لائی بے قدراں نال یاری تے ٹُٹ گئی تڑک کر کے

خالد تھتھال

Imran-khan-reham-khan-umrah-pics-07

گو ہمارے معاشرے میں طلاق ایک انتہائی قبیح فعل سمجھا جاتا ہے، لیکن جب آج کے وقتوں میں جب آپ کا ایک انسان سے گزارا نہیں ہو سکتا تو طلاق میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ہر روز، ہر لمحے کڑھ کڑھ کر جینے کی بجائے چند دن زیادہ سہہ لے اور باقی زندگی سکھ سے گزر پائے تو یہ ایک بہتر فیصلہ ہوتا ہے۔

اس طلاق پر طرح طرح کے تبصرے ہوں گے، کچھ عمران کو اور کچھ ریحام خان کو قصوروار ٹھہرائیں گے۔ کچھ سوچ سکتے ہیں کہ عمران ایک بڑا نام ہے، اسے عورتوں کی کمی نہیں، اس بات کا پورا امکان ہے کہ بیوی کے ہوتے ہوئے بھی اس کے دوسری خواتین سے تعلقات ہوں۔ کوئی یہ کوڑی لا سکتا ہے کہ عمران عمر کے اس حصے میں جا چکا ہے جہاں قوت باہ میں وہ دم نہیں رہتا کہ انسان اپنے سے کم عمر خاتون کی ضرورت پوری کر سکے۔ جس کے نتیجے میں گھر کے اندر کشیدگی، جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں، گو اس میں بہانہ دوسری وجوہات کا لیا جاتا ہے۔ پنجابی میں ایک کہاوت ہے‘ ” روندی یاراں نوں لے لے ناں بھرانوں دا۔

یورپ میں یہاں خواتین اور مرد واقعی گاڑی کے دو پہیوں ی مانند ہوتے ہیں۔ خواتین بھی کام کرتی ہیں۔ مرد گھر کے کاموں، صفائی، کھانا پکانا، بچوں کی دیکھ بھال غرضیکہ ہر کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں، مغرب میں مردوں اور خواتین کے کاموں کی تفریق نہیں ہے۔ کمسن بچہ اگر رات کو جاگ کر رونا شروع کر دیتا ہے تو اس کو دیکھنے یا چپ کرانے کی جتنی ذمہ داری عورت کی ہے اتنی ہی مرد کی بھی ہے ، بچے کا ڈائپر تبدیل کرنا صرف عورت نہیں بلکہ مرد کا بھی کام ہے۔ یورپی مرد عورت کا حاکم نہیں بلکہ حقیقت میں ایک ساتھی ہوتا ہے

ریحام خان گو پیدا پاکستان میں ہوئی لیکن اس نے زندگی کا کافی وقت مغربی معاشرے میں گزارا، پاکستان شوہر کے علاوہ مغربی مردوں کے ستاتھ بھی تعلقات رہے ہوں گے، مغربی معاشرے میں رہنے کی وجہ سے جہاں ریحام خان کو اپنے حقوق کا احساس ہوا ہو گا وہیں اسے ان حقوق کی عادت بھی ہو گئی ہو گی۔ اس ے مقابلے میں عمران خان ایک دیسی مرد تھا۔ گو اس کا دعویٰ ہے کہ مغربی معاشرے کو جس قدر قریب سے اس نے دیکھا ہے، کسی اور کو اس کا موقع نہیں ملا ہو گا۔

لیکن جن لوگ مغربی معاشرے میں رہتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ عمران خان کا دعویٰ کس قدر کھوکھلا ہے۔ عمران ایک سٹار کرکٹر ہونے ے علاوہ انتہائی خوبرو تھا، خواتین اس پر مکھیوں کی طرح گرتی تھیں۔ اپنی مقبولیت کی وجہ سے وہ ایک بہت بڑا پلے بوائے تھے۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کسی خاتون کے ساتھ کچھ عرصہ تعلق رکھنے اور کسی معاشرے میں رہنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ویسے بھی مغربی معاشرے کے لوگوں سے ڈیل کرتے وقت ہم اپنے اوپر ایک خول چڑھا لیتے ہیں، ہم جیسا روشن خیال، انصاف پسند اور اخلاقی قدروں کا حامی پوری کائنات میں کوئی نہیں ہوتا لیکن جونہی ہم اپنے لوگوں سے ملتے ہیں تو ہمارے اندر کا اصلی انسان باہر نکل آتا ہے۔

اپنی زندگی کے تجربے کی بنیاد پر میں یہ سوچ سکتا ہوں کہ عمران خان اور ریحام خان کی شادی اسی مشرقی سوچوں والے مرد اور مغربی معاشرے میں بہت زیادہ وقت گزارنے والی عورت کی توقعات کی بھینٹ چڑھ گئی۔ عمرا ن وہ ثابت نہ ہو سکا جو ریحام خان نے سوچ رکھا تھا اور ریحام اتنی فرمانبردار عورت نہ نکلی جس کی ایک مشرقی مرد کی خواہش ہوتی ہے۔

مسئلہ یہ شادی ہی نہیں بلکہ عمران خان کی پوری شخصیت ہے جس میں ہمیں ترکی کا طیپ اردوان نظر آتا ہے۔ جس کے نزدیک وہی چیز بہتر اورصحیح ہے جو اس کے نزدیک صحیح یا بہتر ہے۔ عمران خان کے دماغ کے کسی گوشے میں خود کیلئے ایک امیر المومنین بننے کی خواہش بیٹھی ہوئی ہے۔

مجھے اس وقت جین فونڈا کے وہ الفاظ یاد آ رہے ہیں جو اس نے رونالڈ ریگن کے صدر بننے کے وقت کہے تھے۔ ریگن ایک برا اداکار تھا اور اتنا برا ہی صدر ثابت ہو گا۔ عمران کی شادی کا ٹوٹنا اس بات کا ثبوت لگ رہا ہے کہ عمران خان کے اندر ایک بہت بڑا آمر بیٹھا ہوا ہے۔ جس کے نزدیک ہر وہ بات صحیح ہے جسے وہ صحیح سمجھتا ہے۔

One Comment

  1. mustansar billah says:

    personal life has many invisible things, which one cannot predict.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *