سالونکے چم کانٹ آں

رزاق سربازی

c17c75dbfa447964a8da681c9fac08f7

رات کی تاریکی میں ایک آواز گونجتی ہے؛ کسی بدھو قسم کے انسان کی آواز، جو اپنی سرگزشت دہرارہا ہے۔

منی نام، منی نام، ای ای ای ۔۔۔۔ من ابدال ی اوں۔ مردم انچو گُشاں۔ دنیا داری، مردم گری ما ہیچ نزاناں۔ مردم، مردم انچو گُشاں۔ بلے شکیل ءِ مات گُشی؛ ما چے درستاں شرتر آں۔ ما واجہ ای آں۔ شکیل ءِ مات ءَ منا یک روچے گو؛ شکیل ءِ پت یک ءُ ٹِک ، ای ای ای ای۔۔۔ بلے مردم گُشاں من نابودے آں۔ لوگ ءَ در اتک نکناں۔ شکیل ءِ مات ءِ دمبُلا بستگ آں۔ کس ءَ پجا نیاراں۔ بلے، بلے مردم دروغ بنداں۔ ما کریم ءَ پجا کاراں۔ اےےے ھمے کریم ءِ کسہ ایں۔ ھمے کسہ کہ شما چارگائے، اے منی سرا گوست ءَ۔ انا، انا مئے سرا، نہ نہ مئے، شمے درستانی سرا، شکیل ءِ مات انچو گُشی۔ ما، شُما دراہ، ما شما دراہ ھمے کسہ ءَ گون آں۔ دراہ ۔۔۔ ھمے کریم ءِ کسہ ءِ بہر آں۔ سالونک ءِ چم کانٹ آں۔ ”

میرا نام، میرا نام، ای ای ای ۔۔۔۔ میں ایک بدھو ہوں، لوگ یہی کہتے ہیں۔ دنیا داری، لوگوں سے میل جول مجھے نہیں آتی، لوگ یہی کہتے ہیں۔ لیکن شکیل کی امی کہتی ہے؛ مجھ سا کوئی نہیں، میں باوقار ہوں۔ شکیل کی امی نے ایک دن مجھ سے کہا، شکیل کے ابو زبردست ، ای ای ای۔ لیکن لوگ کہتے ہیں؛ میں بدھو ہوں، گھر سے نکل نہیں پاتا، شکیل کی امی کے دامن سے بندھا ہوا ہوں۔ کسی کو جانتا تک نہیں۔ لیکن لیکن لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ میں کریم کو جانتا ہوں، یہ ی ی اسی کریم کا قصہ ہے، یہی قصہ جو آپ سُن رہے ہو؛ یہ مجھ پر گزرا، نہیں، نہیں، ہم پر، نہ نہ ہم سب پر۔ شکیل کی امی یہی کہتی ہے۔ ہم سب، ہم سب اس قصہ میں شریک ہیں۔ سب۔۔۔ کریم کے اس قصے کا حصہ ہیں۔”

پھر وہ پُراسرار سا گانا گانے لگتا ہے۔۔۔۔ سالونک ءِ چم کانٹ آں، سالونک ءِ چم کانٹ آں۔

بلوچی فلم “ کریم ” کا آغاز قصہ گویانہ ہے۔ تفریحی فلموں کے شوقین شاید ایسے لوگ کم نہیں ہونگے جن کو یہ فلم مزہ نہ دے گئی ہو۔ کہانی پیش کرنے کا انداز، مزاحیہ ڈائیلاگ کے ذریعے، آہستہ آہستہ توجہ جذب کرنے والا ہے۔ گویا دیکھنے والا ایک انجان دنیا میں داخل ہو رہا ہو ۔

فلم کسی ایسے بدھو کی سفری روداد ہے۔ جس میں وہ دیکھتا ہے؛ دنیا کیسے گھوم رہی ہے اوراس کا واسطہ قسم قسم کے کرداروں سے پڑتا ہے جو اپنی، اپنی بولی بول رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی پوچھتا رہتا ہے :
اڑے استاد ھمی ہوت آباد رسیت؟
اور کوئی گاتا جاتا ہے:
بینامیں لذتانی زہیراں بدے بُرو ۔۔۔۔۔۔
کوئی پاگل سیکولر مزاج کا مظاہرہ کرتا ہے:

واجہاں، جار ای گوشدارے، واجہاں جار ای گوشدارے۔ ٹیپ ءَ بند کنے، بانگیں۔ ہاہاہاہاہا۔

مسافر وین اس دنیا کا عکس ہے جہاں بھانت بھانت کے لوگ رہتے ہیں۔ ہر ایک کے پاس اپنی چھوٹی موٹی کہانیاں ہیں۔ ہر ایک اپنی دُھن میں ہے، موج میلہ لگا ہوا ہے۔

جامُل جِنگ اور حاصل راڈو کے تفریحی چٹکلے محفل کو گرماتے رہتے ہیں

شکیل ءِ پِت ۔۔۔ بدھو۔۔۔ کہانی کا بیان کار ہے۔ جس کے پاس اپنی بیوی اور ماں سے سُنی باتوں کے علاوہ کچھ نہیں، نہ اس نے زیادہ دنیا دیکھ رکھی ہے۔۔۔ وہ گھر سے شہر جانے کیلئے نکلتا ہے۔ جس پہلے شخص سے اُس کی ملاقات ہوتی ہے، اس کی باتیں اس کے لئے حرف آخر بن جاتی ہیں۔ کسی حادثے سے بچنے کیلئے وہ ڈرائیور کا ناک میں دم کردیتا ہے لیکن اس کیلئے ایک کردار یادگار بن جاتا ہے؛ وہ ہے کریم۔

لیکن کریم ہی کیوں؟

کریم فلم میں ایک معمولی کردار سے بھی کم حیثیت رکھتا ہے۔ دو مقامات پر وہ چونکاتا ہے مسافر وین پر، شہر جانے کیلئے، بھاگتے ہوئے اس کا سوار ہونا اور اختتامی سین میں جہاں ان کو دھر لیا جاتا ہے۔

کریم کے کردار میں ایسا کیا ہے کہ فلم کا نام ہی کریم رکھا گیا؟

کریم؛ شکیل کے ابو جیسے بدھو انسان کی سرگزشت کا حصہ کیسے بن گیا؟

مقصدیت کوئی عیب نہیں۔ بےہودگی، تفریحات، ہر ایک میں کچھ فلسفہ شامل ہوتا ہے۔ سیاسی موضوعات کو چھیڑنے کی عموماً حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی؛ البتہ دوسری جانب ہر فلم ساز کیلئے اپنے مقاصد کو فلم کی زبان دینا بھی نازک مسئلہ ہے، آٹے میں نمک کی مخصوص مقدار کی طرح ، معمولی کمی بیشی فلم کے مستقبل کے ذائقہ کو زیر زبر کرسکتی ہے۔

فلم ایک ایسا ذریعہ ہے جس تک عام لوگوں کی پہنچ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ وہ جہاں کہیں بور ہوئے، یکسانیت محسوس کی، سمجھ لو فلم کی زندگی تاریک ہوگئی۔

حنیف شریف نے، اپنی دیگر فلموں کی طرح ، “ کریم ” میں بھی سیاسی موضوع چھیڑا۔

انقلابی کے روپ میں کامریڈ کا کردار فلم پر چھایا ہوا ہے۔ جو حق و ناحق پر اپنی رائے رکھتا ہے۔۔ جو کسی پاگل سے بھی— سیاست کیا ہے ؟ جیسے پیچیدہ موضوع پر ، عالمانہ گفتگو کرتا ہے۔

کچھ لوگ ان سے اتفاق بھی کرتے ہیں اور ان کا احترام بھی۔ فلم نگار کا سیاسی فلسفہ کامریڈ ہی کی زبانی بیان ہوتا ہے۔ وہ سگریٹ کوچبانے کے انداز میں ہونٹوں میں دبائے اپنا فلسفہ جھاڑتا رہتا ہے۔


لیکن کامریڈ، فلم نگار کا ہیرو نہیں بلکہ ذہنی مُشت زنی کا شکار شخص ہے۔ ان کے کھاتے میں انہوں نے وہ طنز لکھا ہوا تھا جسے وہ سارے سفر میں لوگوں پر آزماتے رہے ۔ کامریڈ ؛ سیاست سے وقت گزاری کا کام لینے والا ایک ایسا روایتی کردار جو بعد میں ذہنی سرمایہ این جی اوز کے ہاتھوں اچھی تنخواہ پر بیچ دیتے ہیں۔

فلم نگار کا ہیرو کریم ہے۔ جسے وہ افسانوی کردار میں ڈھل کر ، شکیل کے ابو، جیسے بدھو، کیلئے بھی اسے یادگار بنادیتا ہے۔ فلم کے آغاز میں، فلم نگار، ان کا تذکرہ ایک یادگار کردار کے طور پر ہی کرتا ہے۔:

ما کریم ءَ پجا کاراں۔ اےےے ھمے کریم ءِ کسہ ایں۔ ھمے کسہ کہ شما چارگائے، اے منی سرا گوست ءَ۔ انا، انا مئے سرا، نہ نہ مئے، شمے درستانی سرا، شکیل ءِ مات انچو گُشی۔ ما، شُما دراہ، ما شما دراہ ھمے کسہ ءَ گون آں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *