سیکھنے کا تعمیراتی عمل۔۔ حصہ دوم

Active-Learning

سبط حسن

شعور/سمجھ میں تبدیلی کا تعمیراتی عمل

سیکھنے کا تعمیراتی عمل کیوں اہم ہے؟

سیکھنے کے روایتی طریقوں سے دراصل سیکھنے کا عمل روپذیر ہی نہیں۔سیکھنے کے ان طریقوں سے صرف معلومات کی منتقلی ہوتی ہے۔ چونکہ پہلے سے موجود سمجھ میں نئی معلومات کے اضافے سے کسی قسم کا ارتعاش سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا، اس لیے صورت حال منجمد رہتی ہے۔ اگر ارتعاش نہیں ہوگا توسوالات بھی پیدانہیں ہوں گے۔ سوالات نہیں ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکھنے کا عمل روپذیر نہیں ہورہا۔
مثال کے طورپر آپ نے کولیسٹرول کے ٹیسٹ کروائے۔ لیبارٹری نے کولیسٹرول سے متعلق مختلف معاملات سے متعلق رپورٹ دے دی۔ یہ چند ہندسے ہیں۔ آپ کو ان ہندسوں کی ترسیل ہوگئی مگر ان ہندسوں میں معانی اس وقت پیداہوں گے جب ڈاکٹر ان کا تقابل کرکے آپ کے خون میں کولیسٹرول کی کمی یا زیادتی کا فیصلہ کرے گا۔ اسی بات کو سماجی پہلوؤں سے دیکھتے ہیں۔
ہمارے ہاں عام طورپر لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان تعلق کے مواقع نہیں ہوتے۔ شادی سے پہلے تک لڑکے اور لڑکی، دونوں کو اس تعلق کے بارے میں بہت سی معلومات ہوتی ہیں جو والدین یا اردگرد کے لوگوں سے ان تک پہنچتی ہیں۔ جب شادی کے دائرے میں آتے ہیں تو اس وقت جسمانی کشمکش خاصی گھمبیرہوتی ہے۔ اس غبار کے چھٹ جانے کے بعد لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو حقیقی سطح پر جاننے کی دہلیزپرآتے ہیں۔
یہ وہ مرحلہ ہے جب اس تعلق سے متعلق تعمیراتی عمل شروع ہوتاہے۔ چونکہ یہ عمل ایسا ہموار نہیں ہوتا، اس لیے دونوں اس کو جاری رکھنے سے کتراتے ہیں۔ اس طرح ساری زندگی ایک دوسرے سے کترانے میں گزر جاتی ہے۔ اگر شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیوں کو محض معلومات دینے کی بجائے تعلق کو تعمیر کرنے کی گنجائش دی جائے تووہ ایک دوسرے سے تعلق بنانے کے عمل سے بخوبی گزرجائیں گے۔

۔۴۔ تاریخ میں سیکھنے کے تعمیراتی عمل کا کردار

سیکھنے کے تعمیراتی عمل کے باعث ہی انسانی تاریخ میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ انسان نے اپنے اردگرد فطرت کو سمجھا، اس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کے ہنر سیکھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عمل کے دوران خودانسان کا شعور بھی بدلااوربدلتاجارہاہے۔ ہزاروں سالوں سے ہمارے ہاں زندگی کادارومدار زرعی معیشت پر تھا۔ اس کا روایتی ڈھانچہ اور اس کا طریق کار بھی ہزاروں سال پہلے طے ہو گیا تھا۔
اس ڈھانچے میں زمین کے ساتھ رشتے، انسانوں کے آپسی رشتوں اور دیگر متعلقہ معاملات ،روایات کی صورت میں اصولوں کا درجہ حاصل کرگئے۔ انھی بندھے ٹکے اصولوں پر لوگ اپنی زندگیاں گزارجاتے تھے۔ آہستہ آہستہ آبادی بڑھنے لگی۔ کاشتکاری مکمل طورپر بارانی تھی۔ آبادی کی ضروریات کے حساب سے اناج نہ ملتاتھا۔ مزید یہ کہ حکمران طبقہ زیاد ہ سے زیادہ اناج کسانوں سے ہتھیا کر ، اسے دیگر ممالک کو بیچ کروہاں سے فوج کے لیے ہتھیارمنگوالیتے تھے یا اپنی ذاتی ترجیحات جیساکہ مقبرے بنانے اوردیگرعیاشیوں پر خرچ کردیتے تھے۔
اس عدم توازن کانتیجہ یہ نکلا کہ سترھویں صدی عیسوی کے بعد مسلسل قحط پڑنے لگے۔ لوگ لاکھوں کی تعداد میں مرجاتے ۔ اس صورت حال میں لازم تھا کہ تبدیلی کے لیے کوئی تحریک جنم لیتی مگر ایسا کچھ نہ ہوا کیونکہ امرا نے اس صورتحال کو اپنی خود غرضیوں کا شاخسانہ قراردینے کی بجائے اسے قسمت یا تقدیر قراردے دیا۔ اس طرح قحط سے جو معلومات پیداہوئیں، ان سے سیکھنے کا تعمیراتی عمل شروع نہ ہوسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے کوئی کوشش نہ کی گئی۔
اس صورت حال کو انگریزوں نے ہندوستان میں آکر نہریں کھود کرتبدیل کیا۔ پیداوار میں اضافہ ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ عام لوگ پھر بھی بھوک سے مرتے رہے کیونکہ یہ اناج ان کے لیے نہیں تھا۔
اب روایتی زرعی معاشرہ ختم ہو چکاہے۔ روایتی باتوں سے زندگی کے معمولی اور بڑے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کی تعلیم میں سیکھنے کے تعمیراتی عمل کومرکزیت دے دی جائے۔

بیماری کے سائنسی تصوّر کا تعمیراتی ارتقا

روایتی سوچ یہ تھی کہ: بیماریاں آسمانوں پر رہنے والی ہستیوں کے انسانی جسم میں داخل ہو جانے کے بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ہستیوں کو نذر دے کر ان کے عذاب سے بچا جاسکتاہے۔

سوال پیدا ہواکہ: برسات کے موسم میں بہت سے لوگوں کو تیز بخار کیوں ہو جاتاہے؟

مشاہدے سے معلوم ہواکہ برسات کے موسم میں مچھر پیدا ہو جاتے ہیں ، ان کے کاٹنے سے تیز بخار (ملیریا) ہو جاتاہے۔

تجربے اور مشاہدے سے معلوم ہواکہ: اگر ملیریے سے بچنا ہے تو مچھروں سے دور رہا جائے۔اس کے لیے اوپلوں یا گھاس پھوس کو جلاکردھواں پیدا کیاجائے۔ دھویں سے مچھر بھاگ جائیں گے۔

سوال پیدا ہواکہ: کیا برسات میں آسمانی ہستیاں زمین پر نہیں اترتیں یا ان کو ملیریا پھیلانے میں کوئی دلچسپی نہیں؟

خردبین کی ایجاد کےبعد معلوم ہوا کہ : بیماریاں، خردبینی جانداروں سے پیدا ہوتی ہیں۔عام طورپر یہ خون میں شامل ہو کر بیماری پھیلاتے ہیں۔

تجربات سے معلوم ہوا کہ: جراثیم سے دور رہ کر بیماریوں سے بچاجاسکتاہے۔ اگر بیماری ہو جائے تو دوا دے کر جراثیم سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔

۔5۔ سیکھنے کے تعمیراتی عمل کا بنیادی نقطۂ نظر کیاہے؟

سیکھنے کے تعمیراتی عمل میں بنیادی نقطۂ نظر یہ ہوتاہے کہ کو ئی عمل روپذیر ہو۔یہ نہیں کہ عمل کیذریعے پیدا ہونے والے اصول یانتیجے پر توجہ دی جائے۔ اگر آپ کرکٹ کے رسیا ہیں تو آپ کو صرف کھیل کے نتیجے میں دلچسپی نہ ہوگی۔ کھیل کا اصل مزا اس کے روپذیر ہونے والے عمل میں ہے۔ اس عمل کا تجربہ کرتے ہوئے آپ خوش ہوں گے تو کبھی افسردہ ہو جائیں گے ۔ کبھی آپ اس قدر مایوس ہو جائیں گے شاید میچ دیکھنا ہی چھوڑ دیں۔ سسپنس اور لطف کے اسی زیرو بم میں سے گزرتے ہوئے آپ میچ کے اختتام تک پہنچیں گے۔ ضروری نہیں کہ میچ میں آپ کی پسندیدہ ٹیم جیت جائے۔ اصل لطف میچ کے عمل کو دیکھنے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کسی وجہ سے براہ راست میچ نہ دیکھ پائیں تو آپ اس کی ریکارڈنگ کا انتظارکریں گے۔

۔5.1۔ جاننے کے بنیادی عناصر

معلومات، مہارتیں اور رویے یا اقدار جاننے کامکمل عمل ان تین عناصر کے بغیر ممکن نہیں۔ صرف معلومات پر زور دینے سے جاننے کا عمل شروع نہیں ہوتا۔ اس کے دیگر عناصر کا مسلسل ساتھ رہنا ضروری ہے۔ صرف سکول میں سیکھنا ہی نہیں زندگی کا کوئی کام ان تینوں کے بغیر ممکن نہیں۔ چونکہ جاننا، دراصل زندگی ہی کے لیے ہے اس لیے ان تینوں کو جاننے کے عمل کا حصہ بنانا لازمی ہے۔ مثال کے طورپر آپ شیف کی تربیت کی مثال لیں۔ اسے معلومات کے ضمن میں صفائی/ کھانوں کی اقسام ، ان کی غذائی درجہ بندی، کھانے والی اشیا کی تاثیر وغیرہ جاننا ضروری ہیں۔ مہارتوں میں ہاتھ سے کام کے ساتھ ساتھ مشاہدہ ، سونگھنا، چکھنا، تخیل اور فنی لطافت بہت ضروری ہیں۔ اگر یہ دو عناصرہوں تو کوئی شخص بہت اچھے کھانے پکانے کا اہل ہوجائے گا ۔ اگر اس میں دوسروں کو کھلا کر خوش ہونے کا رویہ نہیں تو اس کے بنائے کھانے میں کبھی ذائقہ نہیں آئے گا۔ اسی طرح صفائی ستھرائی کا رویہ نہیں تو کبھی اس کے کھانے محفوظ نہ ہوں گے۔
سیکھنے کے تعمیراتی عمل میں بیک وقت معلومات، مہارتوں اور رویّوں سے مل کر ایک مربوط عمل رونما ہوتاہے۔ یہی اس عمل کا کمال ہے۔

۔5.1۔سیکھنے کے تعمیراتی عمل کی ایک مثال

استادکیاکرتاہے؟
استاد جماعت چہارم کے بچوں کے سامنے لوہے کے چھلّے میں سے گولہ گزارنے کا تجربہ کرتاہے۔ گولہ نہیں گزرتا۔ پھر وہ چھلّے کو گرم کرکے اس میں سے گولہ گزرتاجاتاہے۔
استادبچوں سے کیا توقع رکھتاہے؟
استادبچوں کے سامنے تجربہ کرنے سے پہلے بچوں سے کہتاہے کہ وہ ، ان کے سامنے کیے جانے والے تجربہ کو دیکھتے ہوئے یہ کام کریں:
۔1۔وہ بغور مشاہدہ کریں کہ ان کے سامنے کیا ہورہاہے؟
۔2۔وہ تجربے کے ہر مرحلے پر ہونے والے عمل کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کوئی مفروضہ قائم کریں یا اس عمل پر کوئی پیش گوئی کریں۔
۔3۔وہ اپنی رائے دیں کہ اس تجربے سے کیاثابت ہوا۔ اپنی رائے کے حق میں دلائل بھی دیں۔

۔5.3۔تعمیراتی عمل کا حاصل

بچے تجربے کے عمل کا درجہ بدرجہ مشاہدہ کریں گے اور اس کے بعد سائنسی عمل کے دیگر مرحلوں میں سے خود گزر کرکوئی نتیجہ نکالیں گے۔ ضروری نہیں کہ ان کا نتیجہ درست ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ سائنسی عمل کے لیے ضروری مہارتوں کا استعمال کریں گے۔ یہ مشق ان کو ایک دن اچھا سائنس دان یاایک ناقدانہ مزاج والا انسان ضرور بنادے گی۔

۔6۔روایتی اورتعمیراتی عمل پر مبنی سیکھنے کے عمل میں کیا فرق ہے؟

سیکھنے کا تعمیراتی طریقہ

سیکھنے کاروایتی طریقہ

طلبہ کے سوالات اور دلچسپی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اہداف کو تبدیل کر لیاجاتاہے۔ سیکھنے کے مأخذ لامحدود ہوتے ہیں۔

۔۱۔ سختی کے ساتھ طے شدہ کریکلم پر عمل کرتے ہوئے تدریسی مقاصد کے حصول کو ہی اپنا حتمی ہدف سمجھتا ہے۔ اس کے لیے درسی کتاب پر مکمل انحصار کیا جاتاہے۔

سیکھنے کا عمل باہمی تعامل سے پیدا ہوتاہے اور یہ ا معلومات کو بنیاد بنا کر شروع کیا جاتاہے جو بچے کو پہلے سے معلوم ہوتی ہیں۔

۔۲۔ استاد سمجھتے ہیں کہ سیکھنے کا سرچشمہ وہ خود ہیں اور ان کے بغیر سیکھنے کا عمل ممکن نہیں۔ بچہ محض ایک وصول کنندہ ہے۔

استاد صرف ایک مدد گار ہوتاہے۔ وہ کوئی بھی سرگرمی بچوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے طے کرتاہے۔

۔۳۔ استادسمجھتا ہے کہ تعلیم اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ بچوں کو ہدایات اور حکم نامے جاری نہ کرتارہے۔

بچے کی جانچ اس کی سرگرمیوں ، اس کے مشاہدات، اس کے نقطۂ نظر یا اس نے جو عمل روپذیر کیاپر کی جاتی ہے۔ جانچ کے لیے نتیجہ اہم نہیں بلکہ عمل اہم ہے۔

۔۴۔ کیا بچے نے تعلیمی مقاصد حاصل کرلیے ہیں؟ یہ جانچنے کے لیے استاد سوالات کے درست جوابات پر انحصار کرتاہے۔

معلومات متحرک ہوتی ہیں اور تجربے کی نوعیت تبدیل ہونے کے ساتھ ہی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

۔۵۔ معلومات جامد یا غیر متحرک ہوتی ہیں۔

طلبہ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ اس عمل میں کامیابی یا ناکامی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ناکامی کی صورت میں عمل نئے سرے سے شروع کردیا جاتا ہے اورکامیابی کی صورت میں نیا عمل شروع کردیا جاتاہے۔ باہمی تعاون، اس عمل کا بنیادی نظریہ ہوتاہے۔

۔۶۔ طلبہ سیکھنے کے عمل میں انفرادی حیثیت میں شامل ہوتے ہیں۔ اس عمل میں ان کی کامیابی یا ناکامی بھی انفرادی ہوتی ہے۔ مقابلہ بازی اس طریقے کا بنیادی نظریہ ہوتاہے۔

کسی بھی سرگرمی میں بچے یا بڑے سب برابری کی سطح پر شامل ہوتے ہیں۔ سرگرمی سے پہلے اور سرگرمی کے دوران لطف اور شوق وذوق جیسے رویے غالب رہتے ہیں۔ سرگرمی کے بعد کام مکمل کرنے کی تشفی اور اطمینان ہوتاہے۔

۔۷۔ مقابلہ بازی کے باعث شخصی رویّوں میں گبھراہٹ ، اپنے آپ کو ممتاز کرنے کا خبط اور تنقیص نمایاں ہوتے ہیں۔ جیتنے کی صورت میں اپنے آپ کو عام لوگوں سے مختلف سمجھنا اور ناکامی کی صورت میں احساس شکست کا شکاربنناعمومی رویے ہیں۔

مضامین کی خانہ بندی کی پرواہ کیے بغیر حسب ضرورت کسی بھی مسئلے کے حل یا وضاحت کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ مضامین سے مدد لینا۔

۔۸۔ مختلف مضامین کے مخصوص عنوانات کی حدود کی پابندی کرنا اور ان کی خانہ بندی کرتے ہوئے ایک وقت میں ایک سے زیادہ مضامین کو مربوط کرنے سے گریز کرنا۔

سیکھنے کا عمل، زندگی میں پیوست رہناچاہیے۔ سیکھنے کے دوران زندگی کی گرمی ہر طالب علم کومحسوس ہونی چاہیے۔ سیکھنے کا عمل اسناد لینے کے بعد رکتا نہیں بلکہ ساری زندگی جاری رہتاہے۔

۔۹۔ روایتی طریقہ میں سیکھنے کے عمل اور تعلیمی ادارے کو زندگی سے الگ ایک جزیرہ سمجھاجاتاہے اور متحرک زندگی کے ساتھ وابستگی سے اجتناب کیاجاتاہے۔ تعلیم کامقصد صرف ضروری اسناد کے حصول تک محدو دہوتاہے۔

بچوں کا نقطۂ نظر، تعلیمی عمل کی منصوبہ بندی اور اس کے وقوع پذیر ہونے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ بچوں کا نقطۂ نظر ایسی کھڑکی ہے جس میں سے جھانک کرآپ بچے کی سیکھنے کی ترجیحات کو معلوم کرسکتے ہیں۔

۔۱۰۔ طالب علم کی کوئی رائے نہیں ہوتی۔وہ ایک مرید یا غلام کی طرح استاد کی پیروی کرتاہے۔

تعمیراتی عمل میں مسلسل،مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینا اور نئی نئی معلومات پیدا کرکے عمل کو آسان سے پیچیدہ مراحل کی طرف بڑھانا۔ اس عمل میں ایک ذمے دار ساتھی کا کردارنبھانا۔

۔۱۱۔معلومات کو وصول کرکے یاد رکھنا اورانھیں حسبِ فرمائش اُگل دینا۔

بلوم کے سیکھنے کے درجات میں ارفع ترین درجوں تک بچہ سرگرمیاں کرتاہے۔ یہی نہیں ساتھ ساتھ جانھے کی مہارتوں اور رویّوں کا اطلاق بھی جاری رہتاہے۔

۔۱۲۔ اگر بلوم کے سیکھنے کے درجات کو بنیاد بنالیا جائے تو بچے کی تعلیمی سرگرمیاں زیادہ تر معلومات کے دہرانے اور سمجھنے تک محدود رہتی ہیں۔ جاننے کے لیے ضروری رویوں اور مہارتوں پرتوجہ نہیں دی جاتی۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *