کیا سعودی حکومت علی محمد النمرکا سر قلم کر دے گی؟

7779825964_capture-ali
سعودی عرب کے مشرقی حصے میں رہنے والے علی محمد النمر کا نام اس وقت پوری دنیا میں مشہور ہو چکا ہے۔ یہ حصہ شیعہ آباد ی پر مشتمل ہے جہاں سعودی بادشاہت کی خلاف احتجاجی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔

اس وقت علی کی عمر 21 سال ہے اورمشہور شیعہ رہنما شیخ نمر باقر النمر کا بھتیجا ہے جو سعودی حکومت اور السعود خاندان کے خلاف تقاریر کرنے کے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔شیخ النمر کو خدا کے خلاف جنگ اور دہشت گردی کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

عرب بہار (سپرنگ) کے وقت سعودی شہر قطیف میں بھی شیعہ مظاہرین نے حکومت کے خلاف بہت بڑی ریلی نکالی تھی جس سے شیخ النمر نے خطاب کیا تھا۔
سعودی عرب کی شیعہ آبادی 2.7 ملین ہے جو العشا اور ال کتیف میں رہتی ہے یہ علاقے تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔لیکن ان پر حکمرانی وہابی خاندان کی ہے جو شیعہ کو کافر اور ایران کا ایجنٹ قرار دیتا ہے۔

پچھلے ہفتے یہ خبر منظر عام پر آئی کہ علی محمد النمر کی موت کی سزا کے خلاف رحم کی اپیل مسترد کر دی گئی ہے ۔ پہلے اس کا سرقلم کیا جائے گا اور پھر اس کی سرکٹی لاش کو لکڑی کے کراس کے نشان پر رکھ کر نمائش کی جائے گی۔

علی کو 2012 میں سترہ سال کی عمرمیں گرفتار کیا گیا تھا ۔ موت کی سزا کے خلاف کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ 2012 میں اس کواعتراف جرم پرجبراً دستخط کرائے گئے اور دو سال بعد مئی 2014 میں اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

اس کوحکومت کے خلاف لوگوں کو احتجاج پر اکسانے، دہشت گردی اور ہتھیار رکھنے کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اس پر دہشت گردی اور ہتھیار رکھنے کے الزامات عدالت میں ثابت ہی نہیں ہو سکے تھے جبکہ علی محمد کی فیملی کا کہنا ہے کہ ا س کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ شیخ النمر کا بھتیجا ہے۔

سعودی عرب کی شیعہ آبادی وہابی حکمرانوں کے خلاف احتجاج کرتی رہتی ہے اور بے شمار شیعہ افراد اس احتجاج کرنے کے جرم میں بغیرکوئی مقدمہ چلائے قید میں ہیں۔

علی محمد النمر کے والد محمد النمر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ شاہ سلمان ان کے بیٹے کی سزائے موت پر عملدرآمد کے حکمنامے پر دستخط نہیں کریں گے۔

تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے بیٹے کی سزا پر عملدرآمد کردیا جاتا ہے تو ملک میں شیعہ برادری کی جانب سے پرتشدد ردعمل ہو گا۔ ’ہم یہ نہیں چاہتے۔ ہم خون کا ایک قطرہ بھی بہانہ نہیں چاہتے۔‘

محمد النمر نے اعتراف کیا کہ ان کے بیٹے نے ہزاروں افراد کے ساتھ مظاہرے میں حصہ لیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ علی النمر چوری، پولیس پر حملے اور آتشزنی میں ملوث نہیں تھا۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ النمر پر تشدد کیا گیا اور اس کے خلاف شفاف مقدمہ بھی نہیں چلایا گیا۔

دوسری جانب فرانس کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ’فرانس کو علی میمد النمر کے معاملے پر بے حد تشویش ہے جن کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا وہ بالغ نہیں تھے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے ’فرانس کسی بھی صورت میں سزائے موت کے خلاف ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا جائے۔‘

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق پینل کا سربراہ چنا گیا لیکن وہاں ایک 21 سالہ کارکن کا سر قلم کیا جا رہا ہے۔

آن لائن بحث میں اس حوالے سے ایک پہلو فرقہ واریت کا بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ النمر ایک معروف شیعہ عالم کے بھتیجے ہیں۔ اور انھیں بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔ سعودی عرب میں کئی شیعہ النمر کی حمایت کر رہے ہیں تاہم سنی برادری مقدمے اور سزا کا دفاع کرتی ہے۔

جب سے شاہ سلمان نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے تب سے موت کی سزا پانے والوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ دنیا بھر کی مذمت کے باوجود موت کی سزا پانے والوں کے سرقلم کیے جارہے ہیں۔ جنوری سے لے کر 6 مئی تک 80 افراد کا سر قلم کیا جاچکا ہے۔جبکہ سال 2014 میں 87 افراد کا سر قلم کیا گیا تھا۔

سعودی حکومت کے مطابق تمام مقدمات کافیصلہ اسلامی شریعہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کے مطابق اس وقت سعودی عرب، چین اور ایران میں سب سے زیادہ موت کی سزائیں سنائی جاتی ہیں۔

مخالفین کے سر قلم کرکے ان کی نمائش کرنا اسلامی شریعت کا خاصہ ہے۔ سعودی حکومت کادعویٰ ہے کہ وہ مقدمات کا فیصلہ ہو یا سزاؤں پر عمل درآمد عین اسلامی روایات کے مطابق ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق داعش ہو یا القاعدہ ، طالبان ہوں یا سعودی حکومت ، ان سب کے حکومت کرنے کے انداز میں کوئی فرق نہیں ۔

امام کعبہ، جو اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تو خاموش رہتے ہیں، نے اپنے حالیہ خطبہ حج میں صرف داعش کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے کیونکہ وہ سعودی بادشاہت کے مفادات پر ضرب لگا رہے ہیں جبکہ یمن میں سعودی بمباری پر خاموش ہیں جس میں بے شمار سویلین موت کا نشانہ بن رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان جہاں طالبان قابض تھے وہاں وہ اپنے علاقوں میں مخالفین کے سر قلم کرنے کے بعد ان کی لاشیں شہر کے چوراہوں پر کئی کئی دن تک لٹکائے رکھتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *