دیہاتی کو ۔پینڈو۔کہا جاتا ہے

فرحت قاضی

پپپ

دیہہ اور شہر دو الگ الگ درس گاہ ہیں۔

پاکستان میں کہیں چھوٹے بڑے دیہات اور کہیں چھوٹے بڑے شہر ہیں۔

دیہہ شہر سے چھوٹا ہوتا ہے اس کی آبادی کم ہوتی ہے دوردور تک وسیع و عریض کھیت، جھاڑیاں اور درخت ہوتے ہیں تو اکثرمکینوں کے رہائشی مکانات مٹی اور گارے کے بنے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر افراد اور خاندان خان خوانین کی جائیداد اور زمین سے بندھے ہوتے ہیں اسی طرح یہاں کی اکثریت کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہوتا ہے ان کا رہن سہن اور بودو باش بھی سیدھا سادا ہوتا ہے تو کام کاج کی بھی یہی نوعیت ہوتی ہے ان کے شب وروز گھر میں افراد خانہ،کھیت میں پودوں ،پالتو جانوروں اور حجروں میں اسی دیہہ کے افراد کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔

بیٹی گھر میں ماں، بھابی اور بڑی بہن کو دیکھ دیکھ کر جھاڑو دینا، برتن مانجھنا، کپڑے دھونا،پالتو جانوروں کو چارہ ڈالنا،دودوھ دوہنا اور کھانا پکانا سیکھ لیتی ہے

بیٹا باپ کے ساتھ کھیتوں پر جاتا ہے تو بیل کو ہل میں جوتنا، فصل کو پانی دینا، کھیت سے گھاس نکالنا،کٹائی کرنا،بیل گاڑی یا ٹریکٹر میں بازار لے جانا حجرے میں گپ شپ لگانا اور نماز پڑھنا سیکھ لیتا ہے

یہ بیٹی اور بیٹا مستقبل میں ماں اور باپ ہوتے ہیں اور یہ گھر ،کھیت،ماں،بہن، بھائی، بھابی،پالتو جانور،گاؤں کے باسی،حجرے کے دوست اور خان خوانین کے علاوہ مسجد کے امام صاحب ان کے استاد ہوتے ہیں

شہر دیہہ سے بڑا ہوتا ہے،وسیع اور پھیلا ہوا ہوتا ہے بعض شہروں کی آبادی لاکھوں نفوس پر مشتمل ہوتی ہے جہاں شہر دیہہ سے بڑا ہوتا ہے تو یہاں سہولیات،مراعات اور آسائشات بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں اس میں وقتاً فوقتاً توسیع بھی ہوتی رہتی ہے شہر میں مکانوں،پلازوں،دکانوں اور بازاروں کا بھی یہی حال ہوتا ہے اس کے مکانات پکے اور خوبصورت،پلازے بلند و بالا، دکانوں میں ضرورت اور آسائش کی قریب قریب ہر چیزموجودہوتی ہے تو بازاروں میں ہر وہ چیز عام طور پر بافراط دستیاب ہوتی ہے جس کی ایک علاقے کے باسیوں کو ضرورت ہوتی ہے

یہاں کے صنعتی زونز،تعلیمی ادارے ،ہسپتال ،صحت کے مراکز اور سہولیات ، اشیاء،روزگار اور کاروبار کی فراوانی، سکول،کالج اور یونیورسٹیاں،کتب خانے، کارخانے اور فیکٹریاں، سڑکیں، دوڑتی ہوئی گاڑیاں،فلیٹ،بلند وبالا عمارتیں ، خدمات کے ایک سے زیادہ مواقع ،ہر مکتبہ فکر،علاقے اور قوم کے باسیوں کی موجودگی،ان گنت تہذیبوں اور ثقافتوں کا ملاپ،بھانت بھانت بولیوں کا سنگم ،مخلوط رہن سہن و معاشرہ دیہی اور چھوٹے شہر کے باسیوں کو آنے اور اسی کا ہوکر رہ جانے کی دعوت دیتا رہتا ہے یہ تمام ماحول ایک شہری کا سکول اور استاد ہوتا ہے

جو شخص جس ادارے میں ملازمت کرتا ہے اس کے داؤ پیچ بھی سیکھ لیتا ہے ،ان حوالوں سے ایک دیہہ اور شہری باشندے کی الگ الگ خطوط پر تعلیم و تربیت ہوتی رہتی ہے اور اس حقیقت کا اظہار ان کے رویوں میں نمایاں نظر آتاہے۔

کسی پس ماندہ دیہہ کا ایک باشندہ گوناگوں خصوصیات کے حامل شہر میں داخل ہوتا ہے تو اس کی بلندو بالا عمارتیں،پلازے اور فلیٹ،بھانت بھانت کی بولیاں، چیختی چلاتی گاڑیاں،انسانوں اور مشینوں کا شور اورشہریوں کی شاطر نگائیں اسے بدحواس کردیتی ہیں۔ وہ موٹر سے جان بچاتا ہے تو ٹیکسی شوں کر کے پاس سے گزر جاتی ہے بس کو دیکھتا ہے تو قریب رکشہ ٹراتا ہوا نزدیک آجاتا ہے اورڈرائیور کہتا ہے دیکھتے نہیں ہو دوسری جانب سے آواز آتی ہے اندھے ہو اسی طرح ہوٹل جاتا یا کسی کا مہمان ہوتا ہے تو میزبان کانٹے اور چمچ سے کھانا کھاتا اور یہ ہاتھ بڑھاتا ہے تو اس کی صورت حال مضحکہ خیز ہوجاتی ہے کوئی معنی خیز تو کوئی چھپ چھپاکر دیکھتا ہے قصہ مختصر وہ شہریوں کی نظر میں آجاتا ہے اور میزبان اپنی خفت مٹانے کے لئے دوستوں سے کہتا ہے

’’یہ پنڈ دادن سے آیا ہے اس کا باپ ہمارے کارخانے میں چوکیدار ہے‘‘

اسی پنڈ سے دیہی باشندہ پینڈو بن گیا اور شہریوں میں یہ لفظ سادا،کم عقل اور بے وقوف کے ہم معنی اور مترادف لیا جانے لگا

دیہہ اور شہر کے بودو باش،طرز معاشرت ،ذرائع معاش، ثقافت، روایات، رسومات ،رواجات،کھیتی باڑی اور کارخانوں،ناخواندگی اور خواندگی اور دھوتی اور پتلون میں پائے جانے والے اس امتیاز اور تفاوت نے دیہی باشندے کو پینڈو بنادیا اس کے حلیے اور حرکات و سکنات سے گنوار پن کا اظہار ہونے لگتا ہے تو شہری اسے جاہل،اجڑ، گنوار، غیر مہذب ہی نہیں احمق اور بے وقوف بھی سمجھتے اور کہنے لگتے ہیں
گو کہ دیہی اور شہری باشندوں سمیت تمام کائنات کا ایک ہی خدا ہے مگر ایک دیہی باشندہ شہر میں داخل ہوتا، گوناگوں مسائل سے دوچار اور ان کے حل کے لئے ایک کے بعد دوسرے در پر جاتا ،ماتھا رگڑتا اور سرجھکاتا ہے تو ایک وقت آتا ہے جب وہ پشتو کے شاعر سیف الرحٰمن سلیم کی طرح اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے لگتا ہے

دوڑو وڑو خدایانو دے بندہ کڑم، لویہ خدایہ زہ بہ چا چا تہ سجدہ کڑم

مگر رفتہ رفتہ وہ اسی شہر کا ایک پرزہ بن جاتا ہے اور اس مشہور مقولے پر عمل کرنے لگتا ہے
’’
تم بھی وہی کرو جو کہ روم میں رومن کرتے ہیں‘‘

جہاں ایک دیہہ شہر سے چھوٹا ہوتا ہے اسی طرح دنیا میں ترقی کی دوڑ میں آگے اور پیچھے رہ جانے والے ممالک کی تقسیم اور تفریق بھی پائی جاتی ہے چنانچہ ایک پس ماندہ ریاست کا شہری ترقی یافتہ ممالک میں پینڈو کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے اس ملک کی ہر شعبہ حیات میں ترقی اور چکا چوند اس کی آنکھیں خیرہ کردیتی ہیں اور اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ تو ابھی کنوئیں کا مینڈک ہے۔

اپنے ملک میں وہ جن روایات، رواجات اور رسومات پر جان دیتا اور لیتا تھا یہاں تو ان کا نام و نشان بھی نہیں ہے جن سماجی قدروں پر وہ فخر سے سر اونچا کرتا تھا یہاں تو پوچھنے والا بھی نہیں ہے جس طرح ایک پینڈو شہر کا حصہ ہوجاتا ہے اسی طرح پس ماندہ ملک کا یہ باسی بھی ترقی یافتہ ملک کی خو بو اپنالیتا ہے ۔

پس ماندہ دیہہ کا ایک باشندہ ترقی یافتہ شہر جاتا ہے یا پس ماندہ ملک کا شہری ترقی یافتہ ملک میں برسہا برس رہنے کے باوجود نہیں بدلتا ہے اور خر عیسیٰ ہی رہتا ہے تو اس کی اپنی وجوہات ہیں بڑے صنعتی شہر میں دیکھا گیا ہے کہ پس ماندہ دیہہ اور صوبے کے باسی اپنی الگ الگ بستیاں بنا لیتے ہیں اور ایک پینڈو اور کلیوال وہاں کا رخ کرتا ہے تو ان میں سے کسی ایک بستی میں رہائش اختیار کرلیتا ہے یہی نہیں وہ کاروبار بھی وہی کرنے لگتا ہے وہ شہر میں رہتے ہوئے بھی اپنی قدیم و فرسودہ روایات پر عمل پیرا رہتا ہے تو اس کی خفتہ صلاحیتوں کو پنپنے اور ابھرنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔

یہ درست ہے کہ اپنے دیہی پس منظر کے باعث ایک دیہی باشندہ ایسی کئی قدروں اور اشیاء کی جانکاری نہیں رکھتا ہے جو ایک شہری نوجوان جانتا ہے تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اپنی سخت جسمانی محنت و مشقت اور پس ماندہ ذہنیت کے باعث یہ بعض دیگر شعبہ جات میں ان پر فوقیت رکھتا ہے

ایشیاء اور دیگر ممالک میں کھیلوں کے فروغ اور پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات نے اس کی اہمیت دو چند کردی ہے علاوہ ازیں ذرائع مواصلات و ابلاغ میں ترقی سے شہر و دیہہ کے مابین فاصلے گھٹنے سے دیہی باشندوں کو بھی اپنی خفتہ اہلیتوں کے اظہار کے مواقع ملنے لگے ہیں

پاکستان میں اگر کبھی ایسی قیادت کو اقتدارکرنے کا موقع ملا جو قومی اور شہری حقوق پر یقین رکھتی ہوجس کی سعی و کاوش اس کے مفادات کے تنگ دائرے میں گھومتی نہ ہو اس میں حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو دیہہ ، شہر اور ہرچھپے چھپے کو ملک کا علاقہ سمجھتی ہوتو ملک شہر کے ہی نہیں دیہات کے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھی بھر پور استفادہ کرسکے گا اور پھر ہر پاکستانی کی زبان پر
منزل ما دور نیست
تیز تر گامزن
ہوگا
۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *