سورج نگری۔۔ ایک یونانی کہانی

سبط حسن

sunسورج نگری

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ یونان میں ایک لڑکا رہتاتھا ۔ اس کا نام فیٹون تھا۔ اس کے بال سرخ تھے۔ وہ سورج دیوتا، اپالوکابیٹا تھا۔

ہرروز فیٹون، اپنے باپ کی رتھ کو دیکھتا، جو مشرق سے نمودار ہوتی اور مغرب کی جانب غائب ہوجاتی ۔ اسے سورج کی رتھ دیکھنا بہت اچھالگتاتھا۔ وہ صبح سویرے

اٹھ بیٹھتا اور سور ج کی رتھ کے مشرق سے نمودار ہونے کاانتظار شروع کر دیتا۔سورج کی رتھ، مشرق کی طرف سے نظر آتی اور وہ اسے بس دیکھتارہتا۔ شام کو جب سورج کی رتھ مغرب کی جانب غائب ہوجاتی تو وہ سوچتاکہ نجانے اس کاباپ اپنی رتھ لے کر کہاں چلاگیا ہے۔ وہ سوچتاکہ اس کاباپ کس قدر طاقتور ہے۔ سورج کی رتھ کو آسمانوں کے بیچ لے کر چلنا کوئی آسان کام تو نہیں۔

ایک دن فیٹون اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا شرارتیں کررہاتھا ۔ اس کے دوستوں نے اسے چڑانے کے لیے کہنا شروع کردیا:۔
’’
سنو،فیٹون، ہمیں تو ہرگز یقین نہیں آتا کہ تم اپالو کے بیٹے ہو۔۔۔!‘‘

فیٹون نے دوستوں کی بات سنی ۔ وہ سخت ناراض ہو گیا اور سیدھا اپنی ماں کے پاس چلا آیا۔ ماں کو دوستوں کی بات بتائی۔ اس کی ماں کہنے لگی:۔
’’
اس میں کوئی شک نہیں کہ تم اپالو کے بیٹے ہو، اگر تم چاہو تو خود سورج کے محل میں چلے جاؤ اور اپنے باپ سے پوچھ لو۔۔۔‘‘

’’۔۔۔ مگر میں سورج کے محل تک کیسے پہنچ سکتاہوں۔۔۔؟‘‘
’’
تم مشرق کی طرف، اس جگہ تک جاؤ جہاں سے سورج نکلتاہے۔ وہاں تمھیں سورج کا محل نظر آئے گا۔۔۔۔تمھاراباپ اس محل میں رہتاہے۔‘‘ فیٹون کی ماں نے کہا۔

فیٹون نے ماں کو خداحافظ کہا اور مشرق کی طرف چلنے لگا۔ وہ کئی ماہ، دن رات چلتارہا۔ آخر کار سورج کے محل تک جاپہنچا۔ یہ بہت ہی خوبصورت محل تھا۔سارا سونے کا بنا ہوا۔ یہ بادلوں کے اوپر تھا ۔ یہاں ہر چیز اس قدر چمکدار تھی کہ فیٹون کے لیے دیکھنا مشکل ہورہاتھا۔

فیٹون نے محل کا دروازہ کھولا۔ دروازے کے سامنے اُسے ایک شخص نظر آیا۔ یہ بادلوں اور روشنی کی لہروں کا بنا ہوا تھا۔ فیٹون نے اسے بادل ہی سمجھا مگر جب اس کے کانوں میں آواز آئی تو وہ رک گیا۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا مگر اسے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ اچانک روشنی میں چمچماتاہواایک بادل اس کی طرف بڑھنے لگا۔ اس میں سے نیلے اور سنہرے رنگ کی روشنیاں نکل رہی تھیں۔ فیٹون نے پھر آواز سنی:۔

’’ تم کون ہو۔۔۔؟تمھیں کس سے ملناہے ۔۔۔؟‘‘
فیٹون نے دیکھا کہ آواز اسی بادل سے آرہی تھی ۔ وہ سمجھ گیا کہ سورج کی نگری میں، زمین پر رہنے والی مخلوق سے مختلف لوگ بستے ہیں۔

’’ میں نے اپنے باپ سے ملناہے۔۔۔ سورج دیوتا، اپالو سے۔۔۔‘‘ فیٹون نے کہا۔

فیٹون کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ بہت سے چمچماتے بادلوں نے اسے گھیر لیا ۔ اسے لگا جیسے وہ بادلوں میں چھپ گیاہے۔ یہی نہیں، بادلوں نے اسے اٹھالیا اور فیٹون بادلوں اور رنگ برنگی روشنیوں میں تیرتاہوا محل کے مختلف حصوں میں سے گزرنے لگا ۔محل میں جگہ جگہ روشنیوں کے فوّارے تھے۔ رنگ برنگے پارک تھے مگروہاں گھاس کی بجائے روشنیوں کے تھال بچھے ہوئے تھے۔ پھولوں کی بجائے رنگ برنگی روشنیوں کی پھلجھڑیاں پھوٹ رہی تھیں۔ فیٹون دل ہی دل میں خوش ہو رہاتھا کہ اس کاباپ کیسے عجیب و غریب مگر خوبصور ت محل میں رہتا ہے۔

اسی دوران بادلوں نے فیٹون کو ایک بڑے ہال میں لاکر کھڑاکردیا۔
فیٹون کیا دیکھتاہے کہ ہال کی دیواریں روشنیوں کی بنی ہوئی ہیں۔ ہال کے درمیان میں ایک تخت تھا اور اس پر ایک لمبا تڑنگا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اس آدمی نے نیلے آسمان جیسے کپڑے پہن رکھے تھے ۔ اس کے سرپر سنہری تاج تھا اور اس میں سے طرح طرح کی شعاعیں نکل رہی تھیں۔ فیٹون کے لیے دیکھنا مشکل ہورہا تھا۔اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور سوچاکہ یہی ہے سورج دیوتا، اپالو ۔۔۔ میں اسی کابیٹا ہوں۔

اپالو نے دروازے کے پاس فیٹون کو دیکھا۔ وہ دیکھتے ہی پہچان گیا کہ اس کے سامنے اس کا بیٹا کھڑا ہے۔ وہ دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ اس کا بیٹا کتنا بڑا ہوگیاہے۔ کیسا خوبصورت ہے اور اس کے بال تو دیکھو بالکل سرخ اور چمکدار ۔۔۔ اپالو نے فوراً!اپنا تاج اتارا تاکہ اس کا بیٹا آسانی سے دیکھ سکے۔پھر اپنے بیٹے سے مخاظب ہو کر کہنے لگا:۔

’’میرے پاس آؤ۔۔۔ تم اتنی دور، کیسے سورج نگری میں چلے آئے؟ بتاؤ، تم کس بات سے خوش ہو گے۔۔۔؟ تم جو کچھ بھی کہوگے، اسے پورا کیاجائے گا۔۔۔‘‘
’’
بابا، میرا دل چاہتاہے کہ میں سورج کی رتھ پر سواری کروں۔۔۔ ۔۔۔صرف ایک دن کے لیے ۔۔۔‘‘ فیٹون نے ہچکچاتے ہوئے فرمائش کی۔
اپالو، اپنے بچے کی یہ فرمائش سن کر گھبرا ساگیا۔ کہنے لگا:۔

’’ تم کچھ اور مانگ لو۔۔۔ دیکھو، تم ابھی اتنے طاقتورنہیں ہو کہ سورج کی رتھ کو سنبھال سکو۔۔۔ تمام دیوتاؤں میں صرف میں ہی ہوں جو بڑی مشکل سے اس رتھ کو سنبھال سکتاہوں۔۔۔!‘‘
فیٹون دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اس کے باپ نے خود ہی تو وعدہ کیا تھا اور پھر یہ بھی کہ اگر وہ سورج کی رتھ پر بیٹھے گا تو اس کے دوست اسے دیکھیں گے۔ انھیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اپالو کا بیٹا ہے۔ فیٹون نے پھر سے کہنا شروع کیا:۔

’’ میں سورج کی رتھ پر بیٹھنا چاہتاہوں اور آسمان کا چکر لگانا چاہتاہوں۔۔۔‘‘
’’
تم ابھی بچے ہو ، تمھیں نہیں معلوم ، تم کیا کہہ رہے ہو۔ رتھ کے گھوڑے بڑے منہ زور ہیں۔۔۔ وہ جب بھاگنا شروع کرتے ہیں تو انھیں راستے پر رکھنا ، بہت مشکل ہو جاتاہے۔ اورپھر آسمانوں میں راستہ ڈھونڈنابھی تو مشکل ہو تاہے۔ اوپر بلندیوں سے نیچے زمین کی طرف دیکھیں تو دل کانپ جاتاہے۔ ڈرلگتاہے کہ کہیں گر ہی نہ جائیں۔

اوپر ستارے اور چاند ہوتاہے۔ ان سے بھی بچ کر رہناپڑتاہے۔ راستوں کا دھیان رکھنا پڑتا ہے ۔ اگر غلطی سے سورج کی رتھ زمین کے قریب چلی جائے تو سمجھ لو کہ زمین پر ہر چیز جل جائے گی۔ اگر زیادہ دُور ہوجائے تو زمین سخت سردی کے باعث برف بن جائے گی۔۔۔میری رتھ کو چلاناآسان نہیں۔۔۔ تم اس کے علاوہ جو کچھ بھی مانگو تمھیں ملے گا۔۔۔

‘‘’’ آپ نے خود وعدہ کیا تھا کہ جوکچھ مانگوں گامِل جائے گا۔۔۔ میں نے سورج کی رتھ پر ہی بیٹھناہے۔۔۔ میں پوری احتیاط کے ساتھ گھوڑوں کو چلاؤں گا۔۔۔آپ فکر نہ کریں۔۔۔‘‘فیٹون نے کہا۔

اپالواپنے بیٹے کو سمجھاتارہا مگر بیٹا سورج کی رتھ پر سوار ہونے پر اصرار کرتارہا۔ اتنے میں صبح ہونے کا وقت قریب آپہنچا۔ اب سورج کی رتھ کے ساتھ گھوڑے جو تنے کا وقت تھا تاکہ سورج اپنے وقت پر نکلے اور زمین پرروشنی ہو جائے۔ اپالوکو اندازہ ہو گیا تھا کہ اسے اپنے بیٹے کی بات مانناہی ہوگی۔ اس نے اپنا سنہرا تاج سرپر رکھا اور بیٹے سے کہنے لگا:۔

’’ میرا اب بھی دل نہیں مانتا کہ تم سورج کی رتھ پر سوارہو۔ تم اب ضد کربیٹھے ہو مگر میری باتیں غور سے سنواور ان پر ضرور عمل کرنا ۔رتھ کو راستے پر رکھنا اور ہرگز راستے سے ہٹنے یاکسی اور طرف جانے کا خطرہ مول نہ لینا۔ نہ ہی زیادہ اوپر جانا اور نہ ہی زمین کے قریب جانا___مجھے نہیں معلوم کہ تم کیا کرو گے۔۔۔؟ خیر، اب جاؤ، وقت ہو گیاہے۔۔۔ اپنی حفاظت کا خیال رکھنا۔۔۔‘‘فیٹون کا دل تو خوشی سے اچھل رہا تھا ۔ اس نے جلدی جلد ی اپنے باپ کو خدا حافظ کہا۔ اتنے میں رتھ تیار ہو چکی تھی۔ اس نے گھوڑوں سے بات کی اور آسمانوں میں اڑنے لگا۔

سفر شروع کرتے ہی، گھوڑوں کواندازہ ہو گیا تھا کہ ان کو چلانے والا سورج دیوتانہیں___ رتھ بالکل ہلکی تھی۔ انھوں نے بہت تیزی کے ساتھ بھاگنا شروع کردیا۔ فیٹون ان کی لگامیں پوری طاقت کے ساتھ کھینچ رہا تھا مگر اس میں اتنی طاقت نہ تھی کہ گھوڑوں پر اس کا کچھ اثر ہوتا۔گھوڑے اب اپنی مرضی سے دوڑ رہے تھے۔ انھوں نے سیدھا راستہ چھوڑ کر زمین کی طر ف بڑھنا شروع کردیا۔ فیٹون نے زمین کی طرف دیکھا ۔ وہ بڑی تیزی کے ساتھ نیچے زمین کی طرف گر رہا تھا۔ وہ گھبرا گیا۔ اس کے ہاتھوں کی رتھ پر گرفت کمزور ہو رہی تھی۔ اس کا ایک ہاتھ تو چھوٹ ہی گیا مگر دوسرے ہاتھ کی گرفت نے اسے گرنے سے بچا لیا۔

اس کے بعد گھوڑوں نے ایک دم ایک چکر کاٹااور اوپر آسمان کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ ستارے جب سورج کے اس قدر قریب آگئے تو وہ پگھل کر ایک دوسرے کے اوپر گرنے لگے۔ ہر طرف سرخ رنگ کا لاوا گرنے لگا ۔ یہ دیکھ کر گھوڑے گھبرا گئے اور جلدی سے نیچے اتر کر اپنے اصل راستے پر آگئے۔مگر ان کی مستیاں ابھی تک ختم نہ ہوئی تھیں۔ انھوں نے زمین کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ وہ زمین کے بہت قریب آگئے۔ زمین پر گرمی اس قدر بڑھ گئی کہ کھیتوں میں کھڑی فصلیں جلنے لگیں۔ لوگوں کے جسم جل کر سیاہ ہوگئے۔اپالو، یہ سب دیکھ رہاتھا۔ اس نے فوراًسب سے پہلے بڑے دیوتا، جیوپیٹر سے التجا کی:
’’
اے سب سے طاقتور دیوتا، فوراًمدد کوپہنچو، ورنہ زمین جل کر راکھ ہو جائے گی۔۔۔‘‘

جیوپیٹر نے دوسرے دیوتاؤں کو بلا بھیجا۔ سب نے مل کر کوشش کی مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ آخراس نے بادلوں میں چمکنے والی بجلی کو بلوایا اور حکم دیاکہ وہ فیٹون کورتھ سے نیچے گرادے۔ بجلی نے ایک ہی دھکے میں فیٹون کو زمین پر گرادیا۔فیٹون کو آگ لگ گئی۔ وہ اسی طرح جلتا ہوا زمین پر آگرا۔ لوگوں نے اسے زمین کی طرف آتے دیکھ کر یہ سمجھا کہ شاید کوئی ستارہ ٹوٹ کر زمین کی طرف آرہاہے۔

جب فیٹون رتھ سے گرا، اس وقت تک گھوڑے تھک کر چور ہو چکے تھے۔ وہ خالی رتھ کے ساتھ واپس سورج نگری پہنچے ۔ اپالو کو اپنے بیٹے کے مرنے کا سخت افسوس ہوا ۔ وہ محل میں اکیلا بیٹھا روتارہا۔

زمین پررات ہو گئی۔ رات کو بادل آئے اور انھوں نے زمین پر پانی برسا کر اسے ٹھنڈا کردیا۔ ستارے پھر اپنی اپنی جگہوں پر آگئے۔

اگلی صبح ، سورج دیوتا، اپالو خود رتھ لے کر نکلا۔ اس دن سے وہی، سورج کی رتھ چلا تاہے۔ اسی وجہ سے ہرروز سورج نکلتاہے اور شام کوغروب ہو جاتاہے۔

One Comment

  1. no comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *