سرائیکی وسیب میں تشدد پسند رحجانات

پروفیسر اکرم میرانی 

010511Zofeen_2

تشدد پسند رجحانات سے ہماری مراد یہ ہے کہ کسی سوسائٹی میں ایسے نظریاتی گروہوں کا وجود کہ جو اپنے خیالات تصورات اور خواہشات کی تکمیل کیلئے تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ نہ صرف دوسروں کے خیالات کی قدر نہیں کرتے بلکہ مقابلہ میں موجود تصورات و خیالات کا منطقی جواب فراہم کرنے سے پہلو تہی کرتے ہوئے مخالف تصورات کے حامل اشخاص کی بیع کسی میں یقیں رکھتے ہیں آج کی دنیا میں ایسے لوگوں کی اہم مثال فرقہ پرستی میں یقیں رکھنے والے مسلح گروہ، جہادی عناصر اور وہ ریاستی ادارے ہیں جو حکمران طبقہ کے مخالفین کو ٹھکانے لگانے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔

سرائیکی وسیب میں تین قسم کے تشدد پر مبنی رجحانات جڑیں پکڑ چکے ہیں۔۱۔ فرقہ پرستانہ تشدد، ۲۔ جہادی عناصر کی یلغار اور۳۔ خواتین کے خلاف تشدد کا استعمال

سرائیکی وسیب میں فرقہ پرستی کی جڑیں کافی پرانی ہیں پاکستان کے قیام کیساتھ ہی سرائیکی وسیب کے شہروں میں ہندوستان سے آکر بسنے والے مہاجرین جنہیں ہندو مسلم یا سکھ مسلم منافرت کا وسیع تجربہ تھا نے سُنی شیعہ اختلاف کو سیاسی رنگ دینے کا عمل شروع کیا جس میں جنرل ضیاء کے دور میں اور زیادہ اضافہ ہوا اور اس فرقہ پرستی پر مبنی منافرت نے تصادم کی شکل اختیار کر لی۔ کشمیر، افغانستان اور مشرقی پنجاب میں جاری جہادی عمل نے ریاستی اداروں کی سرپرستی میں جہادی کاروبار میں اضافہ کیا جس کے نتیجہ کے طور پر نفرت نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور سابقہ ریاست بہاولپور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس کے علاوہ سرائیکی وسیب کے ان علاقوں میں جہاں قبائلی تصورات کا فی مضبوط ہیں (مثلاً راجن پور، ڈی جی خان ، میانوالی اور مظفر گڑھ کے بعض علاقے وغیرہ) میں ایسے واقعات بھی وقوع پذیر ہوتے رہے ہیں جنکی وجہ سے وسیب کا تصور عورت دشمن خیالات کا محافظ نظر آتا ہے۔ بلوچستان میں جاری حکومتی پالیسی بھی سرائیکی وسیب کو متاثر کرتی چلی آرہی ہے۔ اگر ہم اس علاقہ میں تشدد پسندی کی وجوہات پر نظر ڈالیں تو ہمیں درج ذیل وجوہات نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔

۔۱۔جہادی پالیسی اور بلوچستان کے فوجی آپریشن
۔۲۔ مہاجریت
۔۳۔ آبادی میں مسلسل اضافہ اور شرح خواندگی میں کمی
۔۴۔ سرمایہ کاری میں کمی کیوجہ سے وجود میں آنے والی بیروزگاری

جب پاکستان وجود میں آیا تو سرائیکی علاقہ کی ساری شہری اور تجارتی کلاس جو کہ زیادہ تر ہندوؤں پر مشتمل تھی یہاں سے ہندوستان ہجرت کرکے چلی گئی جس کی بدولت سرائیکی اشرافیہ اور بزنس کلاس جس نے علاقہ کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرنا تھا بہت کمزور ہوکر رہ گئی جبکہ مشرقی پنجاب کے دیہاتوں سے ملتان، ڈیرہ غازیخان اور جھنگ جیسے شہروں میں ایسے لُٹے پُٹے مسلمان گھرانے آبسے جو سماجی و اقتصادی طور پر مسلمان سرائیکیوں سے بھی کمزور تجربہ اور اہلیت کے حامل تھے یوں ایک ایسا خلا پیدا ہوا جو آج تک پُر نہیں ہو سکا اور ساتھ ہی دیہاتوں اور شہروں کے درمیان سماجی و ثقافتی فرق نے مشترکہ اقتصادی و سیاسی حکمت عملی کی تشکیل میں بھی رکاوٹ ڈالی جس پر آج بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔

اس لسانی اور ثقافتی فرق کو غیر جمہوری تصورات کی حامل پاکستانی ریاست کی سول اور ملٹری بیوروکریسی نے مسلسل ایکسپلائٹ کیا بلکہ بعض صورتوں میں اسے فرقہ پرستانہ تصادم میں بدل دیا۔ جسکی واضح مثالیں جھنگ اور ڈیرہ اسماعیل خان ہیں کہ جہاں مہاجر سرائیکی اور پشتون سرائیکی اختلاف کو جہادی تصورات کی بدولت سماجی و فرقہ پرستانہ تشدد میں بدل دیا گیا اور انسانی جانوں کا نقصان لمبے عرصہ سے جاری و ساری ہے۔

پاکستان بننے کے ساتھ ہی جن گروہوں نے حکومت پر قبضہ کیا انہوں نے جمہوری تصورات سے خوفزدہ ہو کر فوج کو اقتدار میں جگہ فراہم کی اور ایسی پالیسی تشکیل دی کہ جسکی بدولت آخر کار بنگال پاکستان سے علیحدہ ہو گیا مگر اس سے سبق حاصل کرنے کی بجائے فوج نے جہادی پالیسی جو امریکی مفادات کے تحت روس کے خلاف آگے بڑھائی گئی تھی کو کشمیر اور مشرقی پنجاب تک وسعت دے دی۔ سرائیکی وسیب چونکہ ایک طرف انڈیا کے بارڈر پر ہے اور دوسری طرف پشتون قبائلی علاقہ کے پڑوس میں واقع ہے اسلئے براہِ راست اس پالیسی کیلئے اسے ٹریننگ کیمپوں میں بدل دیا گیا کہ جس کا جال وانا سے رحیم یار خان اور دوسری طر ف لال مسجد سے خانیوال تک بچھایا گیا۔ اس پالیسی کی بدولت جہاں ایران کے خلاف امریکی مقاصد کی تکمیل کیلئے فرقہ پرستی کے بیج بوئے گئے بلکہ سرائیکی وسیب میں مدرسوں کے نام پر غریب بچوں کو جہاد میں شامل ہونے کی ترغیب دی گئی کیونکہ بقول جنرل حمید گل فوج یہ سمجھتی تھی کہ ایک مکمل ٹرینڈ سولجر کو مروانے سے بہتر تھا کہ نیم پختہ ذہن کے مالک نوجوان والنیٹرز کو کشمیر، افغانستان اور مشرقی پنجاب کی راہ دکھائی جائے۔

ہماری مذہبی جماعتیں بھی اس حکمت عملی کا شکار ہوئیں جس سے امن کے تصورات کا حامل مذہب تشدد کا نعم البدل بن کر رہ گیا جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ دوسری اہم غلطی یہ کی گئی کہ پاکستانی عوام کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی ضرورت اور آفادیت سے پہلو تہی کی گئی بلکہ غیر ضروری دفاعی اخراجات پر دیہاتی عوام اور خاص کر خواتین کی تعلیم کو قربان کردیا گیا۔ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں پر پابندی عائد کر دی گئی جس کی بدولت آبادی اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔
سرائیکی وسیب میں نہ صرف خواتین کی تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ سنٹرل پنجاب اور پشتون علاقوں سے بہت زیادہ لوگ چولستان، تھل اور دامان میں آبسے جس سے آبادی میں دُہرا اضافہ ہوا جسکی بدولت سماجی تناؤ اور ثقافتی کھینچاؤ میں اضافہ ہوا جو تشدد پسندی کے رجحانات کو مسلسل تقویت فراہم کرتا چلا آرہا ہے۔

حالیہ ادوار میں بھی جب امریکہ نے بہت زیادہ رقم فراہم کی سرائیکی وسیب میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سطحوں پر سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کہیں بھی نظر نہیں آتا بلکہ بلدیاتی اداروں کے غیر جمہوری استعمال کی بدولت کرپشن اور کمزور طبقات یعنی بے زمین کا شتکاروں اور خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا کیونکہ موجودہ غیر جماعتی اور غیر جمہوری نظام کو تقویت فراہم کرنیوالے بلدیاتی نظام نے زمینداروں کے ایک ایسے نیٹ ورک کو جنم دیا ہے کہ جس میں کونسلر اور ناظم تک اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ جب یہ نظام آپریٹ کرتا ہے تو اس کا بہت کم فائدہ بے زمین کاشتکاروں، غیر مسلموں اور خواتین کو پہنچتا ہے یعنی بے زمین کاشتکار یا دیہاتی ہنرمند خاندان، خواتین اور غیر مسلم ایسے سماجی گروہ ہیں کہ جنہیں موجودہ بلدیاتی نظام نے سب سے زیادہ تکالیف میں مبتلا کیا ہے کیونکہ دیہات کے پنچایتی اور مصالحتی نظام میں خواتین اور غیر مسلموں کی عدم شرکت ان کے دُکھوں میں مسلسل اضافہ کی موجب بن رہی ہے۔

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے؟ اس سلسلہ میں چند ایک اقدامات مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

۔۱۔ جہادی اور جنگ پر مبنی پالیسی میں تبدیلی
۔۲۔ ہندوستان سے دوستانہ مراسم اور تجارت میں اضافہ
۔۳۔ دیہاتیوں اور خاص کر خواتین کی تعلیم پر ضرورت کی مطابق توجہ اس سے سماجی بندھن ٹوٹیں گے اور آبادی میں کمی ہوگی
۔۴۔ خواتین اور اقلیتوں کے خلاف منافرت پر مبنی قوانین کا خاتمہ
۔۵۔ سرائیکی وسیب کی ثقافتی پہچان کا اثبات اور انفراسٹرکچر کی تعمیر
۔۶۔ سرائیکی علاقہ میں پچھلے تیس سال میں ایک بھی اعلیٰ تعلیم کا ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔ اسلئے ضروری ہے کہ رحیم یارخان، ڈی جی خان اور جھنگ میں یونیورسٹیاں قائم کی جائیں اور ملتان میں ہائی ٹیک کی تعلیم کا جدید ادارہ قائم کیا جائے تاکہ تعلیم اور ٹیکنالوجی سے جنم لینے والی معیشت کی ابتداء ہو اور پسماندہ زرعی معیشت کی بدولت سماجی ٹھہراؤ پر مبنی خیالات اور تصورات میں تبدیلی کا عمل شروع ہو۔ اس سلسلہ میں جمہوریت سے تقویت حاصل کرنیوالے انصاف پر مبنی تصورات ہی وہ راہ فراہم کرسکتے ہیں کہ جن پر چل کر تشدد پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *