قدرتی آفات اور انسانی اعمال

فرحت قاضی

562ef64ab8cf9

سال 2005ء میں بالاکوٹ اور کشمیر میں زلزلہ نے تباہی مچائی تو ایک مرتبہ پھر یہ نظریہ تازہ کیا گیا کہ یہ ہمارے اعمال ہیں اور اگر ان کو اب بھی درست نہیں کیا گیاتو اس سے بھی بڑے نازل ہوسکتے ہیں اس کے چند سال بعد جاپان میں بھی آیا اور امریکی ریاست میں سیلاب سے شہر کے شہر اجڑ گئے تو ان کے ماہرین سرجوڑ کر بیٹھ گئے کہ عوام کو قدرتی آفت کی اطلاعات بروقت پہنچانے کے لئے کیا کیا جائے اور ایسے کون سے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ان آفات سے کم سے کم جانی و مالی نقصانات ہوں۔
یہ دو رویے ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔
قدرتی آفات کو اپنے اعمال کا نتیجہ قرار دینے کا نظریہ بہت پرانا ہے اور ہر عقیدے کا پنڈت اپنے مذہب کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتا رہا ہے چنانچہ ہمارے لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں کیا وہ تما م درست ہیں؟
قدرتی آفات کو اعمال کا نتیجہ قرار دینے کا تصور ہندوؤں اور مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کی قریب قریب تما م ااقوام اور عقیدوں کے پیروکار وں میں موجود ہے کوئی قدرتی آفت زلزلہ ، طوفانی بارش اور سیلاب کی صورت میں نازل ہوتی ہے تو اس عقیدہ کے امام اسے عوام کے اعمال سے باندھ کر ان کو اپنے عقیدے اور مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کرنے لگتے ہیں اس طرح اسے اپنے عقیدے کی صداقت کے لیے اسے بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے چنانچہ بھارت میں کوئی آفت آتی ہے تو ان کے پنڈت اور پروہت عوام کو ڈراتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ’’اعمال ‘‘ درست کریں پاکستان میں کوئی قدرتی آفت نازل ہوتی ہے تو علماء اسے اللہ کی طرف سے تنبیہ قرار دیتے ہیں۔
ابتدا ء میں انسان ہر غیر مانوس اور طاقتور چیز سے خوفزدہ ہوکر اسے دیوتا سمجھ لیتا تھا چنانچہ دریاؤں میں طغیانی اور تباہی مچتی تو اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا چاند اور سورج گرہن کی صورت میں مغفرت اور دعا کی نیت سے سرجھکا کر معافی مانگتا اور اپنے کو مذہبی سانچے میں ڈھالنے کے وعدے کرتا ۔
انسان ہزاروں برس تک آفات کودیوتا ؤں کے عذاب کا نام دیتا رہا پھر جوں جوں اس پر ان کے اسرار ورموز کھلتے گئے تو اس کا خوف اور دہشت کم اوررتجسس اور تحقیق کا مادہ بڑھتا گیا اورجب اسے یہ پتہ چلا کہ چاند اور سورج گرہن کیسے واقع ہوتے ہیں تو اس نے انہیں اپنا دیوتا ماننا ترک کردیا یہی وجہ ہے کہ آج کوئی انسانی اخلاق اور سورج گرہن کے باہمی رشتہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے البتہ بعض واقعات کی تاحال توجیہہ نہیں کرسکا ہے تو وہ اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ یہ اس کے اعمال کا نتیجہ ہے ہمارے معاشرے میں سوچنے کی زحمت کرنے والے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اور ایسے انسان توپھر انتہائی کم ہیں جو مذہبی پیشواؤں کے بنائے ہوئے دائروں سے بالاتر ہوکر سوچتے ہوں عوام وہی کہتے اور سوچتے ہیں جو یہ امام اور پروہت کہتے ہیں لہٰذا ان ’’ انتہائی کم ‘‘ میں اگر کوئی ایسا انسان پیدا ہوا جس نے مروجہ عقیدہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی تو اس عقیدے کے پنڈت نے عوام کی جہالت کا رخ ان کی طرف کردیا۔
دنیا میں ان گنت قومیں ہیں ان کے عقائد ایک دوسرے سے الگ ہیں اور ہر عقیدہ کا ماننے والا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ صرف اسی کا نظریہ ہی حرف آخر اور باقی تمام نظریات باطل ہیں جب ایک عقیدکا ماننے والایا عالم عوام سے کہتا ہے کہ قدرتی آفت ان کے اعمال کی وجہ سے آئی اگر ان کے اعمال درست ہوتے تو ایسا نہ ہوتا تو ایسے وقت وہ ان اعمال و افعال کی جانب اشارہ کرتا ہے جس کا اس کی مذہبی کتاب میں ذکر ہوتا ہے اور جس پر اس کا ایمان وایقان ہے مثال کے طور پر 8 اکتوبر 2005 ء کے زلزلہ یا اس کے بعد مردان اور چارسدہ میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے جو تباہی آئی اس کے بارے میں انہی خیالات کا اظہار کیاگیا اور ایسا کرتے وقت ہمارے علماء نے جس لمحہ یہ دعویٰ کیا کہ یہ ہمارے اعمال کا پھل ہے تو ان کی مراد اپنی قوم ہی تھی ۔
وہ اپنے لوگوں سے یہ کہنا چاہتے تھے کہ وہ اپنے عقیدے کی جانب رجوع کریں اور عبادات پر زور دیں اسی طرح سونامی کا سانحہ پیش آیا تو بھارت میں ہندو مت کے علم برداروں نے اپنے عوام سے کہا کہ وہ اپنے اعمال ہندو مت کے مطابق کریں اور اپنا زیادہ تر وقت پوجاپاٹ کو دیں یعنی بتوں کے آگے سر جھکائیں اور معافی مانگیں اس طرح قدرتی آفت کو وہ اپنے عقیدے کی صداقت کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
چنانچہ قدرتی آفات کو اپنے اعمال کا نتیجہ قرار دینے کا نظریہ ہر عقیدے کا پیروکار اپنے عقیدے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے ایسی صورت میں ہمارے سامنے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی عقائد اور مذاہب ہیں کیا وہ تمام درست اور صحیح ہیں ؟
آٹھ اکتوبر 2005 ء کے زلزلہ کو صرف مذہبی پیشواؤں نے ہی اپنے مخصوص مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اسے اپنی غرض کے معنی پہنائے کسی نے بلدیاتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر کرپشن کو اس سے جوڑدیا تو کسی نے کہا کہ ہمارے ملک میں فحاشی عام ہوچکی ہے ایک آدمی نے کہا کہ ہم نے پیروں اور فقیروں کو ماننا چھوڑ دیا ہے اس لئے زلزلہ آیا خواتین نے اس کی وجہ مردوں کی ان پر زیادتی کو گردانا ایک بڑھیا نے کہا کہ ا س کی بکری چوری ہوگئی یہ اس لئے آیاحتیٰ کہ ایک مسلمان دوکاندار نے اپنی دوکان کے روبرو ہندو تاجر کی جانب صارفین کو متوجہ کراتے ہوئے کہا کہ ملک میں چونکہ اب بھی بعض مقامات پر بتوں کی عبادت ہوتی ہے لہٰذا ایسی آفات تو نازل ہی ہوں گے میں نے ہندو دوکاندار کو دیکھا تواس پر گاہکوں کا رش تھا میں نے اس تاجر کو جواب دیا کہ کل اگر بھارت میں اسی طرح کا زلزلہ آگیا اور وہاں ہندو اس قسم کی دلیل پیش کریں تو آپ ان کی کیسے تشفی کریں گے؟
اگر ہم قدرتی آفات کو انسانی اعمال کا نتیجہ یا وجہ مان لیں تو پھر ہمارے لئے یہ ثابت کرنا مشکل ہوگا کہ ہمارا نظریہ تو درست ہے لیکن باقی دنیا کے لوگوں کا عقیدہ باطل ہے جس ملک میں تحقیق اور تنقید کی اجازت نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کو گناہ سمجھا جاتا ہو نقاد کو بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہو اس کے لئے قید وبند کی سزا تجویز کی جاتی ہو اور زبان کو گدی سے کھینچنے کی دھمکی دی جاتی ہو علم اور معلومات تک عوام کی رسائی مشکل بنا دی گئی ہو لوگ حکومت کے خوف یا انتہا پسندوں کے حملوں سے دہشت زدہ ہوں تو وہاں اس قسم کے نظریات کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔
ہمارے ملک میں تاحال قبائلی اور جاگیردارانہ نظام ہے اور یہاں زیادہ عرصہ اقتدار فوجی جنرلوں کے پاس رہاچنانچہ ایسے نظام اور حکومت کے دور میں یہی کوشش کی جاتی ہے کہ حالات جوں کے توں رہیں ان میں کوئی تبدیلی نہ آئے لہٰذا ایسی صورت حال پر اظہار رائے کو ہمیشہ غداری اور کفر والحاد کا نام دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تنقید و تحقیق سے نابلد و ناواقف ہے کسی نئے خیال اور ایجاد کو برداشت نہیں کیا جاتا ہے نتیجہ میں آج بھی پرانے اور فرسودہ نظریات اور خیالات معاشرے پر حاوی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی ذہنی بیماریوں کو جن بھوت کا سایہ اور کارستانی سمجھا جاتا ہے اور تعویز اور گنڈے کو علاج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ایک ایسے ملک اور معاشرے میں اگر کوئی قدرتی آفت کو لوگوں کے اٹھنے بیٹھنے اور ادب و اخلاق سے باندھ دیتا ہے اور وہ بھی اس پر یقین کرلیتے ہیں تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔
اگر قدرتی آفات انسانی اعمال کا نتیجہ نہیں تو پھر انہیں ایسا کیوں پیش کیا جاتا ہے اور یہ کہ کر عوام کو دہشت زدہ کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ طبقات پر استوار ہے بالادست طبقہ کا مفاد اسی میں ہے کہ عوام میں تحقیق و جستجو کی امنگ پیدا نہ ہو علاوہ ازیں مذہبی پیشوا دیگر علوم کی کتب پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں تاکہ ان کو یہ معلوم ہو کہ مظاہر قدرت کیسے اور کیوں ظہور پذیر ہوتے ہیں اردگرد کے ماحول کا انسان پر کیا اثر پڑتا ہے پودے موسموں کی تبدیلی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں کن علاقوں میں کتنی بارش ہوتی ہے۔
اسی طرح معاشرے میں یہ تصورات پیروں، فقیروں اور نجومیوں کے بھی مفادات کی حفاظت کرتے ہیں جبکہ عوام سماج میں پائے جانے والے تصورات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ’’ قدرتی آفات‘ ‘کیا ہیں یہ کیوں آتے ہیں اور اعمال سے کیا مراد ہے ان کو سمجھنے کے بعد یہ جانناآسان ہوجاتا ہے کہ کیا قدرتی آفات اورہمارے اعمال کا کوئی رشتہ ہے یا پھر ان کا ایک اپنا قانون ہے اور اسی کے تحت ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔
ہم یہ جانتے ہیں کہ انسان جوں جوں قدرت کے ایک مظہر کی ماہیت کو سمجھتا گیا تو اس کے دل و دماغ سے اس حوالے سے دیوتاؤں کی دہشت بھی محو ہوتی گئی وہ سمجھ گیا کہ ان کی وجوہات دریافت کرکے ان پر قابو پایا جاسکتا ہے آسمانی بجلی بھی ایک آفت ہے انسان نے یہ جان لیا کہ یہ کن مقامات پر گرتی ہے تو اس نے ایسا آلہ ایجاد کرلیا کہ جہاں اب یہ نصب ہوتا ہے تو وہاں پر اس کے گرنے کا خدشہ نہیں رہتا ہے۔
چند سال پیشتر تپ دق ایک لا علاج مرض تھا جس کوایک مرتبہ لگ گیا جان لے کر ہی چھو ڑا آج اس مرض میں مبتلا انسانوں کی تعداد انگلی پر گنی جاسکتی اب یہ لاعلاج اور جان لیوا مرض نہیں رہا اس وقت انسان کے لئے تباہ کن طوفانی بارشیں، سیلاب اور زلزلہ ہی چیلنج ہیں اور ہمیں یہ سوچنا ہے کہ معمولی سیلابی ریلے ہمارے دو شہروں کو تباہی سے دوچار کردیتے ہیں لیکن یورپ میں اس نوعیت کے قدرتی آفات سے اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہوتا ہے۔
جب عمل یا اعمال کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو ہر عقیدہ کا ماننے والا اس سے وہ اعمال مراد لیتا ہے جس پر اس کا ایمان اور ایقان ہے ایک مسلمان اعمال کو وجہ قرار دیتاہے تو اس کے ذہن میں اس کا ہندو سے الگ تھلگ تصور ہوتا ہے اسی طرح ہندو اپنے عقیدے کو مدنظر رکھ کر ایک دوسرے سے باندھتا ہے وہ ایسے وقت ہندو مت کے پیروکاروں کو اپنے مذہب کی جانب راغب کرتا ہے اور اپنے اس عقیدے کو صحیح ثابت کرنے کی سعی کرتا ہے۔
8
اکتوبر2005ء کو پاکستان میں جو تباہ کن زلزلہ آیا تو چونکہ اس سے کچھ عرصہ پہلے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا جس کا الزام کسی شخص یا فرقہ کے سر تھوپ دیا جاتا لہٰذا اس کے لئے جمع کا صیغہ ’’ہم‘‘ استعمال کیا گیا اگر یہ زلزلہ ایسے وقت آتا جب سلمان رشدی نے اپنی کتاب’’سیتانک ورسز ‘‘ لکھی تھی تو پھر اس زلزلہ کا تمام الزام اسی کے سر تھوپ دیا جاتا۔
ہم ایک ایسا لفظ ہے جس میں تمام طبقات کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے حالانکہ ہمارا معاشرہ طبقات میں بٹا ہوا ہے ہر طبقہ کے اپنے اختیارات، معاشی حالات اور مفادات اور حدود ہیں اور معاشرے کو اچھا یا برا بنانے میں بھی ان کا اپنا کردار اور حصہ ہے ایک تھانے میں ڈی ایس پی کے پاس ایس ایچ او کے پاس زیادہ اختیارات ہوتے ہیں وہ کرپٹ اور نان کرپٹ اہلکاروں کو ایسی ذمہ داریاں دے سکتا ہے جس سے تھانے کی نیک نامی پیدا ہوسکتی ہے۔
ہم سے مراد عموماً عوام لئے جاتے ہیں چونکہ ایک غریب غریبوں کے محلے میں رہتا ہے اس کا واسطہ بھی ان ہی افراد سے پڑتا رہتا ہے وہ انہیں جھوٹ بولتے، کم تولتے ،دھوکہ اور فریب دیتے، رشوت لیتے اور چوری کرتے ہوئے دیکھتا ہے لہٰذا جب اعمال کی بات کی جاتی ہے تو اس کا ذہن لامحالہ اپنے طبقے کی طرف ہی جاتا ہے تو اسے اپنے پنڈت کے دعویٰ میں سچائی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
(
انسان کے اعمال کیوں اور کب خراب ہوتے ہیں اگر مبلغ یہ جانتے تو شاید وہ عوام کو اپنے اعمال درست کرنے پر زور نہیں دیتے ہمیں اپنے معاشرے میں نیک اور بد ملتے ہیں بعض علاقوں میں اکثر یت کو سماجی برائیوں میں مبتلا پاتے ہیں اورخال خال ہی نیک بندے ملتے ہیں جبکہ بعض میں برے کم ہوتے ہیں اسی طرح اگر ہم مختلف پیشوں کے لوگوں کا جائزہ لیں تو ان میں بھی یہی امتیازنظر آتا ہے لہٰذا یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ برے ہیں تو اس لئے برے ہیں کہ وہ ایسا چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں برا سمجھیں اور اگر وہ ایسا ہی چاہتے ہیں تو پھر وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں بالکل اسی طرح اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اچھا اور نیک دکھائی دے تو اس لئے وہ اچھے کام کرتا ہے مطلب یہ کہ اچھائی اور برائی ہمار ا ذاتی فعل ہے ایک ایسا فعل جسے ہم اپنی مرضی سے اختیار کرتے ہیں) ۔
اگر ہم ارد گرد رہنے والے افراد کا باریک بینی سے مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اچھائی اور برائی کی شرح مختلف علاقوں،طبقوں اور پیشوں کے لوگوں میں مختلف ہے پرانا تصور یہ تھا کہ بعض لوگ برائی اور کچھ لوگ اچھائی کی جانب رغبت رکھتے ہیں اسی خیال کو طبقات اور پیشوں سے بھی جوڑ دیا گیا تھا تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اچھائی اور برائی کا تعلق پیشوں او ر طبقات سے بھی ہے چنانچہ اس نظریہ کی رو سے چمار، نائی،درزی،دھوبی،مالی،چوکیدار نیچ اور کم ذات اور یہ خامیاں ان ہی میں پائی جاتی ہیں دیکھا جائے تو ’ہم ‘کا یہ صیغہ انہی کے لئے ہمیشہ استعمال کیا گیا۔
بہر کیف،انیسویں صدی میں جب سرمایہ داری نظام پھلنے پھولنے لگا تو اس قسم کے نظریات اور معیار اپنے جگہ سے سرکنے لگے برطانیہ میں چارلس ڈکنز، فرانس میں وکٹر ہیو گو اور والٹیر، جرمنی میں گوئٹے، بھارت میں کرشن چندر اور پاکستان میں سعادت حسن منٹو اور دیگر ایسے لکھاریوں نے ان تصورات کو زک پہنچائی انہوں نے بتایا کہ انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہے اور اس کو انسانی بنانے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جن کے پاس زیادہ اختیارات ہیں اس طرح برائی کا تصور خاندان اور پیشہ سے حکمران اور بالادست طبقہ کی طرف منتقل ہوگیاجو پنڈت اور علماء یہ حقیقت ماننے سے انکاری ہیں وہ آج بھی ہم کا صیغہ لکھتے اور بولتے ہیں۔
عرصہ دراز انسان کو اچھائی اور برائی کا پیمانہ سمجھا جاتا رہا اسی لئے انسان پر یہ زور دیا جاتا تھا کہ وہ اپنے اخلاق کی درستگی پر توجہ مرکوز کرے اسی لئے انسان کو بھی اچھے اور برے میں تقسیم کیا گیا تھا مگر جب یہ معلوم ہوگیا کہ ماحول انسان کو بدلتا ہے تو اب انفرادی اخلاق سے زیادہ ماحول کو انسانی بنانے پر زور دیا جاتا ہے اور جو کہ سماج کے کرتا دھرتا بناتے اور بگاڑتے بھی ہیں اس وقت پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی ہے تو یہ کسی غریب کسب گر کی پیداوار نہیں اور نہ ہی یہ ماحول عام پختونوں نے بنایا ہے۔ اسے ایسا بنانے کے لئے ارباب اختیار نے پہلے ہل چلایا بیچ ڈالا پانی دیا اور اب پھل حاصل کررہا ہے۔
ماہرین کایہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے کہ انسان کو بدلنے کے لئے ماحول کو انسانی بنایا جائے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر آپ ایک ایسے علاقہ میں رہائش رکھتے ہوں جہاں تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار اورصفائی کی سہولیات سے موجود ہیں اور یہ معیاری بھی ہیں اس کے باسی تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں تو آپ کو اپنے بچے کے حوالے سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔اس کے برعکس تعلیم ،صحت،صاف پانی،روزگار اور صفائی نہ ہو اس آبادی کے رہائشی ناخواندہ ،غریب ، نشے کے عادی، معمولی معاملہ پر تکرار اور جھگڑتے ہوں تو آپ کا بچہ بھی سکول جانے سے کتراتا ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ اس کا قصور نہیں ہوگا۔
یہ دو طرح اور الگ تھلگ ماحول دو طرح کے نتائج دے گا اگر میں اپنے بچوں کو اچھا ماحول نہیں دے سکتا تو مجھے ان سے یہ گلہ نہیں کرنا چاہئے کہ وہ برے کیوں ہیں چنانچہ والدین اپنے بچوں کے اچھے اور برے کے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن بچے صرف گھر پر ہی تو نہیں ہوتے ہیں سکول بھی ان کا ماحول ہے محلہ اور شہر بھی ان کا ماحول ہے چنانچہ صرف گھر کا ہی نہیں بلکہ سکول ، محلے اور شہر کا ماحول بھی اچھا ہونا چاہئے حکومت بھی بعینہٰ ملک کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
اس لئے ’ہم‘ کا صیغہ استعمال نہیں ہونا چاہئے بلکہ ارباب اختیار سے یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ پالیسی سازی کے وقت ذاتی نہیں عوامی مفادات کو دھیان میں رکھیں سچ یہ ہے کہ عوام کو قدرتی آفات کی شکل میں اپنے نہیں اپنے حکمرانوں کے گناہوں کی سزا ملتی ہے ایک فوجی حاکم ہوتا ہے تو وہ فوج کی سہولیات بڑھاتا ہے سیاست دان ہوتے ہیں تو اپنے خاندان اور پارٹی کارکنوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور ان سب گناہوں کو دھونے کے لئے عوام رہ جاتا ہے۔
جب 8اکتوبر کا زلزلہ آیا اوراس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے، ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے تو یہ ان کے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور منصوبہ بندیوں کا نتیجہ تھا کیونکہ ہمارے ملک میں ہر حکمران نے دعویٰ یہی کیا کہ وہ عوام کی بھلائی کے لئے کوشاں ہے در حقیقت وہ اپنے مخصوص طبقہ کے لئے ہی سب کچھ کرتا رہا ہے اور عوام کے لئے صحت، تعلیم، روزگار اور تحفظ کے حوالے سے کچھ نہیں کیا گیاان علاقوں کے بارے میں پہلے ہی ماہرین نے آگاہ کردیا تھا کہ یہ زلزلے کی زد میں آتے ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے مردان اور چارسدہ کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات پہنچتے ہیں مگر یورپ میں اتنے ہی سیلاب سے اتنی زیادہ تباہی کیوں نہیں ہوتی ہے سچ یہ ہے کہ یہ عام شہری کے لئے قدرتی آفت ہے بعض ارباب اختیار کے لئے منافع منافع بخش کاروبار ہے بارش ہوتی ہے سیلاب آتا ہے زلزلہ سے مکانات گرتے اور لوگ مرتے ہیں تو امداد بھی آتی ہے شہری مزید غریب ہوجاتے ہیں ان کے معاشی مسائل بڑھ جاتے ہیں اور ان دونوں صورتوں سے مذہبی پیشوا، جاگیردار اور سیاست دان فائدہ اٹھاتا ہے۔
چونکہ عام انسان یہ نہیں جانتا ہے کہ ان قدرتی آفات کی روک تھام کی جاسکتی ہے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے جانی اور مالی نقصان کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے لہٰذا جب کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ہمارے برے اعمال کی سزا ہے تو وہ اس پر فوراً یقین کرلیتا ہے ۔
ملک کا بجٹ بھی ہمارے پاس ایک ایسا آلہ یا پیمانہ ہے جس کے ذریعہ یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں سماجی برائیاں کیوں زیادہ ہیں اور قدرتی آفات کن کے اعمال کا نتیجہ ہے اگر ایک بجٹ میں عوام کی تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم مختص ہوگی تو لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے ان کی صحت بہتر ہوگی برسرروزگار ہوں گے اور ان کے پاس پیسہ ہوگا تو ایسے علاقوں میں رہنے پر مجبور نہیں ہوں گے جو کہ قدرتی آفات کی زد میں آتے ہیں یا ان کی حفاظت کے لئے بجٹ میں رقم مختص ہوگی تو بارشوں سے مردان اورر چارسدہ جیسی تباہی نہیں ہوگی ۔
بعض گروہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ قدرتی آفات کیسے اور کہاں آتے ہیں اور کن علاقوں میں زیادہ اور کن میں کم آتے ہیں سادہ لوح عوام سے یہ حقیقت چھپاتے ہیں اور اسے انسانی اعمال سے باندھنے کی گردان کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شہریوں کا دھیان ملکی امور اور سیاست کی جانب نہ ہو اور وہ حکمرانوں کی جانب سے آنکھیں موند کر اپنے اعمال کی درستگی پر ہی وقت صرف کرتے رہیں۔
جب ایک ملک کے باسی اپنے اعمال کی نوک پلک سنوارنے میں مصروف ہوتے ہیں تو پھر ان کی توجہ بالادست طبقات کی لوٹ کھسوٹ سے بٹ جاتی ہے ان کے ذہنوں سے یہ تصورات محو ہوجاتے ہیں کہ یہ ان کے نہیں ان کے حکمرانوں کے اعمال ہیں جن کے باعث معاشرہ خراب ہے سماج میں ایسے نظریات کے فروغ سے عوام کا دھیان اپنے حقوق کی جانب نہیں رہتا بلکہ وہ اپنے خلاف لڑنا شروع کردیتے ہیں۔
قدرتی آفات کو انسانی اعمال سے جوڑنا ان افراد کا کام ہے جو سماج میں کسی تبدیلی سے خوف زدہ رہتے ہیں اور حالات کو جوں کا توں رکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں یہ ایک فطری عمل ہے کہ جب کوئی یہ دعوی ٰ کرتا ہے کہ یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے تو وہ ہمارا دھیان اعمال کی جانب کرکے قدرتی آفت کی وجوہات معلوم کرنے سے ہٹا دیتا ہے اور جب ایک واقعہ کی وجوہات تلاش نہیں کی جاتی ہیں تو اس میں تبدیلی لانے کا تصور بھی ذہنوں میں پیدا نہیں ہوتا چنانچہ جو چیز جہاں ہوتی ہے وہیں رہتی ہے اور یہی چیز ہمارے معاشرے میں بعض طبقات چاہتے ہیں۔
جن معاشروں میں تحقیق و جستجو نہیں کی جاتی اور قدرتی آفات یا بیماریوں کو انسانی اعمال سے جوڑا جاتا ہے ان کی ترقی کاعمل بھی رکا رہتا ہے۔ یورپی معاشرے اس لئے ترقی کے مدارج طے کررہے ہیں کہ جب کوئی حادثہ ہوجاتا ہے اور اس میں کوئی مرجاتا ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ موت اس کی قسمت میں لکھی تھی بلکہ اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کا حل تلاش کیا جاتا ہے وہ تپ دق کے اسباب معلوم کرتے رہے اور بالآخر اس کا علاج دریافت کرلیا۔
اسی طرح دل کے دورے پر بھی تحقیق کا سلسلہ جاری رہا اب ان کے لئے ایڈز اور سرطان چیلنج ہے اگر ہمیں ترقی کرنا ہے اور غربت، جہالت اورر پسماندگی کو شکست دینا ہے تو ہمیں بھی یہی راستہ اپنانا ہوگا اور قدرتی آفت یا آفات کے علاوہ باقی واقعات کو بھی انسانی اعمال سے باندھنے کی قدیم سوچ و فکر کو ترک کرکے تحقیق و جستجو سے کام لینا ہوگا ۔
(
سال2005ء میں لکھا گیا)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *