپن کی برین واشنگ ہے جو مستقبل میں بہت کچھ ایسے دعوے کروائے گی جو شائد نارمل حالات میں پالے گئے بچے سوچ بھی نہ سکیں۔

سکولوں کا حال بھی اچھا نہیں جا رہا۔ اگر کوئی مسلمان بچی سکول کے اندر دوسرے مسلمان بچیوں کی طرح حجاب استعمال نہ کرے، اسے مسلمان بچیوں کی طرف سے مسائل کا سامنا ہے اور اسے کافر ہونے کے طعنوں سے اس قدر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی حجاب استعمال کرے۔ میرے بچے بڑے ہو چکے ہیں، اور مجھے یاد ہے جب میری بچی گھر آ کر بتایا کرتی تھی کہ وہ سکول میں دوسری مسلمان بچیوں سے جھوٹ بولتی ہے کہ اس کا روزہ ہے۔

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج کے وقتوں میں اگر میری بچی سکول جاتی تو مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے حجاب اوڑھانا تھا تاکہ اسے سکول میں دوسری مسلمان بچیوں سے مسئلے پیدا نہ ہوں۔ آج کے وقتوں میں حجاب اوڑھنا کئی بچیوں کیلئے مجبوری بن چکا ہے، میرے بچے تو جیسے تیسے بڑے ہو گئے، لیکن شائد میرے بچے اس حوالے سے مجھ جتنے خوش قسمت نہ ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے مرضی کے کپڑے پہنا سکیں۔

بات صرف حجاب پر ہی نہیں رکتی۔ ضیا الحق قسم کی اسلامائزیشن زندگی کے ہر شعبے میں بڑی شدت سے جاری ہے۔ ایک میٹنگ میں جانے کا اتفاق ہوا، جہاں پر پتہ چلا کہ یونیورسٹی اور ایرپورٹ پرمسلمانوں کیلئے کمرہ مختص ہو چکا ہے، اب اگلا کام یہ ہے کہ ہر کام کرنے کی جگہ پر مسلمانوں کیلئے اسی طرح ایک کمرہ مختص کیا جائے جیسے سگریٹ نوشوں کیلئے ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ایک کالج میں کھیل سے متعلقہ کمرے کو عبادت کیلئے استعمال کرنے کی مہم چلی تھی، پتہ نہیں اس کا کیا بنا۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کسی جگہ بھی پر دو فریقین کے درمیان جھگڑا ہو تو صورت حال کو سدھارنے کیلئے فریقین کے دلائل سنے جاتے ہیں، مطالبات مان لینے کی صورت میں مسئلہ ختم ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کے سلسلہ میں بات ذرا مختلف ہے، ایک مطالبہ مان لینے کے بعد نیا مطالبہ تیار ہوتا ہے، اور اس کے بعد اگلا۔۔

مسلمانوں کے مطالبات کیلئے سیڑھی کی مثال زیادہ مناسب ہے، آپ ایک قدم اوپر چڑھتے ہیں اور وہ اس سے اگلے قدم کی راہ ہموار کرتا ہے اور پھر ایک ایک کر کے آپ چھت پر پہنچ جاتے ہیں۔

مسلمانوں نے اپنے وجود کا پہلی بار احمد رشدی کے کتاب ”شیطانی آیات“ کے وقت دلایا تھا، مظاہرے کے علاوہ کتاب کا نارویجن ترجمہ رکوانے کیلئے عدالت میں مقدمہ تک لے جایا گیا لیکن اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ پیغمبر اسلام کے متعلقہ کارٹونز پر بھی زبردست احتجاج ہوا، جسے دوبارہ پھر دوہرایا گیا جب وہ کارٹون دوبارہ شائع ہوئے۔۔ ”انوسینس آف مسلمز“ نامی فلم کے خلاف بھی کافی بڑا مظاہرہ ہوا۔ ”انتہا پسند“ مسلمانوں نے اپنا مظاہرہ علیحدہ طور پر امریکی سفارت خانے کے سامنے کیا۔ آج کے وقتوں میں مقامی اخبارات اس قسم کی گستاخی کرتے وقت لاکھ بار سوچتے ہیں۔

لیکن تصویر کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ آج کے وقتوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں شدید اضافہ ہو چکا ہے، جسے مسلمان اسلاموفوبیا کا نام دیتے ہیں۔ آج کے وقتوں میں ملازمت کا حصول مسلمانوں کیلئے پہلے جتنا آسان نہیں رہا۔ ایک بار اخبار میں پڑھا تھا کہ کچھ ایرانیوں نے اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے اپنے نام تبدیل کر کے نارویجن نام رکھ لئے ہیں، جس سے دھوکا کھا کر مالکان انہیں انٹرویو کیلئے تو بلا لیتے ہیں لیکن جونہی انٹرویو کیلئے پہنچتے ہیں تو چوری پکڑی جاتی ہے، خواتین کیلئے ابھی مسائل نہیں بڑھے، میری بیوی کی ایک ایرانی دوست نے اپنا نام سعدیہ سے بدل کر سینڈرا رکھ لیا ہے۔

لیکن اسی اسلاموفوب معاشرے میں پاکستانی زندگی کے ہر شعبے میں بہت آگے بھی ہیں، اعلیٰ ملازمتیں، تجارت وسیاست و ثقافت میں بھی نام پیدا کر چکے ہیں۔ ورکرز پارٹی کی ہادیہ تاجک نامی ایک پاکستانی نژاد خاتون ملک کی وزیر ثقافت رہ چکنے کے علاوہ پارٹی کی شریک ڈپٹی چیر مین بھی ہیں، کچھ لوگ انہیں پارٹی کی وارثہ شہزادی بھی کہتے ہیں، امید کی جاتی ہے کہ ایک وقت میں یہ خاتون ملک می وزیر اعظم بنیں گی۔

ایک عیسائی ملک کی مسلمان وزیر اعظم جیسی انہونی بات ناروے میں ہی سوچی جا سکتی ہے۔ ہادیہ کے علاوہ کئی پاکستانی مختلف وقتوں میں پارلیمنٹ کے رکن ہیں یا رہ چکے ہیں، مختلف شہروں کی شہری حکومت میں اس وقت بھی کافی پاکستانی نمائندگان موجود ہیں۔

اسی ناروے میں مسلمان انتہا پسند بھی موجود ہیں، جن کے نزدیک ناروے دارلحرب ہے، انگلینڈ کے انجم چوہدری کے نارویجن ورژن زور و شور سے کام کر رہے ہیں۔ ایک صاحب ہر ہفتہ کے روز شہر کی سب سے معروف گلی میں اسلامی تبلیغ کا سٹال لگاتے ہیں، ایک صاحب شہر کے ایک خاص علاقے کو شرعی قوانین کے تحت چلانے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، جہاں ہم جنس پرستوں کا داخلہ منع ہو گا۔

ناروے جیسے کم آبادی والے ملک سے پچاس سے زیادہ جہادی شام جا چکے ہیں، ایک بار اخبار میں ایک صومالی والد اپنی دو بچیوں کا رونا رو رہے تھے جو شام میں جہاد فی الزنا کیلئے جا چکی ہیں۔ ایک پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر جہاد کیلئے افغانستان گئے اور آئی ایس آئی کے ہتھے چڑھ گئے، جماعت اسلامی فرید پراچہ کی سفارش سے رہا ہو کر واپس آئے، بعد میں ترکی کے راستے شام جانا چاہ رہے تھے لیکن ترکی نے واپس بھیج دیا جس پر موصوف نے بہت واویلا کیا۔

پچھلے دنوں اوسلو سے میرا سنٹر، ویژن فورم اور پاکستانی فیملی سنٹر نے اسلامو فوبیا کے خلاف میٹنگ کا انتظام کیا، میرا سنٹر کو آج تک لاکھوں نارویجن کرونا کی امداد دی گئی ہے۔ اس سال بھی اسے 20 لاکھ اور پچاس ہزار کی رقم امداد کیلئے ملی۔ آج تک اس سنٹر نے کیا کام کیا ہے، اس کے متعلق پتہ نہیں چل سکا۔ البتہ ایک خاتون میری بیوی کو ملی اور اس سنٹر کی سربراہ پاکستانی خاتون کو ایک بہت بڑی گالی دے کر بولی“ کس گھر میں جھگڑا نہیں ہوتا لیکن اس نے میرا گھر اجاڑ دیا“۔

کیونکہ اس سنٹر کی سربراہ کے نزدیک ہر پاکستانی عورت اپنے شوہر کے مظالم کا شکار ہے اور ان مظالم سے بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے کہ پاکستانی مردوں سے طلاق لے لی جائے۔ موصوفہ کو کتنے سال سے لاکھوں کراؤن امداد ملنے کے باوجود نارویجن معاشرے سے نسل پرستی کا بہت گلہ ہے۔

ہمارےہاں اکثر کہا جاتا ہے کہ میں ڈاکٹر بن کر لوگوں کے دکھ درد دور کرنے کا خواہشمند ہوں لیکن اصل حقیقت یہ ہوتی ہے کہ کوئی ڈاکٹر نہیں چاہتا کہ بیماری ختم ہو جائے، کیونکہ اگر بیماری ختم ہو جائے تو ڈاکٹر کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔۔ لیکن لوگ جتنے زیادہ بیمار ہوں گے، ڈاکٹر کا فائدہ اسی قدر ہو گا۔ یہی حال نسل پرستی کی قبر پر بیٹھے مجاوروں کا ہے، اگر نسل پرستی کا کوئی واقعہ نہ ہو گا تو لاکھوں کرونا امداد پانے والی تنظیموں کے وجود کے جواز پر سوال اٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے،

لہذا اگر معاشرے میں نسل پرستی نہ بھی ہو تو اس کا واویلا کرنے دانشمندی کا تقاضا ہے۔ اور یہی کچھ اس اسلامو فوبیا والی میٹنگ میں بھی ہوا۔ نارویجن حکومت سے ہی امداد لے کر نارویجن اداروں پر لعن طعن کی گئی۔

ویژن فورم کے کرتا دھرتا ایک زمانے میں پاکستان گئے کہ انہیں معراج محمد خان کی جماعت محاذ آزادی کیلئے کام کرنا تھا، لیکن وہاں جا کر تحریک انصاف زیادہ مناسب لگی لیکن پھر جلد ہی اسے چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں ایک وزیر کے مشیر بن گئے، جونہی حکومت ختم، موصوف واپس۔ آج کل انہیں بھی حجاب اور اسلامو فوبیا کا بخار بہت شدت سے چڑھا ہوا ہے، ان کے ساتھ پاکستانی فیملی نیٹ ورک کے بچے جمورے ہیں جن کا ہر موضوع پرایک ہی جواب ہوتا ہے، میں فلاں کی حمایت کرتا ہوں۔

آج جرمنی میں اسلام مخالف جماعت پیگیدا نے دس ہزار افراد پر مشتمل مظاہرہ کیا، دو ہفتے پہلے بھی وہ اپنی قوت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ناروے میں بھی اس جماعت کے حمایتی موجود ہیں۔ حالات کچھ اچھے نہیں دکھائی دے رہے۔ یہ نسلی تناؤ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا۔ اس کا کیا حل ہو سکتا ہے، ہم کب تک دوسروں پر الزام تراشی کریں گے۔

وہ لوگ جو نسل پرستی یا اس قسم کی لفاظی کی روٹی کھاتے ہیں، ان حالات کا شائد انہیں تو فائدہ ہو گا کہ یہ حالات ان کے وجود کا جواز مہیا کریں گے لیکن عام مسلمان کا کیا بنے گا، کیا ہم ایک اس معاشرے میں ایسے کشیدہ حالات کا سامنا کر پائیں گے۔ ہمیں تو یہیں مرنا اور یہیں جینا ہے، یہ ملک ہماری اگلی نسلوں کا ملک ہو گا لیکن ایسے کشیدہ صورت حال میں ان کا کیا بنے گا۔ ہم اپنی اگلی نسلوں کیلئے کس قسم کے حاالات چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

کیا یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ ہم مقامی معاشرے پر انگلی اٹھانے کی بجائے اپنی ”منجی تھلے ڈانگ“ پھیریں۔ ان حالات کیلئے ہم کس قدر ذمہ دار ہیں۔ اور جب تک ہم اس صورت حال کا صیح تجزیہ نہیں کریں گے، انگلی دوسروں پر اٹھانے کی بجائے خود تنقیدی اور خود اصلاحی رویہ نہیں اپنائیں گے، ہم اسی گرداب میں پھنسے رہیں گے اور چند لوگوں کے ہاتھوں بے وقوف بنتے رہیں گے۔

میں 16 اگست 1970 کی ایک سہانی صبح اوسلو کے ریلوے سٹیشن پر اترا، باہر ٹیکسی موجود نہ تھی، پاس گزرتی لڑکیوں سے کہا کہ میں نے فلاں جگہ جانا ہے، مجھے کیا کرنا ہو گا، ان لڑکیوں جن کی عمریں بمشکل چودہ پندرہ سال ہوں گی، انہوں نے کہا ہم تمہیں وہاں تک چھوڑ آتی ہیں۔ ابھی چند گز ہی چلا تھا کہ میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک لڑکی میرے سوٹ کیس اور شولڈر بیگ کو عجیب سی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ آخر اس سے رہا نہ گیا، اور مجھے کہنے لگی۔

کیا ہم تمہارا سامان اٹھا سکتی ہیں“۔ میں نے اپنی دونوں چیزیں انہیں تھما دیں اور خالی ہاتھ ساتھ چلنے لگا۔ لیکن اب کیوں ویسے حالات نہیں رہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے کچھ ایسا کیا کہ مقامی لوگ مسلمانوں سے گھبراتے ہیں یا پہلی نسلیں اچھی تھیں اور موجود نارویجن نسل انتہائی بری ہے؟؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *