طالبان کا قندوز پر قبضہ

افراسیاب خٹک

9FEA0870-374E-4EF0-BEE6-21CD8559039E_mw1024_s_n

سنہ 80 کی دہائی میں پاکستان کی افغان جہاد سے گہری وابستگی تھی جو کہ دراصل امریکیوں کا کمیونزم کے خلاف خفیہ آپریشن تھا۔یہ علاقہ دنیا بھر کی جہادی تنظیموں کا مرکز بننے کے ساتھ ساتھ جہاد کی ایکسپورٹ میں بھی خود کفیل ہو گیا۔عمومی اکثریت کا خیال تھا کہ پاکستان شاید ہی اس دلدل سے باہر نکل سے اور یہ بات درست ثابت ہوئی۔ریاست نے ا ن جہادی تنظیموں کو اپنی خارجہ پالیسی کے لیے بطور اثاثہ استعمال کیا۔

چین کے صوبے زن جیانگ سے تعلق رکھنے والے یوغر علیحدگی پسند جو طالبان کے دور حکومت میں افغانستان سے اپنیسرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے، نائن الیون کے بعد پاکستان شفٹ ہو گئے اور یہاں سے پاکستان کے گہرے اور بہترین دوست کے خلاف کاروائیاں شروع کر دیں۔ایران کو بھی اسی قسم کے مسائل کا سامنا تھا۔ پاکستانی سرزمین سے جند اللہ اور کچھ غیر معروف ناموں والی تنظیموں نے ایران کے سرحدی علاقوں میں حملے کرنے شروع کر دیئے۔

نوے کی دہائی میں دنیا میں جہاں بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا تو اس کے کھرے پاکستان سے ملتے تھے۔ظاہر ہے اس کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچااور نتیجتاًدنیا میں تنہا ئی کا شکار ہوتا چلا گیا۔

نائن الیون کے بعد دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر مرکوزہوگئیں کیونکہ وہ نہ صرف طالبان کا حامی اور مددگار تھا بلکہ اس نے اسامہ بن لادن کو بھی پنا ہ دے رکھی تھی۔جنرل مشرف کی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع تو کیا مگر اس میں کوئی تسلسل تھا اور نہ کوئی واضح حکمت عملی اپنائی گئی۔روشن خیال پاکستان کا نعرہ خام خیال ہی ثابت ہوا۔ افغان پالیسی پر یوٹرن ڈبل یو ٹرن ثابت ہوا۔جو طالبان افغانستان سے بھاگ کر پاکستان شفٹ ہوئے انہیں یہاں دوبارہ منظم ہونے کے مواقع فراہم کیے گئے۔جنہوں نے پاکستانی سرزمین سے افغانستان پر دوبارہ حملے شروع کر دیئے۔

فاٹا میں جو فوجی آپریشن کیے گئے اس سے طالبان کو ختم کرنا مقصود نہ تھا بلکہ انہیں ایک مخصوص علاقے تک محدود کرنا تھا۔حتیٰ کہ امریکی مدد سے بھی جوکاروائیاں کی گئیں اس میں طالبان کی حامی مذہبی جماعتوں اور ایسٹیبلشمنٹ کی مرضی شامل نہیں تھی۔ اسامہ بن لادن کی ابیٹ آباد میں موجودگی تو اب تاریخ کا حصہ ہے۔

جون 2014 میں کافی لیت و لعل کے بعد طالبان کے خلاف آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع ہوا۔ دسمبر2014 میں نیشنل ایکشن پلان کی منظور ی دی گئی اور ایسا لگا کہ پاکستان نے بالاخر دہشت گردی کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے۔تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں نے اعلان کیا کہ یہ ہماری جنگ ہے ۔ اچھے اور برے طالبان میں تمیز ختم کر دی گئی ہے ۔

سنہ2014 کے آخر میں واضح طور پر اشارہ دیا گیا کہ افغان پالیسی، جو کہ فوج کے کنٹرول میں چلی آرہی ہے ، میں تبدیلی آگئی ہے اور اب افغانستان سے دوطرفہ تجارت اور دوستی کے تعلقات قائم کیے جائیں گے۔ کیونکہ یہ جنگ افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے خلاف تھی اور ان کے نکل جانے کے بعد اب اس جنگ کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔

وزیرستان میں ملٹری آپریشن ’ضرب عضب‘ نے افغان طالبان کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ تو بنایا لیکن اس سے پہلے ان کی تمام لیڈر شپ کو کسی محفوظ جگہ شفٹ کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے باجود ان کی لیڈ ر شپ پاکستان میں بالکل محفوظ بیٹھی ہے۔

گو کہ افغانستان نے 2014کے موسم سرما میں شدید لڑائی کا سامنا کیا لیکن اسے بتایا گیا کہ یہ صرف عارضی ہے اور پاکستان 2015 کے بہار میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کرائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کی فوجی انتظامیہ نے ڈیورنڈ لائن کے اطراف میں طالبان کو شکست دینے کے بلیو پرنٹس پر بھی اتفاق کیا۔ لیکن یہ تمام وعدے نہ صرف جھوٹے ثابت ہوئے بلکہ اس موسم گرما میں پاکستان میں موجود طالبان نے افغانستان میں اس دہائی کے شدید ترین حملے کیے ہیں۔

اور اب طالبان جنگجوؤں نے قندوز  پر قبضہ کر لیا ہے۔ پہلے چوبیس گھنٹوں میں کسی پاکستانی حکومتی رہنما یا اہلکار نے اس حملے کی مذمت کی اور نہ ہی قندوز میں ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ جس کا مطلب ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اس وقت لڑے گی جب وہ پاکستان میں کاروائی کریں گے اگر یہ افغانستان میں ہو تو پاکستان ’’ نیوٹرل‘‘ رہے گا۔پاکستان میں طالبان راء کے ایجنٹ ہیں لیکن افغانستان میں فریڈم فائٹر ہیں ۔

جس انداز سے پاکستانی میڈیا اور طالبان کی حامی سیاسی جماعتوں نے قندوز پر قبضے کا ردعمل ظاہر کیاہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست کی افغان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ افغان طالبان پچھلے کئی سالوں سے یہ عہد کرتے چلے آرہے ہیں کہ جیسے ہی وہ اپنے ملک میں واپس گئے تو القاعدہ اور دوسری عالمی دہشت گرد تنظیموں سے ان کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔جبکہ موجودہ حملے میں چیچن ، ازبک، عرب، یوغر اور پاکستانی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

پاکستانی ریاست طالبان کی طرف سے کیے گئے عہد کو توڑنے پر کیا ردعمل ظاہر کر ے گی؟ہمیشہ کی طرح اسے بھی نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

لیکن پاکستان اس صورتحال سے لاتعلق کیسے رہ سکتا ہے جب دنیا بھر کے دہشت گرد ایک بار پھر افغانستان میں اکٹھے ہوگئے ہوں۔دہشت گردوں کے اس عالمی گروہ نے نہ صرف افغانستان کے امن کو تباہ کیا ہے بلکہ یہ وسطی ایشیا کے ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔کیا اس طریقے سے ہم وسطی ایشیاء میں تجارت کے لیے داخل ہو نا چاہتے ہیں۔ہمیں طالبان کے بدخشاں سے متعلق عزائم سے بھی خبردار رہنا چاہیے۔

دہشت گردوں کا یہ عالمی گروہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کی سرحدیں چین کے صوبے زن جیانگ سے ملتی ہیں۔ان عناصر کی مداخلت سے واخان کاریڈور اور چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور کی سیکیورٹی بھی خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔

پاکستان کا افغان طالبان کی حمایت کرنے سے نہ صرف نیشنل ایکشن پلان دفنہو چکا ہے بلکہ افغانستان میں جمہوری حکومت اور خاص کر صدر اشرف غنی کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ قندوز جیسے واقعے کے بعد پاکستان کو اپنی افغان پالیسی پر غور کرنے اور اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت پر سوچنا چاہیے۔پاکستان اپنی سرزمین پر موجود افغان طالبان کی شوریٰ کا جواز کیسے پیش کر سکتا ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو افغان حکومت کے متوازی قرار دیتی ہو۔

انہیں اپنے ملک واپس جانا چاہیے پاکستان کو اس سارے قضیے میں نیوٹرل رہنا چاہیے ۔ اگر پاکستان افغان طالبان کی حمایت سے ہاتھ کھینچے گا تو پاکستان اٖفغانستان سے مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہو گا کہ تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجود پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے۔طالبان کی حمایت ترک کرنے سے پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کر سکتا ہے۔

اگر ہم طالبان کی حمایت سے باز نہ آئے تو افغان شہری یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان ابھی تک اپنی دفاعی گہرائی کی پالیسی کو ترک کرنے کو تیار نہیں اور افغانستان میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔

بشکریہ دی نیشن، لاہور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *