دہشت گردوں کا کمیونیکیشن نیٹ ورک

نصرت جاوید

Nusrat-Javed-267x200
صرف ایک آدھ اخبار نے اپنے اداریئے میں اس کا ذکر کیا۔ ذکر چونکہ انگریزی میں ہوا لہذا زیادہ لوگوں تک بات نہیں پہنچ پائی۔ اداریئے تو اُردو اخبارات کے بھی ان دنوں بہت کم پڑھے جاتے ہیں۔ ساری توجہ چٹ پٹے کالم لے جاتے ہیں، اس لئے معاملہ کی سنگینی خلقِ خدا کے سامنے نہ آسکی۔ 

قوم کو 24/7 باخبر رکھنے کے دعوے دار ٹی وی چینلوں نے جو ایان علی کی کچہری آمد کے موقع پر اس کے جسم پر کنندہ ٹیٹو بھی دیکھ لیتے ہیں، سانحہ بڈھ بیر کے اس پریشان کن پہلو کا ہرگز ذکرنہ کیا۔ میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر پایا کہ سانحہ بڈھ بیر کے جس پہلو کا ذکر میں کرنے جا رہا ہوں اسے میڈیا نے کسی سوچی سمجھی پالیسی کے تحت نظرانداز کیا یا ”بریکنگ نیوز“ کے ہیجانی لمحات میں اس معاملے کی جانب توجہ نہ دی جا سکی۔

راتوں کو دیر تک جاگتے رہنے کی وجہ سے میں علی الصبح اُٹھنے کی لذت سے محروم ہوں۔ جس صبح یہ کالم نہ لکھنا ہو اس دن اخبارات کا پلندہ بھی دوپہر کے قریب پڑھنے کو اٹھاتا ہوں۔ اپنے سمارٹ فون میں اگرچہ کچھ دنوں سے انٹرنیٹ تک رسائی کی سہولت بھی ڈال لی ہے۔ خبردار کرنے والی گھنٹی البتہ بند رکھتا ہوں۔ سانحہ بڈھ بیر کی صبح آنکھ کھلی تو تازہ ترین پیغامات سے آگاہ کرنے والی روشنی مسلسل چمک رہی تھی۔ بددلی سے فون کھولا تو ای میل کے ذریعے پشاور کے ایئربیس میں گھسنے والے دہشت گردوں کے سرپرست اپنے سورماوں کی پھیلائی دہشت کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ آگاہ کررہے تھے۔

پریشان ہوکر ٹی وی کھولا اور لیپ ٹاپ چلا کر ٹوئٹر کی بدولت تازہ ترین معلومات کی تلاش شروع کر دی۔ آئی ایس پی آر کے جنرل باجوہ اپنے تئیں مستند تفصیلات مہیا کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے تھے مگر ان کی فراہم کردہ معلومات کے بالکل متوازی تفصیلات حملہ آوروں کے سرپرست بھی دھڑا دھڑ جی میل کے ذریعے میرے جیسے سینکڑوں صحافیوں تک پہنچا رہے تھے۔ انہوں نے اپنی طرف کا ”سچ“ بیان کرنے کے لئے وہ تمام طریقے اپنائے ہوئے تھے جو ابلاغ کی حکمت عملی کے نام پر ابلاغ کے ہنر کو علم کے طور پر سکھانے کے لئے جدید ترین تحقیق کے ذریعے طلباءکو بتائے جاتے ہیں۔

اسلام کے نام پر وحشیانہ ہتھکنڈے اختیار کرنے والوں کے بیانیے کے خلاف میرا ذہن ”متعصب“ ہے۔ ہر رپورٹر ویسے بھی فطری طورپر جو دیکھتا، سنتا اور پڑھتا ہے اسے بعینہ مان لینے میں بہت دیر لگاتا ہے۔ واقعات اور بیانیے شک کی چھلنی سے گزر کر ہی ”سچائیوں“ کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
پاکستانی عوام کی اکثریت مگر میری طرح شکی مزاج اور متعصب نہیں۔ ریاست اور اس کے اداروں کا بیان کردہ ”سچ“ عمومی طورپر فوراً تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ایسے لوگ ہزاروں کی تعداد میں ہوسکتے ہیں

جنہوں نے سانحہ بڈھ بیر کی جی میل “کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ بیان کی ہوئی متبادل تفصیلات کو درست مان لیا ہو گا۔ دہشت گردوں کے سرپرستوں کی جانب سے بیان کردہ تفصیلات اگر غلط بھی تھیں تو کم از کم سمارٹ فونوں والے صحافیوں کے لئے دو یکسر مختلف بیانیے بیک وقت سامنے آرہے تھے۔

نائن الیون کے چند ہی روز بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ امریکہ اور اس کے حواری بہت شدت سے اصرار کئے چلے جاتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو مو¿ثر بنانے کے لئے ہمارے سکیورٹی اداروں کی کیپسٹی بلڈنگ کے لئے اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ ہمیں وہ جدید ترین آلات مہیا کئے گئے جن کے ذریعے دہشت گردوں کی ٹیلی فونوں پر ہوئی گفتگو کو نہ صرف سناجاسکتا ہے بلکہ جی پی ایسکی بدولت یہ بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ فلاں شخص نے کس مقام سے کہیں اور بیٹھے فلاں شخص سے ٹیلی فون پر بات کی۔ ایسی چپ کا تذکرہ بھی اکثر رہتا ہے جو کسی ٹھکانے کے قریب رکھ دی جائیں تو ڈرون جیسے طیارے اس ٹھکانے کو میزائلوں کی مدد سے مٹی کا ڈھیر بنا سکتے ہیں۔

سانحہ بڈھ بیر کے ہیجانی لمحات میں جی میل کے ذریعے میرے فون اور لیپ ٹاپ پر آنے والی معلومات کے بعد میں بہت پریشانی سے معلوم یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ مجھے رننگ کمنٹری فراہم کرنے والے دہشت گردی کے سرپرستوں کا کمیونی کیشن سنٹر کہاں موجود ہے اور وہ آپریشن ضربِ عضب کے 15 مہینوں بعد بھی اتنا متحرک کیوں ہے۔ اصل خبر بتانے والے ”ذرائع“ تک مجھے لیکن کوئی رسائی میسر نہیں۔ ویسے بھی ان ”ذرائع“ کو دور سے سلام جو ٹی وی ٹاک شوز کے ریٹنگز حاصل کرنے والے شیروں کو ڈاکٹر عاصم کے ”اعترافی بیان“ کی نقل فراہم کر دیتے ہیں۔

ہمیں اور عدالت کو یہ بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کی نوے روز تک تفتیش ”سہولت کاری“ کی تفصیلات جاننے کو درکار ہے۔ ”اعترافی بیان“ سے مگر پتہ یہ چلا کہ ہڈیوں کے علاج کے ماہر کے طور پر مشہور ڈاکٹر عاصم، درحقیقت ایک نفسیاتی معالج ہیں جو بلاول کے بائی پولر معاملات بھی دیکھتے رہے ہیں۔ رینجرز نے باقاعدہ پریس ریلیز کے ذریعے ڈاکٹر عاصم سے منسوب ”اعترافی بیان“ کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دے دیا تھا۔ ”ذرائع“ کی سرپرستی میں رینٹنگز کو یقینی بنانے والے اینکرز حضرات مگر اپنی کہانیوں پر اب بھی قائم ہیں۔

سچ، اگرچہ بہت ہی تلخ، ہے تو صرف اتنا کہ گزشتہ چند مہینے سے پاکستانی میڈیا دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر اب قوم کو سیاستدانوں کی نااہلی اوربدعنوانیوں کی داستانیں سنانے میں مصروف ہے۔ قوم کو وہ مناظر دیکھنے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے جب پاکستان کے سارے بڑے شہروں کے چوراہوں پر بدعنوان سیاستدان لٹکتے پائے جائیں گے اور ان کی بیرونی ملک چھپائی دولت قومی خزانے میں واپس آرہی ہوگی جس کے بعد ہمیں ٹیکس دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔ لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی اور بجلی اتنی سستی کہ ہم بتیاں بجھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کریں گے۔

سانحہ بڈھ بیر کے معصوم اور جری جوانوں کی شہادت کے بعد خدا کے لئے اب تو مان لیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے اور اس جنگ کو جیتنے کے لئے ہماری ریاست کو بہت کچھ درکار ہے۔

بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت،لاہور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *