حب الوطنی پر قابض لوگ

ارشد محمود

arshadd
پاکستان میں حب الوطنی کے سوال پر ملک نظریاتی طور پر مختلف گروپوں ، ریاست کے دفاعی اور سلامتی کے ادارے اور بیوروکریسی میں بٹا ہوا ہے۔ہمارے یہ ادارے خود کو حب الوطنی کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اسی زعم میں اپنے کو عوامی ماتحتی یا کسی آئینی ،سیاسی ڈسپلن کے زیادہ قائل نہیں سمجھتے۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حب الوطنی کے سرخیل اور سب سے بڑے محافظ ہیں۔ باقی قوم کے تمام اجزاء حب الوطنی میں ان سے ہیچ ہیں بلکہ عوام کے کسی بھی حصے کی حب الوطنی ان کے مقابلے میں مشکوک اور کم تر ہو سکتی ہے۔

حالانکہ ان اداروں کے سربراہوں کی سیاسی مداخلت نے اور ان اداروں کی بنائی ہوئی پالیسیوں اور مہم جوئیوں نے اس ملک کو ناقابل یقین حد تک نقصان پہنچایاہے۔ ان کی تمام تر طاقت اور بالا دستی کے باوجود ملک کی نہ سلامتی ہوئی نہ حفاظت۔ براہ راست ان کی قیادت میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے کروڑوں بنگالیوں کو حقوق مانگنے پر غدار اور ہندووں کا ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ ہندوستان کے ساتھ کسی جنگ میں ہم نے کبھی فتح حاصل نہیں کی، ہماری طرف سے شروع کی گئی تمام فوجی مہم جوئیاں ملک کی سلامتی اور ترقی کے لئے نقصان کا باعث ہوئی۔

انہی کی زیر نگرانی اس ملک میں اسلامائیزیشن، جہاد، پرائیویٹ لشکر اور مذہبی انتہا پسندی کا کلچر پھیلایا گیا۔ جس نے اس ملک کی سماجی، ثقافتی، اور معاشی ترقی کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ ہم دنیا میں دہشت گردی اور کرائے کی پرائیویٹ فوجیں بنانے والے ملک کے طور پر ساری دنیا میں اپنی عزت کھو بیٹھے۔

قومی دولت کے سب سے زیادہ فوائد انہوں نے حاصل کئے۔ آئینی لحاظ سے ریاست کی حفاظت اور سیکورٹی ان کا پیشہ وارانہ فرض ہے اور عوام کی چنی ہوئی سیاسی قیادت کی بنائی ہوئی اندرونی اور خارجی پالیسیوں کے مطابق چلنا تھا۔ جبکہ معاملہ الٹا رہا۔ انہوں نے حب الوطنی کے زعم میں ملک کی تمام پالیسیوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ چنانچہ حکومتی اور ریاستی اداروں کے درمیان جو اپنی اپنی ذمہ داریوں کی تمیز تھی، وہ گڈ مڈ ہو چکی ہے۔یہ ’’ریاستی ادارے‘‘ بذات خود ریاست نہیں ہوتے ، لیکن انہوں نے خود کو ہی ریاست سمجھ لیا ہے۔

پاکستان کے حالات سے ثابت ہوگیا ہے، جب ’’حب الوطنی‘‘ ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے ، تو بھی ملک کا نقصان ہوتا ہے۔ حب الوطنی یہی ہے کہ معاملات کو عوام کی خواہشات، اصولوں، قوانین اور آئین کے تحت ہی گزارا جائے۔ ظاہر ہے، ان اداروں کی حب الوطنی پر بال برابر بھی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن حب الوطنی میں اور غلبہ حاصل کرنے میں فرق ہونا چاہئے جو نہیں ہے۔ ان اداروں میں کام کرنے والوں کے ذاتی و گروہی مفادات اور ان کے ذاتی نظریات قومی معاملات پر غالب آگئے۔ چنانچہ حب الوطنی کی اجارہ داری ختم ہونی چاہئے۔ سارے اسٹیک ہولڈرز اس ملک کا حصہ ہیں اور سبھی محب وطن ہیں۔ نظریات میں اختلاف ہو سکتا ہے۔

ہمارے ہاں دائیں بازو کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی حب الوطنی بھی شک و شبہ سے بالا سمجھی جاتی رہی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں، وطن ان کے لئے ہے اور یہ وطن کے لئے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو وطن کا سب سے بڑا محافظ سمجھ رکھا ہے۔ یہ کہہ کر کہ یہ ملک مذہب کے نام پر لیا گیا تھا، لہذا اس ملک پر حق ملکیت بھی مذہبی لوگوں کا ہی بنتا ہے۔ چنانچہ مذہبی لوگ اس ملک پر اپنی ملکیت جتاتے ہیں ۔ فوجی ایسٹیبلشمنٹ اور ان کا آپس میں نظریاتی اور پالیسی امور میں ایک طرح کا ہمیشہ اتحاد رہا ہے۔ یہ کچھ بھی کریں، اسے حب الوطنی کو چیلنج کرنے والا نہیں سمجھا جاتا۔ وطن ان کا ہے اور یہ وطن کے ہیں۔ انہیں فوجی ایسٹیبلشمنٹ کا بھی کھلا ور خفیہ ساتھ رہا ہے۔ یہ اسٹیبلش منٹ کے دست و بازو رہے ہیں اور عموما ان پارٹیوں اور ان سے وابستہ لوگوں کی سرگرمیاں انہیں کے آشیر باد سے ہی ہوتی رہی ہیں۔

ہماری ریاست کے سلامتی اور دفاعی ادارے ان کے سرپرست رہے ہیں۔ ملائیت پر مشتمل جماعتوں کی فنڈنگ اپنے اپنے غیر ملکی سرپرستوں سے ہوتی رہی ہے۔ سعودیہ اپنی فکر کے لوگوں کو سپورٹ کرتا ہے، ایران اپنے فرقے کے لوگوں کو۔ جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہے، جس پر ماضی میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے فنڈنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں، لیکن آج کل وہ حب الوطنی کے جذبے سے امریکہ مخالف جماعت بنی ہوئی ہے۔ وہ غیر ملکی غلبے اور امریکی سامراج سے اس ملک کو بچانے کے نعروں سے خود کو مزین کئے ہوئے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک اور قسم کے بھی محب وطن پائے جاتے ہیں۔ وہ نیم مذہبی اور نیم سیکولر قسم کے لوگ ہیں جو مغربی لباس زیب تن کیے ہوتے ہیں۔ وہ ہر بات پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مطعون کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ اور مغرب کے سیاسی ، معاشی غلبے کے خلاف بولتے ہیں۔ اس ملک میں جو بھی ہو رہا ہے، وہ ہر ناکامی، برائی ، بربادی، فساد، زوال کو امریکہ ، مغرب اور اشیائے صرف کی عالمی کمپنیوں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ یہ خود کو سب سے بڑا سامراج دشمن اور قوم پرست سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک غیر ملکی سرمایہ کاری حرام ہے حالانکہ یہ غیر ملکی کمپنیوں کی ہر بنائی ہوئی چیز کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔

ان کے نزدیک سب سے پہلا مجرم امریکہ اور ترقی یافتہ مغرب ہے۔ ان کا نعرہ ہے، ہم مظلوم ہیں، ہمارا استحصال ہو رہا ہے۔ غیر ملکی ہم کو لوٹ رہے ہیں۔اس ملک کا ہر پتہ ان کی اجازت سے ہلتا ہے۔ ہم بہت نیک واقع ہوئے ہیں، ہمارے میں کوئی برائی نہیں۔ نہ ہم اپنے اوپر ہونے والے واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ ہمارے ساتھ جو بھی ہورہا ہے سب غیروں کا کیا دھرا ہے۔ اگرچہ یہ کبھی کبھی اپنی اسٹیبلش منٹ کے خلاف بھی بول دیتے ہیں۔ لیکن ان کا سارا زور چونکہ مغرب، یورپ اور امریکہ پر ہوتا ہے۔ لہذا یہ ایک طرح سے اپنی اسٹیبلش منٹ کے گناہوں کو چھپا بھی رہے ہوتے ہیں۔ اور وہی نعرے لگا رہے ہوتے ہیں جو نیم مذہبی نیم سیاسی جماعتیں لگاتی ہیں، اور یہ ان کی ہی پالیسیوں کو بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں۔ ان کی بالواسطہ مدد کر رہے ہوتے ہیں۔

ظاہر ہے یہ خود کو قوم پرست، قومی مفادات کا محافظ اور حب الوطنی کا چیمپئن سمجھتے ہیں۔ اور دوسروں کو کم تر محب وطن۔ یہ ’پاکستانیت ‘کے خمار میں زندہ رہتے ہیں اور اس شخص کو غدار اور اس کی حب الوطنی کو مشکوک قرار دیتے ہیں جو ذرا بھر بھی تحریک پاکستان اور بعد از قیام پاکستان کا معروضی تجزیہ پیش کرے۔ حالانکہ اس کا مقصد اپنے ملک کی نفی کرنا نہیں ہوتا، صرف تاریخی حقیقتوں کو سمجھنا ہوتا ہے۔ پاکستان بہرحال کوئی تاریخی اور فطری ملک نہ تھا یہ ایک ایسا ملک اور ایسی قوم ہے، جس کو سچ مچ ’’بنایا‘‘ گیا تھا۔ اور ایک ایسی بنیاد پر بنایا گیا، جس سے’’ قومیں‘‘ نہیں بنا کرتی۔

اسی لئے یہ ملک تو بنا۔ ’قوم‘ کبھی نہیں بن پائی۔ یہ مختلف ٹکڑوں اورگروہوں کا ملک رہا اور ٹھگ باز ہی اس ملک پر مختلف شکلوں میں قابض ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو ننگا کرنے کا مطلب اس ملک سے اصلی محبت کا اظہار ہے، نہ کہ اس کی نفی۔ چنانچہ اس کو صحیح تاریخی تناظر میں سمجھے بغیر ہم بحیثیت قوم درست سمت کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتے، لیکن یہ لوگ اسی وقت غداری کا فتویٰ لگا دیتے ہیں۔ ان کا مطلب ہے، اندھے بن کر اندھی عقیدت کے ساتھ زندہ رہو اور اندھے ہو کر حب الوطنی کے نام پر لوٹنے والوں کا شکار بنے رہو۔

اس ملک پر اکثریتی اور غالب قبضہ ہمیشہ مندرجہ بالا حب الوطنی کے دعوے داروں کا رہا ہے۔ لیکن اس ملک کی داستان مسلسل بربادی اور زوال کی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے، اس ملک کے سیاہ سفید کے مالک تم لوگ رہے ہو۔ پھر اس ملک کی تباہی کیوں کر ہوئی۔ اس ملک نے کسی بھی طرح کی ترقی کیوں نہیں کی۔اس ملک کو اقوام عالم میں کوئی عزت کا مقام کیوں نہیں ملا۔ یہ ملک متحد کیوں نہ رہ سکا۔ آج یہ سارا ملک جنگ کا میدان کیوں بنا ہوا ہے۔ ہم انتشار اور افتراق کی تصویر کیوں ہیں۔ اس ملک کی بھاگ ڈور تمھارے ہاتھوں رہی ہے۔ اس بھیک منگے ملک کی آج جو حالت ہے،وہ تمہارے سامنے ہے۔ اس کی ذمہ داری کیوں نہیں قبول کرتے۔ آ پ نے اس ملک کو امن خوشحالی، بھائی چارے اور دیانت داری کا نمونہ کیوں نہیں بنایا۔اس ملک کے ان داتا تو آپ تھے۔ اس ملک میں آپ نے جتنا چاہا، اسلام نافذ کیا۔ اس ملک کی ہیئت مقتدرہ بے حد محب وطن ہے، پھر یہ ملک غیروں کا کاسہ لیس کیوں کر رہا ہے۔

ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ تو امریکہ کے بغیر ایک دن نہیں گزار سکتی۔ ہم نے ڈالروں، درہم و دینار کے عوض دوسرے اور تیسرے درجے کے غیروں (عربوں) کے تلوے چاٹے ہیں اور ملک کو کچھ بھی نصیب نہیں ہوا۔ اس کا دامن خالی کا خالی ہی رہا۔ نہ پانی ہے، نہ بجلی ہے، نہ گیس ہے، نہ غذائی سیکورٹی ہے۔ آلو، پیاز تک ہم ’دشمن‘ ملک سے منگواتے ہیں۔ ہاں چھاونیوں ، ڈی ایچ اےاور عسکری کالونیاں کی بھرمار ہے، اور مذہبی مدرسے ہر گلی محلے میں مل جائیں گے۔

کروڑ ہا لوگ تعلیم، صحت اور روزگار سے محروم ہیں۔ غربت ، جہالت اور پس ماندگی کے سمندر میں چند خوشحالی کے جزیرے بنا دیئے گئے ہیں۔ اقتدار پر قابض لوگ قوم کو یہ بتائیں کہ اس ملک میں چونکہ پچھلے ۶۳ سال سے ’غیر محب وطن‘ سیکولر، کمیونسٹ اور دہرئیے قابض رہے ہیں، اس لئے اس ملک کی بربادی ہوئی ہے۔ لیکن اس ملک پر قبضہ تو ہمیشہ ’’محب وطن‘‘ اور اسلام پرستوں کا رہا ہے، تو پھر پوری عوام کو سمجھ جانا چاہئے، کہ سب سے بڑے غیر محب وطن دراصل یہی لوگ تھے، جنہوں نے اس ملک پر حب الوطنی اور اسلام کے نام پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اور وہ ساری قوم کو حب الوطنی کے نام پر دھوکا دیتے رہے ہیں۔ ان کا مقصد اس ملک کے وسائل کو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات میں بانٹنا تھا اور اپنی اپنی مذہبی دکانداریاں چمکانا تھا۔

اب ہم ان کا ذکر کرتے ہیں جن کی ’حب الوطنی‘ اس ملک میں ہمیشہ مشکوک رہی ہے اور ان پر غداری، سیکولر، کمیونسٹ ، مغرب نواز ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں ، جن کی وجہ سے یہ ملک بھی خطرے میں رہا اور اس کا مقدس نظریہ بھی۔ اصل میں یہی لوگ حقیقی طور پر محب وطن بھی ہیں اور محب عوام بھی اور محب انسان بھی۔ اس ملک میں ہر وہ فرد محب وطن ہے جو منافق نہیں ۔ وہ اندر اور باہر سے ایک ہے۔ جس نے اس ملک کو واقعی عوام کا ملک بنانے کی بات کی۔ جس نے اس ملک کو واقعی ترقی کی طرف لے جانے کی بات کی۔ جنہوں نے ہمیشہ اس ملک میں استحصال، ظلم اور غربت کی مخالفت کی، اس ملک کی معاشی ، ثقافتی، صنعتی ترقی چاہی، جنہوں نے صوبوں اور قومیتوں کے درمیان ایک حقیقی بھائی چارے اور مل بانٹنے کی بات کی۔ جنہوں نے ہمسایہ ملکو ں کے ساتھ امن سے رہنے کی بات کی۔ جنہوں نے اس ملک کو امریکہ کے آگے بیچنے کی مخالفت کی۔ لیکن اس ملک کے غدار وہ تھے، جو قوم پرست تھے۔ جو اس ملک کو مذہبی اکھاڑہ بنانے کے خلاف تھے۔ جو مذہبی انتہا پسندی کی مخالفت کرتے تھے۔ جو مذہب کو ریاستی نظریہ بنانے کے خلاف تھے۔ تاکہ پاکستان کے شہریوں کے ساتھ مذہب کی تفریق پر نہیں بلکہ سب شہریوں کو قانون کی نظر میں ایک سمجھا جائے۔

اگر ایسا ہوتا توآج پاکستان فرقہ واریت اور ملائیت کا گہوارہ بننے کی بجائے معاشی اور سماجی ترقی کا نمونہ ہوتا۔ پاکستان کے عوام پڑھے لکھے ملک کے طور پر پہچانے جاتے۔ پاکستان ان پڑھ او ر جاہل مزدور سپلائی کرنے والا ملک نہ ہوتا۔ ہمارے ہاں بھی اعلی ذہنی مہارتیں رکھنے والے لوگ ہوتے۔ ہندوستان کی طرح ہماری بھی اقوا م عالم میں عزت ہوتی۔ پاکستان مذہبی جنونیوں کا ملک نہ ہوتا۔ پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا۔ آج پاکستان انڈیا کے دونوں طرف سلامت ہوتا۔ ہماری سیاسی قیادت جمہوری طور پر بالغ ہو چکی ہوتی۔ ہمارے ہاں مہذ ب دنیا کی طرح احتساب کا نظام وضع ہوچکا ہوتا۔

لیکن اس طرح پروگرام دینے والے سب لوگ غیر محب وطن، غدار اور علیحدگی پسند تھے۔ چونکہ مذکورہ بالا نام نہاد محب وطنوں کے حلوے مانڈے خطرے میں پڑتے تھے۔ ان لوگوں نے پاکستان کی وہ حالت کرکے رکھ دی ہے، جو ایک ریپ زدہ خاتون کی ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ ’حب الوطنی‘ کے نشے سے باہر نہیں آئے۔ یہ آج بھی انہی تباہ کن نظریاتی ، سیاسی ، ریاستی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔ اور ہر آنے والا دن پاکستان کو مزید بحرانوں کی گہرائی میں پھینکتا جا رہا ہے۔ اس ملک میں انسانوں سے محبت کر نا جرم ہے۔ اس ملک میں عوام سے محبت کر نا جرم ہے۔ اس ملک میں مذہبی روادار ی کی بات کرنا جرم ہے۔ ان کو سیکولر کہہ کر لادینیت کا فتوی لگا دیا جاتا ہے۔ اس ملک میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور خاص طور پر بھارت سے محاذ آرائی کے خاتمے کی بات کرنا جرم ہے۔

ایک طرف مظلومیت کی نرگسیت سر چڑھ کر بول رہی ہے اور دوسرے طرف ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ طالبان کی مدد کے ساتھ کابل پر اپنے ایجنٹوں کی بالادستی چاہتی ہے، ہم جدید ترین اسلحہ سسٹم دنیا بھر سے اکٹھا کر رہے ہیں۔ ایک غلام اور دست دراز ملک ایٹمی طاقت بن گیا ہے۔ انڈیا کے ساتھ دشمنی دائمی ہے۔ ایک طرف دس سیر اور دوسرے طرف ایک سیر کا احمقانہ مقابلہ ۶۳ سال سے جاری ہے بلکہ ہمارا ملک معاشی اور تعلیمی معیار میں ہندوستان کے مقابلے میں ایک سیر سے بھی گر کر اب ایک چھٹانک ہو کر رہ گیا ہے۔ لیکن ہم کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق ہی حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، انڈیا سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بننے کو جا رہا ہے۔ انڈیا ساڑے آٹھ فی صد کی شرح ترقی پر سر پٹ جا رہا ہے۔ اور ہم کچھوے کی چال سے دو فی صد پر چل رہے ہیں۔۔!!! لیکن عالمی منڈی میں کوئی ہماری اسلحہ کی خریداری دیکھے۔ ہم پر بڑی علاقائی اور بین الاقوامی سٹریٹیجک عظیم ذمہ داریاں ہیں، سارے جنوبی ایشیائی خطے کو ہم نے سنبھالا ہوا ہے!!! اس ملک کی پالیسیاں بنانے والے محب وطن زیادہ ہیں یا احمق ؟ قوم کو اس کا حساب لگانا چاہئے۔

اب سوال آ سکتا ہے، ملک ، ریاست ، قوم کیا ہے، عوام کیا ہیں۔ دور جدید نے ان سب چیزوں کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ٹھوس حقیقتیں بھی ہیں اور تجریدی بھی۔ ہر حقیقت اپنا وجود بھی رکھتی ہے، لیکن وہ دوسری حقیقت کے ساتھ جڑی بھی ہوتی ہے۔تیسری چیز جو ہر وقت ہمارے ملحوظ رہنی چاہئے، وہ یہ سائنسی اور فلسفیانہ حقیقت ہے، کہ ہم خود اور ہمارے اردگر جو کچھ بھی ہے، وہ نہیں ہے نہ ہوتا ہے۔ وہ ایک شکل تو ضرور رکھتا ہے، لیکن وہ شکل ہر آن تبدیلی کی حالت سے گزر رہی ہوتی ہے۔ پھر ہر چیز کو دیکھنے میں ہمارے مفادات اور تعصبات بھی اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔ جب بھی بات کریں ،ملحوظ رکھیں ہر ’سچ‘ ناقص ہے ،کیونکہ کائنات میں ہر چیز کی جہتیں لا تعداد بھی ہیں، اور ان پر چاروں طرف سے ہونے والے اثرات بھی۔

ملک کسے کہتے ہیں ظاہر ہے، یہ کسی سر زمین کا نام ہے کوئی خطہ یا علاقہ ہے۔اگرچہ نصابی لحاظ سے قوم کی تعریف ایک پیچیدہ بحث ہے۔ ہم ٹیکنیکل اور اکیڈیمک بحث میں جائے بغیر مان لیتے ہیں کسی ملک کے باسی ہی اس کی قوم ہوتے ہیں۔ ریاست تجریدی حقیقت ہے۔ اس پر انگلی رکھ کر نہیں کہہ سکتے کہ ریاست یہ ہے۔ حکومت انتظامیہ کا نام ہے۔ سب سے زیادہ پیچیدگی ریاست کا تصور ہے، ملک بدل جائیں ، ریاستیں بدل جائیں یا ان کے نام بدل جائیں۔ معمولی ردو بدل کے ساتھ زمین اور لوگ وہی کے وہی رہتے ہیں۔ گویا بنیادی چیز عوام اور خطہ زمین ہے۔ باقی حقیقتیں سیاسی اور انتظامی ہیں۔

ہمارے ہاں حب الوطنی اور قوم پرستی کا مسئلہ بڑا اہم ہے۔ حب الوطن کے الٹ ہے، غدار۔ غدار ہونا بڑا متنازعہ، استثنائی اور شاذ و نادر معاملہ ہوتا ہے۔ تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے، جب بے حد محب وطن، انسانیت ساز، درد دل، شریف النفس شہری کو اختلاف رائے پر ریاستی اداروں نے غدار قرار دے دیا ۔ برٹرنڈرسل جیسا عظیم انسان برطانیہ میں جنگ کی مخالفت کرنے پر غدار قرارپایا تھا۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے سب عوام محب وطن ہوتے ہیں۔

یہ ایک فطری جذبہ ہے۔ جو جہاں پیدا ہوتا ہے، وہ اپنی مٹی اور اپنی اردگرد کی صورت حال سے محبت رکھتا ہے جیسی اسے پیدائش کے وقت ملی ہوتی ہے۔ مفادات الگ ہو سکتے ہیں، نظریات الگ ہو سکتے ہیں، عقائد الگ ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک ہی مٹی اور دھرتی سے جنم لینے والے اور ایک ہی جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی ورثے کو رکھنے والے اپنی جائے پیدائش کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور ان کا برابر کے حقوق کے ساتھ وہاں رہنا پیدائشی حق ہوتاہے ۔

حب الوطنی سے بات آگے بڑھ کر قوم پرستی یعنی نیشنل ازم تک چلی جاتی ہے۔ نیشنل ازم ہمارے ہاں کے عمومی تناظر میں اس سیاسی اور فکری رویئے کو کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے ملکوں، ریاستوں ، قوموں کے مقابلے میں اپنی قوم ، ملک، ریاست کے اجتماعی مفادات کا تحفظ ہے۔ پاکستان کی ریاستی اور دائیں بازو کی لغت میں نیشنل ازم جرم خیال کیا جاتا تھا۔ کیونکہ ہمارے ہاں پاکستانی ریاست کے ساتھ ایک بڑا تضاد پاکستانی ’قوم‘ کی تشکیل کرنے والی قومیتوں اور ’پاکستانی ریاست‘ کے ساتھ بھی پیدا ہو گیا۔ اس لئے کہ ’پاکستانی ریاست ‘ مرکزیت کی قائل تھی۔

ملک کی تشکیل کرنے والی شریک قومیتوں کے علاقائی مفادات اور شناختوں سے انکار کرتی تھی۔ ریاست پر قابض عسکری اور سویلین ٹولہ سارے ملک کے وسائل پر بلا شرکت غیرے قابض ہونا چاہتا تھا۔ وہ اسلام کے نام پر عوام کو ’’ ایک‘‘ ہونے کا دھوکا دیتے ہیں۔ جب کہ پنجاب کو چھوڑ کر پاکستان کی تمام وحدتوں اور قومیتوں نے ہمیشہ مرکز کے ان خیالات اور پالیسیوں سے ناراضی ، اختلاف یا بغاوت کی (مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام کی مثال ہے)۔

کیا ملک و قوم کے خیر خواہ واقعی دائیں بازو سے رکھنے والے لوگ ہیں اور یہ کیا واقعی عالمی قوتوں کے غلبے اور ترقی یافتہ دنیا کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے استحصال کے خلاف ہیں۔ اور یہ لوگ ، گروہ اور سیاسی پارٹیاں کیا واقعی پاکستانی قوم ، ملک اور ریاست کی بہتری اور اس کے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اور موجودہ حالات ان نام نہاد اسلام پسند جماعتوں کے کردار کوواضح کرتا ہے، کہ انہوں نے فوجی ایسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اس ملک کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ملک کی ہر لحاظ سے ترقی کی بجائے تنزلی ہوئی ہے۔

جبکہ بائیں بازو کے وابستہ لوگ جن کو حب الوطنی کے نام پر دیوار کے دوسری طرف لگا دیا گیا، وہی اصل میں انسان دوست بھی ہیں، عوام دوست بھی اور وطن دوست بھی۔وہی پاکستان کی خود مختاری کا تحفظ کرنے کے اہل ہیں۔ معاشی ترقی اور آزادی ہی اصل میں سیاسی آزادی ہوتی ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور دائیں بازو کی ساری حب الوطنی عملاً فراڈ کے سوا کچھ نہیں۔ یہ نہ حب الوطن ہیں اور نہ قومی مفادات کے محا فظ ثابت ہوئے ہیں۔ میڈیا پر بیٹھے ہمارے دائیں بازو سے وابستہ افراد جو خود کو ملکی مفادات کے سب سے بڑے محافظ سمجھتے ہیں وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کا تحفظ اور اسٹیٹس کو برقرار رکھنے سوا کچھ نہیں چاہتے۔

**

One Comment

  1. جمعہ بابر says:

    بہت خوب دوست

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *