ہمارا مستقبل فکر سے امکان تک

ارشد لطیف خان

science.vs_.religion1

کہتے ہیں کہ برٹرنڈرسل ایک دفعہ فلکیات پر عوامی لیکچر دے رہا تھا جب اس نے زمین‘ چاند‘ اور سیاروں کی گردش بیان کی اور کہا کہ سورج ہمارے نظام شمسی کا مرکز ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ تو ایک بوڑھی عورت اٹھ کھڑی ہوئی او ربولی تم غلط کہتے ہو۔ زمین دراصل تھالی کی طرح چپٹی ہے اور کچھوے کی پیٹھ پر کھڑی ہے۔ رسل نے مسکرا کر پوچھا اور یہ کچھوا کس چیز پر کھڑا ہے؟ عورت بولی ’’تم بہت چالاک ہو نوجوان مگر یہ سارے کچھوے ہی ہیں جو نیچے تک گئے ہوئے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیچے تک گئے ہوئے کچھوؤں کا تصور قابل قبول نہیں ہے؟ یقیناًہزاروں لاکھوں لوگ ایسے موجود ہیں جو اس تصور کو سینے میں بسائے بیٹھے ہیں۔ خود پاکستان میں ایک عرصے تک یہ بحث (بلکہ اسے بدبحث کہنا مناسب ہو گا) چلتی رہی تھی کہ کیا واقعی انسان چاند پر پہنچ گیا ہے یا پھر یہ ’’کافروں‘‘ کی کوئی چال ہے؟ مگر ایک ہوش مند شخص کے لئے اس کے ذہن کی بدترین حالت میں بھی یہ تصور کرنا ممکن نہ ہو گا کہ یہ زمین ایک کچھوے کی پیٹھ پر کھڑی ہے۔

بوڑھی عورت کا کچھوؤں والے تصور پر یقین ہی اس بات کو ثابت کر دیتا ہے کہ اس نے کبھی سائنسی علوم نہیں پڑھے۔ اگر سائنسی علوم نہیں پڑھے تو یقیناًاس نے یہ تصور نقلی علوم سے اخذ کیا ہو گا۔ کچھ ایسا ہی ایک تصور ہمار ی ایک کتاب ’’قصص الانبیاء‘‘ میں پایا جاتا ہے جس کو ’’ابو البیان مولانا عبدالمنان صاحب دامتھم و فیو ضہم‘‘ نے رقم فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’روایت ہے کہ عبداللہ بن سلامؓ ایک روز احوال زمین کے دریافت کرنے کے واسطے رسول اکرمؐ کے پاس آئے اور پوچھا یا رسول! اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو کس چیز سے بنایا؟ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ کفِ آب سے۔ پھر پوچھا کہ وہ کف کس سے پیدا ہوا؟ فرمایا پانی کی موج سے۔ پھر سوال کیا موج کس سے نکلی؟ فرمایا پانی سے۔ پوچھا پانی کس سے نکلا ہے؟ فرمایا ایک دانہ مرواریر سے۔ کہا مرواریر کس سے ہے؟ فرمایا تاریکی سے۔ کہا صدقت یا رسول اللہؐ۔ پھر سوال کیا یا رسول اللہؐ زمین کو قرار کس سے ہے؟ فرمایا کوہ قاف سے۔ کہا کوہ قاف کس سے بنا ہے؟ فرمایا زمرد سبز سے اور آسمان کی سبزی اسی کے پرتو سے ہے۔ کہا یا رسول اللہؐ اور بلندی کوہ قاف کی کس قدر ہے؟ فرمایا پانچ سو برس کی راہ۔ اور گرد کس قدر ہے فرمایا دو ہزار برس کی راہ ہے۔ اور اس پار کوہ قاف کے کیا چیز ہے؟ فرمایا سات زمینیں ہیں چاند کی۔ اور بعد اس کے کیا ہے؟ فرمایا ستر ہزار علم ہیں اور نیچے ہر علم کے ستر ہزار فرشتے ہیں۔ اور ایک اژدھا درازی اس کی دو ہزار برس کی راہ ہے اور یہ سارے عالم اس کے حلقے میں ہیں، سوال کیا ساتویں زمین پر کون ہے۔ فرمایا فرشتے سب اور چھٹی زمین پر شیطان اور فرزندان شیطان‘ اور پانچویں زمین پر دسب اور چوتھی زمین پر سانپ اور تیسری زمین پر جانوران گزند اور دوسری زمین پر پریاں و آسیب اور پہلی زمین پر سب آدمی۔ کہا یا رسول اللہؐ اور نیچے ساتویں زمین کے کیا چیز ہے؟ فرمایا ایک گائے ہے ایسی کہ اس کے چار ہزار سینگ ہیں اور اس کے ایک سینگ سے دوسرے سینگ کا فاصلہ پانچ سو برس کی راہ ہے اور یہ سات طبق زمین اس کے دو سینگوں کے درمیان ہیں پھر پوچھا کہ وہ گائے کس پر کھڑی ہے؟ آنحضرتؐ نے فرمایا ایک مچھلی کے مہرہ پشت پر اور وہ مچھلی پانی پر ہے اور عمق و گہرائی اس پانی کی چالیس برس کی راہ ہے اور وہ پانی ہوا پر معلق ہے اور ہوا تاریکی دوزخ پر اور دوزخ ایک سنگ آسمان پر اور وہ سنگِ آسمان سر پر ایک فرشتے کے اور وہ تاریکی پر اور وہ ہوا پر کھڑا ہے اور ہوا قدرتِ خدا سے معلق اور قدرت اس کی بے پایاں ہے اور ذات و صفات اس کی منزہ ہے۔ نقصان اور زوال سے کہا سچ ہے یا رسول اللہ‘‘۔

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’
دوزخ کے اندر انیس فرشتے ہیں۔ داہنے طرف ہر فرشتے کے ستر ہزار ہاتھ ہیں اور بائیں طرف ستر ہزار ہاتھ۔ اور ہر ہاتھ میں ستر ہزار ہتھیلی اور ہر ہتھیلی پر ستر ہزار انگلیاں اور ہر انگلی پر ایک ایک اژدھا قائم ہے او رہر ایک اژدھے کے سر پر ایک ایک سانپ درازی اس کی ستر ہزار برس کی راہ ہے اور ہر سانپ کے سر پر بچھو اگر دوزخیوں کو ایک سنیش مارے تو ستر ہزار برس تک اس کے درد سے لوٹیں‘‘۔

ایک اور کتاب ’’مرنے کے بعد کیاہو گا؟‘‘ خواجہ محمد اسلام کے قلم کی لغزشوں کا نتیجہ ہے۔ جس میں مرنے کے بعد کے حالات نہایت روانی کے ساتھ معتبر و غیر معتبر (اثر غریب) احادیث کے حوالے کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ مثلاً قیامت کے دن دوزخ پکارے گا ھل من مزید؟ گویا دوزخ بھی ناطق ہے اور پھر خداوند شریف اس میں اپنا قدم رکھ دیں گے جس سے وہ سمٹ جائے گا۔ یا دوزخی کے دو کاندھوں کے درمیان تین دن چلنے کا راستہ ہو گا‘ کافر کی ڈاڑھ احد کے پہاڑ جتنی ۔ہو گی اور کافر کی کھال کی موٹائی تین دن راستے کے برابر ہو گی (مسلم)۔

دوزخی کے کان کی لو اور کندھے کے درمیان ستر سال چلنے کے برابر راستہ ہو گا۔ جس میں خون اور پیپ کی وادیاں ہوں گی۔دوزخی کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنی مکہ اور مدینہ کا درمیانی فاصلہ ہے (مشکوٰۃ)حضرت عبداللہ سے مروی ہے ’’جنت کے انگور اتنے بڑے ہیں جتنے عمان سے صنعاء۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے ’’جنت کی کھجوروں کی لمبائی بارہ ہاتھ ہے اور ان میں گٹھلی نہیں ہے‘‘۔

محولہ بالا عبارات کی تشریح‘ توضیح اور صحت صرف ان کے مصنفین و مولفین کے تبحر علمی ہی کی زد میں آسکتی ہے ہم تو اس سلسلے میں مجبور ہیں لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک مخصوص سماج کے اندر مروجہ بین محکم اور متعین عقائد اور رواج کے مطابق اس طرح کے الفاظ کا استعمال لازمی بلکہ حقیقت سے قریب تر تھا تو کیا لازم ہے کہ آج کے دور میں بھی ان الفاظ کو بعینہ استعمال کیا جائے۔ جب کہ لوگوں کا ذہنی رویہ؟ سماجی اصول اور اقدار میں زمانے کے تغیر کی بنا پر کافی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہیں۔

حضرت مولانا حاقط محمد اشرف علی تھانوی صاحب قدس سرہ العزیز‘‘ کی تحریر شدہ کتاب ’’بہشتی زیور‘‘کے صفحہ اول (لوح) پر درج ہے۔ ’’فالصلحت قنتت حفظت للغیب بما حفظ اللہ‘‘
ترجمہ: ’’نیک بیبیاں فرمانبردار ہیں خیال رکھنے والی ہیں پیٹھ پیچھے اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے‘‘

اورجیسا کہ دیباچہ اول سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مولانا مرحوم کی یہ خواہش تھی کہ ’’یہ کتاب عورتوں اور لڑکیوں کے نصاب میں داخل ہو جاوے‘‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ مستورات اور لڑکیوں کے لئے لکھی گئی اس کتاب میں مردانہ جنسی بیماریوں کا حال‘ ضعف باہ کے اسباب اور قوت مردانگی پیدا کرنے کے قیمتی نسخہ جات بھی شامل ہیں۔ یہ کس منطق کی بنا پر داخل کتاب ہیں یہ راقم کی سمجھ و فہم سے بالاتر ہے۔

زمانہ عرب کا ایک مشہور شاعر و نابغہ روزگار ابوالعلا معریٰ ایک جگہ لکھتا ہے:
’’
اسلاف کی بکواس کا کس قدر سرمایہ کتابوں میں ایسا موجود ہے جس کی تمام روشنائی ضائع گئی‘‘۔

معریٰ عقل دانی کی بڑی قدر کرتا تھا اور اپنے اشعار میں بھی اس کی تلقین کرتا تھا ایک جگہ لکھتا ہے:
عقل کے سوا کوئی امام نہیں، عقل ہی صبح و شام کی رہنما ہے

ایک اور جگہ اسی مضمون میں کہتا ہے :
’’
اگر تم نے عقل کی پیروی کی تو سفر و حضر میں یہ تمہارے لئے جلبِ رحمت کا ذریعہ بنے گی‘‘۔

معریٰ کی اسی عقل پرستی کی وجہ سے حضرت علامہ ابن جوزی ؒ نے معریٰ کو زندیق قرار دیا تھا۔ فرماتے ہیں :
’’
اسلام میں تین زندیق ہیں (۱) ابن الراوندی (۲) ابوحسیان توحیدی (۳) اور ابوالعلا معریٰ‘‘

معریٰ ایک اور جگہ لکھتا ہے :
’’
احمق شخص ہراس آدمی کو جو مخالفت کرے۔ کافر کہہ دیتا ہے۔ اس کا برا ہو۔ بھلا کفر سے کون خالی ہے‘‘۔

ابلیس کے حالات و نظریات کی تمام تر تفصیل ’’علامہ ابن جوزی ؒ کی گراں قدر تصنیف ’’تلبیس ابلیس‘‘ میں ملتی ہے۔ اس سلسلے میں محمد ارشاد لکھتے ہیں :

’’ابلیس بہرحال صوفیاء اور علماء دونوں کے لیے باعث حیرت اور تعجب انگیز ہستی ہے۔ وہ ہمہ وقت موجود اور بے پناہ قدرت کا مالک ہے۔ سبھی کو آسانی سے بہکا لیتا ہے۔ حتیٰ کہ جنت میں آدم اور حوا کو بھی بہکانے میں کامیاب ہو گیا۔ شاعروں اور فلسفیوں ‘ مفسروں‘ محدثوں‘ صوفیوں‘ واعظوں‘ عالموں ‘ زاہدوں اور فقیہوں کو اس نے جس جس طرح اپنے دام تلبیس میں پھنسایا ہے ‘ اس کی مکمل روداد حافظ ابوالفرح علامہ ابن جوزی ؒ نے اپنی کتاب ’’تلبیس ابلیس‘‘ میں لکھ دی ہے جو واقعی عالمانہ بھی ہے اور دل چسپ بھی۔

لیکن زیادہ دلچسپ مفسرین کی وہ تحقیقات ہیں جو انہوں نے ابلیس کے گھریلو معاملات و حالات کے بارے میں کی ہیں۔ سورۂ کہف کی ۴۸ ویں اور ۴۹ ویں آیات میں ابلیس اور اولاد ابلیس کا ذکر آیا ہے اور ان کی دوستی سے منع کیا گیا ہے کہ ان کی دوستی زیان و ذلت و عقوبت کا باعث ہے۔ اولاد کے ذکر پر مفسرین کو ابلیس کی بیوی کا خیال آنا لازمی تھا۔ چنانچہ بعض نے کہا کہ ابلیس کی اولاد اس کی بیوی کے بطن سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن بعض دوسرے مفسروں نے اس طرح کا تولد اولاد تسلیم نہیں کیا۔ ان کی تحقیقات کے مطابق ابلیس کی بیوی پرندوں کی طرح انڈے دیتی ہے اور ابلیس کے بچے انہی انڈوں سے نکلتے ہیں۔ یہ خیال انہیں اس لیے آیا کہ ابلیس اور اولاد ابلیس سُرعت کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے پر قادر ہیں۔ پہاڑ اور دریا ان کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنتے اور ایسا پروں کے بغیر ممکن نہیں ہے‘ لہذا وہ پرندے قسم کی مخلوق ہیں۔

تولد از بطن کے قائل مفسرین نے ابلیس کے نو بیٹوں کے نام بھی معلوم کر لیے ہیں۔ پہلے لڑکے کا نام لافیس‘ دوسرے کا والہان‘ تیسرے کا انہفاف‘ چوتھے کا مرہ‘ پانچویں کا زلن بور‘ چھٹے کا بر‘ ساتویں کا امحور‘ آٹھویں کا مسطوس اور نویں کا داسم۔ ان لڑکوں نے اولاد آدم آپس میں تقسیم کر لی ہے اور ہر ایک اپنے اپنے حلقے کے امور کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

ابلیس کی بیوی کا نام البتہ کوئی معلوم نہ کر سکا۔ دوسرے مفسرین اولاد ابلیس نو تک محدود نہیں سمجھتے۔ ان کے خیال میں آدم کے ہر بیٹے پر ابلیس کا ایک ایک بیٹا موجود ہے جو آدم کے بیٹے کے ساتھ زندگی بھر لگا رہتا ہے اور اسے مرنے تک نہیں چھوڑتا‘‘۔

’’تاریخ القدس‘‘ میں حضرت وہب بن منبہ ؒ روایت لائے ہیں :’’اور اللہ تعالیٰ نے نار سموم کو پیدا کیا‘ اور وہ دخان تھا جس میں نہ گرمی تھی نہ دھواں تھا۔ پھراللہ تعالیٰ نے اس سے جان کو پیدا کیا (جیسا کہ قرآن میں ہے ’’والجان خلقتہ من قبل من النار السموم‘‘) اور اللہ نے بڑی مخلوق پیدا کی اس کا نام مارج رکھا اور اس سے اس کی زوجہ کو پیدا کیا اس کا نام مارجہ رکھا۔ اس نے جان کو جنا اور جان کے بیٹا ہوا اس کا نام جن رکھا گیا۔ اسی سے جنوں کے قبیلے پیدا ہوئے‘‘۔
لیجئے جناب ابلیس کی بیگم کا نام بھی معلوم ہو گیا۔

صاحب ’’حیوۃ الحیوان‘‘ نے لکھا ہے’’حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی نسل اور زوجہ کو پیدا کرنے کا قصد کیا تو اس پر غصہ ڈالا۔ اس میں سے چنگاری نکلی۔ اس چنگاری سے اس کی زوجہ کو پیدا کیا‘‘۔نیز ایک جگہ لکھتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی داہنی ران میں ذُکر اور بائیں ران میں فرج پیدا کی۔ وہ ان سے جماع کرتا ہے تو روزانہ دس انڈے پیدا ہوتے ہیں اورہر انڈے سے ستر شیطان و شیطانہ پیدا ہوتی ہیں‘‘۔

اب تک تو صرف شیطان کے بیٹوں کے نام معلوم تھے مگر اب پتہ چلا کہ شیطان کی بیٹیاں بھی موجود ہیں۔تبیان میں شیطان کی بیوی کا نام تبدیل کر کے مارجہ کے بجائے ’’آدھ‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔

سید عبداللہ مصری نے اپنی کتاب ’’الجن‘‘ میں جنوں کی دس اقسام گنائی ہیں : ابلیس‘ شیاطین‘ مردہ‘ عفاریت‘ اعوان‘ غوامون‘ طیارون‘ توابع‘ قرنا اور عمار۔ شیطان کی اولاد کی تعداد پر بھی جھگڑا ہے۔ حضرت سجابہ ؒ نے شیطان کے بیٹوں کی تعداد ۵ بیان کی ہے۔ بعض علماء نے ’’موحش‘‘ اور ’’سریذہ‘‘ کو بھی شیطان کے بیٹوں میں شمار کیا ہے۔

قرونِ وسطیٰ میں اگر ایسی کتب لکھی گئیں تو یہ ایک حد تک ’’تاریخی تشریط‘‘ (ہسٹاریکل کنڈیشنگ)کے تحت لکھی گئی تھیں کہ مجموعی فضا عموماً ایسی ہی کتب کی تالیف و تصنیف کا موجب بن سکتی تھی مگر آج کے دور میں فلکیات‘ طبیعات‘ ہئیت‘ کیمیا‘ ریاضی سے واقفیت رکھنے والے حضرات بھی ایسی کتابیں لکھ دیتے ہیں جن کے نتائج و عواقب سے وہ خود بھی بے بہرہ ہوتے ہیں۔۔۔ (جاری ہے)۔

2 Comments

  1. بالکل درست نری خرافات سی خرافات ہیں جن میں اصل دین اسلام کو دفنادیاگیا ہے
    اناللہ وانا الیہ راجعون

  2. حنیف سحر says:

    اس آرٹیکل کی اگلی قسط کب تک شائع ہوگی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *