شاید جینے کا ڈھنگ آجائے

sattar

زندگی ہمیشہ ایک حیران کن مظہر رہی ہے ۔ بالخصوص انسانی زندگی کا سفر دیکھیں تو لاکھوں کروڑوں سالوں پرہے۔ انسان کے راستے میں اس دوران کئی طوفان ، زلزلے ، آندھیاں ، سیلاب ، قحط، جنگیں ، مصیبتیں اور توہمات کی شکل میں مذاہب آئے۔

یہ تمام خونریز مسافت انسان طے کرتا ہوا سماجی زندگی کو ترتیب دیا۔ سماجی حیوان کے درجے پر فائز ہو کر ایک جمہوری معاشرے کو پروان چڑھایا۔ بادشاہت کا خاتمہ جمہور کی حکمرانی انسان کا شاندار کارنامہ ہے ۔ مملکتوں اور ریاستوں کا قیام خوفزدہ انسانی بقاء کا مقدر ٹھہرا۔

اسلحے کے کارخانے ان مملکتوں کو تحفظ دینے سرحدوں پر انسان نے اپنی قتل وغارت کا سامان اکٹھا کر لیا ہے ۔ خوفناک جنگی جہازوں سے لیکر ایٹم بموں تک انسان نے اپنے آپ کو تباہ کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی۔ ایٹم بموں کے بٹن سات ملکوں کے صرف سات افراد کے ہاتھوں میں ہیں وہ جب چاہیں وہ کرہ ارض سے انسانی زندگی کا نشان تک مٹاسکتے ہیں۔

اس سارے المیے میں جمہوریت ، سیکولرازم اور Atheismانسانی بقاء اور تحفظ کا پر امن راستہ ہیں۔ جس پر چلتے ہوئے ہم انسان اس کرہ ارض کو امن وآتشی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ یورپی یونین کا وجود میں آنا جمہوری اور سیکولر مملکتوں کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ جس کے نتیجہ میں کرنسی ایک سرحدیں ایک دوسرے شہریوں کے لیے کھول دی گئی ہیں۔

بلا تفریق رنگ ونسل ، مذہب اپنایت کا یونیورسل کلچرپروان چڑھ رہا ہے۔ جنگوں کے آسیب کے سائے کم از کم یورپی یونین سے مٹتے نظر آرہے ہیں انسانی افراد کی نئی تہذیب ابھر کر سامنے آرہی ہے ۔ اگر انسان نے یونہی اپنا سفر جاری رکھا۔ ’’ہم انسان‘‘ اپنے آئیڈیل کے حصول تک جلد از جلدپہنچ سکتے ہیں۔

اگرچہ اقوام متحدہ کا ادارہ مخصوص ترقیافتہ اور طاقتوروں کا ایک لیگی فورم سے کم حیثیت نہیں رکھتا ۔ جہاں طاقت ور حکمران سات ارب سے زائد لوگوں کی قسمت کا فیصلہ اپنے معاشی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔ نتیجتاً ترقی پذیر ممالک کے اکثریتی لوگ اپنی زندگیوں کے فطری حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا ادارہ صرف پذیر ممالک کے عوام کو پولیو سے محفوظ رہنے کے قطرے پلا کر کوئی بڑا تیر نہیں مارا۔ سسکتی انسانیت کو بچانے اور اسے زندگی کے عذابوں سے نکالنے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اقوام متحدہ کے گاڈ فادرز انسان کشی اور ذاتی مفادات کے تنگ دائرے سے باہر نکل آئیں تو چند مہینوں میں کرہ ارض کے سات کروڑ سے زائدلوگ ہر طرح کے خوف سے پاک خوش وخرم زندگیاں گزار سکتے ہیں ۔

لیکن یہاں صرف اخلاقیات کے سبق دینے سے کام نہیں چلے گا۔ چند طاقتور ممالک اپنے خودساختہ حکمرانی کے مضحکہ خیز اصول وضوابط ہیں جنہوں نے انسانی زندگیوں کو عذابوں میں گھیر رکھا ہے مثال کے طور پر ایک ایشائی فرد کو اس لیے ناروے یا سویڈن کا تفریحی ویزا آسانی سے نہیں مل سکتا کیونکہ یہ بدقسمت لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ یورپ کے سیکولر Normsروایات سے واقف نہیں ہیں۔

دوسرا ایسے لوگ دولت کی فرانی سے محروم ہیں۔ جب کہ اس کے مقابلے میں ایک سعودی بدو Ill culturedہوتے ہوئے یورپ کا آسانی سے ویزا حاصل کر سکتا ہے ۔ چونکہ وہ یورپی ممالک کا ویزاآسانی ویزاسے حاصل کر سکتا ہےکیونکہ وہ صرف دولت سے مالا مال اور یورپی معیشت کو مضبوط کرنے کا سبب بنا ہے یہاں سیکولر اقدار کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔

ایک بدو کے مقابلے میں انڈین اور پاکستانی جمہوری سماج کا فرد ہونے کےناطے کم از کم جمہوری قدروں سے تو واقف ہے ۔ ایسے نضادات اور انسانی تحقیق کا باعث ہیں ۔ بلکہ ایک پر امن اور جمہوری سماج کی تشکیل کا راستہ روکتے ہیں۔ ایسے منفی رویے کو بیان کرنے کا مقصد انسان کو صرف دولت کے ترازو میں تولنا مثبت انسانی اقدار کو پروان چڑھانے سے روکنے کے مترادف ہے۔

سیکولر یورپین ورلڈ اگر انسانی تہذیب کو آگے بڑھانے میں ہر اول دستہ Leading Roleکا دعویدار ہے تو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔ جس سے انسانیت کے وقار کو نقصان اور دھچکہ پہنچے ۔ بات یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے حوالے چل رہی تھی۔

اگر یورپی یونین حقیقی معنوں میں ایک گلوبل ویلج بن سکتا ہے تو ایشیاء، ایسٹ ایشیاء، سنٹرل ایشیاء، لاطینی امریکہ ، افریقین ممالک، اور عرب دنیا کو بھی اسی طرح کے بلاک اتحاد اور یونین بنالیں تو کم از کم انسانی ہم آہنگی اور رواداری کی طرف ایک انقلابی قدم ہوگا۔

نفرتوں کے اجاڑ جنگل سے انسانی زندگی نکل سکتی ہے ۔ صحراوں میں پھول کھل سکتے ہیں ۔ انسانی سوچ جو چھوٹے چھوٹے دائروں میں بند ہو کر رہ گئی ہے ان دائروں کو وسیع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک جمہوری اور سیکولر کلچر کے ساتھ Narrow Nationalismسے نکل کر ایک Brood Visionمیں داخل ہو نے کا راستہ اختیار کرنا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ مذہبی اور لسانی تعصبات پیچھا چھڑاتے ہوئے ایک پر امن وسیع تر سماج Global Villageکی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ تہذیبی اور معاشی پسماندگی کو شسکست دیکر ایک نئی خوشگوار دنیا آباد کر سکتے ہیں۔ سیکولر جمہوری کلچر ہمیں صحت مند سوچ وفکر کے ساتھ Humanism تک پہنچا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *