ایران میں دو شعراء کو قید اور کوڑوں کی سزا

In this undated photo made available by International Campaign for Human Rights in Iran, Iranian poets Fatemeh Ekhtesari , left, and Mehdi Mousavi pose in unknown place in Iran. Two Iranian poets known for prose probing modern life face years in prison for their work and 99 lashes apiece for shaking hands with members of the opposite sex, the latest targets of a crackdown on expression in the Islamic Republic. (International Campaign for Human Rights in Iran via AP)

ایک ایرانی عدالت نے دو شاعروں کو شاعری اور صنفِ مخالف سے ہاتھ ملانے کے جرم پر قید کی سزا اور کوڑے مارنے کا حکم سنایا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے ایران میں آزادئ رائے کے حوالے سے حکومتی کریک ڈاؤن پر تشویش ظاہر کی ہے۔

سزا پانے والوں میں ایک خاتون ڈاکٹر فاطمہ اِختصاری اور دوسرے ایک ٹیچر مہدی موسوی ہیں۔

ماہر اطفال فاطمہ اختصاری کو دسمبر سن 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ساڑھے گیارہ برس کی سزا سنائی گئی ہے۔

ادب اور شاعری پڑھانے والے مہدی موسوسی کو نو برس کی قید کا حکم سنایا گیا ہے۔ اِن دونوں کو مجموعی طور پر ننانوے کوڑے بھی مارے جائیں گے۔

اِن دونوں پر مختلف الزامات میں یہ بھی شامل ہے کہ انہوں نے حکومت مخالف پراپیگنڈے کے علاوہ ریاست کی مقدس علامات و نشانات کی تذلیل کی ہے۔ اِن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موسوی اور اختصاری مغرب میں مقبول ہیں اور یہی اُن کا جرم ہے۔

اِن سزاؤں کو موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی کی اُن کوششوں کے لیے سخت دھچکا قرار دیا گیا ہے، جو وہ اپنے ملک میں جمالیاتی فنون کی حوصلہ افزائی اور مغرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ ایران میں سخت عقیدے کے حامل افراد جو پولیس، عدلیہ اور فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، وہ مغرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام اور ریاستی ذرائع ابلاغ نے دونوں شاعروں کو دی جانے والی سزا پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے ایران میں آزادیء رائے کے حوالے سے جاری حکومتی کریک ڈاؤن پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان گروپوں کے مطابق ایران میں اِس وقت اعتدال پسند حلقے کو سخت عقیدے کی حامل مذہبی اشرافیہ کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

اِسی ماہ کے دوران عالمی شہرت کے ایرانی فلم ساز کیوان کریمی کو چھ برس کی قید اور 223 کوڑے مارنے کا حکم سنایا جا چکا ہے۔ رواں برس جون میں ایک خاتون کارٹونسٹ اَتنا فرقدانی کو متنازعہ کارٹون بنانے پر بارہ برس کی قید سنائی گئی تھی۔ مختلف اندازوں کے مطابق اِس وقت ایرانی جیلوں میں تیس صحافی قید ہیں۔

امریکا میں ادیبوں اور مصنفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پین کے فری ایکسپریشن پروگرام کے ڈائریکٹر کیرن ڈوئچ کارلیکر کا کہنا ہے کہ جوہری ڈیل کے بعد ایران میں آزادئ رائے کی صورت حال بہتر ہونے کا جو اندازہ لگایا گیا تھا، اُسے ایرانی عدلیہ پوری قوت سے ناکام بنانے کی کوششوں میں ہے۔

کارلیکر کے مطابق ایران میں ادیبوں اور شاعروں کی کتابوں کی اشاعت حکومتی سنسر پالیسی کے تحت کی جاتی ہے اور عدلیہ موقع کی تاک میں ہوتی ہے کہ کسی شاعر کے کلام پر قدغن لگانے کے ساتھ ساتھ اُسے سخت سزا بھی دی جا سکے تاکہ دوسرے خبردار رہیں۔

DW

2 Comments

  1. مذہب کے نام پر حکومت کرنے والے اسی قسم کے مظالم کرتے ہیں چاہے وہ سعودی عرب ہو چاہے ایران یا کوئی اورانتہا پسند معاشرہ۔ جہاں بھی مذہب کے نام پر سیاست کی جائے گی وہ معاشرہ مذہبی انتہا پسندی کا مظہر ہوگا۔ ہمارے کچھ نام نہاد لبرل دانشور سعودی عرب کو تو مطعون کرتے ہیں اور اسے کرنا بھی چاہیے مگر اس کے ساتھ ساتھ ایرانی شیعہ ازم کے نام پر جو مذہبی انتہا پسندی میں مصروف ہیں اس کی بھی اتنی ہی مذمت کرنی چاہیے

  2. مذھب جب جنونیوں کے ہاتھ لگ جاۓ تو وہی صورتحال ہوتی ہے کہ ” بندر کے ہاتھ میں استرا “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *