امت مسلمہ کہاں ہے؟

جمیل خان

11988350_10205812623529023_7790152766943663046_n

دن رات امت مسلمہ کی دہائی دینے والے اور دو قومی نظریے کی کمائی کھا کھا کر نفرت کی مینگنیاں کرنے والے متقیوں سے اس بچے کی لاش سوال کررہی ہے کہ آخر امت مسلمہ کہاں مر گئی ہے؟

مسلم ممالک کا میڈیا مسلسل یورپ کے ضمیر کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔ کوئی یہ سوال کیوں نہیں اُٹھارہا کہ شام سے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے ان خانماں برباد لوگوں کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اپنے علاقوں میں پناہ کیوں نہیں دیتے۔ جبکہ ان کے پاس وسائل بھی ہیں اور جگہ کی بھی کوئی تنگی نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس بچے سمیت 12 شامی پناہ گزین ترکی سے یونانی جزیرے کوس کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہے تھے، وہ ایک کھچا کھچ بھری ہوئی کشتی پر سوار تھے جو حادثے کا شکار ہوگئی۔ مرنے والوں میں پانچ بچے اور ایک خاتون بھی شامل تھیں۔

ترکی کے ساحلی محافظوں نے حادثے کے بعد پندرہ افراد کو زندہ بچا لیا جبکہ لاپتہ مزید تین افراد کی تلاش جاری ہے۔

ترک میڈیا نے اس تین سالہ بچے کی شناخت ایلان کردی کے نام سے کی ہے۔ اس کا پانچ سالہ بھائی بھی کشتی کے حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس بچے کا تعلق ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے کرد اکثریتی قصبے کوبانی سے تھا۔

کوبانی میں داعش کے دہشت گردوں اور کرد عسکریت پسندوں کے درمیان گزشتہ مہینوں کے دوران میں خونریز لڑائی کے بعد ہزاروں افراد نقل مکانی کرکےترکی چلے گئے تھے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آنے والی ایک تصویر میں ایلان کردی ترکی کے اہم سیاحتی مقام بودرم میں ریت پر اوندھے مُنھ پڑا ہے۔ کشتی کے الٹنے کے بعد سمندری لہروں نے اس کی لاش کو اس جانب دھکیل دیا تھا۔ ایک تصویر میں ایک ترک پولیس افسر اس کو اٹھا رہا ہے۔

اس شامی بچے کی تصویر کو ٹوئیٹر پر بڑی تعداد میں شئیر کیا گیا ہے۔ برطانیہ کے تقریباً تمام بڑے اخبارات نے اس تصویر کو صفحہ اول پر شائع کیا اور ان اخبارات نے بھی ایسا ہی کیا ہے جواب تک تارکین وطن کے بحران کے حوالے سے سخت گیر مؤقف رکھتے تھے اور ان کی یورپی ممالک میں آبادکاری کے مخالف تھے۔

یاد رہے کہ شام و عراق میں شیعہ حکومتوں کے خلاف داعش کے عفریت کو سعودی عرب نے پروان چڑھایا تھا۔ داعش کے طور طریقے اور چال چلن کم و بیش وہی ہے، جو سعودی عرب کے بانیوں کا تھا۔ انہوں نے بھی اسی طرح قدیم آثار کو تباہ کیا تھا، اور مخالفین کو وحشیانہ سزائیں دے کر ہلاک کیا تھا۔

بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سعودی عرب میں آج بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ اگر کسی کو یقین نہ آئے تو داعیٔ غزوۂ ہند عرف لال ٹوپی والی سرکار کی تشریف پر ثبت مہریں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔

دو قومی نظریے کی کمائی کھا کر نفرت کی مینگنیاں کرنے والے خدا کے دُنبوں سے عرض ہے کہ وہ ان شامی پناہ گزینوں کو سعودی عرب میں آباد کرنے کے مطالبے کو لے کر مظاہروں کا آغاز کیوں نہیں کرتے….؟

جس طرح پھدک پھدک کر مودی کو گالیاں دی جاتی ہیں، کم از کم اس کی نصف گالیاں تو خلیج کی عرب ریاستوں اور ایران کے حکمرانوں کا بھی حق ہے۔گلی محلے میں غلاظت پھیلاتے گٹر کی صفائی کے معاملے پر تو اکھٹا ہو نہیں سکتے، بات کرتے ہیں امت مسلمہ کی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *