سیکھنے کا تعمیراتی عمل۔۔۔ تیسرا و آخری حصہ

STEM-Day-3

.(Constructivism in Learnning)سیکھنے کا تعمیراتی عمل

سبط حسن

۔7۔ سیکھنے کے تعمیراتی عمل کا اطلاق کیسے کیاجائے؟

ممکن ہے کہ آپ بھی اپنی زندگی کے معمولات میں بھی سیکھنے کے تعمیراتی عمل کو استعمال کرتے ہوں۔ جو استاد اس عمل کو کارآمدمانتا ہے وہ بچوں کے سامنے مسائل اور سوالات رکھے گا۔ پھر بچوں کو اُکسائے گا کہ وہ ان کے حل اور جوابات ڈھونڈیں۔ وہ مختلف طریقے استعمال کرکے سیکھنے کے تعمیراتی عمل کو آگے بڑھائے گے ۔ مثلاً
۔۱۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ کسی بھی مسئلے پر خود سے سوالات بنائیں۔
۔۲۔ ہر قسم کی رائے ، دلیل اور توجیہہ کو خوش آمدید کیا جائے گا۔
۔۳۔ بچے مل کر کام کریں ۔ گروہی سرگرمیوں میں شامل ساتھیوں کو سیکھنے کے عمل میں وسیلہ سمجھا جائے۔
سیکھنے کے تعمیراتی عمل کے لیے یہ حکمتِ عملیاں ایک بنیاد کا درجہ رکھتی ہیں۔

.(Constructed)۔7.1۔سیکھنے کے عمل کودرجہ بدرجہ تعمیر کیا جاتاہے

بچوں کا دماغ خالی سلیٹ نہیں کہ جس پر علم کو لکھا جائے۔ وہ جب سیکھنے کے لیے سکول میں آتے ہیں تو ان کے پاس کسی عنوان کے بارے میں کچھ نہ کچھ معلومات ضرور ہوتی ہیں۔ صرف معلومات نہیں وہ اپنے مخصوص نقطۂ نظر سے ان معلومات کو سمجھتے بھی ہیں۔ جاننے کی اسی خام صورت حال پر ان کی آئندہ سیکھنے کی عمارت تعمیر ہوگی۔ مثال کے طورپر مندرجہ ذیل سرگرمی ملاحظہ کریں۔
استاد پہلی جماعت کے بچوں کے لیے پیمائش کے بارے میں سیکھنے کا عمل تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پیمائش سے منسلک بچوں میں پہلے سے موجود تصوّرات کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ مختلف بچے یہ جواب دیتے ہیں۔
۔۱۔ میری امی نے مجھے دیوارکے ساتھ کھڑا کرکے میرا قد ماپا، میں ایک میٹر لمبا ہوں۔
۔۲۔ میں کرسی پر کھڑی ہو کر پانی کا نل کھول لیتی ہوں۔
۔۳۔ میری نیلی قمیص چھوٹی ہوگئی ہے، میری امّی نے اسے چھوٹے بھائی کو دے دیا ہے۔
استاد پیمائش کے پیمانے پر بچوں سے سوال کرکے ، تینوں بچوں کے قدماپنے کے لیے معیاری پیمانے پر رائے معلوم کریں۔

.(Active) ۔7.2۔سیکھنے کے عمل میں طلبہ کی شرکت متحرک ہوتی ہے

اس عمل میں بنیادی ہدف یہ ہے کہ ہر بچہ اپنے طورپر نئی سمجھ سوچ پیدا کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ استاد بچوں کی رہنمائی کرتاہے، ان کو ہدایات دیتاہے، مشورے دیتا ہے اور معاملات کو سنبھال کرآگے بڑھاتاہے۔ یہ سب کرنے کے باوجود اصل کام بچوں نے ہی کرنا ہوتا ہے۔اگر وہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں تووہ ایسا کرسکتے ہیں۔ وہ سوال اٹھا سکتے ہیں۔اگر معاملات آگے نہ بڑھ رہے ہوں تو وہ طرح طرح کی سرگرمیوں کو آزما سکتے ہیں۔ چونکہ اصل مقصد بچوں کی سمجھ میں تبدیلی لانا ہوتاہے، اس لیے پوری کوشش کی جاتی ہے کہ ہر بچہ مکمل طور پر پوری توجہ کے ساتھ سرگرمیوں میں حصہ لے۔ وہ ہر لحظہ سوچ بچار کرے، سوال اٹھائے، بات چیت کرے، سرگرمیاں کرے اوراپنے اہداف کو طے کرے۔ ان اہداف کوحاصل کرنے کے عمل اور اس کی جانچ کے معیار بھی طے کرے۔ مثال کے طورپر یہ سرگرمی ملاحظہ کریں۔

۔۱۔ چھٹی جماعت کے بچوں کو منصوبہ دیاجائے کہ وہ سکول کا ہفتہ وارخبرنامہ تیار کریں۔
۔۲۔ بچوں سے کہا جائے کہ وہ آپس میں مختلف کام بانٹ لیں۔مثلاً رپورٹر، سب ایڈیٹر، فوٹوگرافر، ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر وغیرہ۔
۔۳۔ ہر کارکن کے ذمے کون سے کام ہوں گے اور طریق کار کیا ہوگا،اس پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
۔۴۔ خبرنامے کے مختلف حصوں میں کون سی خبریں /مضامین وغیرہ ہوں گے۔
۔۵۔ اشاعت کا شیڈول کیا ہوگا؟

یہ سرگرمی تخلیقی نگارشات کے لیے بہترین ہے۔ اسے سارا سال جاری رکھا جاسکتاہے۔ البتہ اس میں ذمے داریوں کو تبدیل کرتے رہنا چاہیے۔

.(Reflective)۔7.3۔سیکھنے کے عمل میں سوچ بچار کرنا لازمی ہے.

چونکہ سیکھنے کے تعمیراتی عمل کی باگ دوڑ بچوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لیے ہر بچہ جو سیکھ رہا ہوتاہے، اس کی ذمے داری بھی اسی بچے پرہوتی ہے۔ اس عمل کو درست سمت میں رکھنے کے لے ضروری ہے کہ بچہ اپنے تجربات اور حاصل کردہ سمجھ پر مسلسل سوچ بچار کرے۔ ایسا کرنے سے بچے اپنے سیکھنے کے عمل میں نہ صرف خود مختار ہو جاتے ہیں بلکہ اس کو شروع کرنے سے لے کر اعلیٰ مدارج تک لے جانے کی اہلیت بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ انفرادی یااجتماعی سطح پر ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے ، جن میں شامل ہو کر بچے اپنے تجربات اور سمجھ سوچ پر ناقدانہ نظر ڈال سکیں۔ ناقدانہ نظر کے بعد ضروری ترامیم کرسکیں۔ اس عمل میں جوسیکھا جارہاہے اور جیسے سیکھا جارہا ہے اہم ہیں۔ اس کے لیے یہ سرگرمی کی جاسکتی ہے۔
چھٹی جماعت کے بچوں نے جوخبرنامے تیار کیے، ان کو تین ہفتوں کے بعد سوفٹ بورڈ پر آویزاں کردیاجائے۔ تمام گروہوں کے بچوں سے کہا جائے کہ وہ تمام خبرناموں کا تقابلی جائزہ لیں اور اپنی کمزوریوں اورخوبیوں کی نشاندہی کریں۔ مزید یہ کہ کمزوریوں کو کیوں کر بہتر بنایا جائے۔

.(Collaborative)۔7.4۔سیکھنے کے عمل میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔

سیکھنے کے تعمیراتی عمل میں مقابلہ بازی کا عنصر نہیں ہوتا۔ اس میں بچے مل جل کر، ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے نئی نئی باتیں سیکھتے ہیں اور انھیں سیکھنے میں شامل حال کرلیتے ہیں۔ جب بچے آپس میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے عمل پر بات کرتے ہیں تو اس دوران اپنے سے بہتر طریقوں یا سرگرمیوں کو اپنا لیتے ہیں۔
مل جل کر کام کرنے کے عمل میں بچے سماجی رویوں مثلاًتنقید سننے، دوسروں کے رویّوں کوبرداشت کرنے ، دوسرے کی رائے کااحترام کرنے، دوسروں سے اپنی رائے منوانے کے لیے دلیل دینے اور سب سے بڑھ کر دوسروں کی اپنے لیے اہمیت کا شعورسیکھتے ہیں ۔ مثال کے طور خبرنامہ اس وقت تک تیار نہیں ہوسکتاجب تک وہ آپس میں تعاون نہ کریں۔


.(Inquiry Based)
۔7.5۔سیکھنے کے عمل میں تحقیق کوبنیادی محرک سمجھنا

سیکھنے کے تعمیراتی عمل میں بنیادی بات ہر مرحلے پر آنے والے مسائل کو حل کرناہے۔ تحقیقاتی مزاج کی بدولت ہی بچے سوال اٹھاتے ہیں، کسی بھی معاملے کی تفتیش کرتے ہیں اور کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے مختلف طرز کے وسائل اور طریقے استعمال کرتے ہیں۔ مسائل کے حل اپنے طورپر ایک اور عمل کی ابتدا ہوتے ہیں۔ ان نتائج پر پھر سے سوال اٹھائے جاتے ہیں اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ مثلا کے طورپر بچے متوازن غذا کے بارے میں تعمیراتی عمل استوارکررہے ہیں۔ ان سے کہا جائے کہ وہ اپنے گھرو ں میں کھائی جانے والی غذاؤں کا چارٹ بنائیں اور ان کی مجموعی غذائی افادیت ، کمی یا زیادتی طے کریں۔

۔7.6۔سیکھنے کاعمل تدریجاً تشکیل پاتاہے

سیکھے کے عمل کو تعمیرکرنے کے پہلے جو معلومات بچے کے پاس ہوتی ہیں ان پر انحصار کرتے ہوئے ہی یہ عمل آگے بڑھایا جاتاہے۔ ممکن ہے کہ بعد میں بچے کو معلوم ہو کہ اس کی ابتدائی معلومات مکمل طورپر درست نہ تھیں یا نئے تجربات کی وضاحت کے لیے ناکافی تھیں۔ مثال کے طورپر بچے کو معلوم تھا کہ خزاں میں سارے پودے اپنے پتے گرادیتے ہیں۔ تاہم ایک سدابہار پودا دیکھنے کے بعد وہ اس خیال میں ترمیم کرلے گا۔ سیکھنے کے تعمیراتی عمل میں دراصل مندرجہ ذیل درجات آتے ہیں:

۔۱۔نئی معلومات، بچے کو پہلے سے معلوم بات کے ساتھ مربوط نظر آتی ہے۔ اس طرح اس کی سمجھ میں اضافہ ہو جاتاہے۔
۔۲۔ نئی بات ، بچے کو پہلے سے معلوم بات کے ساتھ میل نہیں کھاتی۔ بچے کو تحقیق کرنا پڑے گی کہ درست بات کون سی ہے۔ اگر پرانی بات درست نہیں تو اسے تبدیل کرنا پڑے گا۔
۔۳۔ یہ بھی ہو سکتاہے کہ نئی بات، پہلے سے معلوم بات کے ساتھ کوئی واسطہ ہی نہ رکھتی ہو۔ ایسی صورت میں اسے نظر اندازکردیاجاتاہے۔

مثال کے طورپر پانچویں جماعت کے بچے کشش ثقل پر سیکھنے کا عمل شروع کررہے ہیں۔ استاد بچوں کی تحقیق کے لیے انھیں مختلف چیزیں مثلاًفوم ، لکڑی، سیسہ اور لوہے کا ٹکڑا وغیرہ دیتی ہے۔ سوال اٹھایا جاتاہے کہ ان چیزوں میں سے کونسی چیز گرانے کی صورت میں تیزی سے نیچے آئے گی۔ کچھ بچوں کا خیال ہے کہ بھاری چیز تیزی سے گرے گی جبکہ ہلکی چیز آہستگی سے نیچے آئے گی۔
استاد بچوں کو ضروری سامان اور گلیلیو ونیوٹن کے بارے میں معلوماتی چارٹ اور کتابیں وغیرہ دے دیتی ہے۔ بچے گلیلیو کے اوپر سے نیچے مختلف اوزان کی چیزیں گرانے کا تجربہ کرتے ہیں۔ اس سے نتیجے نکالتے ہیں اور اپنے سابقہ مفروضوں میں ضرورت کے مطابق ترمیم کرلیتے ہیں۔


۔8۔ سیکھنے کے تعمیراتی عمل کی مزید وضاحت کے لیے کچھ مثالیں

۔8.1۔کھیل کھیل میں

لیڈی برڈکی تلاش
ایک دن بچے پارک میں کھیل رہے تھے ۔ آمنہ نے گھاس پر لیڈی برڈ کو دیکھا ۔ اس نے شورمچادیا ، ’’دیکھو ، مہرو!یہ وہی کیڑا ہے جس کی تصویر ہماری کتاب کے اوپربنی ہوئی ہے۔ چلو، اسے پکڑتے ہیں اور ایسے مزید کیڑے تلاش کرتے ہیں۔ ان کو ڈبیا میں ڈال لیں گے اور گھر میں رکھ لیں گے۔
بچوں نے لیڈی برڈڈھونڈناشروع کیے مگر ایک کے علاوہ کوئی نہ ملا۔ سب بچے مایوس ہورہے تھے۔ اچانک جہاں کو خیال آیا :’’ہوسکتاہے کہ یہ سائے میں رہنا پسند کرتے ہوں۔ چلو، وہاں سائے میں اونچے گھاس والی جگہ پر دیکھتے ہیں۔‘‘ سب بچے وہاں پہنچے۔ وہاں، انھیں بہت سے لیڈی برڈنظر آئے۔ ماریہ نے سوچا کہ ہم اتنے زیادہ لیڈی برڈز کو کیسے گھر لے جائیں گے؟ وہ دوڑی اور گھر سے جام کی خالی تین بوتلیں اٹھالائی۔ سب بچو ں نے بہت سے لیڈی برڈ ز، بوتلوں میں ڈال لیے۔ سب بچے جہاں کے گھر چلے آئے، وہاں انھوں نے یہ کام کیے۔


۔۱۔ سب بچوں نے محدب عدسے کی مدد سے لیڈی برڈ کو دیکھا۔
۔۲۔ لیڈی برڈ کی موبائل فون سے تصویریں اتاریں۔
۔۳۔ رنگین پنسلوں سے انکی تصویر کشی کی۔ ایک بچہ جب تصویربنارہاتھا تو اس نے پوچھا کہ لیڈی برڈ کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں۔ سب بچوں نے ٹانگیں گنیں تومعلوم ہوا کہ اس کی چھے ٹانگیں ہوتی ہیں۔
۔۴۔ سب لیڈی برڈ سرخ تھے اوران پر کالے دھبے تھے۔ ایک بچے نے شور مچادیا کہ یہ اڑبھی لیتے ہیں۔
۔۵۔ ایک بچے نے کہا کہ اب یہ بوتلوں میں رہیں گے۔۔دوسرے نے کہا کہ ان کو خوراک کیسے دیں گے۔ ان کو واپس گھاس میں چھوڑنا ہوگا۔

بچوں نے کیاسیکھا؟
۔۱۔ لیڈی برڈ کے رہنے کی جگہ اور جسمانی ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
۔۲۔ سیکھنے کی مہارتیں، مثلاًمشاہدہ، تقابل کرنا ، پیش گوئی کرنا، مسئلے کو حل کرنا، بات دوسروں تک پہنچانااورکسی صورتحال سے نتیجہ نکالنے جیسے ہنر اور مہارتیں استعمال کیں۔
۔۳۔ رویّوں میں، ایک دوسرے سے تعاون، دوسروں کاخیال، جانداروں سے پیاراور ذمے داری سے کام کرنا سیکھا۔


۔8.2۔ اسمکو سکھانے سے متعلق تعمیراتی عمل شروع کرنے سے پہلے یہ سرگرمی کی جاسکتی ہے۔

نیچے دیے ہوئے سیٹ میں کون سا ایک جچ نہیں رہا؟
۱۔ علی، حسن، زینب، خوبصورت، ناخن۔
۲۔ صفحہ، کتاب، رنگین، کرسی، میز۔
۳۔ سائنس دان، ڈاکٹر، باورچی، روٹی، بڑا۔
۴۔لاہور، کراچی، سیر کرنا، پاکستان، مری۔
۔8.3۔کسوٹی
استادیابڑی جماعتوں کے بچے، چھوٹی جماعت کے بچوں کے ساتھ یہ کھیل ،کھیل سکتے ہیں۔ مثال کے طورپر بچوں کو پروٹین کے ہضم ہونے کے بارے میں سیکھنے کا عمل تعمیر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی سرگرمی یہ ہو سکتی ہے:
۔۱۔ استادبچوں سے کہے کہ آج وہ انسانی جسم میں رونماہونے والے ایک اہم عمل کے بارے میں پڑھنے جارہے ہیں۔
۔۲۔ یہ جاننے کے لیے کہ وہ کونسا عمل ہے، بچے، استاد سے دس سوالات پوچھ سکتے ہیں۔ استاد ان سوالات کا جواب ہاں یا نہیں میں دے گا۔
۔۳۔ بچے یہ سوالات کرتے ہیں:
الف۔ کیا اس عمل کا تعلق پھیپھڑوں سے ہے؟
ب۔ کیا اس عمل کا تعلق خون سے ہے؟
ج۔ کیا اس عمل کا تعلق خوراک سے ہے؟
د۔ کیا اس عمل کا تعلق خوراک سے ہے؟
ہ۔ کیا اس عمل کا تعلق توانائی پیدا کرنے سے ہے؟
و۔ کیا اس کا تعلق کسی خاص قسم کی غذا سے ہے؟
ز۔ کیا اس غذائی گروہ میں چاول بھی شامل ہیں؟
ح۔ کیا یہ غذائی گروہ گوشت پر مشتمل ہے؟ وغیرہ وغیرہ


.(Using Non-examples)
۔8.4۔ غیر موافق مثالوں کا استعمال
کسی بات کو کھولنے کے لیے عام طورپر موافق مثالوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔ اگر غیر موافق مثالوں سے بھی مدد لی جائے تو بچے بات کوزیادہ جلدی اور گہرائی سے سمجھ لیتے ہیں۔ استاد کو غیر موافق مثالیں دینے سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اسے بچوں کو ایسی مثالیں دینے پر اکسانا چاہیے۔
غذاکے تصور سے متعلق چند غیر موافق مثالیں:
ادویات، تمباکو، چیونگم، الکوحل۔
اسم کے تصوّر سے متعلق چند غیر موافق مثالیں:
کھانا، پینا، خوبصورت، واضح طورپر ،بڑا، اعلیٰ۔


.(I Spy Something)
۔8.5۔ بوجھو تو جانیں..
یہ مشغلہ چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیلا جائے تو بہت لطف دیتاہے۔ مثال کے طور اگر بچوں کو رینگنے والے جانوروں کے بارے میں سکھاناہے تو یہ پوچھا جاسکتاہے:۔
ایک جاندارجوہمارے ساتھ ہمارے گھروں میں رہتاہے۔ اس کی جلد بھوری اور کھردری ہوتی ہے۔ اسے مچھرکھانا بہت اچھا لگتاہے۔ بتائیے وہ کون سا جانور ہے؟

۔8.6۔ سیکھنے کے تعمیراتی عمل میں سائنسی انکشافات
مسئلہ:۔ اکبر پریشان ہے کہ کیا کیک کی ترکیب میں چینی کی مقدار کیک کے سائز پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

ریسرچ:۔ اکبر، بیکنگ سے متعلق ریسرچ پڑھتاہے تاکہ اپنے سوال کا جواب تلاش کرلے۔ وہ ملنے والی تمام معلومات ایک کاپی میں لکھ لیتاہے۔اس کے استادبھی اس کی مدد کرتے ہیں اور اسے اپنی تحقیق کے لیے ایک ڈایا گرام استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

۔۔مفروضہ۔۔ Hypothesis
اگرمزید چینی ڈالی جائے تو کیک کا پھیلاؤزیادہ ہوگا۔

غیرمبدل خاصیتیں:۔
(Constants)
کیک بنانے کے لیے چینی کے علاوہ اجزا، اوون(Oven)، بیکنگ کے لیے دیا گیاوقت، اجزاکے برانڈ ، زیراستعمال برتن، ہوا کا درجہ حرارت اور نمی، اوون کا درجۂ حرارت اور خمیر۔

تجربہ:(Experiment)
اکبر، اپنی کاپی میں تجربے کے تمام مراحل لکھ لیتاہے۔

کیک کا سائز ۔ مکعب سینٹی میٹر

چینی کی مقدار۔ گرام

758

25

1260

50

1116

100

612

250

432

500

تجزیہ
(Analysis)
اکبر کو تجربے سے ملنے والی شماریات سے معلوم ہوا کہ سوگرام چینی کے بعدچینی میں جو اضافہ کیا گیا اس سے کیک کے سائز پر منفی اثر شروع ہوگیا۔

نتیجہ:
(Conclusion)
اکبر نے نیتجہ نکالا کہ اس کا مفروضہ درست نہیں۔ البتہ اس نے50گرام سے100گرام کے درمیان چینی کی مقدار پر نئے سرے سے تجربات کرنے کا فیصلہ کیا۔

نیامفروضہ

پچاس گرام سے 100گرام چینی کے درمیان کسی مقدار پر کیک کازیادہ سے زیادہ پھیلاؤ ممکن ہے۔

نیاتجربہ

نئے تجربات میں تین کوششیں کی گئیں ان سے ملنے والی معلومات کے بعد کیک کااوسط سائز یہ نکلا۔
د

کیک کا سائز۔ مکعب سینٹی میٹر

چینی کی مقدار۔ گرام

1344

50

1380

60

1612

70

1332

80

1084

90


تجزیہ
سترگرام چینی سے کیک کا سائز سب سے زیادہ ہوتاہے۔

نتیجہ
ایک خاص حد سے زیادہ چینی ڈالنے سے کیک کے سائز میں کمی واقع ہوتی ہے۔ددب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *